Dr Aisha Asad

Dr Aisha Asad Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr Aisha Asad, Women's Health Clinic, Karachi central hospital Fb area, Karachi.

From conception to delivery—care you can trust! 🤰🏻
Gynecologist and infertility specialist
Nargis medical and Fertility clinic
Mon - Sun
3PM - 5PM
Ahmed medical complex Thursday 12pm- 2pm
Karachi central hospital Saturday 12pm- 2pm

Eid Mubarak everyone 🌝🌜
20/03/2026

Eid Mubarak everyone 🌝🌜

FETAL DEVELOPMENT BY MONTH 🤰Month 1️⃣The embryo forms and the heart begins to develop.Month 2️⃣The face, arms, and legs ...
18/03/2026

FETAL DEVELOPMENT BY MONTH 🤰

Month 1️⃣
The embryo forms and the heart begins to develop.

Month 2️⃣
The face, arms, and legs start forming. The heart is already beating.

Month 3️⃣
Baby now has fingers, toes, and tiny nails.

Month 4️⃣
Baby begins to move, though mom may not feel it yet.

Month 5️⃣
Mom may start to feel baby kicks for the first time.

Month 6️⃣
Baby’s eyes begin to open and hearing develops.

Month 7️⃣
Baby grows quickly and body fat starts forming.

Month 8️⃣
Baby’s brain and lungs continue developing.

Month 9️⃣
Baby is fully developed and ready for birth.

🤰

16/03/2026

جب حالات تم پر حاوی ہوں اور تم اپنے بدترین دنوں سے گزر رہے ہو، تو بعض اوقات تمہیں وہاں سے راحت ملتی ہے جہاں سے تمہیں گمان بھی نہیں ہوتا۔ یہ صرف اُس نیکی کا بدلہ ہوتا ہے جو تم نے کسی کے لیے کی اور تم بھول گئے، لیکن اللہ تعالیٰ اسے نہیں بھولا

اکثر جب ہم ڈلیوری سے پہلے مریضہ کے گھر والوں سے کہتے ہیں کہ احتیاطاً خون کا انتظام کر لیں تو فوراً مختلف بہانے سننے کو م...
16/03/2026

اکثر جب ہم ڈلیوری سے پہلے مریضہ کے گھر والوں سے کہتے ہیں کہ احتیاطاً خون کا انتظام کر لیں تو فوراً مختلف بہانے سننے کو ملتے ہیں:
"ڈونر نہیں مل رہا"
"کوئی دینے والا نہیں ہے"

جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ شوہر خود موجود ہوتا ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ اگر باہر سے ڈونر نہیں مل رہا تو شوہر خود خون دے سکتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر وہاں ساس یا گھر والے شوہر کو خون دینے کی اجازت ہی نہیں دیتے۔

یہ بات واقعی حیران کن لگتی ہے۔

ایک عورت اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اور شدید تکلیف برداشت کر کے اسی خاندان کی نسل کو دنیا میں لانے جا رہی ہوتی ہے…
لیکن جب احتیاطاً خون کا بندوبست کرنے کی بات آتی ہے تو شوہر کا خون دینا بھی مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔

طبی طور پر یہ بات واضح ہے کہ ایک صحت مند انسان کے لیے ایک بوتل (تقریباً 350–450 ملی لیٹر) خون دینا محفوظ ہوتا ہے اور اس سے صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔ انسان کا جسم چند دنوں میں خون کی مقدار دوبارہ پوری کر لیتا ہے۔

یاد رکھیں کہ ڈلیوری ایک قدرتی عمل ضرور ہے لیکن بعض اوقات ایمرجنسی کی صورت میں خون کی فوری ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اور جو لوگ باپ بننے جا رہے ہیں انہیں یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ ایسے معاملات میں اپنے فیصلے خود کریں — ایسے فیصلے جن میں آپ کی بیوی اور آنے والے بچے کی بھلائی ہو۔

اس لیے بہتر ہے کہ ڈلیوری سے پہلے خون کا انتظام ضرور کر لیا جائے تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔

نیچے تصویر میں جو کیچڑ آپ کو نظر آ رہا ہے وہ کوئی عام کیچڑ نہیں، بلکہ پشاور کے شاہ عالم پل کے مولانا ایاز صاحب کی مشہور ...
11/03/2026

نیچے تصویر میں جو کیچڑ آپ کو نظر آ رہا ہے وہ کوئی عام کیچڑ نہیں، بلکہ پشاور کے شاہ عالم پل کے مولانا ایاز صاحب کی مشہور زمانہ ایجاد “شوگر کنٹرول کیچڑ” ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جب اس انقلابی دریافت کی خبر پاکستان کے کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز اور امریکہ کے ممبرز کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز تک پہنچی تو دونوں اداروں نے فوراً شوگر کی پانچ سالہ اسپیشلائزیشن بند کرنے پر غور شروع کر دیا۔

اب ڈاکٹر حضرات بھی مریضوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ دوائیاں، ٹیسٹ اور ڈائٹ پلان سب چھوڑ دیں… سیدھا شاہ عالم پل پہنچیں اور کیچڑ تھراپی کروائیں!

Tashahhud“All greetings, prayers, and pure words are for Allah.Peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and ...
09/03/2026

Tashahhud

“All greetings, prayers, and pure words are for Allah.
Peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings.
Peace be upon us and upon the righteous servants of Allah.
I bear witness that there is no god except Allah,
and I bear witness that Muhammad is His servant and messenger.”

06/03/2026

‏پٹرول بچانے کا سب سے آسان نسخہ شاید یہی سمجھ لیا گیا ہے کہ اسکول بند کر دو۔
تعلیم رک جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا، مگر سرکاری پروٹوکول اور مفت پٹرول پر ذرا سی بھی آنچ نہیں آنی چاہیے۔
کبھی یہ بھی سوچ لیں کہ ایک انسان کو ادھر سے ادھر لے جانے کیلئے 30، 40 گاڑیوں کا قافلہ کیوں ضروری ہوتا ہے؟
اگر واقعی پٹرول بچانا ہے تو ان لمبے پروٹوکول ختم کریں، سرکاری مفت پٹرول بند کریں اور ایک ہی گاڑی میں سفر کر کے مثال قائم کریں۔
بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملک میں بچت ہمیشہ تعلیم پر کی جاتی ہے۔
حالانکہ قوموں کا مستقبل اسکول بند کرنے سے نہیں بلکہ علم کے دروازے کھولنے سے بنتا ہے۔
جب حکمرانوں کی ترجیحات میں تعلیم سب سے آخر میں ہو تو پھر ملک کا مستقبل بھی اندھیروں میں ہی جاتا ہے۔

درسِ کربلا یہی ہے کہ سچے رہبر میدانِ حق میں شہادت کا تاج سجاتے ہیں،جھکنا حسینیّت میں جرم ہے، اور شہادت فخر ہے۔ورنہ بلندی...
01/03/2026

درسِ کربلا یہی ہے کہ سچے رہبر میدانِ حق میں شہادت کا تاج سجاتے ہیں،
جھکنا حسینیّت میں جرم ہے، اور شہادت فخر ہے۔
ورنہ بلندیوں پر کھڑے ہو کر منافقت سے جینے والے بھی بہت ہیں۔
دنیا کے سب یزید اسی غم میں مر گئے کہ سر تو مل گیا، مگر حسینؑ کی بیعت نہ مل سکی۔
شہادت سعادت بھی ہے، اور ہماری وراثت بھی۔
سلام ہو مردِ حُر آیت اللہ علی خامنہ ای 😥

ڈٹے رہے جھکے نہیں ڈرے نہیں بھاگے نہیں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ظالم کا سامنا کیا ۔جسم ناتواں آنکھیں کمزور پر ارادے فولاد کی طرح سخت ۔۔چٹان کی مانند حق پر ڈٹے رہے ۔سلام اے شہید ۔جنت آپکی منتظر ۔۔۔

PCOS ( polycystic ovarian syndrome )پی سی او ایس صرف آپ کے ہارمونز کو خراب نہیں کرتا،یہ خاموشی سے آپ کی ذہنی صحت کو بھی ...
28/02/2026

PCOS ( polycystic ovarian syndrome )

پی سی او ایس صرف آپ کے ہارمونز کو خراب نہیں کرتا،
یہ خاموشی سے آپ کی ذہنی صحت کو بھی متاثر کرتا ہے۔

اگر آپ کو پی سی او ایس ہے اور آپ کو لگ رہا ہے کہ آپ حالیہ دنوں میں خود کو سنبھال نہیں پا رہیں، تو ایک بار پھر خود کو قصوروار ٹھہرانے سے پہلے یہ ضرور پڑھیں۔

آپ سست نہیں ہیں۔
آپ ناشکری نہیں ہیں۔
آپ ضرورت سے زیادہ جذباتی نہیں ہیں۔

آپ ایک ایسے جسم میں زندگی گزار رہی ہیں جہاں:
• ہارمونز کا توازن بگڑا ہوا ہے
• شوگر کی سطح تیزی سے اوپر نیچے ہو رہی ہے
• اعصابی نظام مسلسل تناؤ میں ہے
• برسوں سے آپ کی جسمانی شکل و صورت تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے

اور پھر لوگ کہتے ہیں:
بس وزن کم کر لیں۔
بس سکون سے رہیں۔
مثبت سوچا کریں۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ:
• کپڑے پہنتے ہوئے رو پڑتی ہیں کیونکہ کچھ بھی ٹھیک سے فِٹ نہیں آتا
• آخری وقت میں پروگرام منسوخ کر دیتی ہیں کیونکہ طبیعت عجیب سی ہوتی ہے مگر وجہ سمجھ نہیں آتی
• رات گئے دل کی تیز دھڑکن کے ساتھ جاگتی رہتی ہیں اور اسی بیماری کے بارے میں پڑھتی رہتی ہیں
• کبھی کسی پر جھنجھلا جاتی ہیں اور پھر خود کو برا بھلا کہتی رہتی ہیں
• دل میں سوچتی ہیں، آخر مجھ میں کیا خرابی ہے؟

وہ بات جو اکثر کوئی نہیں بتاتا:

پی سی او ایس کا تعلق بے چینی، ڈپریشن اور یہاں تک کہ خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی ہو سکتا ہے۔
یہ اس لیے نہیں کہ آپ کمزور ہیں،
بلکہ اس لیے کہ آپ کا دماغ بھی اسی جسمانی بے ترتیبی اور سوزش کا حصہ ہے جس کا اثر آپ کی بیضہ دانیوں پر پڑ رہا ہے۔

اکثر کیا ہوتا ہے؟

آپ ہمت کر کے ڈاکٹر کے پاس جاتی ہیں اور کہتی ہیں:
میں ہر وقت روتی رہتی ہوں، دل گھبراتا ہے، خود جیسا محسوس نہیں کرتی۔

اور جواب ملتا ہے:
وزن کم کریں۔
سیر کیا کریں۔
کام کا دباؤ تو نہیں؟

کوئی یہ نہیں کہتا:
آپ کو پی سی او ایس ہے۔ یہ اسی بیماری کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ ہمیں اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

پھر آپ واپس آتی ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ شاید مسئلہ آپ کی شخصیت میں ہے،
حالانکہ یہ بیماری کی ایک واضح علامت ہو سکتی ہے۔

یاد رکھیں:

اگر آپ کو پی سی او ایس ہے اور آپ محسوس کرتی ہیں:
• اداسی
• بے حسی
• ہر وقت گھبراہٹ
• اپنے پرانے وجود سے دوری
• یہ احساس کہ آپ سب کے لیے بوجھ بن رہی ہیں

تو یہ ڈرامہ نہیں ہے۔
یہ ناشکری نہیں ہے۔
یہ ٹوٹ جانا نہیں ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے جس کا علاج اسی سنجیدگی سے ہونا چاہیے جیسے شوگر، کولیسٹرول یا ماہواری کے مسائل کا کیا جاتا ہے۔

آپ اس بات کی حقدار ہیں کہ:
• آپ کی ذہنی کیفیت کو سنجیدگی سے لیا جائے
• آپ کو صرف نسخہ دے کر ٹالا نہ جائے
• ایسا علاج ہو جو جسم اور دماغ دونوں کو بہتر کرے
• آپ دوبارہ خود کو ایک مکمل انسان کی طرح محسوس کریں

پی سی او ایس صرف جسمانی مسئلہ نہیں ہے۔
بہت سی خواتین کے لیے اصل جنگ ان کے ذہن کے اندر جاری ہوتی ہے۔

اور اگر آپ یہ پڑھ کر سوچ رہی ہیں:
یہ سب تو میری ہی کہانی ہے… اور میں اپنے ہی خیالات سے ڈرنے لگی ہوں —

تو یاد رکھیں:
آپ کسی بھی بیماری، کسی بھی ڈائٹ، یا کسی بھی علاج سے زیادہ قیمتی ہیں۔
مدد مانگنا کمزوری نہیں، بہادری ہے۔
Dr Aisha asad
Gynecologist and infertility specialist

حمل اور روزہ — روز کا ایک ہی سوالرمضان شروع ہوتے ہی  روزانہ ایک ہی سوال بار بار سننے کو ملتا ہے:“ڈاکٹر، ہم روزہ رکھ سکتے...
23/02/2026

حمل اور روزہ — روز کا ایک ہی سوال

رمضان شروع ہوتے ہی روزانہ ایک ہی سوال بار بار سننے کو ملتا ہے:
“ڈاکٹر، ہم روزہ رکھ سکتے ہیں؟”

یہ سوال صرف طبی نہیں ہوتا… اس کے پیچھے فکر بھی ہوتی ہے، دباؤ بھی، اور اکثر گھر والوں کے رویّے کا خوف بھی۔ کیونکہ مسئلہ صرف صحت کا نہیں، ہمارے معاشرتی مزاج کا بھی ہے۔

دین نے حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو اجازت دی ہے کہ اگر اسے اپنی یا بچے کی صحت کا خطرہ ہو تو وہ روزہ چھوڑ سکتی ہے اور بعد میں اس کی قضا کر سکتی ہے۔ قرآن مجید میں صاف بات ہے کہ اللہ آسانی چاہتا ہے، مشکل نہیں۔

لیکن ہمارے معاشرے میں کیا ہوتا ہے؟

اگر کوئی حاملہ عورت کہہ دے کہ طبیعت کمزور ہے یا ڈاکٹر نے منع کیا ہے تو فوراً جملے شروع:
“ہم نے بھی تو رکھے تھے”
“اتنی بھی کیا کمزوری ہے؟”
“آج کل کی لڑکیاں بہت نازک ہیں”

کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ہر حمل مختلف ہوتا ہے۔
کسی کو شوگر کا مسئلہ ہوتا ہے، کسی کا بلڈ پریشر گر جاتا ہے، کسی کو شدید الٹیاں ہوتی ہیں، کسی کا ہیموگلوبن کم ہوتا ہے۔ اور وہ صرف اپنے لیے نہیں، ایک نئی جان کے لیے ذمہ دار ہوتی ہے۔

اگر روزے سے شدید کمزوری، ڈی ہائیڈریشن، شوگر یا بی پی کا مسئلہ ہو، یا بچے کی موومنٹ کم محسوس ہو تو روزہ چھوڑ دینا گناہ نہیں۔ یہ لاپرواہی نہیں، ذمہ داری ہے۔ بعد میں قضا کی جا سکتی ہے۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز جسمانی کمزوری نہیں بلکہ جذباتی دباؤ ہے۔
حاملہ عورت پہلے ہی ہارمونز، تھکن اور ذہنی دباؤ سے گزر رہی ہوتی ہے۔ اوپر سے اگر اسے گناہ کا احساس دلایا جائے یا ایمان پر شک کیا جائے تو یہ زیادتی ہے۔

رمضان مقابلہ نہیں ہے کہ کون زیادہ رکھ رہا ہے۔
یہ رحمت، نیت اور توازن کا مہینہ ہے۔

اگر آپ کے گھر میں کوئی حاملہ ہے تو اس سے یہ نہ پوچھیں:
“روزہ رکھ رہی ہو نا؟”

بلکہ یہ پوچھیں:
“طبیعت کیسی ہے؟ میں کیا مدد کر سکتا/سکتی ہوں؟”

ماں کا سکون بھی عبادت ہے۔
اور اس کی صحت بھی۔ 🤍

 پاکستان میں ایک خاموش تبدیلی آ چکی ہے، مگر شاید ہم نے اسے محسوس نہیں کیا۔آج بہت سے ڈاکٹر مریض کے علاج سے زیادہ ایک اور ...
23/02/2026


پاکستان میں ایک خاموش تبدیلی آ چکی ہے، مگر شاید ہم نے اسے محسوس نہیں کیا۔
آج بہت سے ڈاکٹر مریض کے علاج سے زیادہ ایک اور چیز کے بارے میں سوچتے ہیں — خود کو بچانا۔
اسے دنیا میں Defensive Medicine کہا جاتا ہے۔

یعنی ایسا علاج جو صرف مریض کی ضرورت کے مطابق نہیں بلکہ ممکنہ شکایات، مقدمات، سوشل میڈیا ٹرائل یا انتظامی دباؤ سے بچنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

ظاہر ہے سننے میں یہ عجیب لگتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جب کسی نظام میں اعتماد کمزور ہو جائے تو فیصلے طبّی اصولوں کے بجائے خوف کے تحت ہونے لگتے ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ چند سالوں میں اسپتالوں پر حملے، ڈاکٹرز کے خلاف تشدد، سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق الزامات، اور فوری سزا کے مطالبات نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں ڈاکٹر ہر فیصلہ کرتے وقت یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ اگر نتیجہ توقع کے مطابق نہ نکلا تو کیا ہوگا۔

نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

غیر ضروری ٹیسٹ بڑھ جاتے ہیں کیونکہ “کچھ رہ نہ جائے”۔
مریض کو جلدی ریفر کر دیا جاتا ہے کیونکہ “خطرہ نہ لیا جائے”۔
مشکل کیس لینے سے گریز کیا جاتا ہے کیونکہ “رسک زیادہ ہے”۔

بظاہر یہ احتیاط لگتی ہے، مگر اصل میں اس کا نقصان مریض اور نظام دونوں کو ہوتا ہے۔

عالمی تحقیق بتاتی ہے کہ defensive medicine صحت کے اخراجات کو نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے۔ غیر ضروری ٹیسٹ، اضافی داخلے، اور بار بار ریفرل نہ صرف مریض کی جیب پر بوجھ بنتے ہیں بلکہ اسپتالوں کی صلاحیت بھی کم کر دیتے ہیں۔ ایمرجنسی وارڈ بھرے رہتے ہیں، انتظار کا وقت بڑھتا ہے، اور اصل ضرورت مند مریض پیچھے رہ جاتے ہیں۔

سب سے خطرناک اثر اعتماد کا ٹوٹنا ہے۔

جب ڈاکٹر خوف میں فیصلہ کرتا ہے اور مریض شک میں علاج لیتا ہے تو علاج ایک انسانی تعلق نہیں رہتا بلکہ ایک قانونی لین دین بن جاتا ہے۔ طب جو کبھی ہمدردی اور اعتماد پر کھڑی تھی، آہستہ آہستہ دفاعی رویوں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

دنیا کے کامیاب صحت نظاموں نے اس مسئلے کو صرف قوانین سے نہیں بلکہ توازن سے حل کیا۔ واضح میڈیکل پروٹوکول، آزاد میڈیکل ریویو بورڈز، ڈاکٹرز کے لیے قانونی تحفظ، اور مریضوں کے لیے شفاف شکایتی نظام تاکہ انصاف بھی ہو اور خوف بھی نہ ہو۔

پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ احتساب نہیں ہونا چاہیے۔ احتساب ضروری ہے۔ مگر جب احتساب نظام کے ذریعے نہیں بلکہ ہجوم، دباؤ یا جذبات کے ذریعے ہونے لگے تو بہترین ڈاکٹر بھی خطرہ لینے سے ہچکچانے لگتے ہیں۔

اور طب میں بعض اوقات زندگی بچانے کے لیے خطرہ لینا پڑتا ہے۔

اگر ہم واقعی بہتر صحت نظام چاہتے ہیں تو ہمیں ایک بنیادی سوال کا جواب دینا ہوگا:

کیا ہم ایسا ماحول بنا رہے ہیں جہاں ڈاکٹر بہترین طبی فیصلہ کر سکے؟
یا ایسا ماحول جہاں وہ صرف محفوظ فیصلہ کرے؟

کیونکہ محفوظ فیصلہ ہمیشہ بہترین علاج نہیں ہوتا۔

جب ڈاکٹر خوف میں کام کرے گا تو نظام مہنگا بھی ہوگا اور کمزور بھی۔
اور جب اعتماد واپس آئے گا تو علاج بھی بہتر ہوگا اور انسانیت بھی۔

🤨کیا آپ جانتے ہیں کہ تمام follicles میں Egg نہیں ہوتا؟ 🫩خواتین کی عمر بڑھنےکے ساتھ ، خالی follicles ہونے کا امکان بڑھ جا...
22/02/2026

🤨کیا آپ جانتے ہیں کہ تمام follicles میں Egg نہیں ہوتا؟ 🫩خواتین کی عمر بڑھنےکے ساتھ ، خالی follicles ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے. 🥚✨

🔍 "خالی follicles" کیا ہیں؟

📌جیسے Retrieval پر کوئی انڈا نہیں ملا
📌 انڈا خراب ہو گیا ہے۔
📌 انڈا درست طریقے سے mature ہونے میں ناکام رہا۔
📌جبfollicleکے بغیر oocyte بن جائے

🫣📉 عمر کی اہمیت🫣:

💐- 35 سے کم: ~ 15% خالی پٹک کا خطرہ
💐- 35-40: ~24% خطرہ
💐- 40 سے اوپر: 50-60% خطرہ

جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی ہے، انڈوں کے ریزرو میں کمی آتی ہے، جس سے follicles کا صحیح طریقے سے نشوونما مشکل ہو جاتا ہے۔
عمر کے ساتھ ساتھ Fertility کم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

اپنے جسم کو سمجھنا ضروری ہے! 💖

Awareness

Address

Karachi Central Hospital Fb Area
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Aisha Asad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Aisha Asad:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram