Dr. Ayesha Jalees

Dr. Ayesha Jalees Doctor Ayesha Jalees
MBBS FCPS MEDICINE
Head of medical department DHQ khanewal
Ibrahim clinic near dhq khanewal
(2)

05/01/2026

اپ میں سے بہت سارے لوگوں کو بہت اشتیاق ہے کہ میری اتنی اچھی پریکٹس دمے اور کالے یرقان اور معدے میں سے کیوں جڑی ہے تو جناب والا جانیے یہ کہانی....
دم میرے والد صاحب کو تھا اور میں نے ان کا سانس گھٹتے دیکھا ہے میں نے بحیثیت بچی بھاگتے دیکھا ہے اپنی ماں کو انہیلر لینے کے لیے میں نے دیکھا ہے کیسے نیبولائزر کے لیے میری والدہ پریشان ہوتے تھے...
کالے یرقان سے جڑے لوگوں کو تکلیف میں دیکھ کر مجھے اپنے والد صاحب کی یاد اتی ہے جب میرے والد صاحب کو جگر کا مسئلہ بنا تھا اور میں کس طرح سے پھوٹ پھوٹ کر ڈی جی خان میں روئی تھی...
اور میرے والد صاحب 20 دن میں وفات پا گئے تھے...

تکلیف سے جڑے یرقان کے لوگوں کی کہانیاں اور اذیت سے بھری یہ داستانیں ہم جانیں گے..

خدا کے لیے اپنا اور اپنے سے جڑے پیارے لوگوں کا کالے یرقان کا ٹیسٹ کرائیے تاکہ کسی اور کی جان بچ سکے
اپ کی بہن ڈاکٹر عائشہ جلیس

05/01/2026

ایک ایسا موضوع جو بہت حساس ہے اور ہم میں سے بہت سارے لوگ لازمی اس تکلیف سے کہیں نہ کہیں گزرے ہوں گے.. یا ہم سے جڑا کوئی نہ کوئی شخص اس مرض کا شکار ضرور ہوگا..

UTI پیشاب کی نالی کا انفیکشن
🙄🙄🙄🙄🙄🙄🙄🙄🙄

میں تو روز مرہ ایسے بہت سارے مریض دیکھتی ہوں جن کو پیشاب کرتے ہوئے جلن ہوتی ہے یا پیشاب رک رک کر اتا ہے یا پیشاب کی جگہ سے سمیل یا بو کا مسئلہ ہوتا ہے.. مریض کو پیشاب کرتے ہوئے بہت تکلیف ہوتی ہے اور اکثر اوقات لوگ پیشاب روک بھی لیتے ہیں اور بعد میں بہت سارے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں.... یہ انفیکشن مرد اور عورت دونوں میں ہو سکتا ہے لیکن زیادہ تر ہم عورتوں میں دیکھتے ہیں..

خواتین میں پیشاب کی نالی کا انفیکشن
🧕🧕🧕🧕🧕🧕🧕🧕🧕🧕
(UTI) ایک بہت عام طبی مسئلہ ہے، جو کہ مثانے یا گردوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس میں ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں اور گھر والی متاثر ہو سکتی ہے

پیشاب کی نالی کا انفیکشن (UTI) کیا ہے؟
یہ انفیکشن اس وقت ہوتا ہے جب جراثیم (بیکٹیریا) پیشاب کی نالی کے ذریعے اندر داخل ہو کر مثانے یا گردوں میں سوزش پیدا کرتے ہیں۔ خواتین میں مردوں کے مقابلے میں یہ مسئلہ زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان کی پیشاب کی نالی (Urethra) چھوٹی ہوتی ہے، جس سے جراثیم آسانی سے مثانے تک پہنچ جاتے ہیں۔

انفیکشن کی وجوہات

* صفائی کی کمی:
رفع حاجت کے بعد صفائی کا صحیح طریقہ اختیار نہ کرنا۔

* پانی کی کمی: کم پانی پینے سے پیشاب کے راستے بیکٹیریا کا اخراج نہیں ہو پاتا۔

* پیشاب روکنا: دیر تک پیشاب روکنے سے مثانے میں جراثیم پرورش پانے لگتے ہیں۔

* ہارمونز کی تبدیلی: خاص طور پر مینوپاز (Menopause) کے بعد ہارمونز کی کمی کی وجہ سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

* مخصوص بیماریاں: شوگر (Diabetes) کے مریضوں میں UTI کا تناسب بہت زیادہ ہوتا ہے۔

عورتوں میں اندرونی جگہ کی صفائی صحیح طریقے سے نہ کرنا..

