29/04/2022
تحریر: اقصی فہیم (ام عدن)
آج میرا لکھنا کا مقصد ماں کے دودھ کی افادیت بیان کرنا نہیں
بلکہ ماں کے دودھ پلانے کا رجحان تیزی سے ختم ہونے پر ہے. دو سال تک ماں کا دودھ پینے والے بچے تو اب نایاب ہیں.
کیا وجہ ہے کہ آج کل کی پڑھی لکھی ،نوجوان اور ماڈرن ماؤں میں بریسٹ فیڈنگ نہ ہونے کہ برابر ہے؟
ہر دوسرا بچہ ڈبے یا فارمولا ملک پر کیوں پل رہا ہے ؟
مجھے ڈر لگ رہا ہے اس وقت سے کہ کہی ہم قصے کہانیوں میں ہی بس نہ پڑھے کہ ایک وقت تھا مائیں اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلاتی تھی.
یہ ناممکن ہے کہ فارمولا فیڈنگ کے بچوں کا قوت مدافعت بریسٹ فیڈنگ والے بچوں کے برابر ہو.
قرآن میں اگر دوسال تک ماں کو دودھ پلانے کا حکم دیا گیا ہے تو کوئی تو حکمت ہو گی.
پہلے چھ ماں بچے کو صرف اور صرف ماں کا دودھ دیا جائے دنیا بھر کے ڈاکڑز یہی کہتے ہیں
میں اپنے تجربے کے مطابق وہ وجوہات بیان کرو گی.
مجھے اندازہ ہے بہت سی مائیں برا مان جائیے گی اور شاید یہ تحریر پوری بھی نہ پڑھیں.
پر میں سب کو کھلا چیلنج دیتی ہوں کہ آپ اپنے اردگرد یا اپنے خاندان میں ۱۰ ایسے بچے تلاش کریں جو ماں کا دودھ پیتے ہوں اول تو مشکل ہے کہ آپ کو مل جائیں اور اگر مل بھی جائیں تو آپ خود سمجھ گئے ہوں گے کہ فارمولا ملک کے بچوں کی تعدا بہت زیادہ ہے.
سب سے پہلی اور سب سے بڑی وجہ مناسب شعور، رہنمائی اور آگہی نہیں ہے. ہمارے ہاں کائونسلنگ (counseling ) کی شیدید کمی ہے.
میں نے جتنی بھی ماؤں سے بریسٹ فیڈنگ نہ کروانے کی وجہ پوچھی تو پیشتر ماؤں میں آگاہی نہ ہونے کے برابر تھی.
راہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ گھبرا کر بچے کو فیڈر لگا دیتی ہیں.
ایک ریسرچ کے مطابق %98 مائیں اپنا دودوھ پلا سکتی ہیں صرف %2 ایسی ہیں جن کے ساتھ کوئی قدرتی مسئلہ ہو. زیاہ تر مائیں کہتی ہیں
— دودھ نہیں آتا
—دودھ کم ہے
— بچہ دودھ نہیں پیتا
بریسٹ فیڈینگ ایک کروڑوں ڈالر کی صنعت ہے. ہر مسئلے کا حل موجود ہے بشطرکیہ حل تلاش کیا جائے.
ماں کا دودھ اللہ کی وہ نعمت ہے جو بچے کی طلب کے مطابق خود پیدا ہوتا ہے. جتنا پلایا جائے اتنا پیدا ہوتا ہے. سائنس سے یہ بات ثابت شدہ ہے.
اکثر مائیں کہتی ہیں ہمیں صیح گائیڈ نہیں کیا گیا.
میں نہیں سمجھتی اگر ہم کچھ جاننا چاہے اور آج کل کے دور میں ممکن نہ ہو.
بد قسمتی سے بچے کی پیدائش سے قبل زیادہ تر توجہ خریداری پر ہوتی ہے خاص کر بچے کے بے تحاشاہ کپڑے، آپ اپنے شوق ضرور پورے کریں لیکن ساتھ میں خود کو ایجوکیٹ کریں.
انٹرنیٹ پہ بریسٹ فیڈنگ سے متعلق پڑھیں، یو ٹیوب پہ ویڈیوز دیکھیں کہ کیا صیح طریقہ ہے، کتنا پلانا ہے وغیرہ وغیرہ.فیس بک پہ بریسٹ فیدنگ سے متعلق گروپس جوائن کریں دوسری ماؤں کے تجربے جاننے کو کوشش کریں.
