Life homeopathic store and clinic jrw

Life homeopathic store and clinic jrw Use homeopathic medicines and save your life

چھوٹے قد (کم قد) کے کچھ نفسیاتی، سماجی اور جسمانی نقصانات ہو سکتے ہیں، لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ قد انسان کی کامیابی...
26/10/2025

چھوٹے قد (کم قد) کے کچھ نفسیاتی، سماجی اور جسمانی نقصانات ہو سکتے ہیں، لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ قد انسان کی کامیابی یا قابلیت کا معیار نہیں ہوتا۔
پھر بھی، طبی اور معاشرتی لحاظ سے چند عام نقصانات درج ذیل ہیں 👇

🔹 1. نفسیاتی یا جذباتی اثرات

احساسِ کمتری یا خوداعتمادی کی کمی

دوسروں کے مذاق یا طنز کا سامنا

لوگوں کے مقابلے میں خود کو کم تر محسوس کرنا

تعلقات یا سماجی میل جول میں ہچکچاہٹ

🔹 2. معاشرتی یا سماجی نقصانات

کچھ پیشوں میں (مثلاً ماڈلنگ، فوج، پولیس) قد کی شرط ہوتی ہے

قد کی بنیاد پر شادی کے رشتوں میں تعصب

مجمع یا گروپ میں نمایاں نہ ہو پانا

🔹 3. جسمانی یا طبی پہلو

اگر قد جینیاتی نہیں بلکہ ہارمونی خرابی (جیسے گروتھ ہارمون کی کمی) کی وجہ سے ہے تو یہ دیگر جسمانی مسائل کی نشاندہی کر سکتا ہے

بعض کھیلوں یا جسمانی سرگرمیوں میں کارکردگی پر اثر

---

🌿 ہومیوپیتھک نکتۂ نظر

اگر قد کم ہونے کی وجہ ہارمونی یا نشوونما کی کمی ہو، تو ہومیوپیتھک علاج میں چند دوائیں مفید مانی جاتی ہیں جیسے:

Baryta Carbonica 30 / 200 — بچوں یا نوجوانوں میں جسمانی و ذہنی ترقی رک جانے پر

Silicea 30 — کمزور ہڈیوں اور نشوونما کی سستی میں

Calcarea Phosphorica 6X — ہڈیوں کی نشوونما کے لیے بہترین

(دواؤں کا انتخاب مریض کی مکمل علامات اور مزاج کے مطابق ہوتا ہے، اس لیے مزید معلومات اور علاج کے لئے

Dr. M Iftikhar rashid

#03007842276

کلاسٹرو(Claustrophobia) فوبیا ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان کو محدود اور تنگ جگہوں میں غیر معمولی خوف اور ڈر لگتا ...
26/03/2025

کلاسٹرو(Claustrophobia) فوبیا ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان کو محدود اور تنگ جگہوں میں غیر معمولی خوف اور ڈر لگتا ہے،یہ خوف یا ڈر بہت شدید ہوتا ہے جس میں انسان پر اینگزائٹی(Anxiety) آجاتی ہے دل کی رفتار بہت تیز ہوجاتی ہے سانس لینا بہت تیز ہوجاتا ہے،سر چکراتا ہے۔

انسان سینے میں تنگی اور دم گھٹنا محسوس کرتا ہے
اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بس موت واقع ہونے والی ہے۔
یہ کیفیت انسان پر محدود اور تنگ جگہوں میں آتی ہے مثلاً سرنگوں میں،لفٹ میں,،جہاز اور ریل گاڑی وغیرہ میں۔
اکثر ایسے مریض بنںد کمروں میں جہاں پر کھڑکیاں وغیرہ نہیں ہوتیں میں بھی گھبراتے ہیں۔ایم آر آئی(MRI) مشین میں بھی یہ مریض نہیں رک سکتےاور گھبراتے ہے۔
یہ کیفیت دنیا کے تقریباً 13 فیصد لوگوں میں پائی جاتی ہے اور زیادہ تر خواتین میں ہوتا ہے۔

