26/03/2026
براہِ کرم… ہر وہ شخص جو “ماہرِ نفسیات” کے نام پر لوگوں کی زندگیاں بدلنے کا دعویٰ کرتا ہے، واقعی ماہر نہیں ہوتا…
ہم نے بھی ایک دن ہمت کی…
اپنے ٹوٹتے ہوئے رشتے کو بچانے کے لیے…
اپنی سانسوں کو دوبارہ سکون دینے کے لیے…
ایک ماہرِ نفسیات کا دروازہ کھٹکھٹایا…
کیونکہ زندگی اس مقام پر آ چکی تھی جہاں سانس لینا بھی بوجھ لگتا تھا…
شادی کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا، مگر مسائل ایسے کھڑے ہو گئے تھے جیسے برسوں کا بوجھ ہو…
لہجوں میں ایسی کڑواہٹ آ گئی تھی کہ ایک دوسرے کا ساتھ تو دور… وجود بھی برداشت سے باہر ہو گیا تھا…
میرا شوہر…
ہر وقت شک میں مبتلا…
اور میں…
ڈیڑھ سال سے ہر الزام سہہ کر بھی اسی رشتے کو تھامے ہوئے…
کیونکہ محبت ابھی زندہ تھی…
ہم گئے تھے اپنے مسئلے کا حل ڈھونڈنے…
لیکن جو ملا… اس نے ہماری بنیادیں ہلا دیں…
ماہرِ نفسیات نے چند ملاقاتوں کے بعد…
میرے شوہر سے کہا:
“تمہاری بیوی شاید کسی اور کے ساتھ انوالو ہے…”
اور مجھے کہا:
“تمہارا شوہر نفسیاتی ہو چکا ہے… یہ کبھی ٹھیک نہیں ہوگا… بہتر ہے اسے چھوڑ دو…”
سوچیں…
ہم علاج لینے گئے تھے… یا فیصلے سننے…؟
وہ لمحہ…
جب ایک “ماہر” کے الفاظ، دوا بننے کے بجائے زہر بن جائیں…
تو رشتے صرف ٹوٹتے نہیں… بکھر جاتے ہیں…
پہلے شاید جھگڑے کم تھے…
اب یقین بن گیا کہ میں غلط ہوں…
کیونکہ “ماہر” نے کہہ دیا تھا…
سوال یہ ہے…
کیا ایک ماہرِ نفسیات کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ چند ملاقاتوں میں کسی کے کردار کا فیصلہ سنا دے…؟
کیا وہ نجومی ہے… جو بغیر مکمل حقیقت جانے سب کچھ جان لے…؟
یاد رکھیں…
ایک سچا ماہرِ نفسیات کبھی آپ کو جج نہیں کرتا…
وہ آپ کو سمجھتا ہے… سنبھالتا ہے… راستہ دکھاتا ہے…
نہ کہ آپ کے رشتوں کو توڑنے کے فیصلے سناتا ہے…
اگر کوئی آپ کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے
آپ کو مزید ٹوٹنے پر مجبور کرے…
تو وہ ماہر نہیں… ایک خطرہ ہے…
خدارا…
اپنی زندگی، اپنے رشتے، اپنی عزتِ نفس…
کسی ایسے انسان کے ہاتھ میں نہ دیں جو آپ کو مزید اندھیروں میں دھکیل دے…
اور آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے…
تو خاموش نہ رہیں…
آواز اٹھائیں… تاکہ کوئی اور اس اذیت سے نہ گزرے…
کیونکہ بعض اوقات…
غلط انسان سے لیا گیا “علاج”
زندگی کا سب سے بڑا زخم بن جاتا ہے…
ماہر نفسیات بختاور شیخ
Speech & Language Pathologist | BNLP Practitioner | ABA Therapist