Dr Fawad Diabetes and Foot Care Centre

Dr Fawad Diabetes and Foot Care Centre Diabetes Clinic and Foot Care Centre

سلیو گیسٹریکٹومی ایک وزن کم کرنے کی سرجری ہے جو اکثر موٹاپے کے علاج کے لیے کی جاتی ہے۔ اس سرجری کے دوران، معدے کا ایک بڑ...
31/12/2025

سلیو گیسٹریکٹومی ایک وزن کم کرنے کی سرجری ہے جو اکثر موٹاپے کے علاج کے لیے کی جاتی ہے۔ اس سرجری کے دوران، معدے کا ایک بڑا حصہ نکال دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں معدہ ایک پتلے "سلیو" (آستین) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

سلیو گیسٹریکٹومی کیسے کی جاتی ہے؟
معدے کا حصہ نکالنا: اس سرجری میں معدے کا تقریباً 75٪ حصہ نکال دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں معدہ ایک تنگ "سلیو" کی شکل میں رہ جاتا ہے جو کم کھانے کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔

کم کھانے کی صلاحیت: سرجری کے بعد معدہ بہت چھوٹا ہو جاتا ہے، اس لیے مریض کم کھانے کی حالت میں رہتا ہے اور اس کی خوراک کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔

ہارمونل تبدیلیاں: سلیو گیسٹریکٹومی کے ذریعے جسم میں وہ ہارمونز بھی کم ہو جاتے ہیں جو بھوک بڑھانے کا کام کرتے ہیں، جیسے گریلین۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مریض کو بھوک کم محسوس ہوتی ہے اور وہ زیادہ کھانے سے بچتا ہے۔

سلیو گیسٹریکٹومی کے فوائد:
موٹاپا کم کرنا: اس سرجری کے ذریعے وزن میں نمایاں کمی آتی ہے، اور زیادہ تر مریض وزن کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

دیگر بیماریوں کا علاج: سلیو گیسٹریکٹومی دل کی بیماریوں، ٹائپ 2 ذیابیطس، بلند فشار خون (ہائی بلڈ پریشر)، اور نیند کی بیماریوں جیسی حالتوں میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

طبیعت میں بہتری: زیادہ وزن کی وجہ سے ہونے والی صحت کی مشکلات میں کمی آتی ہے اور زندگی کے معیار میں بہتری آتی ہے۔

سلیو گیسٹریکٹومی کے بعد کیا احتیاطی تدابیر ضروری ہیں؟
غذائی احتیاطیں: مریض کو سرجری کے بعد خصوصی غذائیں لینا پڑتی ہیں۔ یہ غذائیں کم مقدار میں اور زیادہ پروٹین والی ہونی چاہئیں۔

ورزش: جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے باقاعدہ ورزش ضروری ہے۔

میڈیکل فالو اپ: مریض کو سرجری کے بعد ڈاکٹر سے باقاعدہ چیک اپ کروانا ضروری ہوتا ہے تاکہ کسی قسم کی پیچیدگیاں سامنے نہ آئیں۔

کون افراد سلیو گیسٹریکٹومی کے لیے اہل ہیں؟
وہ افراد جو وزن میں کمی کے لیے دوسرے طریقے آزما چکے ہوں اور ان کو کامیابی نہ ملی ہو۔

وہ افراد جن کا BMI (Body Mass Index) 40 سے زیادہ ہو۔

وہ افراد جن کا BMI 35 سے 40 ہو لیکن ان کو وزن کی وجہ سے کوئی دیگر سنگین صحت کے مسائل (جیسے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر) ہوں۔