اس مرض یا فوبیا(Phobia) کی کوئی خاص وجہ معلوم نہیں لیکن ماہرین کہتے ہے کہ یہ انسان کے بچپن کی محرومیوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اس کا علاج (ہومیوپیتھک) دوائیوں سے ہی ہوتا ہے۔

اگر آپ یا آپ کے پیارے یہ کیفیت یا کسی بھی قسم کے خوف کی کیفیت محسوس کرتے ہیں تو ضرور ہم سے رجوع فرمائیں کیونکہ یہ کیفیت آپ کی روز مرہ کی زندگی کو اجیرن بنا سکتی ہے۔
آگاہی کیلئے شئر ضرور کرے۔

مزید معلومات اور علاج کے لیے اس نمبر پر کال کریں
۔
Dr. Muhammad Iftikhar Rashid
رابطہ نمبر: 0300.7842276

برص ایک جِلد کی بیماری ہے جسے عام طور پر پھلبہری بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری لاحق ہونے کی صورت میں جِلد کی میلانن کم یا خ...
25/01/2025

برص ایک جِلد کی بیماری ہے جسے عام طور پر پھلبہری بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بیماری لاحق ہونے کی صورت میں جِلد کی میلانن کم یا ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ میلانن ان پگمنٹس کو کہا جاتا ہے جن کی وجہ سے جلد میں رنگت پائی جاتی ہے۔ یہ رنگت، سفید، سیاہ، یا سانولی بھی ہو سکتی ہے۔اس مرض کی وجہ سے پگمنٹس کی پیدائش اور افزائش رک جاتی ہے جس کی وجہ سے برص یا پھلبہری شدت اختیار کرنا شروع ہو جاتی ہے۔ عمومی طور پر اس مرض کی ابتداء ایک چھوٹے سے سفید دھبے سے ہوتی ہے، لیکن بعد میں یہ دھبے آہستہ آہستہ جسم کے کسی خاص حصے یا سارے جسم پر پھیلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ مرض لاحق ہونے کی صورت میں انسان شدید ذہنی تناؤ یا الجھاؤ اور حتّی کہ ڈپریشن کا بھی شکار ہو جاتا ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے خوبصورتی پر بہت زیادہ فرق پڑتا ہے۔پھلبہری کا مرض جسم کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنا سکتا ہے، تاہم یہ زیادہ تر جسم کے ان حصوں کو نشانہ بناتا ہے جن پر براہِ راست سورج کی شعائیں پڑتی ہیں، جیسا کہ ہاتھ، پاؤں، کہنی، چہرہ، ہونٹ اور گردن وغیرہ۔ پھلبہری کا مرض کسی بھی عمر کے افراد کو لاحق ہو سکتا ہے اور مرد و خواتین دونوں کو نشانہ بنا سکتا ہے-

ہومیوپیتھک طریقہ علاج برص(پھلبہری)اور تمام جلدی امراض کے لیے انتہائی مفید طریقہ علاج ہے
مزید معلومات اور علاج کے لیے رابطہ کریں
Hdr
M.Iftikhar Rashid

Specialist Homeopathic consultant

#0300-7842276

گردے کی پتھری کیا ہے؟گردے کی پتھری معدنیات اور نمکیات کے سخت ذخائر ہیں جو گردوں میں بنتے ہیں۔ ان کا سائز ریت کے چھوٹے دا...
09/01/2025

گردے کی پتھری کیا ہے؟

گردے کی پتھری معدنیات اور نمکیات کے سخت ذخائر ہیں جو گردوں میں بنتے ہیں۔ ان کا سائز ریت کے چھوٹے دانے سے لے کر گولف کی گیند کے برابر ہوتا ہے۔
غذا، زیادہ جسمانی وزن، بعض طبی حالات، اور مخصوص ادویات یا سپلیمنٹس جیسے عوامل ان کی تشکیل میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ گردے کی پتھری پیشاب کی نالی کے کسی بھی حصے کو متاثر کر سکتی ہے، بشمول گردے اور مثانے۔

گردے کی پتھری کی علامات
گردے کی پتھری عام طور پر اس وقت تک مسائل کا باعث نہیں بنتی جب تک کہ یہ گردے کے اندر گھومنا شروع نہ کر دے یا گردے اور مثانے کو جوڑنے والی ٹیوبوں کے ذریعے حرکت نہ کرے۔

