Tariq

Tariq dr of Medicine 💊

08/11/2024
اگر آپ Type 2 ڈائیبیٹک  ہو چکے ہیں اور ادویات اور انسولین لینے کے باوجود 350 سے کم شوگر نہیں آ رہی، کیونکہ آپ صبح دوپہر ...
07/11/2024

اگر آپ Type 2 ڈائیبیٹک ہو چکے ہیں اور ادویات اور انسولین لینے کے باوجود 350 سے کم شوگر نہیں آ رہی، کیونکہ آپ صبح دوپہر شام گندم کی روٹیاں کھا رہے ہیں۔ لیکن آپ کا ڈاکٹر کے آگے دعوی صرف یہ ہے کہ میں میٹھا نہیں کھا رہا۔۔تو یہ بے فضول ہے۔۔اصل شوگر تو آپ کی گندم کی روٹی ، چاول اور آلو بڑھا رہے ہیں۔

اس کی بجائے آپ صبح ناشتے میں جو white oats کا دلیہ کھائیں۔ اور دوپہر کو یہ تصویر میں نظر آ رہا ایک meal ہے۔ اس کو آپ سلاد نا بولیں۔ اس کے اجزاء، ابلا ہوا راجمہ(لال لوبیا)، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، زیتون، حزب ذائقہ نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس ، یہ سب ملا کر آپ دوپہر کے لنچ کے طور ایک پلیٹ پیٹ بھر کے کھائیں۔

آپ لال لوبیے کی جگہ، سفید ابلے چنے، یا کالے چنے، سفید یا براون لوبیا ابال کر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس میں آپ کو plant based پروٹین ، کمپلیکس کاربوہائیڈریٹس کے ساتھ بہترین antioxidant اور وٹامنز کے ساتھ محفوظ انرجی ملے گی۔

رات کو آپ ملٹی گرین آٹے کی 100 گرام کی پکی چپاتی کے ساتھ کوئی بھی ایسا سالن کھا سکتے ہیں جس میں آلو نا ہوں۔ چاول بھی آپ لے سکتے ہیں لیکن پکے ہوئے صرف 120 گرام۔

اس کے ساتھ سالن یا سلاد کی مقدار زیادہ رکھ لیں ، تا کہ پیٹ بھر جائے۔ رات کا یہ کھانا سونے سے کم از کم تین گھنٹے پہلے کھا لیں۔ اور کھانے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد 30 سے 45 منٹ واک یا کوئی فزکل ایکٹیویٹی کریں۔

صرف دو دن میں آپ کی شوگر دھڑم سے نیچے آ گرے گی۔
آپ کو شوگر کی ادویات کم یا بالکل چھوڑنا پڑ جائیں گی۔

کیونکہ آپ کے لبلبے کے beta cells پر سے گندم کے ہیوی glycemic کا لوڈ انتہائی کم کر دیا گیا ہے۔ beta cells ریلیکس ہوتے ہیں اور دوبارہ اتنی انسولین بنانا شروع کر دیتے ہیں کہ آپ کی خوارک کو انرجی میں بدل کر آپ کے جسم میں دوبارہ پہنچنا شروع ہو جاتی ہے۔ اگر آپ ایسا دو ماہ کر لیتے ہیں تو آپ کی diabetes ریورس ہو سکتی ہے۔ آپ ایک نارمل انسان کی طرح سو فیصد تندرست ہو جائیں گے۔

پاکستان diabetes میں بد ترین پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔۔لوگ 30 سال میں ہی ڈائیبیٹک ہو رہے ہیں۔۔اور کچھ پتا نہیں کیا کھانا ہے کیا نہیں اور 50 تک جاتے جاتے امراض دل و گردوں کے عارضوں میں مبتلا ہوکر فوت ہو جاتے ہیں۔

پری میچور ڈیتھ سے ایک پورا خاندان اجڑ جاتا ہے۔
اپنے اردگرد بہت سے لوگوں کو کھانے پینے کا لائف سٹائل دیکر ان کی جانیں بچائیں ہیں۔ جو اپنے taste buds ہر سمجھوتہ نہیں کرتے تو ان کو اپنی صحت تباہ کرکے قیمت چکانی ہوتی ہے۔
باقی آپ کا جسم آپ کی مرضی۔

ہومیوپیتھک علاج۔۔

ڈائیبیٹیز کنٹرول کرنے کے لیے ہومیوپیتھک دوائیں موجود ہیں،
اور کچھ مخصوص دوائیں ہیں جو شوگر کے لیول کو بہتر کرنے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔
تاہم،
ہومیوپیتھی میں دوا کا انتخاب فرد کی مخصوص علامات، طرز زندگی، اور مجموعی حالت کے حساب سے کیا جاتا ہے۔

عام طور پر ڈائیبیٹیز کے مریضوں میں استعمال ہونے والی ہومیوپیتھک دوائیں۔

جیسے
Syzygium jambolanum,
Phosphoric acid,
Lactic acid, اور
Uranium nitricum
کا استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم، کسی بھی دوائی کا استعمال ڈاکٹر سے مشورہ کیے بغیر استعمال نہ کریں،
کیونکہ ہومیوپیتھی میں دوا کی درست خوراک اور علامات کے مطابق دوا کا تعین بہت ضروری ہے۔
اس کے ساتھ ہی، شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے مناسب غذا، باقاعدہ ورزش، اور گلیسیمک انڈیکس کم رکھنے والے کھانوں کا استعمال بھی آؤ ہومیوپیتھی سیکھتے ہیں ہومیوپیتھی کی پہچان

07/11/2024
مرگی (Epilepsy) کے علاج کے لیے ہومیوپیتھی میں مختلف دوائیں استعمال کی جاتی ہیں جو علامات کی نوعیت اور شدت پر منحصر ہوتی ...
07/11/2024

مرگی (Epilepsy) کے علاج کے لیے ہومیوپیتھی میں مختلف دوائیں استعمال کی جاتی ہیں جو علامات کی نوعیت اور شدت پر منحصر ہوتی ہیں۔ ذیل میں کچھ اہم ہومیوپیتھک دوائیں بیان کی جا رہی ہیں جو مرگی کے مختلف علامات میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

1. کیوپرم میٹ (Cuprum Metallicum):
علامات: اگر مریض کو دورہ سے پہلے چکر آتے ہیں، جھٹکے اور پٹھوں میں کھنچاؤ محسوس ہوتا ہے تو یہ دوا مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
خوراک: عام طور پر 30 یا 200 کی پوٹینسی میں دی جاتی ہے، لیکن ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔

2. کیلکیریا کارب (Calcarea Carbonica):
علامات: یہ دوا ایسے مریضوں کے لیے مفید ہے جنہیں رات کے وقت دورے آتے ہیں اور جسم میں ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔
خوراک: 30 یا 200 پوٹینسی میں استعمال کی جاتی ہے، روزانہ یا ہفتے میں دو بار، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق۔

3. سلائیشیا (Silicea):
علامات: مرگی کے مریض جنہیں سردی محسوس ہوتی ہے اور دورے کے بعد شدید تھکن ہوتی ہے، ان کے لیے یہ دوا مفید ہے۔
خوراک: 30 یا 200 کی پوٹینسی میں استعمال کریں، لیکن ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق۔

4. اوننتھے کروکاٹا (Oenanthe Crocata):
علامات: یہ دوا مرگی کے ان دوروں کے لیے موثر ہے جہاں اچانک بے ہوشی یا غشی طاری ہو جاتی ہے اور پٹھوں میں کھنچاؤ ہوتا ہے۔
خوراک: 30 یا 200 پوٹینسی میں استعمال کریں، لیکن ڈاکٹر کے مشورے سے۔

5. کامنویلا (Chamomilla):
علامات: اگر مرگی کے دورے بچے کو غصے، ضد یا چڑچڑے پن کی حالت میں آتے ہیں تو یہ دوا کارآمد ہے۔
خوراک: 6X یا 30 پوٹینسی میں دن میں دو بار دیں، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق۔

6. سیکوٹا (Cicuta Virosa):
علامات: ایسے مریض جنہیں اچانک شدید جھٹکے لگتے ہیں اور سر کو پیچھے کی طرف جھٹکا ہوتا ہے۔
خوراک: 30 یا 200 پوٹینسی میں دی جاتی ہے، لیکن ڈاکٹر کے مشورے سے۔

احتیاطی تدابیر:
تمام دواؤں کا استعمال ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی مشاورت سے کریں۔
اگر علامات میں اضافہ ہو تو فوراً دوا روک دیں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
دوائیں استعمال کرتے وقت کسی بھی قسم کا نشہ آور یا مضبوط بو والے اشیاء مثلاً کافی، چائے، یا پرفیوم سے پرہیز کریں۔

نوٹ:
ہر مریض کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں، اس لیے مرگی کے علاج میں دواؤں کا انتخاب مریض کی کیفیت اور علامات کے مطابق کیا جانا چاہیے۔
ساتھ ساتھ پروفائل کو فالو بھی کرتے جائیں۔ شکریہ 🌹

ایک پیناڈول کھانے سے گُردے کے 10 نیفرونز Damage ہوجاتے ہیں، جبکہ ایک گُردے میں 10 لاکھ Nephrons ہوتے ہیں۔اب آپ حساب لگا ...
07/11/2024

ایک پیناڈول کھانے سے گُردے کے 10 نیفرونز Damage ہوجاتے ہیں،
جبکہ ایک گُردے میں 10 لاکھ Nephrons ہوتے ہیں۔

اب آپ حساب لگا لیں کہ جب آپ روزانہ صبح دوپہر اور شام پی ناڈول Peenadol کھاتے ہیں، تو کتنے عرصے میں آپ کا گُردہ مکمل تباہ Damage ہوجائے گا؟
بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی، ایک پی ناڈول Peenadol آپ کے جگر کے سیلز کو بھی تباہ کرتی ہے،
اور مریض Hepatitis کا شکار ہوسکتا ہے۔
آج کل ہیپاٹائٹس ہونے کی ایک بہت بڑی وجہ پیراسیٹامول (پی ناڈول Peenadol ) کا بے دریغ استعمال قرار دیا جارہا ہے۔
پیناڈول حالانکہ ایک نہ Non Prescription Drug یعنی بغیر ڈاکٹری نسخہ کے خریدی اور فروخت کی جاسکتی ہے اور منیاری General Store والا بھی ایک پتا رکھ سکتا ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم لوگ اپنا علاج خود Self Medication شروع کردیں۔ خود سے دوا کھانے سے نقصان ہی نقصان ہے، فائدہ کوئی نہیں۔
اس لئے پی ناڈول Peenadol بھی ڈاکٹرکی ہدایت یا Advice کے بغیر استعمال نہ کریں۔

ہم اپنی ٹائم لائن پر روزانہ استعمال ہونے والی ایلوپیتھک ادویات کی متبادل Alternative Medicine آپ کو بتاتے رہتے ہیں۔
اور آج ہم آپ کو پی ناڈول Peenadol کی متبادل ہومیوپیتھک دوا کا نسخہ بتائیں گے۔
مگر آپ نے ہومیوپیتھک ادویات بھی اپنے شہر یا علاقے کے کسی قابل، تعلیم یافتہ، تجربہ کار، مستند اور انسانیت سے پیار کرنے والے ڈاکٹر سے مشورہ کئے بغیر ہرگز استعمال نہیں کرنی۔
ہومیوپیتھی میں پیناڈول کا متبادل یہ ہے۔
Aconite 200
Belladonna 200
Rhus tox 200

اوپر والا ہومیونسخہ،
کسی بھی بیماری کے ابتدائی حملہ یا کسی بھی قسم کا نزلہ زکام کھانسی بخار اور جسم درد جہاں آپ پی ناڈول Peenadol لینا چاہتے ہیں، استعمال کروا سکتے ہیں۔
اسی طرح ہائی بلڈپریشر کے مریض بھی کبھی کبھی سردرد، جسم درد اور سر میں تراٹے پڑنے پر پی ناڈول Peenadol کا استعمال کرتے ہیں،
وہ بھی اوپر والا نسخہ ہومیوڈاکٹرز سے پوچھ کر استعمال کرسکتے ہیں۔
پھر کبھی بارش سے بھیگ کر بندہ گھر آتا ہے تو سردی لگنا شروع ہوجاتی ہے، بخار ہوجاتا ہے، ایسی صورت میں بھی پی ناڈول کا متبادل اوپر والا ہومیونسخہ ہی ہے،
ہم نے مفاد عامہ میں 36 سالہ تجربہ کا نچوڑ آپ کو پیش کردیا ہے۔

ہومیوپیتھک طریقہ علاج اپنائیں، اور اپنے آپ کو مختلف انگریزی ادویات کے مضراثرات Side Effects سے محفوظ رکھیں۔

تحریر و تحقیق ۔
ہومیوپیتھی کے اُستاد حاجی الماس، گجرات، پاکستان.

نوٹ۔..
یہ پوسٹ صرف ہومیوپیتھک ڈاکٹرز اور طالب علموں کے علم

جندبیدستر (Castorium)   بہت مرتبہ لکھا اور ساتھ قرآنی آیات اور حوالہ جات بھی لکھے مگر دوست صرف فریش پوسٹ پڑھتے ہیں اور ب...
07/11/2024

جندبیدستر (Castorium)

بہت مرتبہ لکھا اور ساتھ قرآنی آیات اور حوالہ جات بھی لکھے مگر دوست صرف فریش پوسٹ پڑھتے ہیں اور بہت کم لوگ پیج پر مطلوبہ مضمون تلاش کرتے ہیں۔
گزارش یہ ھے کہ میں کسی طبیب کے خلاف نہیں مگر حرام چیز کے خلاف ضرور ھوں اور سچ لکھنا گناہ نہیں۔
احباب آجکل جندبیدستر اور ریگ ماہی کے سوشل میڈیا پہ چرچے ہیں مگر حقیقت یہ ھے کہ جس طرح شراب حرام ھے یہ چیزیں بھی حرام ہیں۔
جندبیدستر اور ریگ ماہی غیر مذہب طبیب آج سے لگ بھگ چار سو سال پہلے کرتے تھے اور پھر چند کتب میں بھی نسخہ جات تحریر ہیں مگر قطعی کسی مسلم طبیب نے انکا استعمال جائز نہیں لکھا اور نہ ہی طبیب جالینوس اور طبیب کبیر الدین جیسے اطباء کی تصانیف میں ان چیزوں کا ذکر ھے بلکہ ہمارے دادا پردادا بھی ان چیزوں کو حرام قرار دیتے تھے۔
بہت سے خاندانی اطباء جو اس وقت عمر کے آخری حصہ میں ہیں کئی مرتبہ ان سے بھی بات ھوئی تو انہوں نے ان چیزوں سے نفرت کا اظہار کیا۔
دراصل یہ ایک جنگلی چوہے جیسا جانور ھے جسکے خصیئے نکال کر جندبیدستر کے طور پر استعمال ھوتے ہیں اور یورپ میں شاید اور بھی بہت سے کام لیئے جاتے ہیں مگر حقیقت یہی ھے کہ یہ حرام ھے اور دوسری بات یہ جانور چونکہ پاکستان میں نہیں پایا جاتا تو شاید یہ خصیئے بھی خالص نہ ھوں۔
دوسری چیز ھے ریگ ماہی وہ ایک صحرائی چھپکلی ھے جسکو آجکل مردانہ کمزوری کے نسخہ جات میں استعمال کیا جا رہا ھے اور بلا خوف و خطر استعمال کیا جارہا ھے۔
اب انکی افادیت اور نقصان بھی بیان کرنا ضروری ھے تو کچھ چیزوں کے متعلق بتا دیتا ھوں کہ جندبیدستر کو شہوت کی غرض سے استعمال کیا جاتا ھے اور ریگ ماہی کو ٹائمنگ بڑھانے کی غرض سے استعمال کیا جاتا ھے۔
انکا نقصان یہ ھے کہ چونکہ یہ حرام ہیں تو ان سے شفاء قطعی ممکن نہیں ہاں مگر یہ شراب کی طرح وقتی خباثت اور انتشار کا سبب ضرور بنتی ہیں۔
جندبیدستر انتہائی گرم اور خشک ھے جس سے خون میں گرمی پیدا ھوتی ھے اور دل میں خشکی پیدا ھوتی ھے اور اسی وجہ سے یہ خصوصا دل اور گردوں کے لیئے انتہائی مضر ھے اور جب سوداء خشک ھو جائے تو پھر دماغی صلاحیت ختم ھونے لگتی ھے۔
جند بیدستر میں ایک کیمیائی جزو Methanol پایا جاتا ھے جسکو شراب کے مترادف مانا جاتا ھے اور یہ خون میں انتہائی کم وقت میں بہت زیادہ تیزابیت پیدا کرتا ھے کیونکہ اسکو کیمسٹری کے مطابق کیمیائی جزو مانا جاتا ھے اور اسکا استعمال انڈسٹریل سطح پہ ھوتا ھے
دوسری طرف ریگ ماہی بھی گرم اور خشک ھے لیکن یہ نظام تنفس یعنی پھیپھڑوں میں خشکی پیدا کرتی ھے ساتھ ہی جہاں یہ مادہ تولید کو گاڑھا کرتی ھے وہاں رطوبات بدنییہ کو چند دنوں میں خشک کر دیتی ھے اور انسان سانس کے امراض اور جوڑوں کے امراض میں مبتلا ھو جاتا ھے۔
اب مختصر بات کہ جو چیز حضرت آدم علیہ السلام کے وقت پیدا فرمائی گئی اور اس میں انسانیت کے لیئے خیر و برکت عطا کر دی گئی اسکا نعم البدل یہ حرام جند بیدستر کیسے ھو سکتی ھے ؟؟
یعنی کہ اگر کوئی کستوری اور جندبیدستر اور شہد اور شراب کو ایک جیسا مان لے تو پھر اسکی عقل پہ ماتم ہی بنتا ھے۔

اللہ پاک ہمیں ہدایت عطا فرمائے اور رحم فرمائے۔ آمین

جی ٹی روڈ گرینڈ ٹرنک روڈ  "جرنیلی سڑک" (جنرلوں کی سڑک) اور سڑک اعظم ('دی گرینڈ روڈ')   گرینڈ ٹرنک روڈ، ایشیا کی قدیم تری...
07/11/2024

جی ٹی روڈ

گرینڈ ٹرنک روڈ "جرنیلی سڑک" (جنرلوں کی سڑک) اور سڑک اعظم ('دی گرینڈ روڈ')



گرینڈ ٹرنک روڈ، ایشیا کی قدیم ترین اور لمبی سڑکوں میں سے ایک ہے۔
گرینڈ ٹرنک روڈ جنوبی ایشیا کی قدیم ترین اور طویل ترین سڑکوں میں سے ایک ہے۔ سڑک، جسے اکثر "جرنیلی سڑک" (جنرلوں کی سڑک) اور سڑک اعظم ('دی گرینڈ روڈ') کہا جاتا ہے بنگلہ دیش، ہندوستان، پاکستان کے کچھ حصوں سے گزرتی ہوئی 2,700 کلومیٹر (1,700 میل) کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ اور افغانستان.

گرینڈ ٹرنک روڈ کہاں شروع اور ختم ہوتی ہے؟
سڑک زیادہ تر پختہ ہے۔ سفر ایک ناقابل فراموش تجربہ ہے۔ یہ ایک دلکش شاہراہ ہے جو کابل سے لاہور، دہلی سے ہوتی ہوئی مغربی بنگال کے کولکتہ اور بنگلہ دیش میں چٹاگانگ تک پہنچتی ہے۔ یہ مصروف اسفالٹ سڑک اب بھی اس خطے کے ساتھ رہنے والے سماجی طبقوں کے لیے تجارت اور مواصلات کے لیے ایک اہم ربط ہے۔ 16ویں صدی عیسوی میں برصغیر پاک و ہند کے ایک حکمران شیر شاہ سوری کی تعمیر کردہ گرینڈ ٹرنک روڈ، کابل، افغانستان سے شروع ہوتی ہے۔ یہ سڑک مشہور درہ خیبر کے ذریعے پشاور کے قریب پاکستان تک جاتی ہے۔ یہ مشہور بین الاقوامی پہاڑی درہ، سطح سمندر سے 1.070m (3,510ft) کی بلندی پر، دنیا کے قدیم ترین درہوں میں سے ایک ہے، اور اسپن گھر پہاڑوں کے شمال مشرقی حصے کو کاٹ کر افغانستان اور پاکستان کو ملاتا ہے۔ اس پہاڑی درے سے آگے، گرینڈ ٹرنک روڈ ٹیکسلا کے مضافاتی علاقوں تک پہنچتی ہے، نیچے لاہور جاتی ہے اور واہگہ کے مقام پر بھارت میں داخل ہوتی ہے۔ 2500 کلومیٹر کے بعد سڑک کولکتہ پر ختم ہوتی ہے۔ آج کل یہ سڑک اب تک ان علاقوں میں سب سے مصروف، جنگلی سڑک ہے جو اب افغانستان، پاکستان اور ہندوستان کا حصہ ہیں۔

گرینڈ ٹرنک کا کیا مطلب ہے؟
گرینڈ ٹرنک روڈ (عام طور پر جی ٹی روڈ کو مخفف کیا جاتا ہے) جنوبی ایشیا کی قدیم اور طویل ترین سڑکوں میں سے ایک ہے۔ سالوں کے دوران، اس نے ایک بڑے تجارتی راستے اور حملہ آور فوجوں کے لیے ایک آسان دائیں راستے کے طور پر کام کیا ہے۔ GT کو خطرناک اونچائیوں یا سڑکوں کی مایوس کن صورتحال کی وجہ سے نہیں بلکہ ٹریفک کی بھیڑ کی وجہ سے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ آپ کو حیران نہیں ہونا چاہیے جب آپ کی کار ٹریفک جام میں پڑ جاتی ہے، جو کہ ڈرومیڈریز کی طرف سے ایک لین کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی ہے۔ ٹرکوں، بسوں، سائیکلوں، پیدل چلنے والوں اور جانوروں نے اس سڑک کے کچھ حصوں کو ایک بڑا درد سر بنا دیا ہے۔ اگر آپ یہاں گاڑی چلانے کا ارادہ کر رہے ہیں، تو آپ زیادہ سے زیادہ چوکنا رہنا چاہیں گے۔

گرینڈ ٹرنک روڈ کس نے بنایا؟
یہ ہندوستان کے قدیم ترین سڑکوں میں سے ایک ہے۔ قدیم زمانے میں، اسے اتراپاتھا، "اوپری سڑک" کے نام سے جانا جاتا تھا۔ دو ہزار سال سے زیادہ عرصے تک اس نے برصغیر پاک و ہند کو وسطی ایشیا سے جوڑا۔ اس سڑک کو 16ویں صدی میں شیر شاہ سوری نے دوبارہ تعمیر کیا تھا۔ نوآبادیاتی دور میں انگریزوں نے ایک قدیم راستے کو اپنے دائرے کی چوڑائی میں ایک شاہراہ بنا دیا۔ نوآبادیاتی ہندوستان کے برطانوی حکمرانوں کے دوران اس سڑک کا نام گرینڈ ٹرنک روڈ رکھا گیا۔ روڈیارڈ کپلنگ نے اسے 'زندگی کا دریا' کہا، لیکن جدید ڈرائیور کے لیے یہ ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ سڑک ٹرکوں اور ہلچل مچانے والی بسوں سے بھری ہوئی ہے جو ڈرائیوروں کی طرف سے چلائی جاتی ہے جس میں ان کی زندگی یا آپ کی زندگی کا زیادہ احترام نہیں ہوتا ہے۔ اور پھر سائیکل سوار، پیدل چلنے والے، سیلز مین، بیل گاڑیاں، گائے، بھینسیں..ڈاکٹر طارق محمود ڈی ایچ ایم ایس
ایم۔فل

بیوی اپنے شوہر کو پاکیزگی فراہم کرے🥀پاکیزگی کا مطلب صرف جسمانی تعلقات نہیں ہوتے، بلکہ ہر شوہر کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔...
07/11/2024

بیوی اپنے شوہر کو پاکیزگی فراہم کرے🥀

پاکیزگی کا مطلب صرف جسمانی تعلقات نہیں ہوتے، بلکہ ہر شوہر کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ شادی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بیوی اپنے شوہر کی پاکیزگی کو برقرار رکھے۔

تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم اپنے شوہر کی ان ضروریات کو پورا کرو جن کے ذریعے وہ خود کو پاک اور مطمئن رکھ سکے۔ یہ ضروری ہے کہ تم اپنے شوہر کی ضروریات کو اس کے حساب سے سمجھو، نہ کہ اپنے معیار کے مطابق۔

🔹 اگر تمہارا شوہر پاکیزگی کو جسمانی تعلقات میں محسوس کرتا ہے، تو اس کی اس ضرورت کو پورا کرو۔

🔹 اگر تمہارا شوہر محبت بھرے الفاظ اور اپنائیت میں پاکیزگی محسوس کرتا ہے، تو اس کے ساتھ محبت بھری گفتگو کرو۔

🔹 اگر وہ کھانے میں پاکیزگی محسوس کرتا ہے، تو اس کے لیے کھانے پینے میں تنوع پیدا کرو۔

🔹 اگر تمہارا شوہر صفائی میں اطمینان محسوس کرتا ہے، تو اپنے گھر کو صفائی کا نمونہ بنا دو۔

🔹 اگر وہ بچوں کی تربیت میں تسلی محسوس کرتا ہے، تو اس کی اس ضرورت کو بھی پورا کرو۔

🔹 اگر وہ اپنے حلیے اور منظر میں سکون محسوس کرتا ہے، تو اپنے لباس، بالوں، اور ظاہری حسن کا خیال رکھو۔

🔹 اگر تمہارا شوہر چاہتا ہے کہ کوئی اس سے بات کرے، تو اپنے آپ کو اس کے لیے فارغ کرو اور اس سے گھر، بچوں، اور کھانا پکانے کی باتوں سے ہٹ کر گفتگو کرو تاکہ وہ کسی اور کے پاس بات کرنے کی ضرورت محسوس نہ کرے۔

🔹 اگر تمہارا شوہر رومانوی ہے، تو اس کے ساتھ رومانوی بنو۔ اگر وہ عملی ہے، تو عملی بنو۔ اگر وہ معاشرتی ہے، تو اس کے ساتھ معاشرتی رہو۔

یاد رکھو، تم نے شادی صرف شادی کی تقریب کے لیے یا سفید لباس پہننے کے لیے نہیں کی تھی، اور نہ ہی اس لیے کہ تمہارے پاس اپنا گھر ہو اور بچے پیدا ہوں۔ شادی تمہاری ایک ذمہ داری ہے، اور تمہاری اس ذمہ داری کا مرکز تمہارا شوہر ہے۔

اگر تم یہ نہیں سمجھتی کہ شادی کا اصل مقصد کیا ہے، تو بہتر ہے کہ تم شادی نہ کرو۔

یاد رکھو، تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم اپنے شوہر کو پاکیزگی فراہم کرو، اور تمہیں اس کا اجر بھی ملے گا۔ اللہ تم سے اس بارے میں پوچھے گا کہ کیا تم نے اپنے شوہر کی پاکیزگی کا خیال رکھا۔ اگر تم اپنے شوہر کو پاکیزہ رکھو گی، تو پورا معاشرہ پاکیزگی کی راہ پر چلے گا۔

اپنے شوہر کی ضروریات کو اس کے مطابق پورا کرو، نہ کہ اپنے یا دوسروں کے حساب سے.

زندگی کے پچیس پہروں میں روح بہت سے تجربات سے گزر چکی ہے لیکن والدین کو بوڑھا ہوتے دیکھنے سے زیادہ عجیب تجربہ نہیں ہوا۔۔۔...
05/11/2024

زندگی کے پچیس پہروں میں روح بہت سے تجربات سے گزر چکی ہے لیکن والدین کو بوڑھا ہوتے دیکھنے سے زیادہ عجیب تجربہ نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔

ہم ٹین ایج میں ہوتے ہیں ، نگاہیں کتابوں پر جمی ہیں کبھی دیکھنے کا وقت ہی نہیں ملتا کہ امی ابا بالوں کی سفیدی کو ہئیر کلر میں چھپا لیتے ہیں۔

کالج میں دوستوں کی گپ شپ ، کھانے کو کچھ نیا ٹرائی کرنے کا دن ، ناول کی نئی قسط آنے کی خوشی ، مڈ ٹرم کی تیاری ۔۔۔
اس سب میں اس خیال کو جگہ ہی کہاں ملے کہ ماں کی ہڈیاں کمزور ہورہی ہیں۔

اپنی سکن کو چمکاتے چمکاتے اتنا وقت لگ جاتا ہے ، ہر نئے کاسمیٹکس کو خرید کر چیک کرنا ہے ، کپڑوں کے نت نئے ڈیزائن بنوانے کے چکر میں دکھائی ہی نہیں دیتا کہ ابا کی ایڑھیاں مکمل طور پر گِھس چکی ہیں ، اب چال میں ذرا سی تھکن اتر آئی ہے۔

جوانی شوخی پر مبنی ہے ، شوخی کا متضاد تھکیڑا ہے۔۔۔۔
دونوں مخالف سمت میں چل رہے ہوتے ہیں ، ہم جوان اور والدین بوڑھے ہورہے ہوتے ہیں۔

اور پھر علم حاصل کرکے ، خود کو ایجوکیٹ کرکے بہت سے خساروں سے بچا جاسکتا ہے۔

ہم ان کی عمریں روک نہیں سکتے ، ہم ان کے وقت کو ٹال نہیں سکتے ، ہمیں وہی کرنا ہے جس کی استطاعت ہر انسان رکھتا ہے۔

محبت ، خیال ، خلوص اور توجہ ۔۔۔۔۔۔

والدین اتنی کئیر نہیں مانگتے جتنی ہم نے مانگی تھی جب ہم پیدا ہوئے اور پلے بڑھے۔بس ذرا سا وقت اور دھیان !

راتوں کو جاگنا نہیں پڑتا ، چپ نہیں کروانا پڑتا ۔۔۔
بس جب جاگ رہے ہوں تو جاگتے رہنا پڑتا ہے۔سکرین سے نظریں ہٹا کر اس پر رونق چہرے کی جھریوں کا احترام کرنا ہوتا ہے جس چہرے کو ہمارے رب نے ہماری آنکھوں کا سب سے اول منظر بنایا۔

پڑھ لکھ رہے ہیں ، عقل و دانش کی باتیں سمجھ میں آتی ہیں ، فلسفہ ، سائنس ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس سب ڈسکس کرسکتے ہیں تو ذرا جذباتی طور پر بھی ذہین ہوجائیں۔

اپنے اندر ممتا اور شفقت بیدار کریں ، اب آپ کے حصے کی ادائیگی کا وقت ہے۔

مائیں مینو پاز سے گزر رہی ہیں ، یہ دور کیا ہوتا ہے ، اس کے مراحل اور چیلنجز کیا ہیں ۔۔۔۔ یہ بھی جانتے ہیں ؟

کمزور ہوتی ہڈیوں اور ایسٹروجن کے کم ہوجانے کا تعلق سمجھتے ہیں ؟ ماں کا جسم اب بڑی تبدیلی سے گزر رہا ہے ، یہ صرف ایک وجود نہیں پہلا گھر تھا آپ کا ۔۔۔ عقیدت کی گہرائیوں سے اس کا خیال رکھنا ہے ! اب بھی ماں سب کو پہلے کھانا دے کر آخر میں ہنڈیا کا بچا سالن کھاتی ہیں اور آپ یہ مان لیتے ہیں جب کہتی ہیں کہ بس بھوک ہی نہیں !

وقت گزر رہا ہے آپ کو کھوئے ہوئے ٹاپس کی فکر تو ہے مگر امی اب muscle mass کھو رہی ہیں ، اپنے نئے پمپل پر رنج ہے امی کی سکن سے کولیجن ختم ہورہا ہے ۔۔۔ inflammation کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔۔۔ جانکاری ہے ؟

ابا کے ٹخنوں میں اب تکلیف رہنے لگی ہے ، اکثر گھٹنے پکڑ کر بیٹھتے ہیں ، بہت بار سر درد کی شکایت کرتے ہیں تو کبھی بھوک کی شدت میں ڈانٹ سا دیتے ہیں ، پہلے تو نہ ڈانٹتے تھے۔۔۔
بلڈ پریشر تو سنا ہے بلڈ شوگر کا نظام سمجھتے ہیں ؟ آرتھرائٹس کے بارے میں معلوم ہے ؟ آپ کو ادب کی دو کتابیں پڑھنے کے بعد چہرے پڑھنا آگئے ہیں مگر یہ ابا اپنی نوکری کی ساری پریشانیاں کس الماری میں چھپا کر رکھتے ہیں ، کبھی جان سکے ہیں ؟

آپ کی فرمائشوں کے محافظوں کی آزمائشیں جانتے ہیں آپ ؟

میرے تمام ہم عمر پڑھنے والے ! ہمیں اس پر خود کو ایجوکیٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔اور اگر ہم ناواقف ہیں تو ہماری ساری ایجوکیشن اور آگاہی کا کچھ نفع نہیں ہے۔

یہ جان لیں کہ والدین کو کتنا ایکٹو رہنے اور کتنے آرام کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دونوں چیزیں ہی ضروری ہیں کہ توازن میں ہوسکیں۔
واک ، ورزش ، آرام ، بہترین غذا ۔۔۔سب لازم !
اور پھر سب سے بڑھ کر آپ کا وقت ، آپ کی مسکراہٹ ، ہشاش بشاش چہرہ اور ان کی کہانیوں کو سنتے ہوئے آپ کی نگاہوں میں خوبصورت چمک۔۔۔۔

اب امی ابو کے لاڈ اٹھایا کریں ، کبھی یونہی اور کبھی ضد سے !
آپ جس دور میں ہیں یہ لازم ہے کہ آپ کو ان کی ضروریات پر ساری انفارمیشن حاصل ہو ۔ماں باپ جیسا دوسرا کوئی اور اہم نہیں ہوتا ، انہیں کھو دیں تو زندگی شروع سے شروع کرنے جیسی ہوجاتی ہے۔

اب بچے نہیں رہے ہم ، اب یہ ہماری باری ہے کہ باپ کے سر کا تاج اور ماں کی ٹھنڈی چھاؤں بن سکیں۔

پڑھنے والی آنکھ مسکرائے

س
ڈاکٹر طارق محمود ڈی ایچ ایم ایس قصور

رســول اللہ صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:" تم پر کشمش کھانا لازم ہے کیونکہ یہصفرا ( یرقان ) کا زور توڑتی ہے ،بلغم ...
05/11/2024

رســول اللہ صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
" تم پر کشمش کھانا لازم ہے کیونکہ یہ
صفرا ( یرقان ) کا زور توڑتی ہے ،
بلغم کو ختم کرتی ہے ،
رگ کو مضبوط کرتی ہے ،
خستگی دور کرتی ہے،
حسنِ اخلاق کا سبب بنتی ہے ،
نفس کو پاکیزہ بناتی ہے اور غم دور کرتی ہے"
{ خصــال شیخ الصــدوق، باب _٧، حدیث_٧، صفحہ_١٥ }
ﺧﺸﮏ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﯾﻌﻨﯽ ﮐﺸﻤﺶ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺻﺤﺖ ﺑﺨﺶ ﺍﻧﭩﯽ ﺁﮐﺴﯿﮉﻧﭩﺲ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺗﯿﻦ ﮔﻨﺎﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔۔
ﺍﯾﮏ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺟﺎﺋﺰﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻏﺬﺍﺅﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻧﭩﯽ ﺁﮐﺴﯿﮉﻧﭩﺲ ﮐﺸﻤﺶ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔
ﺳﺮﺥ ﺍﻭﺭ ﺳﺒﺰ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﯽ ﺧﺸﮏ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﯿﻤﯿﺎﺋﯽ ﻣﺎﺩﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻋﻤﻞ ﺗﮑﺴﯿﺪ ﮐﮯ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﻦ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺗﺤﻔﻆ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺗﺎﺯﮦ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﺸﮏ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﯾﺎ ﮐﺸﻤﺶ ﻣﯿﮟ ﻏﺬﺍﺋﯿﺖ ﺑﺨﺶ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﭘﮭﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﺸﮏ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺮﮐﺒﺎﺕ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﯾﮑﺠﺎ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔
ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ 30 ﮔﺮﺍﻡ ﮐﺸﻤﺶ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ 170 ﮔﺮﺍﻡ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﮯ۔
ﺗﺎﮨﻢ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﻭﭨﺎﻣﻦ ﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺋﭩﻮ ﮐﯿﻤﯿﮑﻠﺰ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺧﺸﮏ ﻣﯿﻮﮮ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﻏﺬﺍﺋﯿﺖ ﺑﺨﺶ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﮐﺸﻤﺶ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﻮﭨﺎﺷﯿﻢ، ﻓﺎﺋﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻣﻨﺮﻟﺰ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺑﻞ ﺫﮐﺮ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺧﺸﮏ ﭘﮭﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﺮ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﺍﺭﮮ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﮐﺸﻤﺶ ﮨﻠﮑﮯ ﭘﮭﻠﮑﮯ ﻧﺎﺷﺘﮯ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ۔
ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻃﺒﯽ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻮﯾﭩﺲ ﺍﻭﺭ ﭨﺎﻓﯽ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﮐﺸﻤﺶ، ﺧﻮﺑﺎﻧﯽ، ﺁﻟﻮ ﺑﺨﺎﺭﺍ، ﻣﻨﻘﮧ، ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﻏﺒﺖ ﺩﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﮐﺸﻤﺶ ﻗﺒﺾ ﮐﺸﺎ ﮨﮯ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﻭﺯﻥ ﺑﮍﮬﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﻮﻟﯿﺴﭩﺮﻭﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ۔
ﺗﯿﺰﺍﺑﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﮔﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ۔
ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﺍﻭﺭ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﺳﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﺨﺎﺭ ﮐﻮ ﮐﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔۔
امراض سے پاک زندگی کی کنجی، قبض سے نجات، فائبر سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ کشمش میں ٹارٹارک ایسڈ بھی پایا جاتا ہے جو ہلکے جلاب جیسا اثر دکھاتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق آدھا اونس کشمش روزانہ استعمال کرنے والے افراد کا ہاضمہ دگنا تیزی سے کام کرتا ہے۔
کشمش آئرن سے بھرپور میوہ ہے، جو خون کی کمی دور کرنے کے لئے اہم ترین جز ہے۔ کشمش کو آسانی سے دلیہ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے بلکہ ویسے کھانا بھی منہ کا ذائقہ ہی بہتر کرتا ہے۔
تاہم ذیابیطس کے شکار افراد کو یہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔
کشمش بخار سے بھی تحفظ دیتا ہے کشمش میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس وائرل اور بیکٹریا سے ہونے والے انفیکشن کے نتیجے میں بخار کے عارضے کا علاج بھی فراہم کرتے ہیں۔ معدے کی تیزابیت ختم کرتا ہے۔
کشمش میں پوٹاشیم اور میگنیشم ہوتا ہے جو کہ معدے کی تیزابیت میں کمی لاتے ہیں۔
معدے میں تیزابیت کی شدت بڑھنے سے جلدی امراض، جوڑوں کے امراض، بالوں کا گرنا، امراض قلب اور کینسر تک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کشمش میں موجود اجزاء آنکھوں کو مضر فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے تحفظ دیتے ہیں،
جبکہ عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری، موتیا اور بینائی کی کمزوری سے بھی تحفظ ملتا ہے۔
اس میوے میں موجود بیٹا کیروٹین، وٹامن اے اور کیروٹین بھی بینائی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔جسمانی توانائی بڑھائے کاربوہائیڈریٹس اور قدرتی چینی کی بدولت یہ میوہ جسمانی توانائی کے لئے بھی اچھا ذریعہ ہے۔
کشمش کا استعمال وٹامنز، پروٹین اور دیگر غذائی اجزاء کو جسم میں موثر طریقے سے جذب ہونے میں بھی مدد دیتا ہے۔۔
یہی وجہ ہے کہ باڈی بلڈرز اور ایتھلیٹس کشمش کا استعمال عام کرتے ہیں۔
کشمش کا استعمال بے خوابی سے بھی نجات دلاتا ہے۔
اس میوے میں موجود آئرن بے خوابی یا نیند نہ آنے کے عارضے سے نجات دلانے میں مدد دیتا ہے جبکہ نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔۔
بلڈ پریشر آئرن، پوٹاشیم، بی وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔۔
خاص طور پر پوٹاشیم خون کی شریانوں کے تناؤ کو کم کرتا ہےاور بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر کم کرتا ہے اسی طرح قدرتی فائبر شریانوں کی اکڑن کو کم کرتا ہے جس سے بھی بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آتی ہے۔
اس میں موجود کیلشیئم ہڈیوں کی صحت کے لئے فائدہ مند ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
گردوں کی صحت کے لئے بہتر پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کی وجہ سے ان کا استعمال معمول بنانا گردوں میں پتھری کا خطرہ کم کرتا ہے۔
یقیناً اتنی خوبیاں جاننے کے بعد آپ آج سے ہی کشمش کا باقاعدگی سے استعمال شروع کر دیں گے۔Dr.Tariq mehmood

"یہ تصویر ہبل ٹیلی سکوپ سے لی گئ ہے اور یہ کوئ ریت کی تصویر نہیں ہے بلکہ یہ کہکشاں "اینڈرومیڈا" کی تصویر ہے۔ اس میں ہر ڈ...
05/11/2024

"یہ تصویر ہبل ٹیلی سکوپ سے لی گئ ہے اور یہ کوئ ریت کی تصویر نہیں ہے بلکہ یہ کہکشاں "اینڈرومیڈا" کی تصویر ہے۔ اس میں ہر ڈاٹ ایک مکمل ستارہ ہے اور ہر ایک "ستارہ" دوسرے قریبی ستارے سے کافی فاصلے پر واقع ہے۔۔ دیکھنے میں یہ نقطے یعنی ستارے اگر چہ بہت قریب قریب نظر آتے ہیں۔لیکن ان میں ہر ڈاٹ دوسرے سے اتنا دور ہے کہ ناسا کی جدید ترین ٹیکنالوجی ہر دو dots کے درمیان پایا جانے والا فاصلہ 200 سالوں میں بھی طے نہیں کرسکتی کیونکہ انکے درمیان کم سے کم "فاصلہ" 37600000000000 کلو میٹر یعنی چار نوری سال ہے۔ اینڈرومیڈا کہکشاں ہماری زمین سے 2.5 ملین نوری سال کی دوری پر واقع ہے۔ اس میں چار سو 400 بلین کے قریب ستارے موجود ہیں،، جبکہ اسکی لمبائ 260000 نوری سال ہے۔

اگر آپ لوگ سوچ رہے ہیں، کہ یہ یونیورس کی سب سے بڑی کہکشاں ہوگی، تو آپ کی یہ سوچ یقینا درست نہیں، کیونکہ یہ سب سے بڑی کہکشاں نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ یہ Alcyneus کہکشاں کے سامنے ایک ریت کی مانند ہےکیونکہ alcyneus کہکشاں اس کے مقابلے میں بہت بڑی ہے۔یقینا یہ جان کر آپ حیران ہو جائیں گے کہ alcyneus کہکشاں کی لمباٸی 16.3 ملین نوری سال ہے۔ اگر ہم ایک ایسے خلائ جہاز میں بیٹھ جائیں جو روشنی کی رفتار سے چلے یعنی ایک سیکنڈ میں زمین کے گرد سات چکر کے برابر سفر،تو alcyneus کہکشاں کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جانے کے لیے سولہ 16 ملین سال سے زیادہ کا وقت لگے گا۔

گو کہ اس "رفتار" کا حصول بھی "ناممکنات" میں سے ہے۔ کیونکہ ان کے لیے "mass" زیرو کرنا پڑے گا۔۔ فلکیات دانوں کا کہنا ہے کہ پوری کائنات Universe میں تقریبا 200 بلین سے زیادہ اس طرح کے کہکشاں موجود ہیں۔۔ چونکہ یہ تمام کے تمام ستارے ہی ہے۔ ان میں ایک بھی سیارہ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے، کہ اس پوری تصویر میں ایک بھی ایسا ڈاٹ نہیں ہے، جو زمین سے "size" میں چھوٹا یا اس کے برابر ہو بلکہ اس میں ہر ایک "ڈاٹ" زمین سے بہت ہی بڑا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ کائنات خود بخود بن گئ ہے ۔۔۔۔۔؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس کا خالق ماجود ہے اسکے بغیر یہ نظام درہم برہم ہوجائینگے کیونکہ یہ تمام ستارے حرکت میں ہیں !۔۔۔۔۔!!

سیکس اور اُداس نسلیں سِگمنڈ فرائیڈ نے کہا تھا ’’وہ جذبات جِن کا اِظہار نہ ہو پائے، کبھی بھی مرتے نہیں ہیں، وہ زِندہ دفن ...
04/11/2024

سیکس اور اُداس نسلیں
سِگمنڈ فرائیڈ نے کہا تھا ’’وہ جذبات جِن کا اِظہار نہ ہو پائے، کبھی بھی مرتے نہیں ہیں، وہ زِندہ دفن ہو جاتے ہیں، اور بعد ازاں بدصورت طریقوں سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔‘‘ آپ غالِب، میر، داغ، جِگر، جُون، پروین، وصی، اور دیگر اردو کے شُعرا کی کتابیں پڑھ لیں، اِنکا کثیر حِصہ وصل و ہجر و فراق، اَن کہے جذبات، حسرتوں، اور پچھتاووں کے موضوعات پر مُشتمل ہو گا۔ آپ گُوگل کے اعداد و شُمار کا تجزیہ بھی کر لیں، پاکستان کا شُمار اُن مُمالک میں ہوگا، جہاں فحش ویبسائیٹس دیکھنے کا رِواج سب سے زیادہ ہے۔ آپ خیبر سے کراچی تک کا سفر بھی کر لیں، عورت چاہے شٹل کاک بُرقعے میں ہی ملبُوس کیوں نہ گُزر رہی ہو، آس پاس موجود مَرد حضرات اُسے تب تک گُھورتے رہیں گے جب تک وہ گلی کا موڑ مُڑ کر نظروں سے اوجھل نہ ہو جائے۔ آپ کِسی سے بھی گُفتگو کر کے دیکھ لیں، ہر دو فقروں کے بعد ماں بہن کے جِنسی اعضا پر مُشتمل گالیاں شامِل ہوں گی۔ آپ مذہبی مُبلغین و عُلما کے بیانات بھی سُن لیں، اِن میں بہتر حُوروں کے نشیب و فراز کے سائز پر سیر حاصِل روشنی ڈالی گئی ہوگی۔ آپ پاکستان کے ڈرامے، ناول، ڈائجسٹ، فلمیں بھی دیکھ لیں، یہ عِشق معشوقی، اور لو افئیرز کے اِرد گِرد گھوم رہے ہوں گے۔ آپ ہر روز اخبار بھی پڑھ کر دیکھ لیں، کِسی ن نے م بی بی کے ساتھ یا کِسی ف نے کِسی ش بی بی کے ساتھ زیادتی بھی کی ہوئی ہوگی، ننھے بچے حتیٰ کہ قبر میں زون کی عزت بھی محفوظ نہیں مِلے گی۔ آپ کو کہیں سائینسی ڈاکومنٹری، مریخ پر زندگی، یا روبوٹس کا تذکرہ نہیں مِلے گا، کوئی نِطشہ، رسل، آئینسٹائین، یا فلسفہ پر گفتگو کرتا نہیں مِلے گا۔ آپ اندازہ کریں کہ قائداعظم پر بننے والی فِلم جِناح ایک برطانیہ کے پروڈکشن ہاوُس نے بنائی، اور صلاح الدین ایوبی پر کِنگڈم آف ہیون نامی فِلم ہالی وُڈ نے بنائی۔ ہمیں توفیق نہ ہوئی کہ کبھی قائداعظم، علامہ اقبال، یہ اپنی تاریخ پر کوئی ایسی فِلم یا ڈاکومنٹری ہی بنا لیں جو ہم فخر سے باہر کی دُنیا کو دیکھنے کیلیے پیش کر سکیں۔ ہم ہالی وُڈ کی فلموں پر تو بین لگا دیتے ہیں، مگر سٹیج ڈراموں کے نام پر مجرے اور کیا کُچھ نہ دِکھایا جاتا رہا۔ آپ اندازہ کریں کہ ہم نے صدیوں کے غوروفکر کے بعد اپنی ذریں روایات و اقدار کی بنیاد پر ایک ایسا مثالی معاشرہ تشکیل دیا ہے جہاں شادی کرنے کیلیے ایک مرد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ پہلے تعلیمی ڈگریوں کے انبار، نوکری، گھر، گاڑی، بینک بیلنس بنائے، تاکہ جب جوانی اختتام پذیر ہو، تب شادی کا سوچے، یعنی اپنی آدھی سے زیادہ عُمر کنوارا گھومتا رہے۔ لڑکیوں پر جہیز کا بوجھ الگ۔ اگر یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ جنسی تسکین ایک بُنیادی اِنسانی ضروت ہے، اور جب تک انسان کی یہ بنیادی ضروت پوری نہ ہو، انسان دیگر تخلیقی کاموں پر بھرپور توجہ نہیں دے پاتا، ذہنی خلفشار کا شکار رہتا ہے، تو ہم یہ حقیقت ماننے سے انکاری کیوں ہیں؟ ہم کب تک نیوٹن، آئینسٹائین، بِل گیٹس کے بجائے شاعر، مجنوں، رانجھا، اور غمزدہ نسلیں پیدا کرتے رہیں گے؟ ہم کب تک زندگی کے چار میں سے دو دن آرزو اور باقی کے دو دن انتظار میں گزارنے پر نوجوانوں کو مجبور کرتے رہیں گے؟ دُنیا کی کون سی سائینس، دُنیا کی کون سی نفسیات، اِس معاشرت کو درُست کہے گی؟ ہم کِس کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ہم کِس سے جھوٹ بولنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یہ کیسا نظامِ زندگی ہے جہاں بُنیادی اِنسانی ضروریات کے اظہار، اور تکمیل پر پابندی ہے، گھُٹن ہی گھُٹن ہے؟ جب سچائی اور حقیقتوں کے اظہار کے تمام دروازے بند کر دئے جائیں، تو ہوتا تو تب بھی سب کُچھ ہے، مگر مُنافقت کے پردہ میں، ہر شخص فرشتہ صفت ہونے کا دعویدار بن جاتا ہے، اور ڈھونڈنے سے بھی کہیں کوئی اِنسان دِکھائی نہیں دیتا۔ ہمیں ماننا پڑے گا کہ مُنافقت پر مبنی مُعاشرے کََسی اور سے نہیں بلکہ اپنے ساتھ جھوٹ بولنے کا بیوپار کرتے ہیں، اور خمیازہ بھی پھر خُود ہی بھُگتتے ہیں۔ منٹو بتا گیا تھا ہم ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں اپنی خواہشات کے دبانے کو بڑا ثواب تصور کیا جاتا ہے۔ فرائیڈ نے کہا تھا ’’وہ جذبات جِن کا اِظہار نہ ہو پائے، کبھی بھی مرتے نہیں ہیں، وہ زِندہ دفن ہو جاتے ہیں، اور بعد ازاں بدصورت طریقوں سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔۔۔🌿
( منقول ) ـــــــــ
ڈاکٹر طارق محمود ڈی ایچ ایم ایس قصور

Address

Hussain Khan Walla
Kasur
55051

Opening Hours

09:00 - 17:00

Telephone

+923064055821

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tariq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share