06/04/2026
مریض کی جان بچانے والے، یا پیسے کمانے والے؟ سینیٹ میں انکشاف
حال ہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں چونکا دینے والے انکشافات ہوئے ہیں۔ سینیٹرز نے ڈاکٹروں پر زبردست الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں "قصاب" تک قرار دے دیا۔
تحقیقات کے مطابق، پاکستان میں صحت کا ایک منظم کرپشن نیٹ ورک فعال ہے جس میں ڈاکٹر، لیبارٹریاں اور ادویہ ساز کمپنیاں شامل ہیں:
🩺 غیر ضروری سرجریز اور سی سیکشن:
سینیٹر دانش کمار کے مطابق ڈاکٹر صرف پیسوں کے لیے خواتین کے پیٹ چیر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایک خاتون کے گھر میں کوئی بھی نوجوان لڑکی قدرتی طور پر بچہ جنم نہیں دیتی، تمام کا سی سیکشن کیا جا رہا ہے۔ ایک سی سیکشن کے بعد 3-4 دن ہسپتال میں قیام کا بل آٹھ سے دس لاکھ روپے تک پہنچ جاتا ہے۔
💊 کمیشن پر دوائیں اور ٹیسٹ:
ڈاکٹر فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے کمیشن، مہنگے تحائف اور غیر ملکی دوروں کے عوض مہنگی برانڈڈ دوائیں لکھ رہے ہیں۔ ڈی آر اے پی کے مطابق ڈاکٹر 70 فیصد دوائیاں غیر ضروری لکھتے ہیں، جس سے مریضوں کو سالانہ 50 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ کراچی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق 70 فیصد سے زائد پرائیویٹ ڈاکٹر مہنگی برانڈڈ دوائیں تجویز کرتے ہیں۔
✈️ فارما کمپنیوں کی طرف سے مراعات:
فارماسیوٹیکل کمپنیاں ڈاکٹروں کو غیر ملکی دورے، کلینک کی تزئین و آرائش اور یہاں تک کہ نقد رقم دے رہی ہیں۔ یہ عمل مریضوں کے اعتماد کو ختم کر رہا ہے۔
🛡️ آپ کیا کر سکتے ہیں؟
· ڈاکٹر سے دوائی کا جنرک نام (Generic Name) ضرور پوچھیں
· غیر ضروری ٹیسٹ اور سی سیکشن سے گریز کریں
· دوسری رائے ضرور لیں
· اگر کوئی شبہ ہو تو پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن میں شکایت درج کروائیں
آگاہی ہی بچاؤ ہے۔ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔
📚 حوالہ جات (References)
1. Senate Standing Committee on Health (September 11, 2025): سینیٹ کمیٹی میں ڈاکٹروں کو "قصاب" قرار دے کر ان پر فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے کمیشن، غیر ضروری سی سیکشنز اور مہنگی برانڈڈ دوائیں لکھنے کے الزامات عائد کیے گئے۔
2. DRAP Officials Statement (November 8, 2025): ڈی آر اے پی کے حکام نے انکشاف کیا کہ ڈاکٹر 70 فیصد دوائیاں غیر ضروری لکھتے ہیں جس سے مریضوں کو 50 ارب روپے کا سالانہ نقصان ہوتا ہے۔
3. Karachi Study 2025: کراچی میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