19/12/2025
آج کل سوشل میڈیا پر یہ بات عام کی جا رہی ہے کہ ایسے چشمے یا شیشے دستیاب ہیں جن پر دھند بالکل نہیں آتی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دعویٰ درست نہیں۔ اپنے اٹھارہ سالہ عملی تجربے کی بنیاد پر میں پورے یقین سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ آج تک دنیا میں ایسا کوئی شیشہ یا لینس تیار نہیں ہوا جس پر دھند بالکل نہ آئے۔
دھند آنا ایک قدرتی عمل ہے جو سردی، نمی اور جسم کی حرارت کے فرق کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ البتہ کچھ شیشے ایسے ضرور موجود ہیں جن پر دھند آتی تو ہے لیکن چند لمحوں میں خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے شیشوں کو دھند سے محفوظ رکھنے والا کہا جاتا ہے، مگر انہیں دھند سے مکمل آزاد کہنا درست نہیں۔
دنیا میں اس وقت جو سب سے اعلیٰ معیار کا شیشہ سمجھا جاتا ہے وہ فرانس میں تیار ہونے والا شیشہ ہے جو اپنی شفافیت، مضبوطی اور معیار کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ شیشہ نہایت اعلیٰ درجے کا ہونے کے باوجود دھند سے مکمل محفوظ نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس پر دھند جلدی ختم ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں یہ شیشہ اس لیے دستیاب نہیں کہ یہاں اس کے معیار کو پہچاننے والے کم اور نقل زیادہ ہے، اسی وجہ سے بنانے والی کمپنی نے اسے یہاں فراہم کرنا بند کر دیا۔
پاکستان میں اگر دستیاب شیشوں میں بہترین اور قابلِ اعتماد حل کی بات کی جائے تو وہ وہی شیشے ہیں جو دھند کو جلد ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ شیشے روزمرہ استعمال کے لیے نہایت موزوں ہیں اور عام آدمی کی ضرورت کو بخوبی پورا کرتے ہیں۔ مناسب قیمت میں اچھی شفافیت اور آرام دہ استعمال ان کی خاص پہچان ہے۔
اس بات کی عملی مثال نادرن ایریاز جیسے سرد علاقوں میں ملتی ہے جہاں دھند ایک بڑا مسئلہ ہوتی ہے۔ وہاں مستقل استعمال والے لینسز کئی سال تک کامیابی سے استعمال کیے گئے اور واضح فرق محسوس کیا گیا۔ یہی تجربہ ثابت کرتا ہے کہ درست رہنمائی اور صحیح انتخاب کے ذریعے مسئلے کا بہتر حل ممکن ہے۔
Inaam Tabassum Abu Rida