Online doctor consultation

Online doctor consultation You can consult me through whatsap easily or through Facebook messenger

I am Dr saima My qualification is MBBS,MCPS(FAMILY MEDICINE),MRCGP (INT .I HAVE 20 Years of experience including 10 years in emergency in tertiary care hospital of Saudia Arab. .

25/05/2025
Feeling Moody or Bloated Before Your Period? It Could Be PMS!Premenstrual Syndrome (PMS) affects many women with symptom...
24/05/2025

Feeling Moody or Bloated Before Your Period? It Could Be PMS!

Premenstrual Syndrome (PMS) affects many women with symptoms like:

Mood swings

Bloating

Fatigue

Breast tenderness

Irritability or anxiety

But the good news is—PMS is manageable!

Lifestyle tips that really help:

Regular physical activity

Frequent, small, balanced meals

Include complex carbohydrates like whole grains, fruits, and vegetables

Cut back on sugar, salt, and caffeine

Get enough sleep

Practice stress-relief techniques (yoga, deep breathing)

When symptoms are more severe, medical options may be needed:

Tablet Yasmin – helps regulate cycles, reduce bloating, acne, and mood swings

SSRIs like fluoxetine or sertraline – useful for mood-related PMS symptoms

Don’t suffer in silence. If PMS is affecting your daily life, talk to a doctor. Help is available!

Book your consultation today.

SCABIES: What You Need to KnowScabies is a common and highly contagious skin condition caused by tiny mites called Sarco...
24/05/2025

SCABIES: What You Need to Know

Scabies is a common and highly contagious skin condition caused by tiny mites called Sarcoptes scabiei. These mites burrow into the skin, causing intense itching and a pimple-like rash.

How Does Scabies Spread?

Close skin-to-skin contact with an infected person

Sharing clothes, bedding, or towels

It can easily spread within households, schools, and care facilities

Signs and Symptoms:

Intense itching, especially at night

Red bumps or rashes, often in a line

Sores due to scratching

Common areas affected: between fingers, wrists, elbows, armpits, waist, and ge***al area

Treatment:

Prescription creams or lotions (such as permethrin)

Oral medication in some cases (like ivermectin)

Wash all clothing, bedding, and towels in hot water and dry on high heat

Treat all close contacts—even if they don’t have symptoms

Important:
Scabies is treatable, but reinfection can happen if all contacts and surroundings are not properly managed. If you or your family are experiencing unexplained itching or skin rashes, consult your doctor promptly.

Stay informed, stay healthy!

— Dr. Saima Farooqui

---

24/05/2025

A study of 239,907 women from the Nurses’ Health Study (NHS) and NHS II examined cardiovascular disease (CVD) risk after hysterectomy with or without oophorectomy. Results showed increased CVD risk among participants who underwent hysterectomy before age 50 years, with a 21% higher risk in those younger than 46 years who did not use estrogen. http://ms.spr.ly/6180Sb1D0

22/05/2025
26/04/2023
26/11/2020

Nature is best
آنٹیوں کی سائنس... ..................

خواتین، بالخصوص زیرو میٹر مائیں، جو کہانیاں سناتی ہیں نا، آنٹیوں کے بارے میں، یقین کریں دل پتھر کا نہ ہو تو آنکھوں سے آنسو بن کر بہہ نکلے....

آپ بھی اپنے علم میں اضافہ کریں. ہم تو ایف سی پی ایس کر کے بھی کورے ہی رہے....
. میرے بچے کا ماتھا بڑا تھا. ایک آنٹی نے کہا کہ 1 کلو چاولوں کاسرہانہ بنا کر اسکے ماتھے پر رکھا کرو، ماتھا بیٹھ جائے گا...
(غالباً آنٹی کے ساتھ بھی بچپن میں یہی بلتکار کیا گیا تھا... ماتھے کا تو پتہ نہیں، عقل ضرور بیٹھ گئی)
. میرے بچے کو ایک آنٹی نے بولا کہ اسکا چہرہ ٹیڑھا ہے...میں نے کتنے ہی ڈاکٹروں کو چیک کروا لیا کہ کہاں سے ٹیڑھا ہے
(غالباً آنٹی کی آنکھیں ٹیڑھی تھیں)
. ایک آنٹی نے میرے بیٹے کو دیکھ کر کہا اسکے کندھے اوپر کو اٹھے ہوئے ہیں. اسکا علاج بتا دیں
(آنٹی سے کیوں نہیں پوچھا؟ اصول تو یہی ہے کہ جو تشخیص کرتا ہے، وہی علاج بھی کرتا ہے...
چلیں ہم آپکی مدد کرتے ہیں:. بچے کو گود میں پکڑیں. آنٹی کو کہیں ایک کندھے سے گردن تک کا فاصلہ ناپیں. دونوں طرف ایسے ہی کریں . پھر گردن کا سائز ناپیں. پھر کان کی لو سے کندھے تک کا فاصلہ چیک کریں. اب ان سب کو فیثاغورث کے تھیورم میں ڈالیں اور مجھے بتائیں کیا جواب آیا... پھر ہی بتایا جا سکتا ہے کہ آپکے بچے کی رائٹ اینگل والی ٹرائی اینگل بنتی ہے یا نہیں اور آیا کہ پرپینڈیکیولر اور بیس کا تناسب درست ہے یا نہیں... وڈی آئی جیومیٹریکل آنٹی...)
. میری بیٹی جب پیدا ہوئی تو پاؤں کی انگلیاں کھول کر رکھتی تھی. ایک آنٹی نے دیکھا تو بولیں، اسکے پاؤں دبا کر رکھا کرو ورنہ چوڑے ہو جائیں گے اور سائز کا جوتا نہیں ملے گا...
(آنٹی فکر نہ کریں؛ جوتے بڑے، بس سر سلامت ہونا چاہیے...)
. ایک آنٹی نے فرمایا بچہ گرین پوٹی کر رہا ہے تو اس کا پاجامہ ہری گھاس والی جگہ بیٹھ کے دھو، بچہ ٹھیک ہو جاۓ گا.
(ساون کا اندھا تو سنا تھا جسے ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے؛ یہ پوٹی میں ہریالی کن آنٹیوں کو سوجھتی ہے، اب پتہ چلا...)
. بچے کو ناف کا ہرنیا تھا. آنٹی نے ارشاد فرمایا، اسے کمرے کی چھت کے ساتھ لگاؤ ٹھیک ہو جائے گا..
(یہ نہیں بتایا کہ پنکھے سے لٹک کر چھت کے نیچے سے ساتھ لگانا ہے یا چھت کے اوپر جا کر بچے کو الٹا لٹانا ہے... آپ احتیاطاً دونوں طرح سے کر کے دیکھ لیں. فرق نہ پڑے تو خیالوں ہی خیالوں میں آنٹی کو چھت سے نیچے کچھ دکھائیں اور پیچھے سے ایک لات رسید کر دیں...)
. کپڑے دھو کر اوپر نہ لٹکانا ورنہ بچہ اوپر ہی دیکھتا رہے گا...
(جی بالکل... "پتنگ باز سجنا" بن جائے گا بیچارہ...)
. سردیوں میں کپڑے گیس ہیٹر کے اوپر نہیں سکھانے، بچے کو گیس ہو جائے گی..
(آنٹی کو خوب مولیاں کھلائیں اور جب "سی این جی سلنڈر" فل ہو جائے تو انکی چارپائی کے نیچے گیس ہیٹر رکھ کر کمرے سے بھاگ جائیں اور دھماکے کا انتظار کریں...)
. اری دلہن، بچے کے کپڑے مت نچوڑو، بچے کو مروڑ پڑ جائیں گے..
(بچے کا تو پتہ نہیں، آپکے پیٹ کے مروڑ ضرور نظر آ رہے ہیں...)
. اری بنو رانی، بچے کو شیشہ نہ دکھاؤ، موشن لگ جائیں گے..
(آنٹی، آج شیشے میں کونسا سستا نشہ کیا تھا؟)
. بہو رانی، جو کھاؤ بچے کے کان میں بتا دیا کرو کہ آج یہ کھایا ہے...
(لی دلہن: "بیٹا، آج پھر تیرے باپ کا دماغ کھایا ہے اور تیری دادی کی باتیں سن کر ساڑھ کھایا ہے."...)
. بچہ دانت نکالے تو اسکی پھپھو کی انگلی لگوانا، درد کے بغیر نکال لے گا..
(کیا بچے کے کان میں بتانا پڑے گا کہ پھپھے کٹنی.... اوہ سوری... پھپھو کی انگلی ہے یا خود ہی پہچان لیں گے مسوڑھوں میں لگے سینسرز؟)
. بٹیا، بچے کا پہلا پوتڑا سنبھال کر رکھنا..
(دھو کر یا پوٹی سمیت؟)

حد توں وی ود اے وئی....!!!

ویسے آپکی آنٹی کیا کہتی ہیں؟

(ڈاکٹر رضوان اسد خان)

12/11/2020

میڈیکل افسانہ سیریز کا افسانہ نمبر 7 بطور نشر مکرر:

سانس کی سیٹی اور سٹی گم:..............

سارہ واشنگ مشین بند کر کے فارغ ہوئی ہی تھی کہ لوسی اپنے مخصوص انداز میں میاؤں میاؤں کرتی اسکے قدموں میں لوٹنے لگی. سارہ نے کیٹ فوڈ اسکے پیالے میں ڈالا اور کچن کی جانب بڑھی ہی تھی کہ فون کی گھنٹی بج اٹھی. اس نے گھڑی پر نظر ڈالی، دوپہر کے گیارہ بج رہے تھے.
نمبر دیکھا تو زید کے سکول کا تھا.

"یااللہ خیر" کہتے ہوئے اس نے جلدی سے سبز دائرے کو ٹیپ کیا.

"السلام علیکم، مسز عمر بات کر رہی ہیں؟" دوسری طرف سے ایک زنانہ آواز سنائی دی.

"جی فرمائیں. خیریت تو ہے؟" سارہ نے پریشان ہو کر پوچھا.

"جی میں زید کی کلاس ٹیچر، مس سبا بات کر رہی ہوں. وہ آپکو انفارم کرنا تھا کہ زید کو بریک کے بعد اچانک سانس لینے میں دقت شروع ہو گئی تھی اور کھانسی بھی شدید تھی. ہمارے ڈسپنسر نے فرسٹ ایڈ تو دے دی ہے لیکن بہتر ہے کہ آپ اسے لے جائیں."

"جی بہتر. میں پہنچ رہی ہوں. کوئی خطرے والی بات تو نہیں نا؟ اسے تو کبھی ایسا نہیں ہوا." سارہ نے گھبرا کر پوچھا.

"نہیں نہیں. آپ تسلی سے آئیں. اسکی حالت تشویشناک نہیں ہے." مس سبا نے تسلی دی.

سارہ نے جلدی سے ڈرائیور کو آواز دی اور سکول پہنچ گئی. سردی میں کل سے اچانک اضافہ ہو گیا تھا اور اسوقت دن کے سوا گیارہ بجے بھی کافی دھند تھی.

سورج تو گویا ناراض ناراض سا، بادلوں کی بکل مارے، منہ بسورے کہیں پڑ رہا تھا.

سکول سے زید کو لیتے ہی سارہ نے سیدھا ڈاکٹر خان کے کلینک کا رخ کیا. وہ راستے میں ہی انکی اپائنٹمنٹ لے چکی تھی.

سارہ کی شکل پر ہوائیاں اڑی دیکھ کر ڈاکٹر خان نے فوراً زید کی طرف دیکھا اور سارہ کے کچھ کہنے سے قبل ہی بول پڑے،
"ارے بھئی زید لگتا ہے آج تمہیں خوب کھانسی ہوئی ہے. میرا خیال ہے تم سردی میں خوب بھاگے ہو. یہ بتاؤ کہ الٹی ایک ہی آئی یا زیادہ؟ اور سکول کے ڈسپنسر نے تمہیں کتنی بار بھاپ دی؟
اور ہاں، دی بیڈ نیوز از کہ تمہاری بلی بھی اب تمہاری دشمن بن گئی ہے...!!!"

سارہ کا منہ حیرت کے مارے کھلے کا کھلا رہ گیا. اس حیرت کو بھی کسی ماہر سراغ رساں کی طرح بھانپتے ہوئے ڈاکٹر خان اپنے مخصوص انداز میں مسکرائے، عینک ناک پر درست کی اور بالکل شرلاک ہومز کے انداز میں بولے،

"ایلیمینٹری، مسز عمر...!!!
آپ پریشان آئی تھیں اور اب حیران ہیں کہ مجھے یہ سب کچھ کیسے پتہ چل گیا حالانکہ آج میرے پاس آپکا پہلا وزٹ ہے. تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں، محض مشاہدے کا کمال ہے. دیکھنے اور 'آبزَرو' کرنے کا فرق ہے.
آپکے بیٹے کا سانس اسوقت بھی قدرے تیز ہے اور جب یہ سانس باہر نکالتا ہے تو بغور سننے سے ایک ہلکی سی سیٹی کی آواز پیدا ہوتی ہے. یہ چھاتی کی الرجی کی مخصوص علامت ہے اور چونکہ اس کے ساتھ شدید کھانسی لازماً ہوتی ہے لہٰذا میرا کھانسی والا اندازہ."
اسکے ساتھ ہی گھڑی کی طرف اشارہ کر کے ڈاکٹر خان نے بات جاری رکھی، "اسوقت سکولز میں بریک کے بعد کا ٹائم چل رہا ہے ہے اور بچہ یونیفارم میں ہے. اوپر سے آج سردی اور دھند ہے... سو میں نے سوچا کہ یقیناً بچے کو الرجی کا یہ اٹیک بریک کے دوران دھند میں بھاگنے سے ہوا ہے. اسکے کف پر نشان بتا رہا ہے کہ اس نے قے بھی کی ہے اور ناک کے گرد ماسک کا نشان واضح کر رہا ہے کہ یہ اس پرابلم کیلئے بھاپ لے کر آیا ہے."
ڈاکٹر خان روانی سے بولتے چلے گئے.

" اور وہ بلی؟!!!" سارہ تو گویا مسحور ہو کر زید کی تکلیف کو بھول چکی تھی.

" ہاہاہاہاہا. یہاں کچھ فنکاری اور دور کی کوڑی ضرور ہے." ڈاکٹر خان نے قہقہہ لگایا. "لیکن یہ میں آخر میں بتاؤں گا. پہلے یہ بتائیں کہ کیا آپ زید کے حوالے سے میری معلومات میں مذید کچھ اضافہ کرنا چاہیں گی؟"

سارہ اچانک چونکی، "نہیں ڈاکٹر صاحب، مجھے تو بس سکول سے فون آیا کہ زید کو سانس کا پرابلم ہوا ہے اور میں بھاگم بھاگ اسے لے کر آپ کے پاس آ گئی. ڈاکٹر صاحب، پہلے تو اسے کبھی ایسا نہیں ہوا. یہ خدانخواستہ کوئی دل کا مسئلہ تو نہیں؟" سارہ نے روہانسی آواز میں پوچھا.

"آپ پریشان نہ ہوں. میرے خیال میں ایسی کوئی بات نہیں. کیا آپکی فیملی میں کسی کو الرجی ہے؟ اور کیا زید کو نزلہ زکام کی شکایت اکثر رہتی ہے؟" ڈاکٹر خان نے دلاسہ دیا.

"جی ڈاکٹر صاحب، زکام تو اسے ہر سال سردیوں میں رہتا ہے. یہ ایک سال کا تھا جب یہ مسئلہ شروع ہوا تھا اور اب چھ سال کا ہو گیا ہے لیکن سردیوں میں بہت تنگ رہتا ہے لیکن آج تک کبھی سانس کا مسئلہ نہیں ہوا. اور خود مجھے انڈے سے شدید الرجی ہے. لیکن یہ تو انڈہ آرام سے کھا لیتا ہے." سارہ نے بتایا.

"ہممم. گھر میں کوئی سموکنگ تو نہیں کرتا؟" ڈاکٹر خان نے سارہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا.

"جی، وہ، وہ... اسکے بابا بہت سگریٹ پیتے ہیں اور کسی کی نہیں سنتے." سارہ نے سر جھکا کر شرمندہ لہجے میں ایسے کہا گویا سموکر اسکا شوہر نہیں وہ خود ہے.

اب ڈاکٹر خان زید کی طرف متوجہ ہوئے اور اسے اپنے کاؤچ پر لٹا دیا. سارہ سے کہا کہ اسکی قمیض اتار دے اور خود زید کو پیار سے تسلی دی،
"دیکھو بیٹا، ڈرنا نہیں. میں ٹیکوں والا ڈاکٹر نہیں ہوں. آئی ایم جسٹ یور انکل."

اسکے بعد ڈاکٹر خان سارہ سے مخاطب ہو کر بولے،
"دیکھیں مسز عمر یہ ہر سانس کے ساتھ زید کی پسلیوں کے درمیان اور عین نیچے جو گڑھے سے پڑتے ہیں، اسے پسلی چلنا کہتے ہیں. آئندہ آپ نے اسکا خیال رکھنا ہے."
پھر ڈاکٹر خان نے سٹیتھوسکوپ سے زید کی چھاتی کا آگے اور پیچھے سے تفصیلی معائنہ کیا، ایک دو جگہ ہوں ہاں کی آواز نکالی اور پھر اچانک ہٹتے ہوئے کہا کہ اب اسے شرٹ پہنا دیں.

اپنی کرسی پر واپس بیٹھتے ہوئے سارہ کو دوبارہ مخاطب کر کے بولے،
"دیکھیں مسز عمر، میرا شک درست تھا. زید کو کوئی ہارٹ پرابلم نہیں ہے. اسے الرجی کا مسئلہ ہی ہے جس کے جینز اس نے غالباً آپ سے وراثت میں لئیے ہیں... لیکن یہ ایک قدرتی نظام ہے اور اس میں آپکا کوئی قصور نہیں. جو ابتک اسے نزلہ زکام رہتا آیا ہے وہ بھی اسی الرجی کیوجہ سے تھا لیکن پہلے یہ ناک کی جھلی کی حساسیت تک محدود تھی. البتہ سگریٹ کے دھوئیں کی مسلسل موجودگی کی وجہ سے اب یہ بڑھ کر چھاتی میں سانس کی نالیوں کی جھلی تک پہنچ گئی ہے. اس میں بہرحال آپکے شوہر کی لاپرواہی کا ہاتھ ضرور ہے جسکا احساس دلانا انہیں بہت ضروری ہے."

