15/02/2026
پریس ریلیزڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس حویلی کہوٹہ
آر ایچ سی خورشید آباد میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں ایک 25 روزہ نومولود بچے کو بیس مذید بچوں کے ساتھ ٹی بی سے بچاؤ کا حفاظتی ٹیکہ (بی سی جی) لگایا گیا جس کے بعد بچے کو گھر لے گئے چند گھنٹوں بعد بچے کی موت واقع ہو گئی جسکو بچے کے والدین کی طرف سے ویکسینیشن کی وجہ قرار دیا گیا جس وجہ سے عوام علاقہ میں تشویش پائی گئی کہ شاہد یہ ویکسین لگنے کی وجہ سے ہوا۔
واقعے کے فوراً بعد محکمہ صحت کی خصوصی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر مکمل تحقیقات کیں، جن میں ویکسین کے اسٹوریج، کولڈ چین، معیار اور ویکسینیشن کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ ویکسین محفوظ، معیاری اور مؤثر تھی اور عملے کی جانب سے کسی قسم کی غفلت ثابت نہیں ہوئی۔
مزید یہ کہ بی سی جی کا حفاظتی ٹیکہ ٹی بی سیے بچاؤ کے لیے لگایا جاتا ہے, جو کہ 1978 سے حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام میں شامل ھے اور کبھی بھی اس سے کسی قسم کی پیچیدگی یا موت واقع ہو جانا رپورٹ نہیں ہوا محکمہ کے ذمہ دارن نے واضح کیا ہیکہ ایک بی سی جی کی وائل میں بیس خوراکیں ہوتی ہیں جو کہ بیس بچوں کو لگائی جاتیں ہیں اور اسی دن یہی ویکسین 19 دیگر بچوں کو بھی لگائی گئی، جن میں سے کسی بھی بچے میں کسی قسم کا منفی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
تاہم اس واقعے کے بعد آر ایچ سی میں لواحقین و سٹاف کے درمیان کمیونیکیشن گیپ کے باعث معاملہ شدت اختیار کر گیا، جس پر محکمہ صحت کو افسوس ہے۔
معاملے کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے جناب ڈپٹی کمشنر نے اپنی سربراہی میں ایک غیر جانبدار انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے،جسمیں پولیس،انتظامیہ اور محکمہ صحت عامہ کے ذمہ داران کو شامل کیا گیا ہے انکوائری کمیٹی واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرے گی۔
محکمہ صحت لواحقین کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور حفاظتی ٹیکہ جات کے قومی پروگرام پر اپنا اعتماد برقرار رکھیں، کیونکہ یہ بچوں کی صحت،بیماریوں سے بچاؤ اور ان کے شاندار مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