یہ پیشاب کے بہاؤ کو روک سکتی ہے، گردے کو بڑا بنا سکتی ہے، اور گردے اور مثانے کو جوڑنے والی ٹیوب میں دردناک اینٹھن کا باعث بن سکتی ہے۔

اس کے بعد آپ درج ذیل علامات اور علامات کا تجربہ کر سکتے ہیں:

پسلی کے نیچے، پہلو اور کمر میں درد شدید اور شدید ہوتا ہے۔
پیٹ کے نچلے حصے اور کمر میں درد جو پھیلتا ہے۔
پیشاب کرنے سے درد یا جلن کا احساس ہوتا ہے۔
پیشاب میں خون
پیشاب کی کثرت سے خواہش
کم مقدار میں پیشاب کرنا
متلی
بخار اور سردی لگ رہی ہے
جیسے جیسے گردے کی پتھری پیشاب کی نالی سے گزرتی ہے، اس سے ہونے والا درد مختلف ہو سکتا ہے- مثال کے طور پر، یہ کسی نئی جگہ پر منتقل ہو سکتا ہے یا شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
گردے کی پتھری کی اقسام
گردے کی پتھری کی قسم کو سمجھنا اس کی وجہ بتا سکتا ہے اور احتیاطی تدابیر کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو گردے کی پتھری کو بچائیں اور ڈاکٹر کے پاس تجزیہ کے لیے لائیں۔

کیلشیم پتھری
گردے کی پتھری کی اکثریت کیلشیم کی پتھری ہے، بنیادی طور پر کیلشیم آکسالیٹ۔
آکسالیٹ جگر کے ذریعہ تیار کیا جاتا ہے یا غذا کے ذریعے کھایا جاتا ہے اور یہ پھلوں، سبزیوں، گری دار میوے اور چاکلیٹ میں پایا جاتا ہے۔

پیشاب کی نالی کے انفیکشن کی وجہ سے ترقی کرنا۔
یہ تیزی سے بڑھ سکتا ہے اور کم سے کم انتباہی علامات کے ساتھ بڑا ہو سکتا ہے۔
گردے کی پتھری کی اقسام
یورک ایسڈ کی پتھری۔
زیادہ پروٹین والی غذا سے وابستہ، ذیابیطس، میٹابولک سنڈروم، دائمی اسہال، یا مالابسورپشن.
جینیاتی عوامل خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔

گردے کی پتھری کی وجوہات کیا ہیں؟
پانی کی کمی
مائعات کی ناکافی مقدار میں پیشاب کا ارتکاز ہوتا ہے، جو معدنی کرسٹلائزیشن کو فروغ دیتا ہے۔

غذائی عوامل
سوڈیم، آکسالیٹ، اور جانوروں کے پروٹین کی زیادہ مقدار، کم کیلشیم اور سیال کی مقدار کے ساتھ مل کر، پیشاب میں معدنی جمع ہونے کو فروغ دے کر پتھری کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

خاندان کی تاریخ
گردے کی پتھری کی خاندانی تاریخ کے حامل افراد میں ان کی نشوونما کا زیادہ امکان ہوتا ہے، یہ تجویز کرتا ہے کہ یا تو ایک جینیاتی رجحان یا مشترکہ ماحولیاتی عوامل جو پتھری کی تشکیل میں حصہ ڈالتے ہیں۔

موٹاپا
زیادہ وزن سے وابستہ میٹابولک تبدیلیاں پیشاب سے کیلشیم، یورک ایسڈ اور دیگر مادوں کے اخراج کو بڑھاتی ہیں جو گردے کی پتھری کی تشکیل میں معاون ہیں۔

گردے کی پتھری کے خطرے والے عوامل
درج ذیل عوامل گردے کی پتھری کے امکانات کو بڑھاتے ہیں۔

پانی کی کمی
پانی کی ناکافی مقدار سے گردے میں پتھری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
گرم، خشک علاقوں میں رہنے والے یا بھاری پسینہ آنے والے افراد کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
موٹاپا
وزن میں اضافہ گردے کی پتھری کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