ہم روز اتنا سیل فون استعمال کرتے ہیں کچھ آگاہی کے لیے کیوں نہیں
آپ کو اپنے مسئلے کا حل مل جائے گا اگر پھر بھی نہ ملے تو کسی تجربہ کار Lactation_Consultant # کے پاس جائیں اگر آپ کے شہر میں نہیں ہیں تو کسی بڑے شہر جائیں.
اگر ہم شاپینگ کے لیے بڑے شہروں کا رخ کر سکتے ہیں تو اپنے بچے کی زندگی بھر کی صحت کے لیے کیوں نہیں
#دعا
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے.
آپ اپنے لیے سچے دل سے دعا کریں
یااللہ! میں دو سال تک بچے کو اپنا دودھ پلانا چاہتی ہوں میرے لیے اپنے حکم کو آسان کر دے
اگر ہم اپنے ہر عمل کو اللہ کی رضا سے جوڑ دیں تو زندگی میں آسانیاں ہی آسانیاں ہیں
دعاؤں سے سب حاصل کیا جا سکتا ہے
میں نہیں سمجھتی اگر ہم سچے دل سے اپنی کوششش کی انتہا پر ہو تب کوئی بھی کام نا ممکن ہو سکتا ہے
بریسٹ فیدنگ کے کم ہوتے رحجان کی دوسری اہم وجہ غلط مشورے ہیں بد قسمی سے تجربہ کار زیادہ تر مائیں نئی ماں کو فیڈر میں فارمالا یا کھولے دودھ کے مشورے دیتی ہے
خاص کر رات کو یہ عام سسنے میں آتا ہے
— رات کو ڈبے والا دودھ دے دیا کرو بچہ آرام سے ساری رات سوئے گا
— ایک فیڈر سے کچھ نہیں ہوتا
— سب دیتی ہیں تم بھی دئے دو
اگر ماں کا دودھ ٹھیک آ رہا ہے بچہ پی بھی رہا ہے پھر بھی اگر ایک سال سے پہلے یا چلو ہم چھ ماہ کر لیتے ہیں اس سے پہلے رات کو اگر ڈبے والا دودھ دیا جائے میرے نزدیک یہ بچے پر ظلم ہے.نیند کی گولی دینے کے مترادف ہے
ماں کا دودھ پینے والا بچہ رات بھر تنگ نہیں کرتا صرف دودھ پینے کے لیے جاگتا ہے اور سو جاتا ہے
صرف کچھ عرصہ آپ کو چند لمحے رات کو جاگ کر دودھ پلانا ہو گا میں پھر کہہ رہی ہو صرف چند لمحے
اکثر مائیں کہتی ہیں بچے کو دوسرے دودھ کی یا فیڈر کی عادت نہیں رہتی
میرے سامنے ایسی مثالیں ہیں جہاں سال بعد کھلا دودھ شروع کروانے پر بچےآہستہ آہستہ پینے لگ جاتے ہیں یہاں بہت سی مائیں اتفاق نہیں کریں گی.
میں اختلاف رائے کو قبول کرتی ہو صرف یہی کہوں گی آپ بیشک دوسرا دودھ دئے دیں لیکن خدارا ماں کا دودھ ساتھ جاری رکھیں بچے کو مکمل طور پر اس نعمت سے محروم نہ کریں.
ماں کا دودھ پینے والے اکثر بچے دیکھنے میں اتنے موٹے نہیں ہوتے بچے کو کمزور سمجھ کر دوسرا دودھ مت دیں ڈبے والا دودھ صرف بچے میں ہوا بھر کر موٹا کرتا ہے.
ہر شعبہ میں کالی بھیڑیں موجود ہے نہ صرف خواتین بلکہ باز ڈاکڑ حضرات بھی ماں کی معمولی پریشانی پہ فارمولا لکھ کے دئے دیتے ہیں اور ماں کو صیح گائیڈ نہیں کرتے
ماں بیچاری ڈاکڑ کی رائے کو اہمیت دیتے ڈبے کی دودھ پر لگ جاتی ہے.
