Dr Mehboob alam official

Dr Mehboob alam official "My extreme objective is to guide individuals about their inner and outer environment."

Krebs cycle Please subscribe my channel
10/03/2026

Krebs cycle
Please subscribe my channel

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

08/03/2026

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

07/03/2026

آپ پولینڈ کے لوگوں سے پوچھیں یہ آپ کو بتائیں گے جنگ کیا ہوتی ہے۔۔۔ یا کسی یورپی خاندان سے پوچھ لیں جنگ کیا ہے؟ آپ اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھیں گے، جرمن فوج نے یکم ستمبر1939 کو پولینڈ پر حملہ کیا، یہ دوسری جنکِ عظیم کا آغاز تھا، جارح فوج کو 4959 توپوں ، 3647 ٹینکوں اور3300 جنگی طیاروں کی سپورٹ حاصل تھی، یہ آۓ اور پولینڈ میں ایک لاکھ99 ہزار 700 لاشیں بچھادیں،75 سال بعد بھی اس شہر کی دیواروں پر جنگ کے زخم ہیں، یورپ نے 1939 سے 1945تک مسلسل 6برس تک جنگ بھگتی، یورپ امریکہ اور جاپان کے چھ کروڑ لوگ ہلاگ ہوۓ، امریکہ نے آخر میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر 2 ایٹم بم داغے، 2 منٹ میں 1 لاکھ 40ہزار لوگ، جبکہ ناگاساکی میں 75ہزار لوگ ہلاک ہوۓ، اور جو زندہ بچے وہ عمر بھر کیلۓ معذور ہوگۓ،جنگِ عطیم دوم میں یورپ کا کوئ شہر سلامت نہیں بچا تھا، بجلی، پانی، سڑکیں، سکول و کالج، ریلوے کا نظام اور خوراک ہر شے مفقود ہوگئ تھی، آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جنگ سے پہلے یورپ میں سور نہیں کھایا جاتا تھا، لوگ پورک سے نفرت کرتے تھے، خوراک کی قلت کی وجہ سے پورک کھایا جانے لگا وہ دن ہے اور آج کا دن۔ پورک اب پورے یورپ کی خوراک بن چکا ہے،جنگ کے بعد مرد ختم ہوگۓ، چنانچہ یورپ شادی کا سسٹم ختم کرنے پر مجبور ہوگیا،عورت صرف عورت اور مرد صرف مرد بن کر رہ گیا۔

آپ جنگوں کے دوران یہودیوں کی داستانیں پڑھیں، آپ اندر سے دکھی ہوجائیں گے، سینکڑوں ہزاروں یہودی خاندان دو دوبرس گٹروں میں رہے انکی ایک پوری نسل گٹروں میں رہی، اور سیوریج کا پانی پی کر کھڑا ہونا سیکھا، آپ یورپ کی پہلی جنگِ عظیم بھی دیکھۓ، یہ جولائ 1914 سے 11نومبر 1918 تک،4 سال 3ماہ تک چلی،یورپ نے ان 4 برسوں میں سوا 4 کروڑ لوگوں کی قربانی دی،یہ جنگ آسٹریلیا اور نیوزی کی ہر ماں کی گود اجاڑ گئ، ترکی کا جزیرہ گیلی پولی قبرستا بن گیا، آپ آج بھی وہاں کی مٹی کی مٹھی بھریں تو انسان کی باقیات ملیں گی، آپ ان باقیات سے پوچھیں جنگیں کیا ہوتی ہیں؟ یہ آپکو جنگ کا مطلب سمجھائیں گی اگر پھر بھی پتہ نہ چلے تو آپ ویتنام، افغانستان اور افریقہ کے جنگ ذدہ علاقوں سے پوچھ لیں، ویتنام کے لوگوں نےساڑھے 19 سال جنگ بھگتی، افغانستان پچھلے35 برسوں سے لاشیں اٹھا رہا ہے،جبکہ افریقہ کے ملکوں نائیجیریا، لائبیریا، سیرالیون، صومالیہ، یوگنڈا، گنی اور سوڈان میں جنگ نے قحط کو جنم دیا، اور یہ قحط افریقہ کے ہر شخص کی آنکھ میں لکھا ہے، آپ انکی آنکھوں سے پوچھ لیں، جنک کیا ہوتی ہے؟ یہ آپکو بتائیں گے انسان جب اپنے والد، اپنے بچے اور اپنی بیوی کا گوشت ابال کر کھانے پر مجبور ہوجاتا ہے یا اپنے لختِ جگر کو زخموں سے رہائ دلانے کے لۓ گولی مارتا ہے، اسکا دل اسکی روح کہاں کہاں سےزخمی ہوتی ہے، یہ آپ کو بتائیں گے۔

ہم برصغیر کے پاک و ہند کے لوگوں نے اصلی اور مکمل جنگ نہیں دیکھی، ہندوستان کی تمام جنگیں محدود تھیں، ہم ہر پنجابی سنٹرل ایشیا کے حملہ آور کا اٹک کے پُل پر استقبال کرتے تھے، اسے ہار پہناتے، سپاہیوں کو خوراک اور گھوڑوں کو چارہ دیتے اور سیدھا پانی پت چھوڑ کر آتے“ یہ ہماری تاریخ تھی، تاریخ نے پلٹا کھایا اور انگریز پانی پت سے لاہور آگیا، ہم نے اسے بھی ہار پہناۓ، اور سیدھا جلال آباد چھوڑ کر آگۓ، انگریز باقی زندگی افغاںوں سے لڑتے رہے اور ہم انکے سہولت کار بنے رہے,
ہم 1857 کی جنگِ آزادی کو ہندوستان کی عظیم جنگ سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ دہلی سے 75 کلومیڑ کے فاصلے میرٹھ پر شروع ہوئ اور دہلی پہنچ کر ختم ہوگئ تھی، یہ پوری جنگ دہلی کے مضافات میں لڑی گئ، اور پنجاب، سندھ، ڈھاکہ، ممبئ کے لوگوں کو خبر اس وقت ہوئ جب ملبہ سمیٹا جا چکا تھا، اور بہادر شاہ ظفر رنگون میں ” کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں” لکھ رہا تھا، ہم اگر 1965 اور 71 کا بھی تجزیہ کریں تو یہ جنگیں کم اور جھڑپیں ذیادہ محسوس ہونگی۔

1965 کی جنگ 6 ستمبر کو شروع ہوئ اور 23 ستمبر کو ختم ہوگئ، پاک و ہند کے لوگ 17 دن کی اس مڈ بھیڑ کو جنگ کہتے ہیں، یہ دونوں ملک ہر سال اسکی سالگرہ مناتے ہیں، 65 کی جنگ میں 4 ہزار پاکستانی اور 3 ہزار بھارتی ہلاگ ہوۓ تھے، یہ جنگ بھی کشمیر اور پنجاب کے بارڈر تک محدود رہی تھی، عوام کو صرف ریڈیو پر جنگ کی اطلاع ملی،

1971 کی جنگ 3دسمبر کو شروع ہوئ اور 16 دسمبر کو ختم ہوگئ، اس جنگ میں 9 ہزار پاکستانی شہید ہوۓ اور26ہزاربنگالی ہلاک ہوۓ،

آپ کبھی ٹھنڈے ذہن کے ساتھ 13 اور 17 دن کی ان جنگوں کو یورپ کی 4 اور 6 سال لمبی جنگوں کے اور ان تین، چار ہزار ، اور 9 ہزار، 26 ہزار لاشوں کو یورپ کی ساڑھے چار کروڑ اور سات کروڑ لاشوں کے سامنے رکھ کر دیکھیں، آپ لاہور اور ڈھاکہ پر حملے کو دیکھیں، آپ 1965 کے پٹھان کوٹ اور چونڈا کے حملے کو دیکھیں پھر ہیروشیما، ناگاساکی، پرل ہاربر، نارمنڈی، ایمسٹرڈیم، برسلز، پیرس، لندن، وارسا، پولینڈ، برلن اور ماسکو پر حملے کو دیکھیں، اور پھر اپنے آپ سے پوچھیں جنگ کیا ہوتی ہے؟ آپکے جسم کا ایک خلیہ آپکو جنگ کی ماہیت بتاۓ گا،

ہم دونوں ملک جنگ سے ناواقف ہیں، ہم جانتے ہی نہیں کہ جنگ کیا ہوتی ہے، ہم ہر سال، چھ مہینے بعد ہم ایٹم بم نکال کر دھوپ میں بیٹھ جاتے ہیں، بھارت میں چڑی بھی مر جاۓ تو الزام پاکیستان پر تھوپ دیتا ہے، ایل او سی پر معصوم شہریوں، ہند یا کشمیر میں مسلمانوں پر تشدد شروع کردیا جاتا ہے اور ہم ہر معمولی واقعات پر یہ کہہ کر ٹھنڈے ہوجاتے ہیں کہ ہم نے یہ مواد ایٹم بم “شبِ برات” پر چلانے کیلۓ نہیں بناۓ، ایٹم بم کیا ہے، اور جب یہ پھٹتا ہےتو کیا ہوتا ہے؟ ہیروشیما اور ناگاساکی کے مکینوں سے پوچھیں،

میں بعض اوقات سوچتا ہوں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بڑی جنگ ہونی چاہۓ، جی بھر کر جنگی ارمان پورے کرلیں، یہ اپنے سارے ایٹم بم چلالیں تاکہ ایک بار برصغیر کے 110شہروں کو موہن جوڈارو بناکر دیکھ لیں، یہ خیر پور سے گوا تک پانچ ، دس کروڑ لاشیں بھی دیکھ لیں، یہ عوام کو دوا اور خوراک کے بغیر بلکتا بھی دیکھ لیں، یہ زندگی کو ایک بار پھر بجلی، پانی، سڑک ، سکول اور ہسپتال کے بغیر دیکھ لیں۔ یہ پچاس سال تک معذور بچے پیدا ہوتے بھی دیکھ لیں، یہ تب جنگ کو سمجھیں گے، یہ جاپان اور یورپ کے لوگوں کی طرح جنگ کا نام نہیں لیں گے، یہ اس وقت یورپ کی طرح اپنی سرحدیں کھولیں گے اور بھائ بھائ بن کر زندگی گزاریں گے، راوی اسکے بعد چین ہی چین لکھے گا ، یہ ہیروشیما اور وارسا بننے تک جنگ جنگ کرتے رہیں گے

How to apply for Ireland government scholarship 2026
05/03/2026

How to apply for Ireland government scholarship 2026

apply methods

ایک بہت بڑی ج*گ کی خبر دی جا چکی ہے جس کا نام آرمگڈون ہوگا اور یہ ایسی جنگ ہوگی جسکی لپیٹ میں پورا ایشیا اور یورپ آجائے ...
04/03/2026

ایک بہت بڑی ج*گ کی خبر دی جا چکی ہے جس کا نام آرمگڈون ہوگا اور یہ ایسی جنگ ہوگی جسکی لپیٹ میں پورا ایشیا اور یورپ آجائے گا اس کا مرکز آج وہی ملک سامنے آرہے ہیں جس کے بارے میں بتایا گیا ہے مسلمانوں کا بہت بڑا نقصان ہوگا اور کہا گیا ہے کہ ایک پرندہ جو زمین پر بیٹھنا چاہے گا مگر اُسے جگہ نہیں ملے گی اور وہ تھک ہار کر ایک جسم پر گِر جائے گا ۔۔
اس کی تیاری یہود بھی کر رہے ہیں اور کچھ عرب ملک بھی جو اس وقت حالت ج*گ میں ہیں کیا پاکستان اس وقت کے لیے تیار

🌍⚠️ اگر اگلا ٹرمینیٹر روبوٹ نہیں… انسان خود ہوا تو؟رات کے تین بجے تھے۔ایک بچہ اپنے موبائل پر جنگ کی خبریں دیکھ رہا تھا۔آ...
01/03/2026

🌍⚠️ اگر اگلا ٹرمینیٹر روبوٹ نہیں… انسان خود ہوا تو؟

رات کے تین بجے تھے۔

ایک بچہ اپنے موبائل پر جنگ کی خبریں دیکھ رہا تھا۔
آسمان میں میزائل جا رہے تھے۔
ٹی وی چینلز پر لیڈرز ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہے تھے۔

کسی نے کہا حملہ ہو گیا۔
کسی نے کہا جواب آئے گا۔
کسی نے کہا یہ صرف شروعات ہے۔

اس بچے نے اپنے والد سے پوچھا:

“ابو… کیا ورلڈ وار شروع ہو گئی ہے؟”

والد خاموش ہو گئے۔

کیونکہ سچ یہ تھا…
دنیا خطرناک حد تک اس کے قریب کھڑی ہے۔



کبھی ہم فلم Terminator دیکھ کر ڈرتے تھے کہ مشینیں انسانیت کو ختم کر دیں گی۔

لیکن آج عجیب حقیقت سامنے کھڑی ہے۔

مشینیں ابھی آئی بھی نہیں…
اور انسان خود مشینوں کی طرح فیصلے کرنے لگے ہیں۔

ایک بٹن دبایا جاتا ہے۔
ایک میزائل چلتا ہے۔
ہزاروں لوگ مر جاتے ہیں۔

دوسرا ملک جواب دیتا ہے۔

پھر تیسرا۔

پھر اتحاد بنتے ہیں۔

اور دنیا آہستہ آہستہ جنگ کی آگ میں داخل ہو جاتی ہے۔

کوئی روبوٹ نہیں۔
کوئی Skynet نہیں۔

صرف انسان…
جن کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں۔



تصور کریں۔

واشنگٹن میں ایک فیصلہ۔
تل ابیب میں ایک ردعمل۔
تہران میں ایک اعلان۔

اور چند مہینوں کے اندر:

▪️ تیل بند
▪️ معیشتیں گر گئیں
▪️ انٹرنیٹ متاثر
▪️ ممالک ایک دوسرے کے خلاف

پھر غلطی سے ایک بڑا حملہ۔

اور تاریخ گواہ ہے…

جنگیں اکثر منصوبہ بندی سے نہیں،
غلط اندازوں سے شروع ہوتی ہیں۔



اس کہانی میں سب سے خوفناک بات کیا ہے؟

جو لوگ جنگ کا اعلان کرتے ہیں…
وہ مورچوں میں نہیں مرتے۔

مرتا کون ہے؟

ایک سپاہی جو گھر واپس جانا چاہتا تھا۔
ایک ماں جو اپنے بچے کو اسکول بھیج رہی تھی۔
ایک بچہ جو صرف ویڈیو گیم کھیل رہا تھا۔



سوچئے…

اگر یہی لیڈر جن کے بیانات دنیا ہلا دیتے ہیں،
اگر یہی لوگ روزانہ سوشل میڈیا پر LIVE آ جائیں۔

Facebook پر۔
YouTube پر۔
X (Twitter) پر۔

اور پوری دنیا کے سامنے بات کریں۔

بحث کریں۔

دلائل دیں۔

سوالات لیں۔

جس طرح دنیا کے سامنے میزائل دکھائے جاتے ہیں…
اسی طرح دنیا کے سامنے مذاکرات کیوں نہیں؟

بم چند منٹ میں شہر ختم کر دیتا ہے۔

لیکن ایک گفتگو…
لاکھوں زندگیاں بچا سکتی ہے۔



شاید مستقبل کی سب سے بڑی طاقت ہتھیار نہیں ہوگی۔

بلکہ اوپن ڈائیلاگ ہوگا۔

Imagine کریں…

دنیا کے کروڑوں لوگ LIVE دیکھ رہے ہوں۔

امریکہ کا لیڈر۔
مشرق وسطیٰ کے لیڈر۔
ایران کے نمائندے۔

ایک میز پر۔

کوئی خفیہ کمرہ نہیں۔

کوئی بند دروازہ نہیں۔

صرف انسانیت گواہ۔



کیونکہ اگر ہم نے ego کو نہیں روکا…

تو اگلا Judgment Day ایٹمی دھماکے سے نہیں،
بلکہ مسلسل فیصلوں سے آئے گا۔

شاید چند گھنٹوں میں نہیں…

لیکن چند مہینوں میں انسان خود اپنی دنیا کو جلا سکتا ہے۔



آج ضرورت حکومتوں سے زیادہ شہریوں کی ہے۔

اگر دنیا کے لوگ مطالبہ کریں:

“جنگ نہیں — عوام کے سامنے بات کرو”

تو شاید تاریخ بدل سکتی ہے۔

Share کریں۔
بات کریں۔
سوال پوچھیں۔

کیونکہ خاموش قومیں اکثر جنگوں کی قیمت ادا کرتی ہیں۔

اور بولنے والی قومیں مستقبل بچا لیتی ہیں۔

🌎 انسان مشین نہ بنے…
اس سے پہلے ہمیں انسان بننا ہوگا۔

Dr Mehboob alam
:::

01/03/2026

🌍 عالمی جنگ سوم میں شرکت کے زیادہ امکان رکھنے والے ممالک
Countries Most Likely to Be Involved in World War 3
(موجودہ عالمی کشیدگی اور جغرافیائی سیاست کی بنیاد پر ممکنہ تجزیہ)

🔥 High Chance (زیادہ امکان رکھنے والے ممالک)

🇺🇸 United States — زیادہ امکان
🇷🇺 Russia — زیادہ امکان
🇨🇳 China — زیادہ امکان
🇮🇷 Iran — زیادہ امکان
🇮🇱 Israel — زیادہ امکان
🇵🇰 Pakistan — زیادہ امکان
🇮🇳 India — زیادہ امکان
🇰🇵 North Korea — زیادہ امکان
🇺🇦 Ukraine — زیادہ امکان
🇸🇾 Syria — زیادہ امکان
🇮🇶 Iraq — زیادہ امکان
🇱🇧 Lebanon — زیادہ امکان
🇾🇪 Yemen — زیادہ امکان
🇸🇩 Sudan — زیادہ امکان
🇸🇴 Somalia — زیادہ امکان
🇱🇾 Libya — زیادہ امکان
🇦🇫 Afghanistan — زیادہ امکان
🇲🇲 Myanmar — زیادہ امکان
🇨🇩 DR Congo — زیادہ امکان
🇳🇪 Niger — زیادہ امکان
🇲🇱 Mali — زیادہ امکان
🇧🇫 Burkina Faso — زیادہ امکان
🇳🇬 Nigeria — زیادہ امکان

⚠️ Medium Chance (درمیانہ امکان رکھنے والے ممالک)

🇹🇷 Turkey — درمیانہ امکان
🇩🇪 Germany — درمیانہ امکان
🇬🇧 United Kingdom — درمیانہ امکان
🇫🇷 France — درمیانہ امکان
🇵🇱 Poland — درمیانہ امکان
🇸🇦 Saudi Arabia — درمیانہ امکان
🇪🇬 Egypt — درمیانہ امکان
🇰🇷 South Korea — درمیانہ امکان
🇯🇵 Japan — درمیانہ امکان
🇵🇭 Philippines — درمیانہ امکان
🇧🇩 Bangladesh — درمیانہ امکان
🇮🇩 Indonesia — درمیانہ امکان
🇪🇹 Ethiopia — درمیانہ امکان
🇰🇪 Kenya — درمیانہ امکان
🇲🇦 Morocco — درمیانہ امکان
🇲🇽 Mexico — درمیانہ امکان
🇨🇴 Colombia — درمیانہ امکان
🇳🇵 Nepal — درمیانہ امکان

🟦 Very Low Chance (بہت کم امکان رکھنے والے ممالک)

🇳🇿 New Zealand — بہت کم امکان
🇸🇬 Singapore — بہت کم امکان
🇲🇳 Mongolia — بہت کم امکان
🇺🇾 Uruguay — بہت کم امکان
🇺🇿 Uzbekistan — بہت کم امکان
🇹🇲 Turkmenistan — بہت کم امکان
🇱🇦 Laos — بہت کم امکان
🇲🇺 Mauritius — بہت کم امکان
🇲🇪 Montenegro — بہت کم امکان
🇦🇲 Armenia — بہت کم امکان
🇦🇿 Azerbaijan — بہت کم امکان
🇭🇰 Hong Kong — بہت کم امکان

📌 وضاحت
یہ درجہ بندی موجودہ عالمی سیاسی ماحول، عسکری اتحادوں، علاقائی تنازعات، اور بڑی طاقتوں کے باہمی تعلقات کو مدِنظر رکھ کر ایک تجزیاتی انداز میں ترتیب دی گئی ہے۔

یہ کسی بھی قسم کی حتمی پیشگوئی نہیں بلکہ ایک خطرے کا اندازہ ہے جو وقت اور حالات کے مطابق بدل سکتا ہے۔
Source: World Population Review

28/02/2026

اسرائیل اور امریکہ نے حملہ ایران پہ کیا ہے اور شہباز شریف عرب ممالک کیساتھ کھڑا ہونے کے اعلان کر رہا ہے

28/02/2026

ٹرمپو دادا کا کبھی اعتبار نہ کرنا
ایران حملے کامیاب ہونے کی صورت میں اسرائیل امریکہ بھارت کی پسندیدہ رجیم برسر اقتدار آئے گی

28/02/2026

اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا

26/02/2026

امریکہ ایران پاکستان
اس وقت معتبر ذرائع کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اپنی 50 فیصد جنگی طاقت مشرق وسطی میں لا چکا ہے
اور امریکی تجزیہ نگاروں کے مطابق اتنی طاقت جمع کرکے بنا لڑے واپسی کسی بھی طرح سے ممکن نہیں
مطلب صاف ہے امریکہ جنگ کرے گا
کب جب وہ محسوس کرے گا کہ وہ جیت جائے گا
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل پہنچ چکے ہیں اور وہاں میزائلوں کی جدید ٹیکنالوجی کی ڈیلز کررہا ہے
وہ بھی اسرائیل کی مرضی سے
مختلف ذرائع سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ اس وقت اسرائیل کی فل خواہش ہے کہ وہ گریٹر اسرائیل بنا لے اور اسکی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ایران اور پاکستان
تو اب ایران کیساتھ جنگ کرے گا امریکہ اور اسرائیل اور پاکستان کو دونوں جانب سے افغانستان اور بھارت ٹو فرنٹ وار میں الجھایا جائے گا
اگر ایران لیٹا تو ساتھ اللہ نے کرے پاکستان کو بھی لیٹانے کی کوشش ہوگی
اور اندر سے بھی دہشت گردوں کے ذریعے افراتفری پھیلانی جائے گی
حکومت اس وقت ہر ممکن ملک سے بھیک مانگنے میں مصروف ہے لیکن اسے کوئ ملک بھیک دینے کو تیار نہیں ہے
کیونکہ وہ جانتے ہیں یہ بھکاری سدھرنے والے نہیں ہیں
میڈیا اور دیگر ادارے عمران خان اور پی ٹی آئ کو دبانے میں مصروف ہیں ۔
آئ ایم ایف کے دباؤ پر آئے روز بجلی گیس پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کی جارہی ہیں
عوام مہنگائ میں پس رہی ہے
ٹیکسٹائل انڈسٹری اور پاور لومز بند ہورہی ہیں
لوگ بیروزگار ہورہے
لوٹ مار کا بازار گرم ہے
ملک عزیز میں خودکش دھماکے شروع ہوگئے ہیں
ماہ رمضان میں ہر جگہ افطار ڈنر کی تقریب ہورہی ہے جہاں غریب برائے نام اور شہر کے معروف مسٹندے روٹی فلٹر دبا کے مال پی رہے ہیں
شریف النفس لوگ شرم کے مارے وہاں جاتے نہیں
اربوں کھربوں روپے کے پروٹوکول جہاز خریدے جارہے ہیں
اور پٹواری متھن چکروتی کیطرح سائیکل کے پیچھے بیٹھ کر ہر جنگ جیت رہے ہیں۔۔
یہ تھیں اب تک کی خبریں 🧐

فالوؤ اور شیئر کیجئے 👍

25/02/2026

روم: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی اٹلی کے ہم منصب میٹیو پینٹے ڈوسی سے ملاقات

ملاقات میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان داخلی سکیورٹی تعلقات اور غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کیلئے اقدامات کا جائزہ

لیگل مائیگریشن کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی سکلڈ لیبر فورس کے لئے10500 ورک ویزے جاری کئے جائیں گے۔ اطالوی وزیر داخلہ

وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطالبے پر پاکستانی ڈپلومیٹک پاسپورٹ رکھنے والوں کو اٹلی کے ویزہ سے استثنیٰ ہو گا۔ اطالوی وزیر داخلہ

آپ نے کچھ عرصہ قبل ہونے والی ملاقات میں ڈپلومیٹک پاسپورٹ پر ویزے سے استثنیٰ کی بات کی تھی۔ اطالوی وزیر داخلہ

ملاقات میں انسداد منشیات و انسانی سمگلنگ اور دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مؤثر بنانے پر تبادلہ خیال

دونوں وزرائے داخلہ نے غیر قانونی امیگریشن و انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے اقدامات کو سراہا

وزیر داخلہ محسن نقوی نے غیرقانونی امیگریشن کی روک تھام کیلئے حکومت پاکستان کے موثر اقدامات سے آگاہ کیا

ائرپورٹس اور سمندری سرحدوں پر کڑی نگرانی سے غیرقانونی امیگریشن میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ محسن نقوی

اطالوی وزیر داخلہ نے غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کیلئے پاکستانی وزارت داخلہ کی موثر پالیسی کی تعریف کی

غیر قانونی امیگریشن۔انسانی سمگلنگ اور منشیات کی روک تھام کیلئے پاکستانی اداروں کی کامیابیاں قابل تحسین ہیں۔ اطالوی وزیر داخلہ

لیگل مائیگریشن کے فروغ کیلئے باہمی تعاون بڑھائیں گے۔ اطالوی وزیر داخلہ

پاکستان کے ساتھ مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کیلئے تیار ہیں۔ اطالوی وزیر داخلہ

ملاقات میں پنجاب پولیس کے افسران نے پولیس خدمت مراکز گلوبل کی افادیت بارے بریف کیا جسے بہت زیادہ سراہا گیا

اٹلی میں پاکستان کے سفیر علی جاوید ۔ ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور۔ ایم ڈی پنجاب سیف سٹی اتھارٹی احسن یونس۔ سینئر پولیس آفیسرز عابد خان اور سہیل چوہدری بھی اس موقع پر موجود تھے
Mohsin Naqvi Ministry of Information and Broadcasting, Pakistan Government of Pakistan Associated Press of Pakistan Federal Investigation Agency - FIA NADRA Directorate General Immigration & Passports

Address

Karak
Karak
27200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Mehboob alam official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share