ہاضمے کی بیماریاں کیلشیم اور پانی کے جذب میں خلل ڈال سکتی ہے۔
یہ رکاوٹ پیشاب میں پتھری بنانے والے کیمیکلز کے ارتکاز کو بڑھا سکتی ہے، جس سے گردے کی پتھری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ہومیوپیتھک طریقہ علاج گردوں میں موجود پتھری کو بغیر آپریشن کے خارج کرنے کا انتہائی مفید طریقہ علاج ہے

مزید معلومات اور علاج کے لیے تشریف لائیں
Life homeopathic clinic
New bazar mander road Jaranwala.

HDr.
Muhmmad Iftikhar Rashid

Specialist Homeopathic consultant

#0300-7842276

فلو ایک عام، وسیع، اور انتہائی متعدی سانس کا انفیکشن ہے جو مختلف قسم کے انفلوئنزا وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔  انفلوئنزا وا...
19/12/2024

فلو ایک عام، وسیع، اور انتہائی متعدی سانس کا انفیکشن ہے جو مختلف قسم کے انفلوئنزا وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ انفلوئنزا وائرس آرتھومائکسوائریڈی خاندان کے واحد پھنسے ہوئے سیگمنٹڈ آر این اے وائرس ہیں۔ انفلوئنزا وائرس کی منتقلی کے اہم راستے میں متاثرہ افراد کی سانس کی بوندیں یا رطوبتیں شامل ہوتی ہیں۔ انفلوئنزا وائرس کی اب تک چار اقسام کی شناخت ہو چکی ہے۔ ان میں سے، انفلوئنزا اے اور بی صرف وہ اقسام ہیں جو انسانوں میں بیماری کا باعث بنتی ہیں۔ درحقیقت، اس کی اعلیٰ تبدیلی کی شرح اور میزبان کی وسیع رینج نے انفلوئنزا اے کی مختلف ذیلی اقسام کو بڑی وبائی امراض اور حتیٰ کہ وبائی امراض جیسے کہ ہسپانوی فلو، ایشین فلو، ہانگ کانگ فلو، برڈ فلو، اور سوائن فلو کی بھی اجازت دی ہے۔ انفلوئنزا اے کے برعکس، انفلوئنزا بی کبھی بھی وبائی مرض سے وابستہ نہیں رہا، جبکہ انفلوئنزا سی اور انفلوئنزا ڈی کبھی بھی انسانوں میں نمایاں علامات پیدا کرنے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

فلو کی عام علامات میں بخار، مائالجیا، سردی لگنا، گلے میں خراش، خشک کھانسی، ناک بہنا/ بھری ہوئی ناک، اور تھکاوٹ شامل ہیں۔ خاص طور پر بچوں میں، فلو معدے کی علامات جیسے الٹی اور اسہال کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ تاہم، بعض گروپس جیسے شیرخوار، بوڑھے بالغ، حاملہ خواتین، کمزور قوت مدافعت کے حامل افراد، اور وہ لوگ جن میں موٹاپا، دل کی بیماری، گردے کی بیماری، جگر کی بیماری، اور ذیابیطس شامل ہیں، کو شدید بیماری پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ فلو سے پیچیدگیاں. درحقیقت، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، فلو کی وجہ سے شدید بیماری کے 3-5 ملین کیسز اور سالانہ 650,000 اموات ہوتی ہیں۔

حفاظتی اقدامات ــــ

صحت مند عادات پر عمل کریں، جیسے صابن اور پانی سے ہاتھ دھونا۔
سطحوں اور اشیاء جیسے فرنیچر اور کھلونے صاف کرنے کے لیے جراثیم کش کا استعمال کریں۔
کھانستے اور چھینکتے وقت اپنے منہ کو ڈھانپنے سے انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
بغیر دھوئے ہوئے ہاتھوں سے منہ، ناک یا آنکھوں کو چھونے سے گریز کریں۔
ہر رات آٹھ گھنٹے سوئے۔
باقاعدگی سے ورزش میں مدد ملتی ہے۔


#03007842276

ڈاکٹر محمد افتخار رشید               DHMS (PANJAB)              RHMP (PAK)  معدے اور جگر کے ماہر ڈاکٹر، ہیپاٹیٹس، یرقان،...
09/10/2024

ڈاکٹر محمد افتخار رشید
DHMS (PANJAB)
RHMP (PAK)

معدے اور جگر کے ماہر ڈاکٹر، ہیپاٹیٹس، یرقان، ڈایریا، پیٹ میں گیس ، پیٹ میں درد ، پیٹ کی تیزابیت ، بدہضمی، پیٹ کے السر، پاخانے کے بعد خون کا آنا، یا پاخانے کا رنگ سیاہ ہونا، بواسیر کا ہونا، انتڑیوں کے مسائل، پیٹ میں پانی پڑ جانا، معدے اور جگر کے تمام امراض،گردوں اور پتہ میں پتھریوں کا بننا، شوگر اور شوگر کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے علاج میں ماہر ہیں!!

کلینک ٹائم:
روزانہ 10 بجے سے رات 9 بجے تک

کلینک ایڈریس:
لائف ہومیوپیتھک کلینک اینڈ سٹور نیا بازار مندر روڈ جڑانوالہ

ایچ پائلوری انفیکشنہیلی کوبیکٹر پائلوری (Helicobacter Pylori)، جسے عام طور پر ایچ پائلوری (H.Pylori) کہتے ہیں، معدے کی ب...
24/06/2024

ایچ پائلوری انفیکشن
ہیلی کوبیکٹر پائلوری (Helicobacter Pylori)، جسے عام طور پر ایچ پائلوری (H.Pylori) کہتے ہیں، معدے کی بیماری کا سبب بننے والا ایک چھوٹا سا حرکت کرتا ہوا جرثوما ہے۔ اس کی بَل کھاتی ہوئی ساخت (Spira) کی وجہ سے اسے (Helical) کا نام دیا گیا ہے۔ پائلورس سے مُراد معدہ اور آنت ہے، یعنی یہ جرثوما ہمارے نظامِ انہضام (Digestive System) میں موجود ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے جو انفیکشن ہوتا ہے، اُسے ایچ پائلوری انفیکشن کہتے ہیں۔ اس جرثومے یا بیکٹریا کی خاصیت یہ ہے کہ یہ معدے کے انتہائی تیزابیت زدہ ماحول(PH.3.5) پر بھی زندہ رہتا ہے۔ گویا، یہ عموماً خطرناک ثابت نہیں ہوتا۔تاہم معدے اور آنت کے بیش تر السرز کی وجہ ایچ پائلوری بیکٹریا ہی کو قرار دیا جاتا ہے۔ نوّے فی صد چھوٹی آنت کے السر اور ستّر فی صد معدے کے السر کی وجہ بھی یہی بیکٹریا ہے۔چوں کہ یہ تیزابیت زدہ ماحول میں زندہ رہ سکتا ہے، اِسی بنا پر اسے (Acidophilic Bacteria) کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔ اس کا سائز تقریباً 3مائیکرون میٹر لمبا، جب کہ ڈایا میٹر0.5مائیکرون ہے۔ اس کی بیرونی سطح پر4 سےچھے flagellaہوتے ہیں، جو باریک سے بال نُما شکل کے ہوتے ہیں، ان کی مدد سے یہ جرثوما معدے میں اپنی پوزیشن تبدیل کرتا ہے۔ ایچ پائلوری صحت عامّہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ایک اندازے کے مطابق دنیا کی نصف سے زائد آبادی اس انفیکشن سے متاثر ہے۔ ترقّی پزیر اور کم آمدنی والے ممالک میں20سے30سال کے افراد میں اس انفیکشن کی شرح ممکنہ طور پر80فی صد سے زائد ہے۔ پاکستان میں بھی ایچ پائلوری انفیکشن کی شرح بہت بلند ہے، جس کی طرف توجّہ دینے کی ضرورت ہے۔یہ پیپٹک السر ڈیزیز (Peptic Ulcer Disease)کی ، جس میں معدے، آنت اور خوراک کی نالی کے السرز شامل ہیں، ایک اہم وجہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ معدے کی دائمی سوزش ، چھوٹی آنت کی سوزش اور معدے کے سرطان کا بھی سبب بن سکتا ہے۔ماہرینِ صحت کا کئی دہائیوں تک خیال تھا کہ معدے کے السر کی وجہ ذہنی تنائو، آپریشن، تیز مسالے دار خوراک، شراب نوشی اور بُری عادات ہیں۔تاہم، 1982ء میں دو آسٹریلین ڈاکٹرزProfessor Barry Marshall اور Robin Warren نے ایچ پائلوری بیکٹریا دریافت کرکے ثابت کیا کہ معدے کے السر کی سب سے بڑی وجہ اس بیکٹریا کا انفیکشن ہے۔اس دریافت پر دونوں ڈاکٹرز کو2005ء میں نوبیل انعام سے بھی نوازا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایچ پائلوری بیکٹریا ہمارے نظامِ انہضام کی کارکردگی متاثر کرتا ہے۔خردبینی معائنے سے پتا چلتا ہے کہ یہ جرثوما معدے کی دیواروں کو مستقل طور پر چھیلتا رہتا ہے اور یہ امر معدے کی دائمی سوزش کا سبب بنتا ہے۔جب کہ یہ آلودہ پانی، آلودہ خوراک، متاثرہ فرد کے لعابِ دہن، اُلٹی، قے اور انسانی فضلے میں موجود ہوتا ہے۔ عام طور پر منہ کے راستے، جسے (Oro-Fecal Route) کہتے ہیں، انسانی جسم میں داخل ہوکر معدے تک رسائی حاصل کر لیتا ہے اور معدے کی حفاظتی جھلی (Gastric) کی اندرونی تہہ میں جم کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے آپ کو دفاعی نظام کے خلیات کے وار سے محفوظ رکھتا ہے۔یہ گیسٹرین (Gastrin) نامی ہارمون بڑھانے کا سبب بنتا ہے، جو معدے کے خلیات پر اثر انداز ہوکر تیزاب یعنی ایسڈ کی سپلائی بڑھا دیتا ہے اور یہ تیزاب، معدے کی حفاظتی جھلّی کو نقصان پہنچانے کا سبب بن جاتا ہے۔السر ایک خطرناک زخم ہوتا ہے، جس سے خون رِسنا شروع ہوسکتا ہے اور اگر اس کا بروقت اور درست علاج نہ کیا جائے، تو خدانخواستہ معدے کے سرطان کا موجب بھی بن سکتا ہے۔ ایچ پائلوری انسانی معدے میں خامرے (Urease) خارج کرتا ہے، جو یوریا سے امونیا بناتا ہے اور یہ امونیا ایچ پائلوری جرثومے کے اردگرد کے تیزاب زدہ ماحول کی پی ایچ کو بڑھا دیتا ہے۔ اس پی ایچ کے بڑھنے سے تیزاب کے اثرات زائل ہوجاتے ہیں اور ماحول ایچ پائلوری کے لیے سازگار ہوجاتا ہے، اِس طرح وہ تیزاب کے اثرات سے محفوظ رہتا ہے۔ ایچ پائلوری پوری زندگی انسانی معدے میں زندہ رہ سکتا ہے اور مرض کی کوئی علامت بھی ظاہر نہیں ہوتی،صرف خردبینی معائنے سے پتا چلتا ہے کہ معدے میں سوزش کے آثار ہیں۔یہ جرثوما جب معدے میں پہنچ جاتا ہے، تو وہاں پر یہ زہریلے مادّے خارج کرتا ہے ، اس کے علاوہ مختلف ہارمونز اور ایمون سسٹم بھی متحرّک ہوجاتا ہے، تو ان تمام کیمیائی تبدیلیوں کے نتیجے میں معدے کا دفاعی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایچ پائلوری کو اپنے اندر کیمیائی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے کم مقدار میں آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایچ پائلوری ہزاروں سال سے انسانی صحت کو متاثر کر رہا ہے۔ایسے علاقے جہاں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات ہوں، آلودہ پانی سپلائی کیا جاتا ہو، صحت کی بنیادی سہولتوں کا فقدان ہو، تنگ دستی و غربت ہو، گھروں میں گنجائش سے زیادہ افراد رہتے ہوں، نکاسی و فراہمیٔ آب کا کوئی مؤثر نظام موجود نہ ہو، وہاں ایچ پائلوری انفیکشن کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
علامات:
عموماً ایچ پائلوری انفیکشن کی عُمر بھر کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی۔ 10 سے15 فی صد افراد میں پیپٹک السر کی علامات موجود ہوتی ہیں، جس میں جوف کے اوپری حصّے (Epigastrium) میں وقفے وقفے سے درد ہونا، مریض کا انگلی کی مدد سے درد کی جگہ کی نشان دہی کرنا اہمیت کا حامل ہے۔نیز، بدہضمی، سینے میں جلن، بھوک کی کمی، جی مالش کرنا، ڈکاریں آنا، تھوڑا کھانا کھانے کے بعد پیٹ بَھرا بَھرا سا محسوس ہونا، مروڑ، پاخانے یا اُلٹی میں خون کی آمیزش، وزن میں کمی اور خون کی کمی جیسی علامات بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔ اس انفیکشن کی علامات کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے،کیوں کہ یاد رہے، معدے کے سرطان کی ایک بڑی وجہ ایچ پائلوری ہی ہے اور دنیا میں شرحِ اموات کے لحاظ سے معدے کا سرطان تیسرے نمبر پر ہے۔

بیل ٹاکس گولیاں جوڑوں کے درد کمر درد اور پٹھوں میں درد اور اکڑاؤں کے لیے کار آمد ہے یہ سر درد اور تھکاوٹ کو بھی دور کرنے...
26/02/2024

بیل ٹاکس گولیاں جوڑوں کے درد کمر درد اور پٹھوں میں درد اور اکڑاؤں کے لیے کار آمد ہے یہ سر درد اور تھکاوٹ کو بھی دور کرنے میں بھی بہت موثر ہے

COD available all over Pakistan 🚛

Visit for solution of all your problems and for your healthy lifeContact for more information #03071501092
07/01/2024

Visit for solution of all your problems and for your healthy life

Contact for more information
#03071501092

Calendula-Z lotion has anti-fungal, anti- inflammatory, anti- bacterial properties which help to heal skin lacerations &...
19/12/2023

Calendula-Z lotion has anti-fungal, anti- inflammatory, anti- bacterial properties which help to heal skin lacerations & eliminate infections, healing wounds, bruises, skin burns, itching, skin irritation with redness & also relieves diaper rash.

COD available all over Pakistan 🚛

۔Ptk75 بڑھے ہوئے پروسٹیٹ کی وجہ سے مثانے کو خالی کرنے کے مسائل کے لیے ایک موثر دوا ہے۔  پیشاب کی نالی کے شدید انفیکشن جی...
13/11/2023

۔Ptk75 بڑھے ہوئے پروسٹیٹ کی وجہ سے مثانے کو خالی کرنے کے مسائل کے لیے ایک موثر دوا ہے۔ پیشاب کی نالی کے شدید انفیکشن جیسے سیسٹائٹس یعنی مثانے کی سوزش کے لیے مفید ہے۔ Ptk 75 رات کے وقت مسلسل پیشاب کرنے کی خواہش محسوس ہونا جیسی علامتوں کے لیے انتہائی مفید ہے

بائیوپلاسجن 21 روایتی طور پر بچوں کے دانتوں کے مسائل میں معاون علاج کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔  دانت نکلنے کے دوران بچے ...
08/11/2023

بائیوپلاسجن 21 روایتی طور پر بچوں کے دانتوں کے مسائل میں معاون علاج کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ دانت نکلنے کے دوران بچے روتے ہیں، ضدی اور شرارتی ہوتے ہیں۔ یہ گولیاں شیر خوار بچوں کو اہم نمکیات فراہم کر کے ان کے دانتوں کو جلدی اور آسانی سے کاٹنے کی اجازت دیتی ہیں۔ بھوک کو بہتر بناتی ہے اور عمل انہضام کو فروغ دیتی ہے۔

Address

Jaranwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Life homeopathic store and clinic jrw posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram