Disease and homeopathic treatment

Disease and homeopathic treatment homeopathic Stor

21/11/2022

پیٹ کے کیڑے خاص طور پر لمبے چنونوں کے لئے کدو کے بیج بہت مفید ہیں ان کو ابال کر چھلکا اتار لیں گری کو پیس کر کسی بھی کریم یا مکھن میں ملا کر مریض کو دیں ۔ یہ میڈیسن صبح کے وقت کھلائیں۔اس سے قبل 12 گھنٹے تک فاقہ کروائیں ۔ میڈیسن دینے کے دو گھنٹے بعد ارنڈ کا تیل تھوڑا سا دو چمچ پلائیں ۔ کیڑے ختم ہو جائیں گے ۔ اگر آپ یہ سب نہیں کرنا چاہتے تو ہومیوپیتھک میڈیسن استعمال کروائیں جس کا نام کیوکر بیٹا پیپو Cucurbita pepo ہے . اس مقصد کے لیے اس کو مدرٹنکچر میں استعمال کیا جاتا ہے ۔

19/11/2022

غلطی کہاں پر ھوئی ھے؟*

پہلے:- وہ کنویں کا میلا اور گدلا پانی پی کر 100 سال جی لیتے تھے۔۔

اب:- نیسلے اور پیور لائف کا خالص شفاف پانی پی کر بھی چالیس سال میں بوڑھے ہو رہے ہیں۔۔۔۔

پہلے:- وہ سرسوں کا میلا سا تیل کھا کر اور سر پر لگا کر بڑھاپے میں بھی محنت کر لیتے تھے۔۔۔

اب:- ہم ڈبل فلٹر اور جدید پلانٹ پر تیار کوکنگ آئل اور گھی میں پکا کھانا کھا کر جوانی میں ہی ہانپ رہے ہیں۔۔

پہلے:- وہ پہاڑی نمک کھا کر بیمار نہ پڑتے تھے۔۔۔

اب:- ہم آیوڈین والا نمک کھا کر ہائی اور لو بلڈ پریشر کا شکار ہیں ۔۔۔۔

پہلے:- وہ نیم، ببول، کوئلہ اور نمک سے دانت چمکاتے تھے اور 80 سال کی عمر تک بھی چبا چبا کر کھاتے تھے۔۔۔۔

اب:- کولگیٹ اور ڈاکٹر ٹوتھ پیسٹ والے روز ڈینٹیسٹ کے چکر لگاتے ہیں۔۔۔۔

پہلے:-* صرف روکھی سوکھی روٹی کھا کر فٹ رہتے تھے

اب:- اب برگر، چکن کڑاہی، شوارمے، وٹامن اور فوڈ سپلیمنٹ کھا کر بھی قدم نہیں اٹھایا جاتا.

پہلے:- لوگ پڑھنا لکھنا کم جانتے تھے مگر جاہل نہیں تھے.


اب:- بہت سارے ماسٹر لیول ہو کر بھی جہالت کی انتہا پر ہیں.

پہلے:- حکیم نبض پکڑ کر بیماری بتا دیتے تھے۔

اب:- سپیشلسٹ ساری جانچ کرانے پر بھی بیماری نہیں جان پاتے ۔۔۔

پہلے:- وہ سات آٹھ بچے پیدا کرنے والی مائیں، جنہیں شاٸد ہی ڈاکٹر میسر آتا تھا 80 سال کی ہونے پر بھی کھیتوں میں کام کرتی تھی۔۔۔

اب:- ڈاکٹر کی دیکھ بھال میں رہتے ہوئے بھی نا وہ ہمت نا وہ طاقت رہی۔

پہلے:- کالے پیلے گڑ کی میٹھائیاں ٹھوس ٹھوس کر کھاتے تھے۔۔۔۔
اب:- مٹھائی کی بات کرنے سے پہلے ہی شوگر کی بیماری ہوجاتی ہے۔۔۔

پہلے:- بزرگوں کے کبھی گھٹنے نہی دکھتے تھے۔۔۔
اب:- جوان بھی گھٹنوں اور کمر درد کا شکار ہیں۔۔۔

پہلے:- 100 واٹ 💡 کے بلب ساری رات جلاتے اور 200 واٹ کا ٹی وی چلا کر بھی بجلی کا بل 200 روپیہ مہینہ آتا تھا۔۔۔
اب:- 5 واٹ(5watts) کا ایل ای ڈی انرجی سیور اور 30 واٹ کےLED ٹی وی میں 5000 فی مہینہ سےکم بل نہیں آتا.

پہلے:- خط لکھ کرسب کی خبر رکھتے تھے.

اب:- ٹیلی فون، موبائل فون، انٹرنیٹ ہو کر بھی رشتے داروں اور دوستوں کی کوئی خیر خبر نہیں.

پہلے:- غریب اور کم آمدنی والے بھی پورے کپڑے پہنتے تھے.

اب:- جتنا کوئی امیر ہوتا ہے اس کے کپڑے اتنے کم ہوتے جاتے ہیں

سمجھ نہیں آتا کہ ہم سےغلطی کہاں ھوئی ھے ...
ہم نےکیا کھویا اور کیا پایا؟

14/11/2022
13/11/2022
13/11/2022
یورک ایسڈ کی وجوہات اور مستقل حل کیا ہے ؟یورک ایسڈ میں ہومیوپیتھک ادویات کی اہمیتانسانی جسم رب کائنات نے اس  خوبصورتی سے...
07/11/2022

یورک ایسڈ کی وجوہات اور مستقل حل کیا ہے ؟

یورک ایسڈ میں ہومیوپیتھک ادویات کی اہمیت

انسانی جسم رب کائنات نے اس خوبصورتی سے ترتیب دیا ہے کہ جسم کی فلاح کے لیے مختلف کیمیائی عوامل کارفرما ہیں لیکن جب مختلف مسائل کی بنا پر یا جب انسان قدرت کے بنائے ہوئے اصولوں کے خلاف چلتا ہے تو مختلف مسائل کا شکار ہوجاتا ہے۔ اگر آج کے موضوع پر بات کی جائے جو کہ یورک ایسڈ پر ہے تو یہ تیزابی مادہ ہر انسان میں پایا جاتا ہے اور جب یہی مادہ اعتدال میں ہوتا ہے تو جسم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے لیکن جونہی مختلف وجوہات کی وجہ سے یہ اپنی حد سے بڑھنے کی کوشش کرتا ہےتو جسم مختلف مسائل کا شکار ہوجاتا ہے۔ آج کل ہماری غذائیں انتہائی ناقص ہوچکی ہیں، جس میں گوشت، فاسٹ فوڈز،مختلف مشروبات اور کھٹی میٹھی اشیاء وغیرہ شامل ہیں جن کی وجہ سے یورک ایسڈ کا بڑھنا ایک عام سی بات ہوگئی ہے بلکہ اس سے نظام انہضام کی مختلف بیماریاں پیدا ہورہی ہیں (Metabolic disorders)۔ اس کے علاوہ کچھ ادویات بھی انسانی جسم میں بگاڑ پیدا کرکے ان مادوں کے بڑھنے کا سبب بنتی ہیں۔خواتین میں یورک ایسڈ کی مقدار 2.4 سے لے کر 6.0 تک ہونی چاہیے جبکہ مردوں میں یہ مقدار 3.4سے 7.0تک ٹھیک تصور کی جاتی ہے۔

یورک ایسڈ کیا ہے؟

یورک ایسڈ انسانی جسم میں پیدا ہونے والا ایک فضلہ ہے (Waste product)۔مختلف غذاؤں سے پیورین نامی مادہ (Purine)جسم میں پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے یورک ایسڈ جنم لیتا ہے۔یہ انسانی جسم میں اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جسم کیمیکلز کو توڑتا ہے جسے پیورینز (purines)کہتے ہیں۔اس کے بعد یورک ایسڈ دوران خون میں شامل ہوجاتا ہے اور اس کی مقدار کو اعتدال پر رکھنے کے لیے گردے اس کو پیشاب کے ذریعے جسم سے باہر نکال دیتے ہیں اور اس طرح سے جسم میں یورک ایسڈ اعتدال پر رہتا ہے۔لیکن جب انسانی جسم کے نظام (Metabolic System) یا گردے کے مسائل پیدا ہونگے تو پھر یہ مادہ جسم سے باہر نہیں نکل سکے گا اور اس طرح انسانی جسم میں اس کی مقدار بڑھ جائے گی جو کہ جوڑوں کے درد ، پتھری اور دیگر مسائل پیدا کرسکتا ہے ۔


علامات کیا ہیں؟
جوڑوں میں شدید درد اور سوجن۔
جوڑوں میں سختی۔
چلنے پھرنے میں دشواری۔
پاؤں کے انگوٹھوں میں درد اور سوجن بالخصوص بڑے انگوٹھے میں۔
بدبودار پیشاب۔

وجوہات کیا ہیں؟

اس کی وجوہات بہت ساری ہوسکتی ہیں لیکن مختلف عوامل کی وجہ سے جب گردے یوریک ایسڈ کو جسم سے باہر کرنے میں ناکام رہتے ہیں یا بہت آہستگی سے باہر نکالتے ہیں جو کہ مختلف وجوہات کی وجہ سے بھی ایسا ہوسکتا ہے یعنی موروثیت کی وجہ سے انسانی جسم کے نظام میں سستی یا بیماری،موٹاپا، ذیابیطس،غیر فعال تھائیرائیڈ(Hypothyroidism) گردوں کی بیماریاں، ادویات کے نقصانات جن میں قوت مدافعت کو دبانے والی ادویات شامل ہیں۔ یا وہ غذائیں جن میں پیورین (Purine) نامی مادے کی مقدار زیادہ پائی جائے مثال کے طور پر سمندری غذا، سرخ گوشت یا شراب نوشی وغیرہ، یورک ایسڈ کی مقدار بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔

پیچیدگیاں کیا ہوسکتی ہیں؟

جب جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جائے تو ایسی صورتحال کو (Hyperuricemia)کہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ مادہ سخت قسم کا بن جاتا ہے جسے (Crystal)کا نام دیا جاتا ہے یہ مختلف جوڑوں میں جاکر جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے اور آہستہ آہستہ جوڑوں کی بیماری کے ساتھ جوڑوں کو بے کار کردیتا ہے جسے گھٹیا (Gout)کہتے ہیں اس کے علاوہ یورک ایسڈ کی پتھریاں بھی گردے میں بن سکتی ہیں۔اگر بروقت اس معاملے کو ختم نہیں کردیا جاتا تو یہ جوڑوں یا ہڈیوں اور بافتوں کو مستقل طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے اس کے علاوہ دل اور گردے کی بیماریاں بھی پیدا کرسکتا ہے۔

تشخیص کیسے کی جاسکتی ہے؟

یورک ایسڈ نامی مادے کی پیمائش کے لیے یورک ایسڈ نامی تجزیہ (Uric acid test)کیا جاتا ہے جس میں خون کے اندر یورک ایسڈ کی مقدار جانچی جاتی ہے اور عام طور پر اسی سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ یورک ایسڈ کی مقدار کتنی ہے۔

علاج کیا ہے؟

انگریزی ادویات میں درد کُش ادویات کا سہارہ لیا جاتا ہے جس میں (NSAID's)گروپ کی ادویات سے گھٹیا کے درد کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جو لوگ (NSAID's)نامی گروپ کی ادویات استعمال نہیں کرسکتے تو (Colchicine)نامی دوا کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ درد اور گھٹیا کو روکا جاسکے۔اس کے علاوہ خون میں یورک ایسڈ کی مقدار کو کم کرنے اور پیشاب کی مقدار بڑھانے کی ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے بار بار پیشاب کی شکل میں گردوں کے ذریعے یورک ایسڈ کو جسم سے باہر نکالا جاتا ہے۔اور اگر یورک ایسڈ کی وجہ سے جوڑ بے کار ہوجائیں تو جراحی کا سہارہ لیا جاتا ہے۔ (Joint replacement)



ہومیوپیتھک ادویات کی اہمیت؟

عموماًکسی بھی معاملے میں جب کوئی مسئلہ آتا ہے یا کوئی بھی کام کسی ایک طریقے سے نہیں ہوپاتا تو ہم لوگ متبادل کی تلاش میں نکلتے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں صحت کے حوالے سے یہ رجحان بہت ہی کم پایا جاتا ہے۔ یہاں پر سرکاری سطح پر صحت کے شعبے کو اس قدر اہمیت ہی نہیں دی گئی ورنہ ہمیں مختلف متبادل علاج کا اندازہ ہوتا، اس وقت دنیا میں مختلف طریقہ علاج استعمال ہورہے ہیں لیکن اگر ہم ان تین طریقہ علاج کی بات کریں جو کہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے طریقے ہیں تو ان میں ایلوپیتھک ادویات جو کہ سرفہرست ہے اس کے علاوہ ہومیوپیتھک ادویات اور تیسرے نمبر پر ہربل ادویات استعمال ہورہی ہیں۔ اب ہونا یہ چاہیے تھا کہ ہمارے ہاں یہ آگاہی دی جاتی کہ ایلوپیتھک ادویات میں چونکہ ایمرجنسی اور سرجری کے علاوہ مستقل علاج موجود ہی نہیں تو جب کسی بھی بیماری میں یہ ادویات کارآمد ثابت نہیں ہوتی تو متبادل کے طور پر آپ دیگر طریقہ علاج سے مستفید ہوسکیں جن میں ہومیوپیتھک ادویات سرفہرست ہیں لیکن ہمارے ہاں سرکاری سطح پر ایسا کچھ نہیں بلکہ پاکستان میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت پرائیویٹ کلینکس سے علاج معالجہ لیتے ہیں۔ یورک ایسڈمیں ہومیوپیتھک ادویات بہت ہی کارآمد ثابت ہوتی ہیں اور مستقل طور پر انسانی جسم کا نظام (Metabolic system)کو ٹھیک کرکے یورک ایسڈ کی نا صرف بڑھی ہوئی مقدار کو کم کرتی ہےہیں بلکہ اس کی پیدائش، گردوں کی کارکردگی (Filtration)اور دیگر مسائل کو ختم کردیتی ہیں۔ اس کے علاوہ یورک ایسڈ کی وجہ سے بگڑے ہوئے جوڑ بھی ان ادویات سے سنبھل جاتے ہیں۔ (Urtica urens, Ledum pal, Colchicum, Lithum carb, Lycopodium, Berb Vulg)عام طور پر ان ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ بھی ادویات کا ایک گروپ مختلف وجوہات کو دیکھتے ہوئے استعمال کیا جاتا ہے۔لیکن ہمیشہ کوالیفائیڈ ہومیوفزیشن کے مشورے سے ادویات استعمال کریں۔

ایگنس کاسٹس (Agnus Castus)‏ کثرت ج**ع جلق اغلام بازی اور کثرت اح**ام سے پیداشدہ و عوارض کے لیے بہتریندوا ہے۔ یہ ایسے مری...
06/11/2022

ایگنس کاسٹس (Agnus Castus)‏ کثرت ج**ع جلق اغلام بازی اور کثرت اح**ام سے پیداشدہ و عوارض کے لیے بہترین

دوا ہے۔ یہ ایسے مریضوں کی دوا ہے جنہوں نے جوانی کی دیوانہ وار طاقت کے بل پر ہر کس و ناکس کے در کی ہوا کھالی ہو ۔مریض تمام اعمال قبیحہ کا مرتکب رو چکا ہو۔ مریض سوزاک کا مریض ہو یا ماضی میں رہ چکا ہوتو بہترین شافی دوا ہے ۔ ایسے مریض جو دیکھنے میں بٹے کئے ہوں لیکن وظیفہ زوجیت کے قابل نہ ہوں تو ان کی دوا ہے۔ اغلام کے بعد کی کمزوری کے لیے بہترین دوا ہے ۔ مریض غمگین رہتا ہے اور آنکھیں اندر دھنسی ہوئی ہوں ۔ بوڑھوں میں نو جوانوں کی سی خواہش لیکن عمل ندارد۔ دماغی پستی ہے تو جہی مایوسی چڑچڑاپن نمایاں ہوتے ہیں۔ دوا۳۰ طاقت سے اونچی طاقت میں استعمال کی جاسکتی ہے۔

مرد کو شرمندہ ھونے سے بچالیتی ہے ۔ مریض کی منی پتلی ہو اور خیزش نفسانی خواہشات کے باوجود نہ ہو۔ مسلسل منی گرتی ھو۔
اگر ان علامات کو اس دوا سے فائدہ نہ ہو تو ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔کیونکہ آپ کی علامات اس دوا سے مماثلت نہیں کر رہیں۔
Dr.Muhammad Yaqub
03017555597

24/10/2022

ضروری طبی معلومات

1. برین اٹیک ‘ ہارٹ اٹیک سے زیادہ خطرناک ہے۔
2. جگر کے اٹیک میں مریض سالہا سال ایڑیاں
رگڑ رگڑ کر مرتا ہے۔
3. دل کے امراض میں شریانی سدے سب سے
زیادہ خطرناک ہیں یہی فوراً موت کا سبب بنتے ہیں۔
4. نیند کی کمی اعضابی تحریک میں ہوتی ہے۔
5. نیند کی زیادتی غدی عضلاتی تحریک میں ہوتی ہے۔
6. معدے کی جلن دراصل معدہ کی ٹھنڈک ہے۔
7. پاؤں کی جلن بلڈپریشر لو کی وجہ سے ہے۔
8. سینہ کی جلن معدہ سے اٹھنے والی گیس کی
وجہ سے ہوتی ہے۔
9. پاؤں کا سن ہوجانا بلڈپریشر ہائی اور شوگر
کی وجہ سے ہوتا ہے۔
10. زیادہ خواب دیکھنے والے کا معدہ خراب ہوتا ہے۔
11. پیٹ درد کھانا کھانے کے بعد ہو تو یہ معدہ کی
ٹھنڈک ہے علاج گرم دوا سے کیا جائے۔
12. پیٹ درد ہروقت ہو تو معدہ کی سوزش ہے
اور درد اپنی جگہ تبدیل کرے تو ریاحی درد ہے۔
13. درد اپنی جگہ تبدیل نہ کرے تو مقام درد کے
پٹھے کا کھچاؤ اور سوزش کی وجہ سے ہے۔
14. کسی مقام پر خون کے اجتماع سے سوزش ہو
تو یہ مشینی تحریک ہے۔

15. کسی مقام پر پانی یا صفراء کے اجتماع سے
سوزش ہو تو یہ کیمیائی تحریک کا نتیجہ ہوگی۔
16. شوگر کے مریض کے گردے فیل شوگر کی
دوائیں کرتی ہیں۔
17. کمر میں ریڑھ کی ہڈی کے درمیان ہوا جمع
ہوجائے تو عضلاتی اعصابی تحریک ہوگی۔
18. شوگر کے مریض کیلئے سب سے زیادہ
خطرناک وہ شوگر کی دوا ہے جسے وہ روزانہ
استعمال کرتا ہے۔
19. شوگر کے مریض کیلئے اس مرض کا پہلا
تحفہ جنسی کمزوری ہے۔
20. شوگر کا مرض پرانا ہوجائے تو جنسی
خواہش ہی ختم ہوجاتی ہے۔
21. جو شخص ملی جلی غذائیں کھاتا رہتا ہے
وہی تندرست رہتا ہے۔
22. سوزشی گنٹھیا میں پورا ہاتھ پاؤں متورم ہوتا ہے۔
23. ریحی گھنٹیا میں صرف جوڑ پر ابھار ہوتا ہے۔
24. دوروں کے دوران ہاتھ پاؤں پر اکڑاؤ نہ
ہو تو اعصابی تحریک ہوگی اعصابی تحریک
سے دورے ہوں گے۔

25. رسولیاں تمام ہی خطرناک ہوتی ہیں لیکن
دماغی رسولیاں سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔
26 نکسیر خون میں فائبرین کی کمی کی وجہ
سے آتی ہے اور کیلشیم کی کمی کی
وجہ سے بھی ہوتی ہے۔
27. اح**ام کا علاج کرنے کے بجائے نوجوان
کے خواب روکنے کا علاج کریں جب خواب
نہ آئیں گے تو اح**ام کبھی نہیں ہوگا
28. جسم کے اندر یا باہر زخم ہوئے بغیر
خون کا اخراج نہیں ہوا کرتا جو مریض کہتے
ہیں کہ پھیپھڑوں میں زخم نہیں لیکن پھر بھی
خون آتا ہے تو ان کے گلے میں زخم ہوکر
خون آیا کرتا ہے۔
28. حافظہ کی کمزوری میں دماغ کی بجائے
دل کا فعل تیز ہوتا ہے تو حافظہ کمزور ہوگا۔
29. اح**ام اتنا زیادہ خطرناک نہین ہوتا جتنا کہ
اح**ام ہو ہی نہ۔
30. پیچیدہ اور معدہ کے مریض کو مواقف
غذائیں کھانے سے زیاناموافق غذاؤں سے پرہیز
کرنا ضروری ہے تاکہ مرض فوراً بڑھنا رک جائے۔

31. قوت کا علاج یک دم کشتہ جات یا زہروں سے
نہ کریں بلکہ اصل سبب کو دور کرنے
کی کوشش کریں,
32. نیند اور سکون کی ہر دوا بلڈپریشر لو کرتی ہے۔
33. بادام زیادہ مقوی حافظہ نہیں بلکہ
ہریڑ اور آملہ مقوی حافظہ ہیں۔
34. قانون مفرد اعضا میں علاج کرتے وقت
مقام تحریک کو مدنظر رکھ کر مقام تسکین
کی دوا دی جاتی ہے۔
35. کوئی مرض خون سے تین ماہ سے
پہلے ختم نہیں ہوتا۔
36. بلڈپریشر اگر زیادہ ہائی ہوجائے تو فوراً
فالج سے موت واقع ہوجاتی ہے اور
بلڈپریشر انتہائی کم ہوجائے تو مریض
آہستہ آہستہ مرتا ہے۔
37. پھیپھڑوں میں چبھن دار درد ہو تو یہ
استسقاء الصدر کی واضح علامت ہے جو
غدی عضلاتی تحریک سے ہوا کرتا ہے۔

38. کسی بھی علامت کو ٹھیک ہوئے چند
دن گزر جائیں تو دوبارہ ہونے کا امکان ہوتا ہے
لیکن کسی علامت کو ٹھیک ہوئے تین ماہ سے
زیادہ عرصہ گزر جائے تو مرض دوبارہ نہیں ہوتا
اسی لیے دیسی علاج کم از کم تین ماہ کیا
جاتا ہے تاکہ مرض دوبارہ نمودار نہ ہو
اور جڑ سے ختم ہوجائے۔
*39. حکیم بوعلی سینا نے کہا کہ غذا سے خون
بنتا ہے دوا سے کیفیت تبدیل ہوتی ہے
اور زہروں سے موت واقع ہوجاتی ہے۔
40. ہیپاٹائٹس سی کے وائرس
قانون مفرد اعضا کے غدی اعصابی تحریک
سے ختم ہوجاتے ہیں۔
41. عضلاتی تسکین‘ یعنی دل کی کمزوری کا
مریض اپنے آپ کو سب سے بڑا مریض سمجھتا ہے
اور یہی مریض سب سے زیادہ پریشان ہوتا ہے
قانون مفرد اعضا میں تسکین کے مقام پر
مرض تسلیم کی جاتی ہے اگر وہاں دواؤں
غذاؤں سے تحریک دی جائے تو انشاء اللہ کئی
بیماریوں سے چھٹکارا ہو سکتا ہے۔
42. جب خون میں غذا ختم ہوجائے تو بھوک
کا احساس شدید ہوتا ہے۔
Dr.muhammad yaqub

Address

الائیڈ بینک کی سامنے والی گلی کے اندر خانیوال روڑ اڈا وجھیاوالا
Khanewal
58150

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923017555597

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Disease and homeopathic treatment posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Disease and homeopathic treatment:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram