05/02/2021
ہمارے یہاں شوگر, ہیپاٹائٹس اے, بی, سی, ای اور گمنام بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے, گمنام بیماریاں وہ جس کو سوچ ٹینشن, ذہنی دباؤ, ڈپریشن کا نام دے دیا جاتا ہے, یا ڈاکٹرز مریض کی بیماری کیفیت کو سمجھ نہیں پا رہے ہوتے, مختلف ٹیسٹ کروانے کے بعد بھی یہ معلوم نہیں ہوتا کے مریض کو کیا کونسی بیماری ہے مگر تکلیف سہنے والا مریض سمجھتا اور جانتا ہے کہ مجھے کوئی بیماری ہے مگر ایلوپیتھک ڈاکٹرز سے اس مریض کا علاج نہیں ہوپاتا, یاد رکھیے شفاء ہر حکیم کے پاس ہے بشرط کے اس حکیم کے پاس تجربہ معلومات اور ایمانداری ہو, اور اگر اس حکیم کے پاس تجربہ معلومات اور ایمانداری تینوں چیزوں میں سے ایک چیز بھی نہیں ہو تو ایسے حکیم یا ڈاکٹر کے پاس در بدر گھومنے والے مریض کی شفاء نہیں ہوتی, اگر آپ چاہتے ہیں کے آپ کو جیسی بھی بیماری ہے مگر آپ کے بیماری کیفیات تکلیف کا حل ہوجائے تو آپ کسی اچھے ایماندار ڈاکٹر یا حکیم کا رخ کریں اور اپنا مسئلہ بیان کریں, ہر ڈاکٹر اور حکیم کو معلومات ہوتی ہے اور بہت سے کو تجربہ تبھی وہ اک اچھا ڈاکٹر یا حکیم کہلاتا ہے, مگر میری رائے کے مطابق ہر ڈاکٹر اور حکیم اپنے علم و فنون کے مطابق نہایت ایمانداری کے ساتھ کسی مریض کا علاج کرے تو مطلوبہ مریض شفاء حاصل کرلیتا ہے,
سب سے پہلے ڈاکٹر اور حکیم کے پاس علم و تجربہ ہونا ضروری ہے اور اس کے بعد مریض کو فائدہ پہنچنے کے لیے ڈاکٹر اور حکیم کو اپنے علم و تجربہ کے مطابق نہایت ایمانداری کیساتھ مریض کے مرض کا علاج کرے,
مطلب مریض کو ٹٹولے مٹولے نہیں, مریض کی بیماری پر توجہ دے, صحیح طریقے سے سمجھے, مریض کی بیماری تکلیف کو سمجھے, احساس کرے اور اپنا ساتھی دوست بھائی سمجھ کر علاج کرے تو مریض کو شفاء ضرور ملے گی کے جو مریض کی تکلیف کو سمجھیں, اور جو مریض اپنی بیماری کو لیکر در بدر علاج کروانے کے لیے گھومتے ہیں, مگر کسی ایلوپیتھک ڈاکٹرز سے اس کا علاج نہیں ہو پا رہا اور سب ڈاکٹرز مریض کی بیماری پر توجہ نہیں دیتے یا ٹینشن کا نام دے دیتے ہیں یا کسی بھی وجہ سے مریض اپنے بیماری سے نجات نہیں لے سکتا ہوتو آپ کو چاہیے کے کسی ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے اپنی بیماری بیان کریں, اور اپنا علاج کروائیں, اور اگر آپ اپنی بیماری جو آپ کو خود سمجھ نہیں آ رہا ہو کے آپ کو کیا بیماری ہے اور آپ تنگ آگئے ہو تو ہماری خدمت کرنے والی سروس آپ کے لیے ہمیشہ کا دروازہ کھلا ہے,
اگر آپ اپنی بیماری سے بالکل تنگ آگئے ہو اور آپ کا کہیں سے بھی علاج نہیں ہوسکتا ہو تو آپ ہم سے رابطہ کریں, ہم آپ کی ہر بیماری کو کھول کر رکھ دینگے اور آپ کی ذہنی, جسمانی جو بھی بیماری ہو, ہم آپ کی تکلیف اور آپ کی کیفیت اور آپ کی شکایت بیماری کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے موجود ہیں,