23/12/2025

📌 DR FAWAD DIABETES AND DIABETIC FOOT CLINIC
موضوع: موٹاپے کے لیے بیریاٹرک سرجریز کی اقسام (Types of Bariatric Surgeries for Obesity)
موٹاپا صرف ظاہری مسئلہ نہیں بلکہ یہ شوگر، بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں، جوڑوں کے درد اور نیند کی خرابی جیسی کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے۔ جب ڈائٹ، ورزش اور ادویات سے وزن کم نہ ہو تو بیریاٹرک سرجری ایک مؤثر علاج ثابت ہو سکتی ہے۔
🔹 بیریاٹرک سرجری کی اہم اقسام:
1️⃣ سلیو گیسٹریکٹومی (Sleeve Gastrectomy)
اس سرجری میں معدے کا تقریباً 70–80٪ حصہ نکال دیا جاتا ہے، جس سے خوراک کم کھائی جاتی ہے اور بھوک بھی کم لگتی ہے۔
✔ تیزی سے وزن میں کمی
✔ شوگر اور بلڈ پریشر میں بہتری
2️⃣ گیسٹرک بائی پاس (Roux-en-Y Gastric Bypass)
معدے کو چھوٹا کر کے آنتوں کا راستہ بدلا جاتا ہے، جس سے خوراک کم جذب ہوتی ہے۔
✔ شدید موٹاپے میں مؤثر
✔ ٹائپ 2 ذیابیطس میں نمایاں فائدہ
3️⃣ ون ایناسٹوموسس گیسٹرک بائی پاس (Mini Gastric Bypass)
یہ گیسٹرک بائی پاس کی جدید اور نسبتاً سادہ قسم ہے۔
✔ کم وقت کی سرجری
✔ اچھے اور دیرپا نتائج
4️⃣ ایڈجسٹ ایبل گیسٹرک بینڈ (Gastric Banding)
معدے کے اوپر ایک بینڈ لگایا جاتا ہے تاکہ خوراک آہستہ آہستہ جائے۔
✔ ریورسیبل طریقہ
❌ وزن کم ہونے کی رفتار نسبتاً سست
5️⃣ بیلیو پینکریاٹک ڈائیورژن (BPD ± DS)
یہ پیچیدہ مگر انتہائی مؤثر سرجری ہے، عموماً بہت زیادہ موٹاپے میں کی جاتی ہے۔
✔ بہت زیادہ وزن میں کمی
❌ وٹامنز اور غذائی کمی کا خطرہ
⚠️ اہم بات:
ہر مریض کے لیے ایک ہی سرجری مناسب نہیں ہوتی۔ مکمل میڈیکل معائنہ، BMI، شوگر اور دیگر بیماریوں کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے۔
📞 مزید رہنمائی اور مشورے کے لیے رابطہ کریں:
DR FAWAD DIABETES AND DIABETIC FOOT CLINIC
👉 صحت مند وزن، صحت مند زندگی!

**موٹاپا (Obesity) — جدید علاج(Latest Guidelines کے مطابق)**موٹاپا صرف وزن بڑھنے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ذیابیطس، ہائی بلڈ...
15/12/2025

**موٹاپا (Obesity) — جدید علاج

(Latest Guidelines کے مطابق)**

موٹاپا صرف وزن بڑھنے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماری، فیٹی لیور، جوڑوں کے درد اور نیند میں سانس رکنے جیسی کئی بیماریوں کی جڑ ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ نئی میڈیکل گائیڈ لائنز کے مطابق موٹاپے کا علاج اب سائنسی، محفوظ اور مؤثر ہو چکا ہے۔

---

🔍 موٹاپا کب ادویات سے علاج کا مستحق ہوتا ہے؟

ادویات تب دی جاتی ہیں جب:
✔️ BMI ≥ 30 ہو
یا
✔️ BMI ≥ 27 ہو اور ساتھ شوگر، بلڈ پریشر یا کولیسٹرول جیسی بیماری موجود ہو

⚠️ صرف ڈائٹ اور ورزش ناکام ہونے پر ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات شروع کی جاتی ہیں۔

---

💊 موٹاپے کی جدید ادویات (Latest Approved Medicines)

1️⃣ GLP-1 Receptor Agonists

یہ ادویات بھوک کم کرتی ہیں، پیٹ جلد بھرنے کا احساس دیتی ہیں اور شوگر کنٹرول میں بھی مددگار ہیں۔

🔹 Semaglutide
🔹 Liraglutide

فوائد:
✔️ 10–15٪ تک وزن میں کمی
✔️ شوگر اور بلڈ پریشر میں بہتری
✔️ دل کی بیماری کے خطرات کم

ممکنہ سائیڈ ایفیکٹس:
متلی، قے، قبض (اکثر وقتی)

---

2️⃣ Dual GIP & GLP-1 Agonist

🔹 Tirzepatide

یہ نئی دوا ہے جو دنیا بھر میں سب سے مؤثر مانی جا رہی ہے۔

فوائد:
✔️ 15–22٪ تک وزن میں کمی
✔️ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خاص طور پر مفید
✔️ انسولین ریزسٹنس کم کرتی ہے

---

3️⃣ Fat Absorption Blocker

🔹 Orlistat

یہ دوا آنتوں میں چکنائی کے جذب کو روکتی ہے۔

فوائد:
✔️ سادہ اور نسبتاً پرانی دوا
✔️ ہلکے درجے کے موٹاپے میں مددگار

سائیڈ ایفیکٹس:
تیل دار پاخانہ، پیٹ میں گڑبڑ
⚠️ چکنائی والی غذا کے ساتھ مسائل بڑھ سکتے ہیں

---

❌ کون سی ادویات اب کم استعمال ہوتی ہیں؟

پرانے وزن کم کرنے والے stimulant drugs
❌ دل کے لیے نقصان دہ
❌ بلڈ پریشر اور بے چینی بڑھا سکتی ہیں
👉 جدید گائیڈ لائنز میں ان سے اجتناب کی ہدایت ہے۔

---

🍽️ دوا کے ساتھ کیا لازمی ہے؟

✔️ متوازن غذا (Calorie deficit diet)
✔️ روزانہ ہلکی پھلکی ورزش
✔️ نیند پوری کرنا
✔️ شوگر اور تھائیرائیڈ کا کنٹرول

📌 یاد رکھیں: دوا اکیلی معجزہ نہیں، لائف اسٹائل چینج ضروری ہے۔

---

🚫 خود سے دوا کیوں خطرناک ہے؟

❌ غلط مریض میں استعمال
❌ غلط ڈوز
❌ خطرناک سائیڈ ایفیکٹس

👉 موٹاپے کا علاج ہمیشہ تجربہ کار ڈاکٹر کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔

---

📞 مشورہ اور رہنمائی کے لیے

Dr Fawad Diabetes & Diabetic Foot Clinic
موٹاپا، ذیابیطس اور شوگر فٹ کے جدید اور محفوظ علاج کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

🩺 صحت مند وزن — صحت مند زندگی

14/12/2025

موٹاپا: ایک خاموش مگر خطرناک بیماری

موٹاپا صرف وزن بڑھنے کا نام نہیں بلکہ یہ ذیابیطس، بلڈ پریشر، دل کے امراض، جوڑوں کے درد اور فیٹی لیور جیسی بیماریوں کی بڑی وجہ ہے۔ جدید میڈیکل سائنس نے اب موٹاپے کے مؤثر اور محفوظ علاج ممکن بنا دیے ہیں۔

🔹 موٹاپے کا جدید علاج

✅ لائف اسٹائل تبدیلی
متوازن غذا، کیلوریز کنٹرول، اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی علاج کی بنیاد ہے۔

🔹 جدید ادویات (Anti-Obesity Drugs)

💊 نئی ادویات بھوک کم کرتی ہیں، پیٹ دیر سے خالی ہوتا ہے اور وزن بتدریج کم ہوتا ہے۔
✔️ یہ ادویات ڈاکٹر کے مشورے سے محفوظ طریقے سے دی جاتی ہیں، خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں میں۔

🔹 سرجیکل علاج (Bariatric Surgery)

🔪 شدید موٹاپے میں سلیو گیسٹریکٹومی اور گیسٹرک بائی پاس جیسے آپریشن وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ شوگر اور بلڈ پریشر کو بھی بہتر بناتے ہیں۔
✔️ یہ علاج صرف منتخب مریضوں کے لیے اور مکمل میڈیکل جانچ کے بعد کیا جاتا ہے۔

🔹 یاد رکھیں

موٹاپے کا علاج ممکن ہے، بس صحیح رہنمائی اور بروقت علاج ضروری ہے۔

📍 SR Fawad Diabetes & Foot Clinic
ذیابیطس، موٹاپا اور شوگر فٹ کے جدید علاج کے لیے رابطہ کریں۔
آپ کی صحت، ہماری ترجیح 🌿

12/12/2025

غیر تربیت یافتہ ڈینٹل ٹیکنیشن جو آلات کو صحیح طرح جراثیم سے پاک نہیں کرتے، وہ ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور ایچ آئی وی جیسے خون سے پھیلنے والے انفیکشن کا بڑا ذریعہ بنتے ہیں۔
اگر آپ کا علاج ایسے کسی کلینک میں ہوا ہے تو اپنا اسکریننگ ٹیسٹ لازمی کرائیں، اور غیر صفائی والے کلینک سے ہمیشہ بچیں۔
ایسے بااعتماد ڈینٹسٹ کا انتخاب کریں جہاں آلات کی مناسب اسٹرلائزیشن موجود ہو۔

14/09/2025

موٹاپا صرف زیادہ کھانے کی وجہ سے نہیں ہوتا۔
بہت سے لوگ کم کھانے کے باوجود بھی وزن بڑھا لیتے ہیں۔
اس کی وجوہات میں شامل ہیں: ہارمونز کا عدم توازن، جسم میں سوزش، کوئی بنیادی بیماری، بیماری کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات، یا میٹابولزم کا سست ہونا۔

ایسے افراد ہمیشہ دوسروں کی جانب سے زیادہ کھانے کے طعنوں کا سامنا کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔
خوشخبری یہ ہے کہ اس موٹاپے کو کم کرنا ممکن ہے، مگر اس کے لیے خوراک کا انتخاب اور تناسب بڑی احتیاط سے ایڈجسٹ کرنا ضروری ہے۔
Dr Fawad

04/08/2025

دوائی کے بغیر بلڈ پریشر کو کنٹرول کریں

1. باقاعدہ ورزش

مقصد: روزانہ 30+ منٹ، کم از کم 5 دن/ہفتہ

بہترین اقسام: تیز چلنا، سوئمنگ، سائیکلنگ، رقص، دوڑنا

فوائد:

سسٹولک بلڈ پریشر کو 4-9 ملی میٹر مرکری تک کم کرتا ہے

دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے

وزن کو کنٹرول کرتا ہے اور موڈ کو بہتر بناتا ہے

2. نمک کی مقدار کو محدود کریں

مطلوبہ حد: روزانہ 5 گرام نمک سے کم

پروسیس شدہ اور پیک شدہ غذاؤں کو کم کریں

نمک کی جگہ مصالحے، جڑی بوٹیاں، لیموں اور سرکہ استعمال کریں

کھانے کے لیبلز میں سوڈیم کی مقدار چیک کریں

3. تمباکو نوشی چھوڑیں

کیوں:

خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتا ہے

فالج اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتا ہے

فائدہ: دیگر طرز زندگی کی تبدیلیوں اور دوائیوں کے اثرات کو بہتر بناتا ہے

4. DASH غذا کی پیروی کریں

زیادہ کھائیں: پھل، سبزیاں، مکمل اناج، کم چکنائی والی دودھ کی مصنوعات

کم کھائیں: چینی، سرخ گوشت، سنترہ چکنائی، پروسیسڈ اسنیکس

اثر: بلڈ پریشر کو 11 ملی میٹر مرکری تک کم کر سکتا ہے

5. وزن کو کنٹرول کریں

مقصد: صحت مند BMI حاصل کریں اور اسے برقرار رکھیں

مشورہ: 5-10% وزن میں کمی بلڈ پریشر کو واضح طور پر کم کر سکتی ہے

حکمت عملی: متوازن غذا + باقاعدہ جسمانی سرگرمی

6. نیند کی عادات کو بہتر بنائیں

مقصد: 7-9 گھنٹے اچھی نیند ہر رات حاصل کریں

جواب دہی سے بچیں: دن کے آخر میں کیفین، بھاری کھانے اور اسکرین کا استعمال

دھیان دیں: نیند کا ایپنیہ بلند فشار خون کا چھپا ہوا سبب ہو سکتا ہے

7. دباؤ کو کم کریں

کوشش کریں: مراقبہ، گہری سانس لینا، دعائیں، جریدہ لکھنا، قدرتی ماحول میں وقت گزارنا

اثر: کورٹیسول اور بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے، ذہنی صحت اور توانائی کی سطح کو بہتر بناتا ہے

Dr Fawad

ذیابیطس یا پری ذیابیطس کے لیے غذا میں تبدیلیاںاگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز ذیابیطس یا پری ذیابیطس کا شکار ہیں، تو غذا میں ک...
30/07/2025

ذیابیطس یا پری ذیابیطس کے لیے غذا میں تبدیلیاں

اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز ذیابیطس یا پری ذیابیطس کا شکار ہیں، تو غذا میں کچھ اہم تبدیلیاں کر کے خون میں شوگر کی سطح کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہ تبدیلیاں نہ صرف خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہیں، بلکہ مجموعی صحت کو بھی بہتر بناتی ہیں۔

1. مزید فائبر والی غذائیں شامل کریں

پوری اناج: سفید چاول کی جگہ براؤن چاول، کوئنو، جئی، اور پورے گندم کا روٹی استعمال کریں۔

پھل اور سبزیاں: فائبر سے بھرپور پھل (جیسے سیب، بیریز) اور سبزیاں (جیسے اسپینچ، بروکلی) زیادہ کھائیں تاکہ شوگر جذب ہونے کی رفتار سست ہو جائے۔

دالیں اور پھلیاں: دالوں اور چنے جیسے پھلیاں فائبر اور پروٹین سے بھرپور ہوتی ہیں۔

2. کاربوہائیڈریٹس کا خیال رکھیں

کم گلیسیمک انڈیکس والی غذائیں: کم گلیسیمک انڈیکس والی غذائیں جیسے کہ مٹھے آلو، دالیں، اور پورے اناج استعمال کریں۔

حصے کا دھیان رکھیں: چھوٹے، اکثر کھانے کھانے سے خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے۔

مٹھائیاں اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس سے پرہیز کریں: میٹھے مشروبات، مٹھائیاں، اور سفید روٹی جیسے ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس سے بچیں۔

3. صحت مند چکنائی پر توجہ دیں

صحت مند چکنائیاں: زیتون کا تیل، ایووکاڈو، بادام، اور بیجوں جیسے unsaturated fats کا استعمال کریں۔

ٹرانس چکنائی اور سیرشدہ چکنائی کم کریں: پراسیسڈ فوڈز اور تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز کریں۔

4. پروٹین کا مناسب استعمال

کم چربی والی پروٹین: چکن، ٹرکی، مچھلی (خصوصاً سالمن)، اور دالوں جیسے پروٹین کا استعمال کریں۔

سرخ گوشت کی مقدار کم کریں: سرخ گوشت جیسے بیف اور مٹن کا استعمال کم کریں۔

5. پانی پیئیں

پانی بہترین انتخاب ہے: دن بھر میں کافی پانی پیئیں تاکہ جسم ہائیڈریٹڈ رہے۔

مٹھے مشروبات سے پرہیز کریں: میٹھے مشروبات اور جوس سے بچیں جو خون میں شوگر کی سطح کو بڑھاتے ہیں۔

6. کھانے کا شیڈول بنائیں

پلیٹ میں توازن: ہر کھانے میں فائبر والی غذائیں، پروٹین، اور صحت مند چکنائی کا توازن رکھیں تاکہ شوگر کی سطح مستحکم رہے۔

چھوٹے حصے: چھوٹے حصوں میں کھانے سے آپ خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں۔

7. الکحل اور کیفین کو محدود کریں

الکحل کم پیئیں: الکحل خون میں شوگر کی سطح کو متاثر کر سکتا ہے۔

کافی کم پیئیں: زیادہ کیفین کچھ افراد کے لیے خون میں شوگر کی سطح میں اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

8. خون میں شوگر کی سطح کو مانیٹر کریں

غذاؤں کا ٹریک رکھیں: خون میں شوگر کی سطح کو باقاعدگی سے چیک کریں تاکہ آپ کو یہ سمجھ آئے کہ کون سی غذائیں آپ کی شوگر کو متاثر کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر ایک ترمیم شدہ خوراک پلان:

ناشتہ: جئی کے ساتھ چیا سیڈز، بیریز اور بادام۔

دوپہر کا کھانا: گرل چکن، سبز سلاد اور کوئنو۔

سنیک: ایک سیب اور کچھ اخروٹ۔

رات کا کھانا: بیکڈ سامن، بھاپ میں پکی سبزیاں اور براؤن چاول۔

اس طرح کی غذائی تبدیلیاں آپ کی شوگر کی سطح کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ ہمیشہ کسی ماہر صحت یا غذائی ماہر سے مشورہ کریں تاکہ آپ کو اپنی ذاتی ضروریات کے مطابق بہترین مشورہ مل سکے Dr Fawad ۔

27/07/2025

کیا آپ کو زیادہ پیاس لگتی ہے؟
کیا پیشاب زیادہ آتا ہے؟
کیا آپ کو زیادہ بھوک لگتی ہے؟
کیا آپ کو شدید تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے؟
کیا آپ کی زندگی میں مایوسی ہے؟
کیا آپ کی بینائی کم ہو رہی ہے؟
کیا آپ کو پرائیویٹ پارٹس پر خارش محسوس ہو رہی ہے؟

یہ سب علامات شوگر کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ بہتر ہوگا کہ آپ کسی معروف لیب میں جا کر HBA1C خون کا ٹیسٹ کرائیں۔

اگر آپ کا Hba1c 5.7 سے زیادہ ہے تو آپ پری ڈایابیٹک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
اگر Hba1c 6.4 سے زیادہ آئے تو آپ شوگر کے مریض بن چکے ہیں۔

شوگر کو ابتدائی مراحل میں کنٹرول کرنا سب سے آسان ہے۔

Dr Fawad

ہمارا ملک دنیا کا واحد ملک ہے جہاں 26 کروڑ کی کل آبادی میں ہر شخص خود کو حکیم یا ڈاکٹر سمجھتا ہے۔ خاص طور پر جب کوئی موٹ...
22/07/2025

ہمارا ملک دنیا کا واحد ملک ہے جہاں 26 کروڑ کی کل آبادی میں ہر شخص خود کو حکیم یا ڈاکٹر سمجھتا ہے۔ خاص طور پر جب کوئی موٹا نظر آئے، تو ہر کوئی حکیم لقمان بن جاتا ہے۔ کچھ لوگ گرین ٹی پینے کا مشورہ دیتے ہیں، تو کچھ دن رات بھوکے رہنے کا کہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔

لیکن یہ تمام "کاغذی حکیم" اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ موٹاپا دراصل ایک "Dietary Disorder" ہے۔ موٹاپا اس وقت ہوتا ہے جب جسم میں حاصل شدہ توانائی اس توانائی سے زیادہ ہو جائے جو جسم استعمال کرتا ہے۔ اس اضافی توانائی کا جمع ہونا چربی (fat) کی صورت میں ہوتا ہے۔

جنک فوڈ، پراسیسڈ اشیا، چینی، اور سادہ کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور خوراک، اور کم جسمانی سرگرمی، موٹاپے کی اہم وجوہات ہیں۔ غلط غذائیں اور بے وقت کھانے کے معمولات لیپٹِن (Leptin) اور انسولین جیسے ہارمونز کے توازن کو متاثر کرتے ہیں، جو بھوک اور چربی کے ذخیرے کو کنٹرول کرتے ہیں۔

غیر متوازن غذا آنتوں کے بیکٹیریا کی ساخت میں تبدیلی لاتی ہے، جس سے نظامِ ہضم اور چربی کے ذخیرے پر اثر پڑتا ہے۔ اکثر لوگ موٹاپے کو موروثی سمجھتے ہیں، لیکن دراصل یہ خاندان میں موجود "غذائی عادات" کا تسلسل ہوتا ہے، نہ کہ جینیاتی اثرات کا۔

Dr fawad

پھلوں میں فائبر اور دیگر ضروری غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں — لیکن ان میں قدرتی مٹھاس بھی ہوتی ہے، اور کچھ پھلوں میں یہ دو...
21/07/2025

پھلوں میں فائبر اور دیگر ضروری غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں — لیکن ان میں قدرتی مٹھاس بھی ہوتی ہے، اور کچھ پھلوں میں یہ دوسروں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔

کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ آپ کا کھانا ہی آپ کی صحت کا علاج بن سکتا ہے؟شوگر کوئی بلا وجہ آنے والی بیماری نہیں ہے، بلکہ...
19/07/2025

کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ آپ کا کھانا ہی آپ کی صحت کا علاج بن سکتا ہے؟

شوگر کوئی بلا وجہ آنے والی بیماری نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری زندگی کے طرزِ عمل کا نتیجہ ہے — اور اس کا علاج بھی اسی طرزِ زندگی میں چھپا ہوا ہے۔

جب ہم اپنی غذا میں تبدیلی لاتے ہیں، تو ہمارے جسم میں ایک نیا انقلاب آتا ہے۔

ہم جب مصنوعی انسولین اور مہنگی دواؤں کا سہارا لیتے ہیں، تو ہمارا جسم چپچاپ ہمیں ایک پیغام دے رہا ہوتا ہے: "مجھے وہ خوراک دو جو قدرت نے میرے لئے تیار کی ہے۔"

جب آپ جنک فوڈ، پراسیسڈ اشیاء، بیکری پروڈکٹس، چینی اور سفید آٹے سے چھٹکارا حاصل کرتے ہیں،

تو آپ کا جسم وہ نظام دوبارہ فعال کر لیتا ہے جو انسولین پیدا کرنے میں ماہر ہے۔ اس کے بعد نہ کسی اضافی انسولین کی ضرورت رہتی ہے اور نہ ہی کسی دوا کی۔

یہ حقیقت ہے کہ غذائی تبدیلی قدرتی انسولین کا کام کرتی ہے۔ یہ دوا سے زیادہ مؤثر ہے۔ یہ انجیکشن کو غیر ضروری بنا سکتی ہے۔ یہ مہنگی نہیں، بلکہ سب سے قیمتی علاج ہے۔

سوچیے! اگر آپ کو روزانہ مہنگی دوائیں نہ لینی پڑیں اور آپ صرف اپنے ناشتہ، دوپہر اور رات کے کھانے میں تبدیلی لے آئیں — تو کیا ہوگا؟ صرف کھانے میں تبدیلی کر کے، آپ نہ صرف شوگر پر قابو پا سکتے ہیں بلکہ اسے مکمل طور پر ریورس بھی کر سکتے ہیں۔
Dr Fawad

Address

Khana Jan Market Near HBL Bank Karak City
Karak
25000

Telephone

+923329661674

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Fawad Diabetes and Foot Care Centre posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Fawad Diabetes and Foot Care Centre:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram