25/01/2026
یہ کوئی فلم نہیں، کوئی ڈراؤنی کہانی نہیں۔
یہ ہمارا اپنا معاشرہ ہے۔
اکثر ایسا کوئی باہر کا دشمن نہیں ہوتا،
زیادہ تر یہ کوئی قریبی ہی ہوتا ہے
رشتہ دار، خاندان کا فرد،
وہی جو مسکرا کر بچے کو گود میں بھی لیتا ہے۔
حسد، جلن، اولاد کا دکھ،
دوسری شادی کا غصہ،
یا بس یہ برداشت نہ ہونا
کہ کسی اور کے گھر چراغ جل گیا ہے۔
آج کل یہ سب بہت عام ہوتا جا رہا ہے۔
لوگ عاملوں کے پاس جا کر
کسی کے بچے کو “کالے علم” سے ختم کروانے کی بات کرتے ہیں
جیسے یہ کوئی معمولی کام ہو۔
نہ انہیں اس بچے کا قصور یاد رہتا ہے
نہ یہ سوچ آتی ہے
کہ وہ ایک ماں کی دنیا اجاڑنے جا رہے ہیں۔
یہ کالا جادو نہیں،
یہ حسد کی انتہا ہے،
یہ وہ ذہنیت ہے
جو پہلے دل کو مارتی ہے
پھر معصوم جانوں پر آتی ہے۔
اور حقیقت یہ ہے کہ
ایسے لوگ بیمار ذہن کے مالک ہوتے ہیں،
اور جو عامل اس کام پر راضی ہوں
وہ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔
یہ تصویر صرف ایک اسکرین شاٹ نہیں،
یہ ہمارے معاشرے کی سوچ کا آئینہ ہے۔
Dr Aisha asad