لیکن ساتھ ہی ایسے ڈاکڑز بھی موجود ہے جو آخری دم تک مدر فیڈ کے مشورے دیتے ہیں. میں نے خود ایک ڈاکڑ کو فیڈر ماں سے لے کر کوڑے دان میں پھنکتے دیکھا ہے.
آپ خود علم حاصل کریں اور اپنا فیصلہ کریں کہ کس کے مشورے پر عمل کرنا ہے اور کس پر نہیں
میں خود ایک ماں ہو پھر بھی کہہ رہی ہو ایسے مائیں موجود ہیں جو خود دودھ نہیں پلانا چاہتی. وہ جان چھڑوا رہی ہوتی ہیں دودھ پلانے سے بنا کسے وجہ کے ڈبے والا دودھ لگا دیتی ہے. ایسی مائیں بس کوئی نہ کوئی بہنا تلاش کر رہی ہوتی ہے کہ ہم کسی طرح فیڈر پر بچے کو لگا دیں
ایسی ماؤں کے لیے بس دعا کی جا سکتی ہے کہ
یا اللہ! انکا دل بدل دے وہ اپنے فرائض سے بھاگنے کے بجائے انہیں احسن طریقے سے انجام دیں
آمین
یہ بات تحقیق سےثابت شدہ ہے ماں کے دودھ کا انحصار ماں کی ذہنی حالت پہ ہے. جو مائیں جتنی خوش خوش رہتی ہیں انکے لیے اتنی آسانی ہوتی ہے
شادی کے بعد عورت کی خوشی کا انحصار شوہر پر ہوتا ہے. لہزا شوہر حضرات کو چاہے کہ اپنی بیگم کا خیال رکھیں اسکی مدد کریں تاکہ وہ بچے کو آسانی سے دودھ پلا سکے
دودھ پلانی والی ماؤں کی خوراک کا خیال رکھنا چاہیے. اللہ نے دودھ پلانے والی ماں کے لیے روزے تک میں آسانی دی ہے
لہزا ماؤں کو خود بھی اپنی خوراک کا خیال رکھنا چاہیے
اکثر مائیں خود بھی صیح سے نہیں کھاتی اور بعد میں کہتی ہے دودھ نہیں آتا
اس پر بس یہی کہوں گی انسان جتنا خود اپنا خیال رکھ سکتا ہے اتنا اور کوئی نہیں
جو مائیں جاب کرتی ہیں اکثر وہ پہلے ہی پلان کرلیتی ہیں کہ فارمولا ہی پلانا ہے
آپ وہ واحد ماں نہیں ہیں جو بچے کے ساتھ کام کرتی ہیں. دنیا کہاں سے کہاں چلی گئی ہے اسکا بھی حل موجود ہے
پمپ کے ذریعے ماں کا دودھ فیڈر میں ڈال کے دیا جاسکتا ہے اس بات کی تصدیق کسی بھی ڈاکڑ سے کی جا سکتی ہے ایک مخلص ڈاکڑ کبھی بھی آپ کو غلط گائیڈ نہیں کرے گا. اگر پھر بھی آپ نہیں پلانا چاہتی تو کم سے کم جب آپ جاب سےجب آ جایئں تب پلا لے مکمل طور پر دودھ نہ چھوڑوائے.
اگر آپ اپنے بچے کو دودھ نہیں پلا سکی تو اگلے بچے سے پہلے وہ وجہ اور اسکا حل تلاش کریں
کہتے ہیں تلاش کرنے پر تو خدا بھی مل جاتاہے.
آخر میں بس یہی کہوں گی
اولاد پر سب سے زیادہ حق ماں کا ہے
یہ حق میں یا کوئی اور چھین نہیں سکتا اگر ایک ماں دودھ نہیں پلانا چاہتی ہے تو ہم سوائے اسے سمجھنے کہ اور کچھ نہیں کر سکتے
اللہ نے اسے حق دیا ہے
یہ بچےصرف پیارے اور قیمتی کپڑے پہنا کر، تصویریں بنانے اور سٹیٹس لگانے کےلیے ہماری گود میں نہیں آئے ہم ایک نسل کی نہ صرف تربیت بلکہ صحت کے بھی زمہ دار ہیں
اللہ ہمیں اس زمہ داری کو بہترین طریقے سے انجام دینے کی توفیق دیں
آمین