سارہ نے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا ہی تھا کہ ڈاکٹر خان نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کرواتے ہوئے مسکرا کر اپنی بات جاری رکھی،
"... لیکن یہ احساس آپ نے بیگمات والے طریقے سے نہیں دلانا بلکہ کان کھچوانے کیلئے میرے پاس لانا ہے.
دوسری اہم بات یہ کہ ہر الرجی کی طرح اس بیماری میں بھی علاج سے زیادہ پرہیز ضروری ہے. زید کو کس چیز سے الرجی ہے؟ اسکا جواب کافی مشکل ہے. کچھ ٹیسٹ اس حوالے سے کچھ مخصوص لیبارٹریز کرتی ہیں لیکن زیادہ تر کیسز میں پھر بھی 'الرجن'، یعنی الرجی پیدا کرنے والی چیز، کا تعین نہیں ہو پاتا. لہٰذا تمام ان چیزوں سے بچنا ضروری ہے جو الرجی کے حوالے سے بدنام ہیں.
ان چیزوں کی لسٹ آپ ذہن نشین کر لیں اور میں اسکا ایک پمفلٹ بھی آپکو دے دونگا. ان میں سب سے اہم گرد و غبار ہے. اور شاید آپ حیران ہوں کہ باہر کی گرد سے زیادہ گھر کے اندر کی گرد پرابلم کرتی ہے کیونکہ اس میں ایک ننھا سا کیڑا 'ڈسٹ مائیٹ' ہوتا ہے جو الرجی کا بڑا سبب ہے. لہٰذا قالین، فرنیچر، پردوں وغیرہ میں ڈسٹ بالکل نہیں ہونی چاہیئے. بلکہ میں تو کہوں گا کہ قالین ہٹا ہی دیں اور اسکے علاوہ فَر والے کھلونے یعنی 'سٹَفڈ توائز' بھی زید کو نہ دیں. جھاڑ پونچھ کے دوران اسے دور کر دیا کریں.
دوسری اہم چیز پرفیوم، ٹیلکم پاؤڈر اور ائیر فریشنرز وغیرہ ہیں. انکے ذرات اور بخارات بھی پرابلم کرتے ہیں.
پھر یہ کہ اسے پھولوں، پودوں کے زیادہ قریب نہ جانے دیں. انکے پولن کے ذرات، خصوصاً موسم بہار میں کافی مسائل پیدا کرتے ہیں."
یہاں رک کر ڈاکٹر خان مسکرائے اور پھر بولے،
"اب ہم آتے ہیں بلی کے معمے کی طرف. دراصل زید کی پینٹ کے نچلے حصے پر بھورے رنگ کے کچھ بال چپکے ہوئے ہیں. پائنچوں کے بالکل قریب انکی موجودگی کا مطلب بلی ہی ہو سکتا ہے کیونکہ کتا نسبتاً قد آور ہوتا ہے اور آپکا پردہ دار ہونا بھی بتاتا ہے کہ آپ نے کتا نہیں، بلی ہی پالی ہو گی. اب بلی دشمن کیوں ہے؟ تو اسکا جواب بھی وہی ہے کے اسکے بال بھی الرجن ہیں اور دمے کے اٹیک کا باعث بنتے ہیں. لہٰذا اسے کسی کو گفٹ کر دیں."

زید نے یہ سن کر رونے والا منہ بنا لیا، لیکن کہا کچھ نہیں.

پر سارہ کو تو جیسے جھٹکا سا لگا تھا،
"دمہ؟ ڈاکٹر صاحب کیا میرے بچے کو دمے جیسا موذی مرض ہے؟"

ڈاکٹر خان کو اچانک اپنی غلطی کا احساس ہوا اور فوراً بولے،
" اوہو میں معذرت چاہتا ہوں. دراصل دمے کا نام ہمارے معاشرے میں گویا ایک سٹگما یا کلنک کا ٹیکہ بن کر رہ گیا ہے اور لوگ اسکے نام سے ہی بدک جاتے ہیں. حالانکہ یہ محض چھاتی کی الرجی کا دوسرا نام ہے."

"ڈاکٹر صاحب، کیا یہ چھوت کی بیماری ہے؟" سارہ فوراً بولی.

"نہیں، نہیں. بالکل نہیں. یہ جینز سے ٹرانسفر ہوتی ہے. چھوت چھات سے نہیں."

"اور اسکا علاج؟" سارہ نے پوچھا

" جی اب اسکی طرف آتے ہیں کیونکہ اس بیماری کی طرح اسکے علاج بارے بھی کافی واہمے ہمارے ہاں عام ہیں.
اس بیماری کا بہترین علاج انہیلر کے ذریعے ہوتا ہے جسے عام زبان میں پمپ بھی کہا جاتا ہے. لوگ سمجھتے ہیں کہ گویا یہ آخری سٹیج کا علاج ہے اور یہ کہ مریض اسکا عادی ہو جاتا ہے یا یہ کہ اسکے کافی نقصانات ہیں وغیرہ وغیرہ.
حالانکہ یہ سب سے پہلی سٹیج کا علاج ہے اور یہ کوئی نشہ آور دوا نہیں کہ مریض اسکا عادی ہو جائے. اور مزے کی بات یہ کہ اسکے سائیڈ افیکٹس بھی انتہائی کم ہیں کیونکہ یہ سیدھا وہاں پہنچتا ہے جہاں اسکی ضرورت ہے، یعنی پھیپھڑوں میں. اسے باقی ادویات کی طرح خون کے ذریعے پہنچنے کی ضرورت نہیں ہوتی. اسی وجہ سے یہ دیگر اعضاء کو نقصان نہیں پہنچاتا."

"تو زید کو اب انہیلر لینا پڑے گا؟" سارہ نے پریشان آواز میں پوچھا.

"جی. چھوٹے بچوں میں ہم اسے ایک پلاسٹک کے چھوٹ سے چیمبر یعنی 'سپیسر' کے ساتھ استعمال کرواتے ہیں جس سے یہ بالکل نیبولائزر کی طرح کام کرتا ہے اور آپ ایک مشین اور اسکے جھنجھٹ سے بچ جاتے ہیں. اسکے طریقہ استعمال کی ویڈیو میں آپکو ای میل کر دونگا."

"ڈاکٹر صاحب، کیا زید ٹھیک ہو جائے گا؟" سارہ نے ڈرتے ڈرتے آخری 'ملین ڈالر کویسچن' بھی کر ہی دیا.

ڈاکٹر خان نے ایک گہرا سانس لیا اور بولے،
"دیکھیں مسز عمر، میں آپکو دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا. کسی بھی الرجی کو جڑ سے ختم کرنا فی الحال ایلوپیتھی میں ممکن نہیں. ہم اسے صرف کنٹرول کر سکتے ہیں. میرے بتائے گئے پرہیز اور علاج کے ساتھ یہ ایک نارمل زندگی گزار سکتا ہے. بس شدید سردی اور دھند میں اسے بھاگنے دوڑنے سے بچنا ہو گا جب تک کہ اسکی بیماری انڈر کنٹرول نہیں آ جاتی. کھانے پینے کا سادہ اصول یاد رکھیں کہ گھر میں بنا سب کچھ کھا سکتا ہے اور گھر سے باہر کا کچھ بھی نہیں."

اسکے ساتھ ہی ڈاکٹر خان نے نسخہ لکھا اور اپنے اسسٹنٹ کو ہدایت کی کہ زید اور سارہ کو انہیلر اور سپیسر کے استعمال کا طریقہ تفصیل سے سمجھا بھی دے اور دکھا بھی دے.

جاتے جاتے سارہ کی نظر ویٹنگ ایریا میں لگے ایک نوٹس پر پڑی جس پر لکھا تھا،

"جو لوگ اپنے بچوں کی بیماری پر انٹرنیٹ سے ریسرچ کر کے آتے ہیں اور الٹے سیدھے اعتراضات کرتے ہیں، ان سے درخواست ہے کہ برائے مہربانی تشخیص کی طرح علاج بھی ڈاکٹر گوگل سے ہی کروا لیں."

04/11/2020

مشاہدے میں آیا ہے کہ ایسے بہت سے بچے جو پہلے بستر پر پیشاب نہیں کرتے تھے لیکن اب کرنے لگے ہیں کے پیچھے وجہ بیماری نہیں سوشل ہوتی ہے۔۔ بچوں کی ایکٹیویٹیز اور انٹرسٹ اتنے بڑھ گئے ہیں کہ وہ پیشاب کرنے پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے اور پیشاب کی حاجت ہونے پر وقت پرٹائلٹ نہیں جاتے اور جب کنٹرول حد سے نکلنے لگتا ہے تو وقت کی بچت کیلئے جسم کو ریلیکس کئے بغیرزور لگا کر پیشاب نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔ اور بار بار اس عادت پر عمل کرنے کی وجہ سے مثانہ اپنا کنٹرول کچھ کھونا شروع ہوجاتا ہے۔ اگر مناسب کونسلنگ کی جائے اوران کی یہ عادت چھڑوا دی جائے تو اس مصیبت سے جان چھوٹ جاتی ہے

01/11/2020



WEIGHT LOSS:

Weight = Water+ fat+muscles.

Water loss or water gain can be quick,whereas fat and muscles loss or gain is a slow process. So weight loss in days or hours means Water loss. Weight loss over weeks/months means muscle and/or fat loss .

27/10/2020

wetting in children
کیا آپکا بچہ رات کو بستر گیلا کر دیتا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر تو یہ مسئلہ پہلے نہیں تھا، یعنی بچہ خود سے جاگ کر بیت الخلاء میں جا کر رفع حاجت کرتا تھا پر اب بستر پر ہی کر دیتا ہے تو فوراﹰ بچوں کے نیفرالوجسٹ یعنی گردوں کے سپیشلسٹ سے رجوع کریں۔
اگر یہ مسئلہ شروع سے ہی چلا آ رہا ہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بچے نے رات میں خود سے اٹھ کر بیت الخلاء میں جا کر رفع حاجت کیا ہو، تو زیادہ پریشانی کی بات نہیں۔ یہ بچوں کا عام مسئلہ ہے اور عموماً دس برس کی عمر تک خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ اسطرح کے بچوں کے والدین میں سے دونوں یا کسی ایک کو بچپن میں یہ مسئلہ رہ چکا ہوتا ہے۔

کرنے کے کام یہ ہیں:

۔ رات سونے سے پہلے بچے کو پینے والی کوئ چیز، مثلاً دودھ، پانی، جوس وغیرہ مت لینے دیں۔
۔ چائے، کافی، چاکلیٹ سے دن میں بھی پرہیز کروائیں۔
۔ رات سونے سے پہلے بچے کو رفع حاجت کروا لیں۔
۔ بیرون ملک کسی واقف سے "بیڈ ویٹنگ الارم" منگوا لیں. یہ بچے کے زیر جامے میں فکس ہوتا ہے اور پیشاب کے پہلے دو تین قطروں کے ساتھ ہی بج اٹھتا ہے اور بچے کو جگا دیتا ہے جس سے بچہ پیشاب روک لیتا ہے اور بات معمولی گیلاہٹ سے زیادہ نہیں بڑھتی.
۔ بچہ بستر گیلا کر دے تو اسکو ہرگز نہ ڈانٹیں اور نہ ماریں۔ یہ اس بیچارے کے اختیار میں نہیں۔
۔ ایک ڈائری لیں اور جس دن بچہ بستر گیلا نہ کرے، اسے اس تاریخ پر "سٹار" دیں اور زبانی طور پہ بھی خوب شاباش دیں اور حوصلہ افزائ کریں۔ جب پانچ "سٹارز" ہو جائیں تو بچے کو کوئ نہ کوئ انعام ضرور دیں۔ تحقیقات کے مطابق اس طریقے کے بہت حوصلہ افزاء نتائج دیکھے گئے ہیں۔
۔ ان سب باتوں سے بھی فرق نہ پڑے تو پھر اپنے چائلڈ سپیشلسٹ سے اس مسئلے کیلیئے دوا تجویز کروائیں۔ لیکن عموماً ان دواؤں کا اثر وقتی اور سائیڈ افیکٹس زیادہ ہوتے ہیں۔ اسلیئے اسے آخری حل کے طور پر لیں۔
۔ بارہ سال تک بھی بچہ ٹھیک نہ ہو تو بھی نیفرالوجسٹ سے رجوع کریں۔

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Online doctor consultation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram