28/11/2023
بجلی جہاں ایک نعمت اور آساٸش ہے وہاں بہت بہت خطرناک چیز بھی ہو سکتی ہے۔
حال ہی میں ہمارے ہسپتال میں ایک سال کی عمر کا بچہ داخل ہوا جس نے اپنی انگلیاں بجلی کے ساکٹ میں ڈالیں اور اسے کرنٹ لگ گیا۔ اس کے نتیجے میں بچے کے دل کی دھڑکن اور سانس بند ہو گیا۔ سی پی آر کیا گیا تھا لیکن دل اور سانس زیادہ دیر بند رہنے سے جو جسم میں آکسیجن کی کمی ہوٸ اس سے بچے کے دماغ کو شدید نقصان پہنچا ۔اب ایم ۔آر ۔آٸ (MRI ) کی رپورٹ کے مطابق بچے کا دماغ ستر فیصد تک فالج کا شکار ہو گیا ہے اور آگے جا کر یہ بچے نارمل زندگی نہیں گزار پاۓ گا۔
بچوں میں تجسس کی حس پاٸ جاتی ہے, جہاں بچےاس سے چیزوں کوسیکھتے ہیں وہاں یہ مختلف حادثات کا سبب بھی بن سکتا ہے جن میں سے ایک بجلی کا کرنٹ لگنا ہے۔
بجلی کا کرنٹ کئی طریقوں سے انسانی جسم کو نقصان پہنچا سکتا ہے:
۔ کرنٹ جسم میں جس حصے سے داخل ہوتا اور باہر نکلتا ہے , ان جگہوں کو جلا دیتا ہے
۔الیکٹرک کرنٹ دل کے سگنلز کو ڈسٹرب کر سکتا ہے جس سے دل کی دل کی دھڑکن بند یا بے ترتیب ہو سکتی ہے ,دونوں صورتوں میں دل کام کرنا چھوڑ دے گا
۔کرنٹ جسم کے پٹھوں میں سخت اکڑاٶ پیدا کرکے ان کو مکمل جام کر دیتا ہے ,سانس کے پٹھے اکڑیں گے تو سانس لینا بند ہو جاۓ گا
۔کرنٹ دماغ کے برقی سگنلز کو تبدیل کر سکتا ہے ,جس سے جھٹکے اور دورے پڑ سکتے ہیں
۔ کرنٹ جسم کے اندرونی اعضاء جیسے گردوں,جگر کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے
احطیاط ہمیشہ علاج سے بہتر ہوتی ہے اور ذیل میں بیان کردہ حفاظتی اقدامات پر عمل کرکے ایسے تمام حادثات کو بہت اچھی طرح سے روکا جاسکتا ہے
۔بچوں کو کبھی بھی اپنی انگلیوں یا کسی دوسری چیز کو بجلی کے آؤٹ لیٹس/ساکٹس میں نہ ڈالنے دیں
۔کبھی بھی سنک، باتھ ٹب یا پانی کے قریب بجلی کا کوئی بھی سامان استعمال نہ کریں
۔بجلی کی تاروں کو سنک، باتھ ٹب یا پانی سے دور رکھیں
۔کسی بھی برقی آلات یا آلے کو چھونے سے پہلے ہمیشہ اپنے ہاتھ خشک کر لیں، جیسے کہ لائٹ سوئچ ,ٹوسٹر ہیئر ڈرائر کے استعمال سے پہلے
۔جب آپ برقی آلات کی صفائی کر رہے ہوں تو اپنے برقی آلات کو بند اور ان پلگ رکھیں
۔پرانی یا انسولیشن اتری ہوٸ تاروں کو فورأ تبدیل کریں
۔بچوں کو ایسے درختوں پر نہ چڑھنے دیں جو بجلی کی لائنوں کے قریب ہوں یا جن کے اوپر بجلی کی تاریں گزر رہی ہوں
۔اگر بچے پتنگ اڑانا پسند کرتے ہیں تو تسلی کر لیں کہ وہ بجلی کی تاروں سے کافی دور ہیں
۔بارش اور آسمانی بجلی کے دوران تیراکی سے گریز کریں
۔ جب گیلے ہیں یا سوئمنگ پول میں ہوں تو برقی آلات کو مت چھویٸں
۔بجلی کی لائن میں پھنسی ہوئی چیز کو خود سے نہ ہٹائیں بلکہ الیکٹریشن کی مدد لیں
۔ زمین پر پڑی ہوئی بجلی کی تاروں کو کبھی ہاتھ نہ لگائیں
۔ بجلی کی لاٸیو واٸرز سے محفوظ فاصلہ رکھیں
۔الیکٹرک گرڈ کے قریب جانے سے گریز کریں اور الیکٹرک سٹیشن کے چاروں طرف باڑ پر نہ چڑھیں
۔الیکٹرک پاور لائنوں پر جوتے یا کوئی اور چیز نہ پھینکیں
۔الیکٹرک یوٹیلیٹی پاور لائنوں یا کھمبوں پر کوئی بینر یا اشارے نہ لٹکائیں
اگر آپ کسی کو بجلی کا جھٹکا لگتے ہوئے دیکھتے ہیں تو فوری مدد کے لیے کال کریں۔ اس شخص کو ہرگز ہاتھ نہ لگائیں
بچوں میں الیکٹرک کرنٹ کے لیے ابتدائی طبی امداد!!!
کرنٹ لگنے کی صورت درج ذیل اقدامات پر عمل کریں:
۔کرنٹ سے متاثرہ بچے کو ہرگز ہاتھ نہ لگاٸیں
۔اگر ممکن ہو تو کرنٹ کے سوٸچ کو بند کر دیں ,نہیں تو کرنٹ والی تار کو گتے، لکڑی یا پلاسٹک کے ٹکڑے سے متاثرہ بچے سے دور ہٹاٸیں
۔اسکے بعد آپ متاثرہ بچے کو ہاتھ لگا سکتے ہیں
۔اگر بچے میں کوئی حرکت نظر نہیں آتی,وہ سانس نہیں لے ریا تو فورأ CPR شروع کریں
۔بچے کو ٹھنڈا ہونے سے روکیں, چادر سے کور کر لیں
۔کرنٹ سے جلی ہوئی جگہ پر پٹی کردیں
۔بچے کو ایمرجینسی ہسپتال لے کر جاٸیں
۔ٹوٹکے جیسے مٹی میں دبانا جیسی چیزیں ہر گز نہ کریں ,یہ بچے کی جان لے سکتی ہیں
یاد رکھیں کہ جب آپ کے گھر میں چھوٹے بچے ہوں تو ہمیشہ بچوں کی حفاظت کے لیے الیکٹرک ساکٹ کور استعمال کریں۔