Ajmeri Herbal Medicine

Ajmeri Herbal Medicine Berries: Tempting red strawberries or indigo coloured blueberries or just any berries for that matter.

14/07/2025

۔
چولائی ساگ:- قدرتی شفا، غذائیت اور جدید سائنس کی* تائید

چولائی ساگ، جسے سائنسی زبان میں Amaranthus viridis اور انگریزی میں Green Amaranth کہا جاتا ہے، ایک مشہور سبزی ہے جو ایشیاء، افریقہ، اور لاطینی امریکہ میں قدرتی طور پر اُگتی ہے۔ یہ صرف ایک دیسی سبزی نہیں بلکہ سائنسی طور پر ثابت شدہ غذائیت سے بھرپور دوا بھی ہے، جسے ماہرینِ صحت نے “Superfood” قرار دیا ہے۔ اس ساگ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ قدرتی طور پر اُگتا ہے، سستا ہے، اور غذائیت سے بھرپور ہے۔

چولائی میں وٹامن A، C، K، فولک ایسڈ، وٹامن B6، کیلشیم، آئرن، میگنیشیم، پوٹاشیئم، فائبر، اینٹی آکسیڈنٹس (جیسے بیٹا کیروٹین اور لیوٹین)، اور پلانٹ پروٹین وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ ان اجزاء کی موجودگی اسے نہ صرف جسمانی طاقت کا خزانہ بناتی ہے بلکہ کئی بیماریوں کے خلاف ایک قدرتی ڈھال بھی بناتی ہے۔

جدید تحقیق کے مطابق چولائی آئرن کا قدرتی اور محفوظ ذریعہ ہے، جو خون کی کمی (Anemia) کے مریضوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔ ایک مطالعہ جو Journal of Food Science and Technology (2018) میں شائع ہوا، اس میں بتایا گیا کہ چولائی کے پتوں کا استعمال خون میں ہیموگلوبن کی سطح کو بہتر کرتا ہے۔

اس کے علاوہ چولائی ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے کیونکہ اس میں کیلشیم اور وٹامن K وافر ہوتے ہیں، جو ہڈیوں کی کثافت بڑھاتے ہیں اور آسٹیوپوروسز سے بچاؤ کرتے ہیں۔ یہ بات Nutrients Journal (2020) میں شائع تحقیق سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ سبز پتوں والی سبزیاں، خصوصاً چولائی، ہڈیوں کی صحت کے لیے نہایت مؤثر ہیں۔

بینائی کے لیے بھی چولائی انتہائی فائدہ مند ہے۔ اس میں β-Carotene موجود ہوتا ہے، جو وٹامن A میں تبدیل ہو کر آنکھوں کی روشنی بڑھاتا ہے اور رات کے اندھے پن سے بچاتا ہے۔ British Journal of Ophthalmology (2019) کی تحقیق کے مطابق بیٹا کیروٹین کا مستقل استعمال آنکھوں کی بینائی کو بہتر بناتا ہے۔

چولائی کا استعمال ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے کیونکہ اس میں گلیسیمک انڈیکس کم ہے اور فائبر زیادہ، جو بلڈ شوگر کو قابو میں رکھتا ہے۔ Journal of Diabetes Research (2021) میں اس پر تحقیق شائع ہوئی جس میں چولائی کو بلڈ گلوکوز کنٹرول کے لیے موزوں قرار دیا گیا۔

مزید یہ کہ چولائی کے اینٹی آکسیڈنٹس جیسے flavonoids اور phenolic compounds جسم میں موجود سوزش کو کم کرتے ہیں اور قوت مدافعت بڑھاتے ہیں۔ Phytotherapy Research (2019) کے مطابق یہ مرکبات جسمانی سوزش، گٹھیا، جلدی امراض اور دیگر التہابات میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔

چولائی کا ایک اور حیرت انگیز فائدہ یہ ہے کہ یہ قدرتی پیشاب آور (Diuretic) سبزی ہے، جو گردوں کو صاف کرنے، جسم سے فاسد مادوں کے اخراج، اور پیشاب کی نالی کے انفیکشنز سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔ اس کا پتوں کا رس یورینری انفیکشن، فیٹی لیور اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے لیے مفید پایا گیا ہے۔ اس بارے میں تحقیق Journal of Ethnopharmacology (2015) میں شائع ہوئی ہے۔

ماہرانِ نیچروپیتھی اور مشہور مصنف ڈاکٹر مائیکل گریگر (Dr. Michael Greger) نے اپنی مشہور کتاب "How Not to Die" میں چولائی ساگ کو غذائیت سے بھرپور سبزی قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ سبز پتوں والی سبزیاں جیسے چولائی دل، جگر، آنکھوں، اور دماغی صحت کے لیے شاندار کردار ادا کرتی ہیں اور ان کا روزانہ استعمال عمر کو بڑھاتا ہے۔

امریکی ادارہ USDA (United States Department of Agriculture) اور NIH (National Institutes of Health) نے بھی اپنی غذائی گائیڈ لائنز میں چولائی کو "Nutrient-Dense Leafy Green Vegetable" قرار دیا ہے۔

چولائی کا استعمال نہایت آسان ہے۔ اس کا ساگ دال یا آلو کے ساتھ پکایا جا سکتا ہے۔ پتوں کا تازہ رس یا پیسٹ جلدی امراض میں جلد پر لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے بیج بھی کارآمد ہیں اور انہیں خشک کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ البتہ گردے کی پتھری کے مریضوں کو احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ اس میں آکزیلیٹس (Oxalates) موجود ہوتے ہیں۔

یہ مضمون حکیم سبحان اللہ (انچارج شعبہ ادویہ سازی، مومن خان دواخانہ اسلام آباد) کی زیر نگرانی جدید سائنسی، طبی اور غذائی حوالہ جات کے مطابق تیار کیا گیا ہے تاکہ قارئین کو ایک مکمل، معلوماتی اور مستند تحریر مہیا کی جا سکے۔

🔬 مستند سائنسی حوالہ جات:

1. USDA Nutrient Database – Amaranthus viridis nutritional profile

2. Journal of Food Science and Technology, 2018 – Iron content and anemia study

3. Nutrients Journal, 2020 – Bone health and leafy greens

4. British Journal of Ophthalmology, 2019 – β-Carotene and eye health

5. Journal of Diabetes Research, 2021 – Glycemic response to green amaranth

6. Phytotherapy Research, 2019 – Anti-inflammatory phytochemicals

7. Journal of Ethnopharmacology, 2015 – Liver protection and diuretic properties

8. Dr. Michael Greger, "How Not to Die" – Superfoods including green amaranth

9. NIH & USDA Guidelines – Nutrient-dense leafy green classification
حڪيم شاه محمد شيخ
اجمیری حربل کینسر دواخانه اینڈ رسرچ سینٹر
03008981241 & 03357209184

12/07/2025

صحرائی جن سنگ ، پٹ کنوار ، پھاپھوری سرائیکی میں ہرن کھاج
، Desert Ginseng ، Cistanche Tubulosa

