03/10/2025
جیمز کیمرون، جو 1984 کی مشہور فلم دی ٹرمینیٹر کے ہدایت کار ہیں، نے ایک بار پھر مصنوعی ذہانت یعنی AI پر عالمی بحث کو زندہ کر دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: “میں نے آپ کو 1984 میں خبردار کیا تھا، مگر کسی نے بات نہیں مانی۔” ان کی فلم میں دکھایا گیا تھا کہ اگر مشینیں خود مختار ہو جائیں اور کنٹرول حاصل کر لیں تو وہ انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس وقت یہ خیال ایک سائنسی کہانی جیسا لگتا تھا، لیکن آج کے حالات میں یہ حقیقت کے قریب تر محسوس ہونے لگا ہے۔ آج کے جدید AI ماڈل حیرت انگیز کام کرنے لگے ہیں۔ یہ کوڈ لکھ سکتے ہیں، تصویریں بنا سکتے ہیں، بیماریوں کی تشخیص کر سکتے ہیں اور انسان کی طرح گفتگو کر سکتے ہیں۔ یہ سب فائدہ مند ضرور ہے، مگر جیمز کیمرون کے مطابق خطرہ اس وقت بڑھ جاتا ہے جب یہ ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں چلی جائے۔ مثال کے طور پر، یہ خودکار فوجی ڈرونز میں استعمال ہو سکتی ہے یا ایسی مشینوں میں جو جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا پھیلا کر جمہوری نظام کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ُصرف کیمرون ہی نہیں بلکہ ایلون مسک اور جیفری ہنٹن جیسے بڑے ماہرین بھی یہی وارننگ دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فوری طور پر ایسے قوانین بننے چاہییں جن سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ AI پر انسان کا کنٹرول قائم رہے۔ فوجی ماہرین بھی فکر مند ہیں کہ اگر جنگوں میں مشینوں کو مکمل اختیار مل گیا تو وہ اخلاقیات کے بغیر زندگی اور موت کے فیصلے کر سکتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سائنس فکشن کی دنیا ہمیں برسوں پہلے ہی ان سوالات کے لیے تیار کرتی رہی ہے۔ دی میٹرکس جیسی فلمیں ہوں یا ہر جیسی کہانیاں، سب نے یہ دکھایا کہ اگر ٹیکنالوجی بے قابو ہو جائے تو کیا کچھ ہو سکتا ہے۔ اب کیمرون کا کہنا ہے کہ یہ سب محض فلموں کا تصور نہیں رہا بلکہ حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ یہی وقت ہے کہ معاشرہ سوچے اور طے کرے کہ AI کو کہاں تک آگے لے جانا ہے، اس سے پہلے کہ یہ انسان کے قابو سے نکل جائے۔