30/04/2026
18+
خبردار یہ پوسٹ بچوں کے لیے نہیں ہے
یہ صرف بالغان کے لیے ہے
یہ جو آئے روز وحشت ناک خبریں آرہی ہیں کہ
مرد نے دوسری شادی کے لیے بیوی مروا دی
تو کبھی یہ کہ بچے مار دیے
کبھی بیوی مرد کو قتل کروارہی ہے
تو کبھی اپنے بچے مار رہی ہے
کبھی سوچا کہ یہ بربادی کیوں بڑھتی جارہی ہے ؟
وجوہات کیا ہیں ؟
اگرچہ اس کی ان گنت وجوہات گنوائی جا سکتی ہیں جن میں سب سے بڑا کردار سوشل میڈیا کا ہے ۔ کچھ ایپس جن سے لڑکیوں کی لڑکوں سے اور لڑکوں کی لڑکیوں تک رابطہ کاری آسان ہوگئی اور دیگر بہت کچھ جسے آپ اچھی طرح جانتے ہیں
میں بطور معالج کسی اور پہلو کو سامنے لانا چاہتا ہوں
جس طرح ہماری کچھ جسمانی ضروریات ہیں جیسا کہ روٹی کپڑے اور دیگر سب ۔اسی طرح جنسی ضروریات ہیں ۔ اور ہم ان دوضرورتوں کو ہی سمجھتے ہیں اور ان تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں
ایک تیسری لیکن بڑی ہی اہم ضرورت کا یا تو ہمیں شعور نہیں یا ہم جانتے بوجھتے اسے نظر انداز کردیتے ہیں
وہ ہے جذباتی لگاو ۔کیئر ۔ احساس ۔
ہر انسان کو کوئی ایسا شخص چاہیے ہوتا ہے جو اس کو اہمیت دے اس کی بات سنے اسے توجہ دے ۔ مانا کہ اس مالی بدحالی کے دور میں یہ ذرا مشکل ہو رہا ہے لیکن جس طرح ہم مالی بہتری کے لیے سٹرگل کرتے ہیں ہمیں اس کے لیے بھی سٹرگل کرناہوگی ۔ آپ بیوی ہیں یا شوہر ہیں باپ ہیں ماں ہیں بھائی ہیں بہن ہیں
اپنے رشتوں کی کیئر کیجیے
میں آج بات کررہا ہوں میاں بیوی کی میاں اور بیوی کو اس بات پر توجہ دینا ہوگی کہ اپنے پارٹنر کو محبت کا اپنائیت کا احساس دیں ۔ اس کی بات سنیں ۔ صرف پیٹ اور جنس کے معاملے کافی نہیں ہیں ۔
اگر بیوی باہر کسی مرد کی جانب راغب ہے یا مرد کسی اور عورت کی جانب راغب ہے تو سوال یہ ہے کہ اس دوسرے کے پاس ایسا کیا ایکسٹرا ہے جو اس کے پاس نہیں ہے ؟
صرف توجہ ( خواہ گھیرنے کے لیے جھوٹی ہی ہو ) میٹھی باتیں ۔ دل کی بات سن لینا ۔ اسے یہ احساس دینا کہ مجھے تمہاری بڑی پرواہ ہے ۔
تو یہی کام آپ خود اپنے پارٹنر کے لیے کیوں نہیں کررہے ؟ کہنے کو یوں تو جیون ساتھی ہیں لیکن ساتھی کو جذباتی سہارے کی ضرورت باہر کیوں پڑ رہی ہے ؟
کرنا کیا ہے ؟
کوئی پہاڑ نہیں توڑنا بس تھوڑی توجہ بڑھانی ہے
بیوی کچن میں کام کررہی ہے آپ کچن میں گئے ہلکا سا پیار والا ٹچ کردیا خواہ ہاتھ ہی نرمی سے تھام لیا کوئی دل آویز سا جملہ کوئی ستائش ۔ یہ چھوٹے چھوٹے کام آپ کا آپس میں مضبوط بانڈ بناتے ہیں ۔
آپ بیوی ہیں شوہر کی شرٹ کا بٹن خود بند کردیں اور اتنے قریب ہونے کا فائدہ اٹھائیے آنکھوں سے مسکراہٹ سے کوئی ادا دیکھا کر دل میں اتر جائیے
باہر کی عورت کے پاس بھی وہی جسم ہے جوآپ کے پاس ہے
تو اس کے پاس ایکسٹرا کیا ہے ؟
جو کشش رکھتا ہے ؟
ادائیں ۔۔۔۔۔
آپ کا تو جائز حق ہے ۔
میرے ایک بزرگ ہیں ان کا کہنا ہے کہ شوہر کو صبح اس طرح گھر سے بھیجو کہ وہ سارا دن آپ کی یاد کے نشے میں رہے ۔ تھوڑے کو بہت جانیے بات سمجھ آرہی ہے ناں شوہر آپ کا ہے اگر آپ اسے اپنی اداؤں کے جال میں نہیں رکھ سکتیں تو کوئی اور رکھے گی ۔
ہمارا مسلہ یہ ہے کہ ہم اپنے شادی شدہ بچوں کو سپیس نہیں دیتے ہم نے بیٹوں کو عجیب تربیت دی گئی ہے کہ بیوی سے دوستی والا سین نہیں بلکہ رعب دبدبے والا رکھو
میاں صاحب سے بات کرتے بیوی کو دس بار سوچنا پڑے ؟ یہ مناسب رویہ ہے ؟
یقین کریں آپ بیوی کولینڈ کروزر میں گھماتے پھریں آپ کا رویہ درست نہیں تو زندگی کی گاڑی درست نہیں چلے گی ۔ یہ ٹھیک ہے کہ آج کے دور میں پیسہ بھی بہت ضروری فیکٹر ہے میں اس کی نفی نہیں کر رہا ۔ میرا کہنا صرف یہ ہے کہ پیسے اورجنسی تعلق کے ساتھ ساتھ جذباتی تسکین بہت ضروری ہے ۔آپ شادی سے قبل یا بعد میں کسی گرل فرینڈ سے فون پر گھنٹوں گپ کرلیتے ہیں ؟ کیا وہاں امریکہ اور ایران کے تعلقات ڈسکس کرتے ہیں یا کوانٹم فزکس کی پیچیدہ گتھیاں سلجھاتے ہیں ؟
نہیں .....؟
بس ادھر ادھر کی دوستانہ گپیں ناں ؟ وہی سب کچھ بیوی سے کیوں نہیں ؟
اپنے گھروں کو بچائیے ۔
اگر آپ کے بچے بڑے ہورہے ہیں تو آج ہی سوچ لجیئے کہ انہیں پوری سپیس دینی ہے ۔ ان کا گھر بسانے میں مدد کرنی ہے ناکہ مشکلات کھڑی کرنی ہیں ۔
اللہ کرے کہ یہ تحریر کسی کے کام آسکے کوئی ایک فرد بھی اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لے آیا تو میں سمجھوں گا بطور معالج میں نے اپنا فرض پورا کردیا
اللہ۔کریم آپ کے لیے آسانیاں فرمائے ۔آمین
حکیم محبوب الہٰی