اردو : صحرائی جن سنگ ، پٹ کنوار ،

پنجابی : بھوئیں پھوڑ ،

ھندی : بھوئی نالا ،

سندھی : پٹ کنوار ،

گجراتی : لونکی کامولا ،

سرائیکی : پھاپھوری ,

عربی : دھنون ،

لاطینی : Cistanche Tubulosa ،

انگریزی : Desert Ginseng ، Desert Hyacinth ،

خاندان : Orobanchaceae Holoparasitic ،

شناخت :
قدرت کی رعنائیاں جگہ جگہ بکھری نظر آتی ہیں زیر نظر تصویر میں بھی آپ کو قدرت کی کاریگری نظر آ رہی ہے یہ جڑی بوٹی کمال اثر جڑی بوٹیوں میں شامل ہے اس پر کافی عرصہ سے میں تحقیق کر رہا ہوں میرے ویر رانا افتخار صاحب کے تعاون سے اس بوٹی کا حصول ممکن ہوا ویسے تو بھکھر لیہ تھر اور دریا سندھ کے ڈیلٹا میں یہ جا بجا دیکھنے کو ملتی ہے لیکن پنجاب میں ہر جگہ نظر نہیں آتی اس لیے شیخوپورہ سے ایک پیارے دوست کی معاونت سے اس پر کام شروع کیا گیا باقی تحقیق مکمل ہونے تک اگلے مضمون کا انتظار کرنا پڑے گا اس کے عام فوائد آپ جان سکتے ہیں
پٹ کنوار ایک طفیلی قسم کا صحرائی پودا هے - اس میں کلوروفل نہیں ھوتا اسی وجہ سے اس میں سبز رنگ اور پتے نہیں ھوتے اور یہ میزبان پودوں سے غذائی اجزاء اور پانی حاصل کرتے هیں - یہ مفت خور پودا اکثر اوقات پیلو (جال ) یعنی مسواک کے درختوں اور آک کے درختوں کے سائے میں ملتا ھے اور زیادہ تر یہ ان مقامات پر پیدا ھوتا ھے جہاں روشنی کم پڑتی ھو - اس کے علاؤہ صحراؤں میں کھلے مقامات پر اور دریاؤں کی ریتلی زمین میں بھی یہ جڑیں بوٹی ملتی هے یہ ایک سے تین فٹ تک بلند شاخوں کے بغیر ھوتا ھے اس کا تنا سفید رنگ کا ھوتا ھے اور 4 سینٹی میٹر موٹا ھوتا ھے -
پٹ کنوار بوٹی پاکستان ، بھارت ، سری لنکا ، تائیوان ، عرب ممالک اور دیگر صحرائی علاقوں وغیرہ میں خودرو پیدا ھوتی ھے - یہ سندھ میں برسات کے موسم میں جبکہ دریائی علاقوں میں اکتوبر ، دسمبر میں ھوتی ھے - سندھ میں گھارو ، کراچی میں منگھو پیر ، میر پور خاص ، حیدرآباد ، سکھر ، تھر ، ٹنڈو محمد خان ، انڈس ڈیلٹا ، میں ملتی ھے -
پٹ کنوار پودوں کے خاندان Orobanchaceae کا ایک رکن هے جسے عام طور پر صحرائی جھاڑو کے نام سے جانا جاتا هے ۔

فوائد :

پٹ کنوار زیابیطس شکری میں مفید هے - یہ وریدوں کو کشادہ کرتا هے - پٹ کنوار اینٹی فنگل ھے - اس کے علاؤہ مثانہ میں خون آنا ، السر ، الٹی ، دست ، دردوں ، میں مفید هے - قبض میں بھی کارآمد هے اس کا تنا ابال کر دیا جاتا هے - اس کے تنے کا سفوف اونٹنی کے دودھ کے ساتھ دیا جاتا هے - گھٹنوں میں سردی کے احساس کو دور کرنے کے لئے دیا جاتا هے - تائیوان میں گردوں کی کمزوری کی وجہ سے ھونے والے ضعف باہ میں دیا جاتا هے - خواتین میں شہوت کی کمی کو دور کرنے کے لئے دیا جاتا هے - صحرائی جن سنگ سے چین میں اس سے مردانہ کمزوری کا شافی علاج کیا جاتا هے - اس میں کشتہ شنگرف بہت بہترین بنتا هے -

اس پودے کا رس دماغی فعالیت اور علمی صلاحیتوں جیسے سیکھنے اور یادداشت کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا هے ۔ اسے روایتی طور پر بڑھاپے کے خلاف خصوصیات اور توانائی اور صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے بھی اھمیت دی جاتی هے ۔

تائیوان میں ، پٹ کنوار کو روایتی طور پر گردوں کے لئے ایک ٹانک دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا هے - اس کے علاؤہ نامردی ، کمر درد اور گھٹنوں میں سردی کا احساس ، خواتین کی بانجھ پن ، اور بوڑھوں میں آنتوں کی خشکی کی وجہ سے ھونے والی قبض کو دور کرتا هے -

پٹ کنوار کے رس میں سوزش ، اینٹی فنگل اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات ھیں - مزید برآں ، اسے ھیضے ، گلے کی سوزش اور سانپ کے کاٹنے کے علاج کے لئے اور بالوں کی خوشبو کے طور پر استعمال کیا جا سکتا هے ۔

بھوٹان کے علاقے کے لوگ روزانہ کھاتے هیں اور اسے کاٹ کر اور پھر ایک برتن میں مٹن کے ساتھ ابال کر یا چائے یا شراب میں اچار ڈال کر تیار کرتے هیں تاکہ علاقے کے سخت ماحولیاتی حالات سے بچ سکیں ۔ یہ عادت خطے میں لوگوں کی لمبی عمر کی کلید سمجھی جاتی هے ۔

پٹ کنوار جڑی بوٹی یادداشت ، قوت مدافعت اور جنسی صلاحیت کو بہتر بنانے ، نامردی کو ختم کرنے اور قبض کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا هے ۔

ماڈرن تحقیقات :

فینی لیتھانائڈ گلائکوسائیڈز ۔ پی ایچ جی اس وقت پٹ کنوار کے فعال اجزاء میں مرکبات کی سب سے زیادہ زیر مطالعہ هیں ، پٹ کنوار کے اھم اجزاء میں سے ایک کے طور پر ، یہ اینٹی آکسیڈینٹس ، جگر ، مایوکارڈیل ، اعصابی خلیات کی حفاظت اور یادداشت بڑھانے میں فعال کردار ادا کرتا هے ۔

نائٹرک آکسائیڈ ایک مالیکیول هے جو خون کی شریانوں کی دیواروں کو آرام دینے میں مدد کرتا هے ، جس سے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد مل سکتی هے ۔ مطالعات سے پتہ چلتا هے کہ پٹ کنوار جسم میں نائٹرک آکسائیڈ کی پیداوار کو بڑھانے میں مدد کر سکتا هے ، جس سے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد مل سکتی هے -

حالیہ مطالعات سے پتہ چلتا هے کے پٹ کنوار مردوں میں عضو تناسل کے افعال کو نمایاں طور پر بہتر کرتا هے ۔ جدید تحقیق سے پتہ چلتا هے کہ پٹ کنوار تولیدی صحت کی مدد کرتا هے ٹیسٹوسٹیرون کی ترکیب کو بڑھاتا هے ۔ عضو تناسل کی سستی کو کم کرتا هے اور ٹائمنگ بڑھاتا هے -

تحقیقات نے اس بات کی تصدیق کی کہ پٹ کنوار کا سفوف نے مؤثر طریقے سے جنسی ھارمون کی سطح میں اضافہ کرتا هے اور سپرم کے معیار کو بہتر بناتا اور سپرم کی تعداد کو بڑھاتا هے -


پٹ کنوار جڑی بوٹی کا عرق دل کے پٹھوں کے سکڑاؤ کو کنٹرول کر کے سیلولر سطح پر دل کی دھڑکن کو بھی بہتر بنا سکتا هے ۔ خون کے دھارے میں جذب ھونے کے بعد ، نچوڑ مایوکارڈیل اڈینوسین ٹرائی فاسفیٹ ( ATP ) پیدا کرنے کی صلاحیت کو بڑھا سکتا هے ۔ اڈینوسین ٹرائی فاسفیٹ کی بڑھتی ھوئی نسل دل کے سکڑنے والے کام کو بہتر بناتی هے ۔
پٹ کنوار کے توانائی کو بڑھانے والے اثرات کے لیے استعمال کی ایک طویل تاریخ هے ۔ یہ جسم میں اڈینوسین ٹرائی فاسفیٹ ( ATP ) کی پیداوار کو بڑھانے میں مدد کرتا هے ، جو کہ خلیوں کے لیے توانائی کا بنیادی ذریعہ هے ۔

احتیاط :

کچھ لوگوں نے پٹ کنوار کی بڑی خوراک لینے کے بعد معتدل ھضم کے مسائل جیسے متلی اور الٹی کا تجربہ کیا هے ۔ مزید برآں ، اگر جڑی بوٹی کو براہ راست جلد پر لگایا جاتا هے تو کچھ لوگوں کو جلد کی جلن اور خارش ھو سکتی هے ۔
مزید اس پر اس سال کے آخر میں لکھا جائے گا ان شا اللہ تعالیٰ مکمل طبی فوائد کے ساتھ اور طب یونانی کے فا کوپیا میں بھی شامل کیا جائے گا۔ والسلام چشتی

: گزشتہ برس میں نے سسٹانچ ٹیبولوسا کے متعلق اپنے تجربے پر لکھا تھا کہ گرتے بال اور یاداشات کی شدید کمزوری نے پریشان کررکھا تھااسی دوران قاری صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ کسی وجہ سے جیسے ہی میں اپنے مسئلے پر بات کی تو قاری صاحب سسٹانچ ٹیبولوسا پر اپنے تجربے اور اطمئنان کا تزکرہ کیا۔ تھوڑا سرچ کیا تو معلوم ہوا کہ عرب اور یورپینز اسکے کیپسول استعمال کرتے ہیں جو کافی مہنگے ہوتے ہیں ۔ قاری صاحب کی سفارش سے اسے راناافتخارانور صاحب سے حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ ایک دوست جوکہ شوگر کے مرض میں مبتلا ہے اسے بھی تھوڑی گفٹ کی۔ ہم دونوں کا فیڈ بیک کافی مثبت رہا۔اس رزلٹ کے بعد گزشتہ برس میں نے ذیادہ منگوا کر کئ لوگوں کو گفٹ کی اور سب کی فیڈ بیک مثبت ملی۔ اس فیڈ بیک کے بعد میں نے گزشتہ برس پوسٹ لکھی تھی ۔ مگر وہ اسکا موسم نہ تھا اور جو سٹاک راناافتخارانور کے پاس تھا وہ یک دم ختم ہوگیا۔ مجھے کافی دوست انباکس کرتے رہے کہ میں ان کے لئے حاصل کرنے کی کوشش کروں۔ ان سب دوستوں کو بتانا ہے کہ جو اس وقت نہ حاصل کرسکے اب کرسکتے ہیں ۔ حکیم رانا افتخار انور بھائی ۔ خاندانی طور پر وراثت میں طب کا علم بھی ملا ہے۔ اس ھرب پر وہ کافی محنت کرواکر اسے حاصل اور تیار کرتے ہیں۔ اور اسکا بنیادی محرک خدمت خلق ہے.
، سسٹانچ ٹیبولوسا معجزاتی
‎ھرب۔ سیزن ٹو 2025 کے لیۓ دستیاب ھے۔
‎خون میں شوگر سو فیصد کنٹرول۔
‎وزن میں کمی
‎کولیسٹرول
‎ھائی بلڈ پریشر
‎باڈی بلڈرز مسلز
‎یاداشت کی بڑھوتری
‎دماغی تھکن
‎ڈیپریشن
‎جوڑوں کا درد
‎جسمانی تھکاوٹ
‎عصبی کمزوری
‎بھوک کی کمی
‎دائمی قبض
‎آنتوں کی سوزش
‎بواسیر تمام اقسام
‎برین ٹیومرز
‎خون کے پلیٹلیس
‎اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات
‎ٹیسٹوسیٹیرون پروجسٹرون ھارمونز .
‎مردانہ کمزوری، سختی، ٹائمنگ وغیرہ
‎پراسٹیٹ گلینڈ جیسے مسائل کے لیے بہترین سپر فوڈ. مزید فوائد کے لئے
گوگل کریں یا
میرے نمبر 03008981241 پر رابطہ کریں

Good newsAjmeri Herbal Cancer Dawakhana And Hijama Center has now successfully opened in Gulistan e jouhar.حجامہ کی سنت ...
12/07/2025

Good news
Ajmeri Herbal Cancer Dawakhana And Hijama Center has now successfully opened in Gulistan e jouhar.
حجامہ کی سنت تاریخ:
حجامہ سنت بھی ہے اور علاج بھی۔
Hijama Sunnah dates for MOHARRAM (JULY):

12 June : 7:30 PM TO 9:30 PM
13 June : 11:00 PM TO 7:30 PM
14 June : 7:30 PM TO 9:30 PM
15 June : 11:00 PM TO 7:30 PM
16 June : 7:30 PM TO 9:30 PM
17 June : 11:00 PM TO 7:30 PM

AFTER MAGRIB:
12 JULY, 14 JULY, 16 JULY

BEFORE MAGRIB:
13 JULY, 15 JULY, 17 JULY
مکمل حفظان صحت کی اصولوں کے مطابق حجامہ کروانے کیلے تشریف لائیں۔
اپوائنٹمنٹ اور مزید معلومات کے لیے ابھی رابطہ کریں:
03132655625
ایڈریس:

Branch 1:
7/62 Ajmeri Herbal Cancer Dawakhana And Research Center Hashim Raza Road Near Masjid Umer Bin Khitab Model Colony Karachi.
Location:
https://maps.app.goo.gl/NE8hbvmiYcZoLKtE6

Branch 2:
Shop No 3, Al Nadeem Center, Near KDA Park Gulistan-e-Jouhar, Block 14 Karachi
Location:
https://maps.app.goo.gl/Le6VSVF8TWE2q9dg6


💉💊

28/06/2025

*Give this recipe to diabetic patients, it is the best for spiritual, medical and powerful male power*
*Coat the pits of one plum and one apricot with almonds, sprinkle 12 grams of arsenic on top, then put 12 grams of ginger in the middle, make a paste in a greased pan, dry it and cook on medium heat for 24 hours,The waste will burn, clean the shriveled skin and feed it once a day, morning and evening, with butter or milk for a week. The medicine will cure. I have been giving it to patients for 42 years and I am experienced.*

31/03/2025

ایزو اسپرمیا کے لیے مکمل معجون کا نسخہ

یہ معجون سپرم کی پیداوار، حرکت، اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ تمام اجزاء ہم وزن یعنی برابر مقدار میں شامل کیے جائیں گے۔

اجزاء (ہر ایک 50 گرام)

1. تخم کونچ (Mucuna Pruriens) – سپرم کی تعداد اور حرکت کو بڑھاتا ہے۔دودھ میں مدبر کرنا ہے

2. اشوگندھا (Withania Somnifera) – ٹیسٹوسٹیرون بڑھانے میں مددگار۔

3. سفید موسلی (Safed Musli) – مردانہ طاقت کو بحال کرتا ہے۔

4. عقرقرحا (Aqarqarha) – خون کی روانی اور سپرم کی پیداوار کو بہتر بناتا ہے۔

5. خولنجان (Kaunch Beej) – ہارمونی نظام کو متوازن کرتا ہے۔

6. دارچینی (Cinnamon) – قوتِ باہ میں اضافہ کرتا ہے۔

7. لونگ (Clove) – مردانہ ہارمونی توازن کے لیے مفید۔

8. زعفران (Saffron) – منی کی صحت کو بہتر بناتا ہے۔ 15گرام

9. شہد 3گنا

10. شہد (Honey) – قدرتی طور پر ہارمونی نظام کو طاقت دیتا ہے۔

تیاری کا طریقہ

تمام خشک اجزاء کو باریک پیس کر سفوف بنا لیں۔

اسے خالص شہد میں ملا کر گاڑھا معجون تیار کر لیں۔

شیشے کے برتن میں محفوظ کریں۔

طریقہ استعمال

صبح نہار منہ 1 چمچ نیم گرم دودھ کے ساتھ لیں۔

رات سونے سے پہلے 1 چمچ نیم گرم دودھ کے ساتھ لیں۔

کم از کم 3-6 ماہ مسلسل استعمال کریں۔

احتیاطی تدابیر

✅ تلی ہوئی، بازاری اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز کریں۔
✅ روزانہ ورزش اور واک کو معمول بنائیں۔
✅ کیفین اور کولڈ ڈرنکس سے اجتناب کریں۔
✅ زیادہ دباؤ اور ذہنی تناؤ سے بچیں۔

حجامہ کی سنت تاریخ:حجامہ سنت بھی ہے اور علاج بھی۔Hijama Sunnah dates for Shaban; (FEBRUARY):15 FEB : 6 PM TO 10 PM16 FEB...
15/02/2025

حجامہ کی سنت تاریخ:
حجامہ سنت بھی ہے اور علاج بھی۔
Hijama Sunnah dates for Shaban; (FEBRUARY):

15 FEB : 6 PM TO 10 PM
16 FEB : 11 AM TO 6 PM
17 FEB : 6 PM TO 10 PM
18 FEB : 11 AM TO 6 PM
19 FEB : 6 PM TO 10 PM
20 FEB : 11 AM TO 6 PM

AFTER MAGRIB:
15 FEB, 17 FEB, 19 FEB

BEFORE MAGRIB:
16 FEB, 18 FEB, 20 FEB
مکمل حفظان صحت کی اصولوں کے مطابق حجامہ کروانے کیلے تشریف لائیں۔
اپوائنٹمنٹ اور مزید معلومات کے لیے ابھی رابطہ کریں:
03132655625
ایڈریس:
7/62 Ajmeri Herbal Cancer Dawakhana And Research Center Hashim Raza Road Near Masjid Umer Bin Khitab Model Colony Karachi.
Location:
https://maps.app.goo.gl/NE8hbvmiYcZoLKtE6


💉💊

حجامہ کی سنت تاریخ:حجامہ سنت بھی ہے اور علاج بھی۔Hijama Sunnah dates for RAJAB (JANUARY):17 JAN : 6 PM TO 10 PM18 JAN : ...
16/01/2025

حجامہ کی سنت تاریخ:
حجامہ سنت بھی ہے اور علاج بھی۔
Hijama Sunnah dates for RAJAB (JANUARY):

17 JAN : 6 PM TO 10 PM
18 JAN : 11 AM TO 6 PM
19 JAN : 6 PM TO 10 PM
20 JAN : 11 AM TO 6 PM
21 JAN : 6 PM TO 10 PM
22 JAN : 11 AM TO 6 PM

AFTER MAGRIB:
17 JAN, 19 JAN, 21 JAN

BEFORE MAGRIB:
18 JAN, 20 JAN, 22 JAN
مکمل حفظان صحت کی اصولوں کے مطابق حجامہ کروانے کیلے تشریف لائیں۔
اپوائنٹمنٹ اور مزید معلومات کے لیے ابھی رابطہ کریں:
03132655625
ایڈریس:
7/62 Ajmeri Herbal Cancer Dawakhana And Research Center Hashim Raza Road Near Masjid Umer Bin Khitab Model Colony Karachi.
Location:
https://maps.app.goo.gl/NE8hbvmiYcZoLKtE6


💉💊

01/01/2025

آفتابی سلاجیت ایک قدرتی مادہ ہے جو چترال افغانستان کے پہاڑوں سے حاصل ہوتا ہے اور اسے معدنیات، جڑی بوٹیوں اور دیگر قدرتی اجزاء کا مجموعہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی خصوصیات درج ذیل ہیں:

1. قدرتی اجزاء: سلاجیت میں معدنیات، وٹامنز، امینو ایسڈز، فینولک کمپاؤنڈز اور دیگر اہم مرکبات ہوتے ہیں جو صحت کے لیے مفید ہیں۔
2. صحت بخش فوائد: یہ توانائی بڑھانے، جسم کی قوت مدافعت کو مضبوط کرنے، اور مختلف بیماریوں کے علاج میں مفید سمجھی جاتی ہے۔ سلاجیت کو عمومی طور پر جسمانی تھکاوٹ، ذہنی دباؤ اور ہاضمہ کی مشکلات میں فائدہ مند مانا جاتا ہے۔
3. معدنیات کا خزانہ: سلاجیت میں 85 سے زیادہ اہم معدنیات شامل ہیں جو جسم کی مختلف افعال کے لیے ضروری ہیں، جیسے کہ کیلشیم، میگنیشیم، زنک اور آئرن۔
4. آج کل کی سائنسی تحقیق: جدید سائنسی تحقیقات کے مطابق، سلاجیت میں اینٹی آکسیڈنٹس اور اینٹی انفلامیٹری خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں، جو جسم میں ہونے والی سوزش اور خلیات کو نقصان پہنچانے والے آزاد مادوں سے بچاتی ہیں۔
5 سلاجیت تھکاوٹ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

01/01/2025

دنیاکی نایاب بوٹی سپ گندل، وادی سکیسر میں موجود ہے۔

آپ کسی جاندار کا کوئی عضو کاٹ کر علیحدہ کردیں پھر اسکو ملاکر اوپر سپ گندل کا پانی لگادیں ایک ہفتہ بعد وہ ایسے جڑا ہوگا جیسے کٹاہی نہیں تھا اسکا مزاج گرم تر ہے یہ ہر قسم کی بلاکج کوصرف ایک گھنٹہ میں صاف کردیتا ہے۔ 200 سالہ پیر فرتوت کو 20 سالہ جوان اور جھریوں سے پاک کردینا ادنٰی کرشمہ ہے۔ یہ 60 سال کی عمر سے پہلے اقل مقدار میں لیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ 4 بیویوں کا خاوند ہو مگر اسکی تصویر دستیاب نہیں اور کچھ لوگ اسکی پوجا کرتے ہیں اسکو اکھاڑنے والے کو قتل کردیتے ہیں۔

01/12/2024

*امرود (زیتون)* بظاهر پھل لیکن طاقت کا بے بہا خزانہ هے۔

امرود دو قسم کا ہوتا ہے ایک اندر سے سفید اور دوسرا سرخ ہوتا ہے۔ کچے امرود کا رنگ سبز اور پختہ امرود زرد سفیدی مائل اور خوشبودار ہوتا ہے۔

امرود کے فوائد
٭ امرود قوت ہاضمہ کو تقویت دیتا ہے۔
٭ اس کا کھانا مفرح ہوتا ہے۔
٭ کچا امرود قابض ہوتا ہے جبکہ پکا ہوا کھانے کے بعد ملین ہوتا ہے۔
٭ دل کو طاقت دیتا ہے۔
٭ مالیخولیا اور ذہنی پریشانی کو دور کرتا ہے۔
٭ امرود بھوک بڑھاتا ہے۔
٭ زکام اور بواسیر میں بے حد مفید ہے۔
٭ اس کے بیج پیٹ کے کیڑوں کے قاتل ہیں۔
٭ امرود کے پتے رگڑ کر پلانے سے دست کی بیماری ٹھیک ہوجاتی ہے۔
٭ اس کے پھولوں کا لیپ آنکھوں کے ورم کیلئےبے حد مفید ہوتا ہے۔
٭ امرود میں وٹامن اے اور سی کے علاوہ کیلشیم‘ لوہا اور فاسفورس ہوتے ہیں جو انسانی صحت میں بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
٭ امرود کی چھال کا جوشاندہ بنا کر غرارے کرنے سے مسوڑھوں کی جملہ امراض ٹھیک ہوتی ہیں۔
٭ امروددماغ کو تر رکھتا ہے۔
٭ اگر پھٹکڑی کے ہمراہ امرود کے پتوں کو رگڑکر جوشاندہ تیار کرکے کلیاں کی جائیں تو دانتوں کے درد کو فوراً فائدہ ہوتا ہے۔
٭ امرود کے پتے رگڑ کر جلی ہوئی جگہ پر لگانے سے جلن ختم ہوتی ہے اور چھالے نہیں بنتے۔ متواتر استعمال سے جلد آرام آجاتا ہے۔ امرود طبیعت کو نرم کرتا ہے اور خون کو صاف کرتا ہے۔
٭ اس کے پھول رگڑ کر پینے سے (چھان کر) پتے کی پتھری ٹھیک ہوتی ہے بشرطیکہ مرض بڑھا ہوا نہ ہو۔
٭امرود کے خشک پتوں کا سفوف زخموں کو خشک کرتا ہے۔
٭ضعف معدہ کیلئے اگر ایک سیر کچے امرود میں ڈیڑھ سیر پانی ملا کر اتنا پکایا جائے کہ وہ گل جائیں بعد میں کپڑے میں ڈال کر اچھی طرح سے پانی نچوڑیں پھر اس پانی میں تین پاؤ چینی ملا کر شربت تیار کریں۔ دو چمچے بڑے ایک گلاس پانی میں ملا کر پینا ضعف معدہ کو بے حد مفید ہے۔
٭اگر سرچکراتا رہتا ہو تو امرود کے تازہ پتے ایک تولہ لے کر انہیں ایک سیرپانی میں جوش دے کر چھان لیں اور اس میں آدھا تولہ نمک ملا کر خالی پیٹ دن میں ایک یا دو دفعہ استعمال کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔
٭ کھانسی اور نزلہ کو دور کرنے کے لیے آدھا کچا امرود جسے گدرا بھی کہتے ہیں گرم راکھ میں دبا کر تھوڑی دیر کے بعد نکال کر صاف کرکے تھوڑا نمک ملا کر کھانے سے کھانسی اور نزلہ سے یقیناً آرام ہوجاتا ہے۔
٭ امرود خون کی حدت کو دور کرتا ہے۔
٭ مثانہ کی سوزش کو دور کرتا ہے۔
٭ نزلے کو روکنے کے لیے امرود کی نرم کونپلیں آٹے کے چھان کے ساتھ جوشاندہ بنا کر تھوڑی چینی ملا کر پینے سے فوراً فائدہ ہوتا ہے۔
معدے کی تیزابیت کا دشمن:
٭ بلغم کو روکنے کے لیے امرود کے ساتھ اجوائن دیسی ملا کر کھانا مفید ہوتا ہے۔
٭ امرود اور اجوائن دیسی ملا کر کھانے سے آنکھوں کے آگے اندھیرا آنا‘ سرکا گھومنا بھی ٹھیک ہوجاتا ہے۔
٭ امرود کا زیادہ کھانا پیٹ میں ہوا پیدا کرتا ہے۔
٭امرود پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے۔
٭امرود معدے کی تیزابیت کا دشمن ہوتا ہے۔ ۔
٭پیٹ کی بے شمار بیماریوں میں امرود کا استعمال مفید ہوتا ہے۔
٭ امرود خود ہاضم ہوتا ہے اور دوسری غذاؤں کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ۔
٭امرود کے استعمال سے آنتیں صاف ہوجاتی ہیں۔
٭جگر کا فعل امرود کھانے سے درست ہوجاتا ہے۔
٭رات کو منہ میں پانی آنے کی شکایت بھی امرود کے مسلسل استعمال سے ٹھیک ہوجاتی ہے۔ ۔
٭امرود کو کھانے کے بعد کھانا زیادہ بہتر ہضم ہوتا ہے مگر امرود کھانے کے بعد پانی کم از کم ایک گھنٹے بعد پیا جائے تو بہتر ہے۔ ۔
٭پیٹ کا اپھارہ دور ہوتا ہے بشرطیکہ مقدار کے مطابق کھایا جائے۔ ۔
٭بواسیری قبض کو دور کرتا ہے۔ ۔
٭ دائمی قبض دور کرنے کیلئے صبح ناشتے میں آدھ پاؤ سے تین پاؤ تک امرود کالی مرچ اور نمک چھڑک کر کھانا مفید ہے۔
٭ امرود کے بیج آنتوں میں رکے ہوئے زہریلے اجزاء کو خارج کرتے ہیں۔ ۔۔
٭امرود کو صرف سونگھنا ہی متلی کو دور کرتا ہے۔
٭منہ کی سوجن دور کرنے کے لیے امرود کے پتوں کو ایک کلو پانی میں جوش دے کر غرارے کرنا مفید ہے۔
٭ہیضے والے کو امرود کے پتوں کا جوشاندہ پلانے سے قے اور دست بند ہوجاتے ہیں۔*
٭ گردے کی پتھری کو توڑتا ہے۔*

25/11/2024

Copy paste
عنبر / عنبر اشہب /ایمبر گرس (Ambergris) :-

ماہیت:-
اس کی اہمیت میں اختلاف ہے یہ مشہور قسم کی خوشبودار دوا ہے۔خیال کیاجاتاہے کہ بعض جزیروں میں خاص قسم کی مکھی کے شہد کی طرح کا چھتہ ہے جو بارش اور طوفان وغیرہ سے ٹوٹ کر سمندر میں آجاتاہے۔اس کا شہد پانی میں حل ہوجاتاہے۔اور موسم سمندر کے کناروں تک آلگتا ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ایک سمندری جانور اسفرم ویل کے شکم سے نکلتاہے۔یہ مومی مادہ ہے ۔جو سردپانی میں حل نہیں ہوتا اورسمندر میں سطح آب پر تیرتا ہوا ساحل پر آجاتاہے۔یہ تین قسم کا ہوتاہے۔لیکن رنگت کے لحاظ سے بہترین عنبراشہب ہوتاہے۔جوکہ سفید زردی مائل اور بہت خوشبودار ہوتاہے اور اشہب اس سیاہ رنگ کو کہتے ہیں جس کی سفیدی غالب ہو۔
مزاج :-
گرم دو۔۔۔خشک درجہ اول۔
افعال :-
مفرح و مقوی قلب و دماغ محرکب باہ ،محرک حرارت غریزی میں مقوی اعصاب ہے۔
استعمال :-
عنبر کو زیادہ تر اعصاب دماغ اور قلب کے امراض باردہ میں استعمال کیاجاتاہے۔چنانچہ فالج لقوہ رعشہ کزاز خدر ضعف دماغ واعصاب ضعف قلب خفقان وغیرہ میں مفرحات میں شامل کرکے کھلایا ہے۔محرک باہ ہونے کے باعث ضعف باہ مبہی دواؤں میں شامل کرتے ہیں ۔حرارت غریزی کے ضعف کے وقت اس کو برانگیختہ کرنے کیلئے کھلایا جاتاہے۔عنبر کا کھانا بوڑھوں کیلئے مفیدہے۔
ضعف اور زخم معدہ کو زائل کرنے کیلئے بھی استعمال کرایا جاتاہے۔

خالص عنبر پہچان :-
۱۔
ملانفیس نے بتائی ہے کہ عنبر کو شیشی میں ڈال کر کوئلوں کی آگ پر رکھیں اگر تیل یا موم کی طرح پگھل جائے تو اصلی ہے ورنہ نہیں ۔
۲۔
ذراسا آگ پر ڈالیں تو خوشبوداردھواں دے گا۔
نفع خاص۔
محرک باہ ،محافظ غریزی ۔
مضر۔
آنتوں اور جگر کے لئے ۔
مصلح۔
صمغ،عربی ،طباشیر ۔
بدل۔
مشک اور زعفران ۔
مقدارخوراک۔
ایک رتی سے تین رتی تک۔
مشہورمرکب۔
حب عنبر مومیائی خمیرہ گاؤ زبان عنبری خمیرہ ابریشم.

اضافہ :-
عنبر جعفر کے وزن پر عربی زبان کا لفظ ہے(۱)
لکھنے میں عین کے بعد نون آتا ہے لیکن پڑھتے وقت اسےمیم(عمبر) پڑھاجاتا ہے(۲)۔ اس کی جمع عنابر آتی ہے۔ انگریزی نام (Ambergris) ’’ایمبر گرس‘‘ہے۔ایک اورنام (AmbraGrasea) ہے۔

عنبر کیا ہے ؟ معروف ومشہور یہ ہے کہ خاکستری رنگ کا ایک خوشبو دار مادہ ہے.
یہ مادہ ایک بڑی جسامت والی مچھلی کے پیٹ سے نکل کر سطح آب پر جمع ہو جاتا ہے اس وجہ سے اس مچھلی کو بھی عنبر کہتے ہیں جوعنبر کو نگلتی اوراگلتی ہے۔یہ مچھلی اپنے بڑے سر کی وجہ سےدیگر مچھلیوں سے ممتاز ہوتی ہے۔بعض اوقات اس مچھلی کا شکار کرکے اس کے پیٹ سے بھی عنبرنکال لیتے ہیںچنانچہ امام شافعی ؒ سے منقول ہےکہ میں نے ایک شخص سے سنا کہ میں نے سمندر میں اگاہوا عنبر دیکھا جوبکری کی گردن کی طرح مڑاہواتھا ،ادھر سمندر میں ایک جانور ہوتا ہے جو اس عنبر کو کھالیتا ہے مگر عنبر اس کے لیےزہر قاتل ہوتا ہے اس لیے نگلتے ہی مرجاتا ہے ،پھر وہ مردہ جانور سمندر کی لہروں سے ساحل پر آجاتاہے اور اس کے پیٹ سے عنبر نکال لیا جاتا ہے۔(۳)
عنبرمختلف قسم کا ہوتاہےلیکن رنگت کے لحاظ سے بہترین عنبراشہب(Black ambergis) ہوتاہےجوکہسفید زردی مائل اور بہت خوشبودار ہوتاہے اور اشہب اس سیاہ رنگ کو کہتے ہیں جس کی سفیدی غالب ہو۔
خوشبویات(Fragrances) میں عمدہ اورقیمتی ہونے کی وجہ سےمشک کے بعد عنبر کا درجہ ہے۔اس کی کئی انواع واقسام ہیں جن میں سب سے اعلی اشہب رنگ کی طرح پھر نیلا پھر زرد اور سب سے ادنی نوع سیاہ رنگت کا ہوتا ہے۔(۴)
بعض ماہرین کی رائے ہے کہ سمندر میں ایک خاص قسم کا پودااگتا ہے جس کو سمندری مخلوق کھالیتی ہے اور بطور فضلہ کے خارج کردیتی ہے،مشہور مسلم طبیب اور سائنسداں ابن سینا سے منقول ہے کہ عنبر سمندری مادہ ہے،بعض نے کہا کہ سمندری گھا س ہے اور بعض نے سمندری پودا لکھا ہے،ایک مشہور قول یہ ہےکہ مچھلی کی قے (Vomit)ہے۔(۵)

جد ید تحقیق :-
عنبر پر جو جدیدتحقیق ہوئی ہے وہ ان آراء سے مختلف نہیں ہے جو بہت پہلے علماء اسلام ظاہر کرچکے ہیں چنانچہ امام زمحشری کے حوالے سے تاج العروس میں منقول ہے کہ عنبر سمندر کی سطح پر تیرتا ہوا مادہ ہے جس میں بسااوقات پرندوں کی باقیات بھی ملتی ہیں۔
امام زمحشری کی رائے کو اگر موجودہ تحقیقات کی روشنی میں دیکھا جائے تو ان کی رائے کی اہمیت اوربڑھ جاتی ہے۔عنبر کے متعلق ایک تحقیق یہ ہے کہ عنبردراصل درختوں سے بہنے والی رال اور گوند ہے۔ جب حشرات اسے کھانے کےلیے قریب آتے ہیں تو اس میں چپک جاتے ہیں اور ہوا بند(Airtight)ہونے کے باعث ہمیشہ کے لئے اس میں مقید ہوجاتے ہیں۔

عظیم یونانی ماہر حیاتیات اورفلاسفر ’’ تھیوفہارسٹس‘‘ (Theophrastus)وہ پہلا شخص تھا جس نے لگ بھگ چارسوسال قبل مسیح میں عنبر کے خواص کے بارے میں تحقیق کی تھی ۔تحقیق سے ثابت ہوا کہ عنبر زیادہ تر ان ساحلی علاقوں میں پایا جاتاہے جہاں ماضی میں صنوبری جنگلات کی بہتات تھی بعد ازاں یہ درخت زیر آب آگئے اور ان کی رال یا گوند درختوں سے علیحد ہو کر دلدلی پانی اور ساحلی پہاڑیوں میں پھیل گئی اور مخصوص کیمیائی عوامل کے بعد نیم دائروی شکل کے ٹھوس عنبروں میں تبدیل ہوگئی جنہیں غوطہ خور اور تاجر حضرات تلاش کر کے فروخت کرتے ہیں۔(۶)

اب تک کی گفتگو کی حاصل یہ ہے کہ عنبر ایک خوشبودار مادہے ،امگر یہ مادہ خود کیا ہے ؟اس بارے میں مختلف آراء ہیں ،مثلا:
۱۔ درختوں کی رال اورگوند ہے۔
۲۔ سمندر کی تہہ میں اگنے والا پودا ہے۔
۳۔ سمندری جڑی بوٹی ہے۔
۴۔ مچھلی کی قے ہے۔
۵۔ مچھلی کا فضلہ ہے۔
۶۔ تارکول کی طرح سمندر ی چشمے سے نکلنا والا مادہ ہے۔
۷۔ ایک خاص قسم کی مکھی کا شہد کی طرح چھتہ ہے جو بارشوں اور طوفانوں سے ٹوٹ کر سمندر میں آجاتا ہے۔

عنبر کے متعلق طب یونانی میں تفصیلات :-
عنبر کے متعلق طبیبوں اور حکیموں نے جو کچھ طب کی کتابوں میں لکھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عنبر گرم خشک ہے ،مفرح قلب ،مقوی دماغ اور محرک حرارت غریزی ہے۔اعصاب کو تقویت بخشتا ہے۔ عنبر کو زیادہ تر اعصاباور قلب کے امراض باردہ میں استعمال کیاجاتاہے۔ حرارت غریزی کے ضعف کے وقت اس کو برانگیختہ کرنے کیلئے کھلایا جاتاہے۔عنبر کا کھانا بوڑھوں کیلئے مفیدہے۔ضعف اور زخم معدہ کو زائل کرنے کیلئے بھی استعمال کرایا جاتاہے۔ عنبر کی خاص خصوصیت بطور دوا یہ ہے کہ محرک باہ اورمحافظ غریزی ہے لیکنآنتوں اور جگر کے لئے مضر ہے اوراس کے لیےمصلح صمغ،عربی ،طباشیر ہے،مشک اورزعفران کو اس کے بدل کے طورپر استعمال کیا جاتا ہے۔عنبر سے جو مرکبات تیار ہوتے ہیں ان میں خمیرہ ابریشم ،حب عنبر مومیائی اور خمیرہ گاؤ زبان عنبری مشہور ہیں۔(۷)

عنبرچونکہ ایک قدرتی نعمت ہے اور بڑی قدروقیمت رکھتی ہے اس لیے علماء کے درمیان یہ نکتہ بھی زیر بحث آیا ہے کہ دیگر معدنیات کی طرح عنبر پر بھی محصول عائد ہوگا یا نہیں اور اگر ہوگا تو اس کی مقدار کیا ہوگی ،اس بارے میں ائمہ کے آراء مختلف ہیں ۔علماء کی اکثریت کے نزدیک عنبر میں سے حکومت وقت کو محصول وصول کرنے کا حق نہیں ۔یہی رائے مالکیہ ،شافعیہ اور احناف میں سے امام ابوحنفیہ اور امام محمد کی ہے۔تابعین میں سے حضرت عطاء،امام سفیان ثوری،ابن ابی لیلی،حسن بن صالح اور ابوثور ؒ کا بھی یہی مذہب ہے۔جب کہ بعض حنابلہ اوراحناف میں سے امام ابویوسف کی رائے یہ ہے کہ عبنر میں خمس سے یعنی پانچواں حصہ واجب ہے۔(۸)

عنبر قرآن وحدیث کی روشنی :-
قرآن کریم میں سمندری عجائبات اور معدنیات کا ذکر ہے مگر نام کے ساتھ عنبر کا ذکر نہیں البتہ احادیث میں عنبر کا بطورخوشبو بھی ذکر موجود ہے چنانچہ نسائی شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ کیا آنحضرت ﷺ خوشبو لگاتے تھے ؟انہوں نے جواب دیا :’’جی ہاں‘‘ مردانہ خوشبو یعنی مشک اورعنبر
وعن محمد بن علي قال: «سألت عائشة - رضي الله عنها - أكان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يتطيب؟ قالت: نعم بذكارة الطيب المسك والعنبر» . رواه النسائي والبخاري في تاريخه) .نيل الأوطار (1/ 165)
حضرت سعیدبن جبیر سے مروی ہے کہ حائضہ عورت کو کپڑوں کو خون کے دھبے لگ جائیں تو انہیں دھولے اور پھر خوشبودارگھاس یا زعفران کو یا عنبر کو اس پر مل لے۔ اس کے علاوہ کچھ اور روایات بھی ہیں جن میں عنبر پر زکوۃ واجب ہونے یا نہ ہونے کی بحث ہے۔
حدثنا ابن فضيل، عن ليث، عن سعيد بن جبير، في الحائض يصيب ثوبها من دمها، قال: «تغسله ثم يلطخ مكانه بالورس والزعفران، أو العنبر۔مصنف ابن أبي شيبة (1/ 91)
مشہور تابعی حضرت عطاء بن رباح سے سوال ہواکہ میت کو مشک لگاسکتے ہیں تو منع فرمایا لیکن عنبر کے متعلق جب پوچھا گیا تو اس کی اجازت دی۔
6143 - عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: أيكره المسك حنوطا؟ قال: نعم قال: قلت: فالعنبر؟ قال: «لا، إنما العنبر والمسك قطرة دابة»
مصنف عبد الرزاق الصنعاني (3/ 415)

عنبر کے پاک وحلال ہونے متعلق مذاہب فقہاء :-

فقہ حنفی :-
عنبر کے متعلق فقہ حنفی میں بھی وہی اقوال منقول ہیں جن کاپہلے تذکرہ ہوچکا ہے ۔علامہ کاسانی نے عنبر کو اپنی اصل کے لحاظ سےخوشبو قراردیا ہے ۔علامہ شامی ؒ نے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ عنبر اصل میں سمندر میں نکلنا والا چشمہ ہے اورپاک ہے اور فیصلہ یہ کیا ہے کہ عنبر پاک بھی ہے اورحلال بھی ہے۔ایک دوسرے مقام پر علامہ شامی نے عنبر کے استعمال کو دوشرطوں کے ساتھ جائز قرار دیا ہے ،ایک یہ کہ اتنی مقداراستعمال نہ کیا جائے کہ جس سے نشہ پیدا ہو یا جو صحت کے مضر ہو۔بہر حال فقہ حنفی کی رو سےعنبر کا بطور خوشبو خارجی استعمال اور بطور دوا یا کھانے کے داخلی استعمال جائز ہے کیونکہ پاک بھی ہے اور حلال بھی ہے۔محقق علامہ شامی لکھتے ہیں :
وَأَمَّا الْعَنْبَرُ فَالصَّحِيحُ أَنَّهُ عَيْنٌ فِي الْبَحْرِ بِمَنْزِلَةِ الْقِيرِ وَكِلَاهُمَا طَاهِرٌ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ. اهـ
(رد المحتار) (1/ 209)
أقول: المراد بما أسكر كثيره إلخ من الأشربة، وبه عبر بعضهم وإلا لزم تحريم القليل من كل جامد إذا كان كثيره مسكرا كالزعفران والعنبر، ولم أر من قال بحرمتها، ۔۔۔۔۔ وأن البنج ونحوه من الجامدات إنما يحرم إذا أراد به السكر وهو الكثير منه، دون القليل المراد به التداوي ونحوه كالتطيب بالعنبر وجوزة الطيب، ونظير ذلك ما كان سميا قتالا كالمحمودة وهي السقمونيا ونحوها من الأدوية السمية فإن استعمال القليل منها جائز، بخلاف القدر المضر فإنه يحرم، فافهم واغتنم هذا التحرير
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/4)

فقہ شافعی :-
فقہ شافعی میں خودبانی مذہب حضرت امام شافعی سے منقول ہے عنبرپاک ہے۔ایک کمزور قول یہ ہےکہ عنبر نجس ہے مگرامامزينالدينعمربنمظفرالوردیالشافعینے عنبر کےپاکہونےپراجماع نقل کیاہے اسی وجہ سے فقہ شافعی میں عنبر کی خریدوفروخت اور بیع سلم جائز لکھاہے ورنہ ناپاک اشیاء کی تجارت مذہب شافعی میں جائز نہیں ہے۔امام ماوردی نے عنبر کا تذکرہ ان اشیاء میں کیا ہے جو کبھی خوراک کے طورپر بھی استعمال کی جاتی ہیں ۔پاک ہونے کی وجہ سے عنبر کا داخلی استعمال بھی جائز ہے کیونکہ مذہب شافعی کی رو سے ہرپاک شے کا کھاناجائز ہے ماسوائے ان اشیاء کے جو انسانی صحت یا عقل کے لیےمضرہوں یا نشہ آور ہوں یا مردار کی دباغت دی ہوئی کھال ہو۔
عنبر کی ماہیت کے متعلق شافعی مذہب میں تین قول ملتے ہیں ،ایک یہ کہ سمندری پودا ہے،دوسرے یہ کہ سخت اورٹھوس قسم کی شے ہے جسے جانورنگلنے کے بعد ہضم نہیں کرپاتا اوراگل دیتا ہے اورتیسرے یہ کہ جانورکا فضلہ ہے۔خشکی کے نباتات کی طرح سمندر کے نباتات بھی حلال ہیں اس لیے پہلے قول کے مطابق عنبرکی حلت وطہارت کے متعلق کوئی اشکال پیدا نہیں ہوتا اوراگر یہ قول اختیار کیا جائے کہ عنبر مچھلی کی قے ہے تو ہاضمہ کے اندرونی عمل سے اس کی ساخت تبدیل ہوجاتی ہے اورساخت کی تبدیلی سے تو ناپاک شے بھی پاک ہوجاتی ہے اورجس صورت میں مچھلی اسے جوں کا توں اگل دیتی ہے اس صورت میں عنبر کا حکم وہی رہے گا جو نگلنے سے پہلے تھا اوریہ واضح ہے کہ نگلنے سے پہلے وہ پاک اورحلال تھا ،زیادہ سے زیادہ ان آلائشوں کو صاف کردیا جائے گا جو اس سے لگی ہوں۔امام شافعی نے اس موضوع پر اپنی عادت کے مطابق بڑی فاضلانہ بحث کی ہے جو کتاب الام میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے اور اس سے موجودہ دور میں حلال وحرام کے متعلق بڑی زریں اصولوں کی طرف رہنمائی ملتی ہے۔

مذہب مالکی :-
مالکی فقہ میں عنبر کے بارے میں تین قول منقول ہیں :خوشبودار مادہ ہے،مچھلی کی قے ہے یا اس کا فضلہ ہے۔پہلے قول کو بعض نے صحیح قراردیا ہے۔محقق مالکی علماء کے نزدیک عنبر سمندرجڑی بوٹی ہے جس کی سب سے اعلی اوربرترقسم وہ ہے جولہروں کی مددسے ساحل پر آپہنچتی ہے اورجسے مچھلی کھانے کے بعداگل دیتی ہے وہ درمیانی نوعیت کاعنبر ہے اور اگر مچھلی کے گلنے سڑنے کےبعد اس کا پیٹ چاک کرکے عنبر نکالاجائے تو وہ سب سے ادنی قسم ہے۔
عنبر کے خارجی استعمال کے متعلق فقہ مالکی میں صراحت کے ساتھ اجازت منقول ہے چنانچہ امام ابن قاسم کہتےہیں کہ میں نے امام مالکؒ سے پوچھا کہ میت کو مشک وعنبر لگاسکتے ہیں ؟تو جواب دیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ۔اس سے معلوم ہواکہ عنبر پاک ہے کیونکہ کسی چیز کا بیرونی استعمال اسی وقت جائز ہوتا ہے جب وہ پاک ہو۔جہاں تک عنبر کے داخلی استعمال کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں وہی عام شرائط لاگو ہیں جو کسی بھی حلال شےکے متعلق لاگو ہوتی ہیں یعنی یہ کہ اس کا اتنی مقدارمیں استعمال نہ ہو جوضرر کا باعث ہو یاجس سے نشہ پیدا ہو.

فقہ حنبلی :-
فقہ حنبلی میں بھی عنبر کی حقیقت کے متعلق وہی اقوال منقول ہیں جن کا ماقبل میں تذکرہ ہوچکا ہے۔مستندحنبلی کتابوں کارجحان اس طرف ہے کہ عنبر سمندری جڑی بوٹی ہے جو مختلف ذرائع سے انسان کو حاصل ہوتی ہے ۔اگر چہ اس کا خوردنی استعمال بھی ہوتا ہے مگر اصل میں خوشبودار مادہ ہے اور خوشبو کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔عنبر کو فقہ حنبلی میں پاک لکھا ہے،لیکن پاک ہونے کے ساتھ حلال بھی ہے کیونکہ حنابلہ کے نزدیک ہر پاک چیز حلال ہے جب تک ضرررساں یا نشہ آور نہ ہو۔اس لیے پاک وحلال ہونے کی وجہ سے اس کا خارجی اورداخلی استعمال جائز ہے۔

Address

Karachi
75100

Telephone

+923357209184

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ajmeri Herbal Medicine posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ajmeri Herbal Medicine:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram