07/11/2022
یورک ایسڈ کی وجوہات اور مستقل حل کیا ہے ؟
یورک ایسڈ میں ہومیوپیتھک ادویات کی اہمیت
انسانی جسم رب کائنات نے اس خوبصورتی سے ترتیب دیا ہے کہ جسم کی فلاح کے لیے مختلف کیمیائی عوامل کارفرما ہیں لیکن جب مختلف مسائل کی بنا پر یا جب انسان قدرت کے بنائے ہوئے اصولوں کے خلاف چلتا ہے تو مختلف مسائل کا شکار ہوجاتا ہے۔ اگر آج کے موضوع پر بات کی جائے جو کہ یورک ایسڈ پر ہے تو یہ تیزابی مادہ ہر انسان میں پایا جاتا ہے اور جب یہی مادہ اعتدال میں ہوتا ہے تو جسم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے لیکن جونہی مختلف وجوہات کی وجہ سے یہ اپنی حد سے بڑھنے کی کوشش کرتا ہےتو جسم مختلف مسائل کا شکار ہوجاتا ہے۔ آج کل ہماری غذائیں انتہائی ناقص ہوچکی ہیں، جس میں گوشت، فاسٹ فوڈز،مختلف مشروبات اور کھٹی میٹھی اشیاء وغیرہ شامل ہیں جن کی وجہ سے یورک ایسڈ کا بڑھنا ایک عام سی بات ہوگئی ہے بلکہ اس سے نظام انہضام کی مختلف بیماریاں پیدا ہورہی ہیں (Metabolic disorders)۔ اس کے علاوہ کچھ ادویات بھی انسانی جسم میں بگاڑ پیدا کرکے ان مادوں کے بڑھنے کا سبب بنتی ہیں۔خواتین میں یورک ایسڈ کی مقدار 2.4 سے لے کر 6.0 تک ہونی چاہیے جبکہ مردوں میں یہ مقدار 3.4سے 7.0تک ٹھیک تصور کی جاتی ہے۔
یورک ایسڈ کیا ہے؟
یورک ایسڈ انسانی جسم میں پیدا ہونے والا ایک فضلہ ہے (Waste product)۔مختلف غذاؤں سے پیورین نامی مادہ (Purine)جسم میں پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے یورک ایسڈ جنم لیتا ہے۔یہ انسانی جسم میں اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جسم کیمیکلز کو توڑتا ہے جسے پیورینز (purines)کہتے ہیں۔اس کے بعد یورک ایسڈ دوران خون میں شامل ہوجاتا ہے اور اس کی مقدار کو اعتدال پر رکھنے کے لیے گردے اس کو پیشاب کے ذریعے جسم سے باہر نکال دیتے ہیں اور اس طرح سے جسم میں یورک ایسڈ اعتدال پر رہتا ہے۔لیکن جب انسانی جسم کے نظام (Metabolic System) یا گردے کے مسائل پیدا ہونگے تو پھر یہ مادہ جسم سے باہر نہیں نکل سکے گا اور اس طرح انسانی جسم میں اس کی مقدار بڑھ جائے گی جو کہ جوڑوں کے درد ، پتھری اور دیگر مسائل پیدا کرسکتا ہے ۔
علامات کیا ہیں؟
جوڑوں میں شدید درد اور سوجن۔
جوڑوں میں سختی۔
چلنے پھرنے میں دشواری۔
پاؤں کے انگوٹھوں میں درد اور سوجن بالخصوص بڑے انگوٹھے میں۔
بدبودار پیشاب۔
وجوہات کیا ہیں؟
اس کی وجوہات بہت ساری ہوسکتی ہیں لیکن مختلف عوامل کی وجہ سے جب گردے یوریک ایسڈ کو جسم سے باہر کرنے میں ناکام رہتے ہیں یا بہت آہستگی سے باہر نکالتے ہیں جو کہ مختلف وجوہات کی وجہ سے بھی ایسا ہوسکتا ہے یعنی موروثیت کی وجہ سے انسانی جسم کے نظام میں سستی یا بیماری،موٹاپا، ذیابیطس،غیر فعال تھائیرائیڈ(Hypothyroidism) گردوں کی بیماریاں، ادویات کے نقصانات جن میں قوت مدافعت کو دبانے والی ادویات شامل ہیں۔ یا وہ غذائیں جن میں پیورین (Purine) نامی مادے کی مقدار زیادہ پائی جائے مثال کے طور پر سمندری غذا، سرخ گوشت یا شراب نوشی وغیرہ، یورک ایسڈ کی مقدار بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔
پیچیدگیاں کیا ہوسکتی ہیں؟
جب جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جائے تو ایسی صورتحال کو (Hyperuricemia)کہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ مادہ سخت قسم کا بن جاتا ہے جسے (Crystal)کا نام دیا جاتا ہے یہ مختلف جوڑوں میں جاکر جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے اور آہستہ آہستہ جوڑوں کی بیماری کے ساتھ جوڑوں کو بے کار کردیتا ہے جسے گھٹیا (Gout)کہتے ہیں اس کے علاوہ یورک ایسڈ کی پتھریاں بھی گردے میں بن سکتی ہیں۔اگر بروقت اس معاملے کو ختم نہیں کردیا جاتا تو یہ جوڑوں یا ہڈیوں اور بافتوں کو مستقل طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے اس کے علاوہ دل اور گردے کی بیماریاں بھی پیدا کرسکتا ہے۔
تشخیص کیسے کی جاسکتی ہے؟
یورک ایسڈ نامی مادے کی پیمائش کے لیے یورک ایسڈ نامی تجزیہ (Uric acid test)کیا جاتا ہے جس میں خون کے اندر یورک ایسڈ کی مقدار جانچی جاتی ہے اور عام طور پر اسی سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ یورک ایسڈ کی مقدار کتنی ہے۔
علاج کیا ہے؟
انگریزی ادویات میں درد کُش ادویات کا سہارہ لیا جاتا ہے جس میں (NSAID's)گروپ کی ادویات سے گھٹیا کے درد کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جو لوگ (NSAID's)نامی گروپ کی ادویات استعمال نہیں کرسکتے تو (Colchicine)نامی دوا کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ درد اور گھٹیا کو روکا جاسکے۔اس کے علاوہ خون میں یورک ایسڈ کی مقدار کو کم کرنے اور پیشاب کی مقدار بڑھانے کی ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے بار بار پیشاب کی شکل میں گردوں کے ذریعے یورک ایسڈ کو جسم سے باہر نکالا جاتا ہے۔اور اگر یورک ایسڈ کی وجہ سے جوڑ بے کار ہوجائیں تو جراحی کا سہارہ لیا جاتا ہے۔ (Joint replacement)
ہومیوپیتھک ادویات کی اہمیت؟
عموماًکسی بھی معاملے میں جب کوئی مسئلہ آتا ہے یا کوئی بھی کام کسی ایک طریقے سے نہیں ہوپاتا تو ہم لوگ متبادل کی تلاش میں نکلتے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں صحت کے حوالے سے یہ رجحان بہت ہی کم پایا جاتا ہے۔ یہاں پر سرکاری سطح پر صحت کے شعبے کو اس قدر اہمیت ہی نہیں دی گئی ورنہ ہمیں مختلف متبادل علاج کا اندازہ ہوتا، اس وقت دنیا میں مختلف طریقہ علاج استعمال ہورہے ہیں لیکن اگر ہم ان تین طریقہ علاج کی بات کریں جو کہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے طریقے ہیں تو ان میں ایلوپیتھک ادویات جو کہ سرفہرست ہے اس کے علاوہ ہومیوپیتھک ادویات اور تیسرے نمبر پر ہربل ادویات استعمال ہورہی ہیں۔ اب ہونا یہ چاہیے تھا کہ ہمارے ہاں یہ آگاہی دی جاتی کہ ایلوپیتھک ادویات میں چونکہ ایمرجنسی اور سرجری کے علاوہ مستقل علاج موجود ہی نہیں تو جب کسی بھی بیماری میں یہ ادویات کارآمد ثابت نہیں ہوتی تو متبادل کے طور پر آپ دیگر طریقہ علاج سے مستفید ہوسکیں جن میں ہومیوپیتھک ادویات سرفہرست ہیں لیکن ہمارے ہاں سرکاری سطح پر ایسا کچھ نہیں بلکہ پاکستان میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت پرائیویٹ کلینکس سے علاج معالجہ لیتے ہیں۔ یورک ایسڈمیں ہومیوپیتھک ادویات بہت ہی کارآمد ثابت ہوتی ہیں اور مستقل طور پر انسانی جسم کا نظام (Metabolic system)کو ٹھیک کرکے یورک ایسڈ کی نا صرف بڑھی ہوئی مقدار کو کم کرتی ہےہیں بلکہ اس کی پیدائش، گردوں کی کارکردگی (Filtration)اور دیگر مسائل کو ختم کردیتی ہیں۔ اس کے علاوہ یورک ایسڈ کی وجہ سے بگڑے ہوئے جوڑ بھی ان ادویات سے سنبھل جاتے ہیں۔ (Urtica urens, Ledum pal, Colchicum, Lithum carb, Lycopodium, Berb Vulg)عام طور پر ان ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ بھی ادویات کا ایک گروپ مختلف وجوہات کو دیکھتے ہوئے استعمال کیا جاتا ہے۔لیکن ہمیشہ کوالیفائیڈ ہومیوفزیشن کے مشورے سے ادویات استعمال کریں۔