ہماری سروس سے استفادہ حاصل کیجیے
میری رائے پوری دنیا میں ایلوپیتھک ڈاکٹرز 100 فیصد میں 2 فیصد ایمانداری اختیار کرتے ہیں جو کے ہندو, قادیانی, ہوتے ہیں, تجربات کے مطابق مسلم ڈاکٹروں میں بے ایمانی پایا جاتا ہے, آپ سے گزارش ہے کے اپنے اہم سیریس بیماری کا کیس شریف ایماندار ڈاکٹرز یا حکیم سے علاج کروائیں,
اک بات ذہن نشین کرلیا جائے کے جتنا ہوسکے ایلوپیتھک میڈیسن استعمال کرنے سے پرہیز کیا جائے, اور ایلوپیتھک میڈیسن کی بنیادی تاثیر نہایت گرم اور بکثرت استعمال کرنے سے حقیقی صحت میں تبدیلی اور قوت میں کمی ہوتی ہے,
ایلویتھک میڈیسن کمائی کرنے کی نیت اور اپنی خفیہ حکومت جمانے کی نیت سے میڈیسنز بنائی گئی ہیں,
اور ہومیوپیتھک ڈاکٹرز حکیم میں 100 فیصد پر 98 فیصد ایماندار شخصیت ہیں,
تجربات غور و فکر کے مطابق ہومیوپیتھک ڈاکٹرز حکیم میں مسلم حکیم ڈاکٹرز بھی ایماندار پائے جاتے اور کچھ اسے بھی ہیں جو اپنے علم و فنون پر ایمانداری سے کام نہیں لیتے مگر ایسوں کی تعداد نہیں ہونے کے برابر ہے,
اور یہودی, قادیانی, وغیرہ کا خاصہ ایمانداری ہے,
آپ ہومیوپیتھک جڑی بوٹی میڈیسن کا استعمال ہر موسم, بیماری عمر, میں استعمال کرسکتے ہیں, اور کریں,
بنیادی طور پر ہومیوپیتھک میڈیسن جڑی بوٹی کا بنیادی اثر رکھتے ہیں, اور ہومیوپیتھک میڈیسن کی تاثیر ٹھنڈی ہے جو جسم کے لیے مضر اثرات کا خاتمہ ہے, اور مطلوبہ بیماری کو جڑ بنیاد سے ختم کرنے کا آلہ یا ہتھیار ہے,
ہومیوپیتھک میڈیسن انسانی صحت کو برقرار رکھنے, بیماری کو جڑ بنیاد سے ختم کرنے, اور جڑی بوٹی کے دیسی اثرات انسانی جسم کے اندر ڈالنے کی نیت جوش اور احساس سے بنایا گیا ہے,
اک بات ذہن نشین کرلیا جائے کے میں کسی کو نفرت آمیز باتوں کی طرف مائل ہرگز نہیں کررہا ہوں, میرا مقصد آپ کے آنکھوں سے پردہ اٹھانا تھا اور یہ میرا فرض ہے کے شریف لوگوں تک اپنا پیغام پہنچاؤں,
اور آپکی زندگی, صحت, قوت آپ ہی کی ملکیت ہے, آپ چاہیں تو اپنی مرضی سے کہیں بھی جاسکتے ہیں, چاہے وہ نیم حکیم یا ڈاکٹر ہو,
اور میرے نظریہ نیم حکیم اور ڈاکٹر وہ ہیں کے جس میں ایمانداری علم و تجربہ فن نہ ہو,
ڈگری یافتہ ایلوپیتھک ڈاکٹرز کی یہ خاصیت بھی ہوتی ہے کے آپس میں ایکا اور ایمانداری کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مریض کو بنا احساس کے مریض کو دیکھتے ہیں اور اگر مریض مرجائے تو اس کا انھیں کوئی دکھ غم نہیں ہوتا, ایسا بھی ہے کے آپریشن تھیٹر میں عام لوگوں کا آپریشن سٹوڈنٹ سے کرواتے ہیں اور سٹوڈنٹ کا پریکٹس کسی ڈاکٹر یا دوسرے سٹوڈنٹ کے بجائے اک عام شہری یا دیہاتی سے لیتے ہیں اور اگر اس آپریشن میں مریض کا دم آپریشن ہی کی وجہ سے نکل جائے تو یہ اس شہری دیہاتی کی بیوقوفی ہے کے اس نے اپنے آپ کو سٹوڈنٹ ٹیسٹ امتحان میں پیش کیا,
اگر مریض کو یا اس کے وارثوں کو اتنی عقل ہوتی تو وہ آپریشن ہی نہ کرواتے اور دنیا میں کوئی ایسی بیماری نہیں کے اس کا حل آپریشن ہی ہو,
آپریشن کو سٹوڈنٹ کے ٹیسٹ لینے میں استعمال لایا جاتا ہے, اگر آپریشن کامیاب ہوگیا تو مطلوبہ سٹوڈنٹ اپنے ٹسٹ میں کامیاب ٹھرا, اور اگر آپریشن کامیاب نہیں ہوا تو مریض کی موت واقع ہوجاتی ہے, لہذا پھر سٹوڈنٹ دوسرے مریض پر ٹسٹ آزماتے ہیں,
دنیا میں لوگ ایلوپیتھک میڈیسن کی جانب کیوں ذیادہ رجحان ہیں صرف اس لیے کے لوگ بازاری کتب کسی ڈاکٹر پروفیسر کا مطالعہ کرتے ہیں اور کوئی صحبت جات کی وجہ سے,
ریسرچ کے مطابق معلوم ہوا ہے کے لوگوں کو حکیموں کو نیم حکیم ٹھرایا جاتا ہے کے جس کے لیے ڈاکٹرز پروفیسرز لوگوں کو دماغی ٹریننگ دیتے ہیں,
دماغی ٹریننگ اسے بولتے ہیں کے کسی کو کسی چیز یا بات پر آمادہ کردینا,
اور پاکستان میں تمام ڈگری یافتہ ایلوپیتھک ڈاکٹرز کو دماغی ٹریننگ دیکر بعد میں ڈگری سونپی جاتی ہے, کے جس کی وجہ سے بیماریوں کا بکثرت پیدا ہونا, اسپتالوں میں مریضوں کے اموات ہونا , جسم سے توانائی لطف زائل ہوجانا یہ سب ایلوپیتھک میڈیسن میں پایا جاتا ہے,
اور ہومیوپیتھک میڈیسن سے مریض کا وہ علاج بھی ہوجانا ہے کے جس کا علاج ایلوپیتھک میں آپریشن ہی ہے اور وہ بھی سٹوڈنٹ کا ٹسٹ, اور اگر مریض مرجائے تو اس میں ایلوپیتھک کا کچھ نہیں جاتا کیونکہ ایلوپیتھک والے پہلے ہی سے مریض کے وارثوں سے دستخط کروالیتے ہیں کے مریض کو کچھ ہوجانے مطلب موت ہوجانے کی صورت میں ایلوپیتھک کا کوئی ذمہ نہیں,
مریضوں اور انکے وارثوں سے گزارش ہے کے بیماری کا علاج ہومیوپیتھک سے ہی کروائیں,
ہومیوپیتھک وہ جڑی بوٹی ہے جو روز اول سے چلا آرہا ہے, جب سے یہ دنیا بنی ہے اور جب جب کوئی بیمار ہوتا تو اس کو مختلف سبزجات مختلف گوشت, مختلف پتے پھولوں اور مختلف طریق کار سے علاج کیا جاتا اور مریض صحتیاب ہوجاتے, زمانہ قدیم سے یہی ہومیوپیتھک جڑی بوٹی کا استعمال ہوتا آرہا ہے اور لوگوں کی عمریں اور صحت باعث رشک ثابت ہوئیں,
اور پھر اسی جڑی بوٹی کو آسانی سے دستیاب ہونے کے لیے ہومیوپیتھک نام کا آغاز ہوا,
ہومیوپیتھک یونان اور جرمن سے ذیادہ مشہور ہے,
ہومیوپیتھک کوریہ, ہومیوپیتھک جرمن, ہومیوپیتھک یونان ذیادہ مشہور ہیں,
یاد رہے ہومیوپیتھک میڈیسن ایلوپیتھک میڈیسن کا برعکس ہے,
اگر آپ نے اپنی زندگی میں ایلوپیتھک جراثیمی ادویات استعمال کیں ہیں اور آپ پھر ہومیو پیتھک کی طرف آئیں گے تو ہومیوپیتھک جڑی بوٹی ایسی ادویات ہیں کے ایلوپیتھک جراثیموں کا جسم سے مکمل خاتمہ کردے گا,
اپنا اہم مسئلہ بیماری ٹینشن ہم سے بیان کریں,
ماہر تجربہ آصف آرائیں کراچی پاکستان,
پورے ملک میں خدمت کرنے کے لیے حاضر ہے,
03051247217
03433298917