عام علامات
🤔🤔🤔🤔🤔🤔🤔🤔🤔🤔

* پیشاب کے دوران جلن یا درد ہونا۔
* بار بار پیشاب کی حاجت ہونا لیکن پیشاب کم آنا۔
* پیشاب کا رنگ گدلا ہونا یا اس میں سے بو آنا۔
*
پیٹ کے نچلے حصے میں بوجھ یا درد۔

گھریلو علاج اور بچاؤ کی تدابیر

👍👍👍👍👍👍👍👍👍

ب
شدید انفیکشن کے لیے اینٹی بائیوٹک ضروری ہے، لیکن ابتدائی مراحل یا بچاؤ کے لیے درج ذیل طریقے بہت کارگر ہیں:

پانی کا زیادہ استعمال
💦💦💦💦💦💦💦💦💧💧💧

: دن میں کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پیئیں تاکہ جراثیم پیشاب کے ذریعے خارج ہو جائیں۔
💦💦💦💦💦💦💦💦💦💦

* کرین بیری (Cranberry) جوس: کرین بیری کا جوس یا سپلیمنٹس بیکٹیریا کو مثانے کی دیواروں سے چپکنے سے روکتے ہیں۔
🥤🥤🥤🥤🥤🥤🥤🥤🥤🥤🥤

* پروبائیوٹکس (Probiotics): دہی کا استعمال کریں، یہ جسم میں مفید جراثیم کی تعداد بڑھاتا ہے جو انفیکشن سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔
🍶🍶🍶🍶🍶🍶🍶🍶🍶🍶

* وٹامن سی: لیموں پانی یا سنگترے کا استعمال کریں، یہ پیشاب کی تیزابیت (Acidity) بڑھا کر جراثیم کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

🍊🍋🍊🍋🍊🍋🍊🍋🍊🍋🍊

* صفائی کا خیال: واش روم کے استعمال کے بعد ہمیشہ آگے سے پیچھے کی طرف صفائی کریں تاکہ جراثیم مثانے کی طرف منتقل نہ ہوں۔

کون سا ٹیسٹ کرا کے اس کے بارے میں پتہ لگایا جا سکتا ہے..

CBC
CUE
مثانے گردے کا الٹرا ساؤنڈ

اگر اپ کے قریبی کسی بندے کو یہ انفیکشن ہے تو وہ یہ معلومات شیئر کریں کیونکہ خواتین میں یہ بہت زیادہ انفیکشن ہوتا ہے تاکہ لوگ اس کا بروقت علاج کریں بجائے اس کے کہ ان کے گردے فیل ہو جائیں..

👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍
اپنے اور اپنے سے جڑے لوگوں کا خیال رکھیں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیں
اپ کی بہن
ڈاکٹر عائشہ جلیس
ابراہیم کلینک
پولیس لائن روڈ خانیوال.
0303 6519267

میں اپ لوگوں کو سنانے لگی ہوں اپنی اور اپنے مریضوں سے جڑی ایک کہانی...میرے مریض نے اپنی بیٹی کا نام عائشہ رکھا صرف میری ...
03/01/2026

میں اپ لوگوں کو سنانے لگی ہوں اپنی اور اپنے مریضوں سے جڑی ایک کہانی...

میرے مریض نے اپنی بیٹی کا نام عائشہ رکھا صرف میری محبت میں اور وجہ یہ تھی کہ وہ جب میرے پاس ایا تھا تو اس ٹائم اس کا بخار ٹھیک نہیں ہو رہا تھا اور ایک ماہ سے وہ ایک ڈاکٹر صاحب سے روزانہ انجیکشن لگواتا تھا اور وہ ایک یتیم لڑکا تھا تھا..
اچھا جب وہ میرے پاس ایا تو ہم نے اس کو ٹیسٹ کرائے اور اس کے بعد ہم نے اس کی تشخیص کی تو پتہ لگا اس بچے کو ٹی بی تھی چھ ماہ کے علاج کے بعد وہ بالکل ٹھیک ہو گیا اور ماشاءاللہ اس کا وزن بھی بڑھ گیا...

میں نے اس کی والدہ کو منع کیا کہ ابھی اس کی شادی نہیں کرنی ابھی شادی ڈیلے کر دیں کیونکہ ابھی بچہ ٹھیک نہیں جب ٹی بی کا کورس مکمل ہو جائے گا پھر ہم شادی کر دیں گے.. اس کی والدہ میری بات بڑی تسلی سے سمجھی اور انہوں نے اس کا کورس مکمل کیا
اور اس کے بعد اس کی والدہ نے اس کی شادی کی. اب بچے کی بیٹی پیدا ہوئی اور ماشاءاللہ اس نے اس کا نام عائشہ رکھا..🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️
اور مجھے کہتا باجی میں اپ کی بڑی عزت کرتا ہوں اور میں چاہتا ہوں یہ بھی بڑی ہو کر ڈاکٹر بنے...

میرے لیے بڑا خوشی کا لمحہ تھا جب وہ میرے پاس بچے کو لے کر ایا اور مجھے کہتا کہ اپ جو ہے اس کے سر پر ہاتھ رکھیں میں چاہتا ہوں یہ اپ کی طرح بڑی ہو کر ڈاکٹر بنے اور لوگوں کی زندگیاں بچا لے...

🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️

اتنی محبت جب اللہ تعالی کی ذات دیتی ہے نا اور اپ لوگ تو بس انسان کی انکھوں میں انسو ا جاتے ہیں اور لگتا ہے کہ ڈاکٹر ہونا اللہ کا ایک بڑی نعمت ہے..

🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰
مجھے اپ سب سے بہت محبت ہے اللہ تعالی اپ سب کو ایسے قائم و دائم رکھے اتنی محبتوں کے لیے بہت شکریہ...
🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲

ڈاکٹر اور مریض کا رشتہ محض ایک
پیشہ ورانہ تعلق نہیں بلکہ یہ اعتبار، ہمدردی اور انسانیت کی ایک ایسی تکون ہے

🩺 ڈاکٹر اور مریض: ایک مقدس رشتہ اور شفاء کا سفر
طب کی دنیا میں ایک مشہور قول ہے: "دوا بیماری کا علاج کرتی ہے، لیکن ایک اچھا ڈاکٹر مریض کا علاج کرتا ہے۔"

1. اعتبار کی بنیاد (The Foundation of Trust)
جب ایک مریض کسی ڈاکٹر کے کلینک میں داخل ہوتا ہے، تو وہ صرف اپنی بیماری نہیں بلکہ اپنی زندگی اور اپنے خدشات بھی ساتھ لاتا ہے۔ اس وقت ڈاکٹر کی پہلی مسکراہٹ اور تسلی بخش لہجہ مریض کی آدھی تکلیف دور کر دیتا ہے۔ یہ رشتہ اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب مریض کو محسوس ہو کہ اسے صرف سنا نہیں جا رہا، بلکہ سمجھا جا رہا ہے۔

2. ہمدردی: خاموش علاج (Empathy: The Silent Healer)
ایک کامیاب معالج وہ نہیں جو صرف بہترین نسخہ لکھے، بلکہ وہ ہے جو مریض کی آنکھوں میں چھپی پریشانی کو پڑھ لے۔ کبھی کبھی "سب ٹھیک ہو جائے گا" کے چند الفاظ کسی اینٹی بائیوٹک سے زیادہ تیزی سے اثر کرتے ہیں۔ مریض اپنے ڈاکٹر میں ایک مسیحا تلاش کرتا ہے جو اس کی جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ اس کی ذہنی گھبراہٹ کو بھی سکون دے سکے۔

3. دو طرفہ ذمہ داری (Shared Responsibility)
یہ رشتہ یکطرفہ نہیں ہوتا۔ جہاں ڈاکٹر کا فرض صحیح تشخیص اور بہترین مشورہ ہے، وہیں مریض کا فرض ڈاکٹر پر مکمل بھروسہ کرنا اور اس کی ہدایات پر عمل کرنا ہے۔ جب یہ دونوں ایک ٹیم بن کر کام کرتے ہیں، تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔

4. جدید دور کے چیلنجز
آج کے تیز رفتار دور اور "گوگل ڈاکٹر" کے زمانے میں، ڈاکٹر اور مریض کا تعلق تھوڑا پیچیدہ ہو گیا ہے۔ اب مریض معلومات لے کر آتا ہے، لیکن اسے اس معلومات کو صحیح سمت دینے کے لیے ایک تجربہ کار معالج کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں ڈاکٹر کا صبر اور اس کا سمجھانے کا انداز (Counseling) رشتے کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔

🥺🥺🥺🥺🥺🥺🥺🥺🥺
> خلاصہ: > مریض ڈاکٹر کے پاس امید لے کر آتا ہے اور ڈاکٹر اسے زندگی کی طرف واپسی کا راستہ دکھاتا ہے۔ یہ رشتہ علم اور ضرورت کا نہیں، بلکہ خلوص اور دعا کا ہے

☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️
Copied.

یہ پوسٹ بہت بہت منفرد اور اچھی لگی اس لیے پوسٹ کی..

دعاؤں میں یاد رکھیں.
اپ کی بہن
ڈاکٹر عائشہ جلیس

سانس سے جڑی کہانی...🫁🫁🫁🫁🫁🫁🫁🫁🫁🫁یہ دونوں بھائی ہیں جو کہ میرے پاس گڑا موڑ والی سائیڈ سے ائے.. بھائی جان کا نام ت تھا . اس ...
02/01/2026

سانس سے جڑی کہانی...

🫁🫁🫁🫁🫁🫁🫁🫁🫁🫁
یہ دونوں بھائی ہیں جو کہ میرے پاس گڑا موڑ والی سائیڈ سے ائے.. بھائی جان کا نام ت تھا .

اس بھائی کو سانس کی تنگی کا مسئلہ تھا اور اکسیجن کی کمی سے سانس کی نالیاں بالکل بند ہو جاتی تھیں اور ایک پھیپڑا سکڑنا کی طرف جا رہا تھا.
🩻🩻🩻🩻🩻🩻🩻🩻🩻🩻🩻 یہ بھائی بڑا پریشان تھا اور اتنا پریشان تھا کہ یہ میرے پاس ا کر رو پڑا کہ مجھے سب چھوڑ گئے ہیں اور میرا 😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭پھیپڑا ختم ہو گیا ہے اور اب میں نہیں بچوں گا
💉💉💉💉💉💉💉💉💉💉💉.. دن میں چار دفعہ ٹیکہ لگوانا پڑتا تھا تب جا کے کچھ کام بنتا تھا...
مریض کو بتایا گیا پھیپڑا ختم ہو چکا ہے اور گلاب دیوی چلے جائیں. اور گلاب دیوی کے دھکے بھی کھا کر ایا تھا لیکن سانس پوری طرح سے بہتر نہیں ہو پا رہا تھا..
🥺🥺🥺🥺🥺🥺🥺

جب میرے پاس ایا تھا اس کا ایک پیپڑا بہت کمزور تھا اور اس میں سکڑاؤ کے اثرات تھے.. میں نے اس کی گھر والوں کو بلایا اور ان کو سمجھایا کیونکہ مریض بیماری کی وجہ سے ڈپریشن میں جانا شروع ہو چکا تھا.. اس کے بھائی اور اس کے بہنوئی دونوں کو بلا کر سمجھایا کہ اس کے حالات پر توجہ دیں یہ انسان بچ سکتا ہے ورنہ ساری زندگی کے لیے محتاجی اور اکسیجن سلنڈر پر رہے گا.... وقت کے ساتھ اس کے بھائی کو احساس ہوا اور میں بڑی خوش ہوں کہ اس نے اپنے بھائی کا ساتھ دیا اور اس نے اس کا پراپر علاج کیا.. اس کے خون میں الرجی کی مقدار 2220 سے بھی زیادہ تھی.
😷😷😷😷😷😷😷😷😷😷😷

ہم نے پہلے اس کو نمونیا کے انجیکشنز کا کورس کرایا اور اس کے بعد پھیپڑوں کو کھولنے کے لیے دوائیاں شروع کرائی...
🫁🫁🫁🫁🫁🫁🫁🫁🫁🫁
. اور اس کو میرے پاس تین ماہ سے زیادہ ہو گئے ہیں... الحمدللہ مریض نارمل زندگی جی رہا ہے اور تین دوائیوں سے دما کنٹرول ہے اور بالکل عام انسانوں کی طرح اپنی دکان پہ جاتا ہے کام کرتا ہے اور شکر الحمدللہ الحمدللہ کسی کا محتاج نہیں اور اللہ تعالی اس کو ایسے سلامت رکھے... اور بحیثیت ڈاکٹر یہ سب سے بہترین لمحہ ہوتا ہے جو شاید اپ لوگ محسوس بھی نہ کر سکیں...

🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️

رشتے بڑے خوبصورت لگتے ہیں جب ایک دوسرے کے احساس سے پروئے جائیں...
اور بھائی ہی بھائی کا بازو ہوتا ہے اگر بھائی بھائی کے احساس نہ کرے تو میرا نہیں خیال یہ کوئی رشتہ ہے...

👨‍❤️‍👨👨‍❤️‍👨👨‍❤️‍👨👨‍❤️‍👨👨‍❤️‍👨👨‍❤️‍👨👨‍❤️‍👨👨‍❤️‍👨👨‍❤️‍👨👨‍❤️‍👨

اللہ تعالی ہر انسان کو اپنا محتاج رکھے کسی انسان کو بھی کبھی کسی کا محتاج نہ کرے..
🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲

یاد رکھیں بروقت علاج بہت بہتر ہے بجائے اس کے کہ اپ پھیپھڑوں کو مکمل طور پر ختم کر دیں...

علاج سے پھیپھڑے بچ سکتے ہیں اور بار بار دمے کا اٹیک سے بچیں ورنہ پھیپڑے سکڑ کر اکسیجن سلنڈر کی طرف چلے جاتے ہیں.....
☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️

اپنے اور اپنے سے جڑے لوگوں کی سانس اور اس کا خیال رکھیں.. زندگی میں کسی کی امید بننا سیکھیے
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
کہانی شیئر کیجئے گا اگر اپ کو اچھی لگی ہو.. شاید کسی اور کا پیپڑا سکڑنے سے بچ جائے کسی کا پیار بھائی کے لیے جاگ جائے... .

مجھے دعاؤں میں یاد رکھیں
اپ کی بہن
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ڈاکٹر عائشہ جلیس
ابراہیم کلینک
پولیس لائن روڈ خانےوال
🏥🏥🏥🏥🏥🏥🏥🏥🏥🏥
0303 6519267

سال کے اختتام پر2025 تلخ اور اچھی یادیں ہر انسان کی جڑی ہوتی ہے   ہر انسان اچھے اور بری یادوں کے سارے ہی کامیابی کی طرف ...
31/12/2025

سال کے اختتام پر2025

تلخ اور اچھی یادیں ہر انسان کی جڑی ہوتی ہے ہر انسان اچھے اور بری یادوں کے سارے ہی کامیابی کی طرف بڑھتا ہے.... میرے لیے 2025 میں بھی بہت ساری خوشیاں اور بہت ساری پریشانیاں ائی تو میری طرف سے اللہ تعالی کی ہر ازمائش پہ میں اللہ کی رضا میں راضی ہوں.

شکریہ ان لوگوں کاجنہوں نے سمجھایا ہر مسکراہٹ کے پیچھے نرمی نہیں ہوتی

😁😁😁😁😁😁😁😁😁😁
🫥🫥🫥🫥🫥🫥🫥🫥🫥🫥

۔ میں احسان مند ہوں ان چہروں کا جن کی مسکراہٹ کے پیچھے نفرت کے پہاڑ تھے

😁😁😁😁😁😁😁😁😁😁
🤬🤬🤬🤬🤬⛰️⛰️⛰️🌋🌋

اللہ تعالی اپ سب کے لیے اسانیاں فرمائے..
ہر اس شخص کا شکریہ جو میری خوشیوں اور میرے غم میں میرے ساتھ رہ اللہ تعالی اپ سب کو بہت ساری خوشیاں دے میں اپ کی احسان مند ہوں..
اور جو لوگ نہیں رہے ان کو بھی اللہ تعالی خوشیاں عطا کرے جو اپ کی طلب ہے ..
🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲
دعاؤں میں یاد رکھیں.
اپ کی بہن🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️
ڈاکٹر عائشہ جلیس.

0303 0303 6519267

شادی سے پہلے کروائے جانے والے پانچ ضروری ٹیسٹ ہماری جہالت کہیے یا کچھ اور کہ ہم بے اولادی، بچوں میں وراثتی جینیاتی معذور...
31/12/2025

شادی سے پہلے کروائے جانے والے پانچ ضروری ٹیسٹ

ہماری جہالت کہیے یا کچھ اور کہ ہم بے اولادی، بچوں میں وراثتی جینیاتی معذوریوں کا ہونا، بیٹے کی بجائے صرف بیٹیاں پیدا کرنے کو اکثریت میں لڑکی سے جوڑتے ہیں۔ اور اسے مبینہ طور پر اس کا قصور وار بھی ٹھہراتے ہیں۔ کہیں تو وہ نمانی اس جاہلانہ تصور کو سچ مان کر خود کو قصوروار سمجھنے بھی لگ جاتی ہے۔ اسے بغیر کسی علم کے ان چیزوں کے علاج، دم درود، ٹیسٹوں کے لیے ساس نندیں لے کر جا رہی ہوتیں۔

جبکہ میڈیکل فیلڈ سے وابستہ لوگ میری بات کی تصدیق کریں گے کہ بے اولادی, بچوں میں پیدائشی معذوریاں ہونے کی جتنی ذمہ دار بیوی ہوتی اتنا ہی اس میں کردار خاوند کا بھی ہے۔ اور بیٹیاں پیدا کرنے میں تو عورت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ جینڈر طے کرنے کی صلاحیت تو ہے ہی مرد کے پاس۔

شادی سے پہلے کچھ ٹیسٹ کروا کر ہم اپنے قدامت پسند معاشرے میں پیش آنے والے ممکنہ مسائل سے بچ سکتے ہیں۔ یہاں تو شادی کے بعد مہینہ بھی نہیں گزرتا اور عقل سے پیدل لوگ لڑکی لڑکے دونوں سے خوشخبری کا پوچھنے لگتے ہیں۔ اور دین و دنیاوی علوم سے فارغ گھرانوں میں چند ماہ یا ایک دو سال اولاد نہ ہونے پر تو لڑکی کو نفسیاتی مریض بنا دیا جاتا۔

شادی سے پہلے حکیموں سنیاسیوں کے پاس جانے کی بجائے لڑکا اپنا سیمن انیلسز سپرم کاؤنٹ ٹیسٹ کروائے کہ وہ باپ بننے کے قابل ہے یا نہیں؟ یہ کسی بھی لیب یعنی چغتائی یا شوکت خانم آغا خان سے ہو سکتا ہے۔ 5 سو کا ٹیسٹ ہے۔ میں یہاں واضح کر دوں جنسی طور پر ٹھیک ہونا ایک الگ بات ہے اور سپرم کی حمل کے لیے مطلوبہ تعداد اور انکی صحت کا ٹھیک ہونا ایک الگ بات ہے۔ جس کا شعور ہمارے ہاں بہت کم ہے۔ لڑکی کو مہنگے ٹیسٹوں سے گزارنے کی بجائے مرد حضرات یہ بنیادی ٹیسٹ کروا لیں۔

کچھ مردوں کے مادہ منویہ میں ایک سپرم بھی نہیں ہوتا جبکہ وہ جنسی فعل بلکل ٹھیک انجام دے سکتے ہیں۔ باپ بننے کے لیے ایک ملی میٹر مادہ منویہ میں 40 ملین سے لیکر 300 ملین تک صحت مند سپرم ہو سکتے ہیں۔ اگر سپرم کی تعداد ایک ملی میٹر مادہ منویہ میں 15 ملین سے کم ہو تو چانسز بہت کم ہوتے ہیں کہ سپرم اور بیضہ کے ملاپ سے حمل ہو سکے گا۔ گو کہ حمل کے لیے صرف ایک سپرم اور ایک بیضہ ہی ملاپ کرتے ہیں مگر سپرم کی تعداد میں انکی ساخت اور مائیکروسکوپ میں نظر آنے والی حرکت بتاتی ہے کہ سپرم کتنے صحت مند ہیں۔

میرے قریبی سرکل میں ایک مرد نے اولاد کے لیے چار شادیاں کیں۔ بڑا زمیندار تھا کہ وارث تو چاہیے۔ آخری بیوی کی عمر بیس سال اور اسکی عمر 60 سال تھی۔ پیسے و زمین کے لالچی لوگ اس کو اپنی بیٹیاں دیتے رہے۔ اس کا پورا گاؤں گواہ ہے وہ فوت ہوا تو ایک کو چھوڑ کر 3 نے اسکی وفات کے بعد عدت پوری کرکے دوسری شادی کر لی۔ تینوں ابھی جوان تھیں۔ اللہ نے تینوں نے اولاد کی نعمت سے نوازا۔ اس کی سب سے چھوٹی بیوی کہتی تھی کہ اس بندے نے اپنا ایک دفعہ بھی کسی لیب سے ٹیسٹ نہیں کروایا تھا۔ حکیموں کے پاس جا جا کر نجانے کون کون سے کشتے لیا کرتا تھا۔ مگر کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتا تھا۔ وہ جنسی تعلق قائم کرنے کو ہی اپنے ٹھیک ہونے کا ثبوت مانتا تھا۔ اور ایسا بے شمار جگہوں پر ہے۔

اگر بیضہ دانیاں ایک ماہ میں دو بیضے پیدا کریں تو دو بچے یعنی جڑواں پیدا ہونگے تین سے چار بیضے ہونے کی صورت میں ان سے اتنے ہی سپرم ملاپ کرکے اتنے بچے پیدا کر دیں گے۔ 1998 میں امریکہ کی سٹیٹ Texas میں ایک جوڑے کے ہاں 8 بچے پیدا ہوئے جن میں ایک وفات پا گیا اور 7 بلکل ٹھیک پلے بڑھے اور نارمل زندگی گزاری۔

اگر ایک ہی بیضہ اووری سے نکلا۔ اور اسکے کسی وجہ سے دو ٹکڑے ہوگئے۔ اور ان سے دو سپرمز مل گئے۔ تو جڑواں بچے ہم جنس اور ہم شکل پیدا ہونگے۔ دو الگ بیضوں سے سپرم کے ملاپ سے جو جڑواں بچے پیدا ہونگے وہ ہم جنس نہیں بھی ہو سکتے۔ نہ ہی یہ ضروری کہ وہ ہم شکل ہونگے۔

اولاد تو یہاں شادی کے فوراً بعد ہر صورت میں چاہیے ہی چاہیے ناں؟ اگر آپ یہ سوچ ہے۔ یا آپ کے گھر والے آنے والی دلہن سے ہر ماہ ماہواری ہونے پر ناروا سلوک کریں گے تو سپرم کاؤنٹ کم ہونے پر اسے شادی سے پہلے بڑھانے کی کوشش ڈاکٹر کے مشورے سے کی جا سکتی ہے۔ اور اگر ہو ہی زیرو اور بڑھنے کے کوئی امکانات نہ ہوں۔ تو کسی ایسی خاتون سے شادی کریں جسکے پاس ایک دو بچے پہلے ہی ہوں۔ وہ مطلقہ ہو یا بیوہ ہو۔ آپ کبھی باپ نہیں بن پائیں گے اسکو ڈاکٹروں سے مشورہ کرکے قبول کر لیں اور کسی معجزے کے انتظار میں نہ رہیں۔ بعد میں بچے ہو بھی جائیں تو کیا ہے؟ نہ ہوئے زندگی تو بچوں کے ساتھ گزر جائے گی بھائی

اس ضمن میں لاہور فیروز پور روڈ پر حمید لطیف ہسپتال اچھا ہے۔ آپ ان معاملات کے ماہر پروفیسر ارشد جاوید صاحب Prof-Arshad Javed سے مل کر اپنا مسئلہ ڈسکس کر سکتے ہیں۔ ۔ انکی مشہور زمانہ معلوماتی کتاب سیکس ایجوکیشن ضرور پڑھیں۔ اسکی ہارڈ کاپی بھی مل سکتی کہیں سے بھی۔اسکے علاوہ ملتان سٹی ھسپتال میں ڈاکٹر اعجاز احمد سے بھی مل سکتے ھیں..

دوسری طرف لڑکیاں بھی اگر انکی ماہواری ٹھیک نہیں یا کوئی اور مسئلہ ہے تو اپنی دونوں اووریز Ovaries اور فلاپئین ٹیوبز کا ٹیسٹ کروا لیں کہ انکی صحت کیسی ہے؟
کسی ماہر تجربہ کار ریڈیالوجسٹ سے Obstetrical الٹرا ساؤنڈ کروا لیں۔

کیونکہ یہ اووریز ہی انڈے پیدا کرتی ہیں آگے فلاپئین ٹیوبز Fallopian tubes کے رستے ماں کے رحم میں آتے ہیں۔ اووریز اور فلاپئین ٹیوبز اگر ٹھیک نہ ہوں اور ان میں کوئی پیچیدہ مسئلہ ہو تو لڑکی کے ماں بننے کے چانس بہت کم ہوتے ہیں۔ شادی سے پہلے ہی اگر فرٹیلیٹی ٹیسٹ دونوں میاں بیوی کروا لیں تو انکے لیے آگے پلاننگ کرنا بہت آسان ہوگا کہ وہ بچہ کب پیدا کریں گے۔ دونوں میں سے ایک اگر مکمل بانجھ ہو تو دوسرے کو ضرور بتائے۔ ہمارے ہاں بے اولادی کو ہمیشہ عورت سے جوڑا جاتا ہے جبکہ سٹڈیز اور ریسرچز کہتی ہیں.

کہ سو میں سے 35 فیصد مرد بانجھ پن کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی برابر تعداد 35 فیصد ہی خواتین بانجھ ہوتی ہیں۔ 20 فیصد حمل نہ ہونے کی وجوہات دونوں کے بلکل ٹھیک ہونے پر بھی ہوتی ہیں بس مرد کے تولیدی خلیات اور نارملی بیضے ملاپ نہیں کر پاتے۔ اور باقی 10 فیصد نامعلوم وجوہات ہیں جنہیں ہم مسلمان یہی کہتے ہیں کہ اللہ نے قسمت میں ہی اولاد کی نعمت نہیں لکھی۔

پاکستان ڈیمو گرافک اینڈ ہیلتھ سروے کی 2019-2020 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 22 فیصد لوگ والدین نہیں بن پاتے۔ اور یہ ریشو دنیا بھر میں 15 فیصد ہے۔

دوسرا ٹیسٹ جو کروانا ہے وہ بلڈ گروپ کا ٹیسٹ کروانا ہے اگر دونوں کا بلڈ گروپ ایک ہو تو انکا rhesus factor جسے آر ایچ فیکٹر بھی کہتے ہیں معلوم کیا جاتا ہے وہ ابھی ایک جیسا ہے کہ نہیں۔ اگر نہیں تو ماں کو ڈاکٹر کی ہدایت پر پہلے حمل میں یا دوسرے حمل سے پہلے ایک انجیکشن 7 ہزار روپے کا لگتا ہے جس سے بچے کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ اگر وہ نہ لگے تو بچے کو خون کی کوئی بھی بیماری ہو سکتی ہے جیسے sickle cell anemia ہیمو فیلیا یا کوئی اور بیماری۔

اگر زوجین میں سے خاتون کا آر ایچ نیگیٹو اور مرد کا آر ایچ پازیٹو ہو تو ایسی صورت میں ہر زچگی کے فورا بعد نوزائیدہ کا بلڈگروپ چیک کیا جاتا ہے ۔ بچہ اگر والد کے گروپ پر آر ایچ پازیٹو ہو تو زچہ کو اینٹی ڈی ٹیکہ لگایا جاتا ہے جس کی قیمت 4 سے 7 ہزار رک ہو سکتی ہے ۔ یہ ٹیکہ اگلے حمل کو محفوظ بناتا ہے۔

تیسرا ٹیسٹ ہے تھیلیسیمیا کا اگر دونوں میں ایک کو مائنر تھیلسمیا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں اور اگر دونوں کو مائنر تھیلسمیا ہے تو بچہ میجر تھیلیسیمیا کے ساتھ پیدا ہوگا۔ ایسے بچوں کے خون میں ہیمو گلوبن لیول بہت کم ہوتا ہے وہ جتنی عمر زندہ رہیں انہیں ہر ماہ خون لگتا ہے۔ دونوں میں سے ایک اگر میجر تھیلیسیمیا کا مریض ہے اور ڈاکٹر اجازت دیں تو شادی کرکے بچے بھی پیدا کر سکتا ہے ہر کیس ایکدوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ تھیلیسیمیا ٹیسٹ ضرور کروائیں ورنہ آپ شادی کے بعد کسی بھی بڑے مسئلہ میں پڑ سکتے ہیں۔ یہ بچے اکثر خون لگنے کے باوجود بھی فوت ہو جاتے ہیں۔ احتیاط سے اس مرض سے بچا جا سکتا ہے۔

چوتھے ٹیسٹ کی قسم ہے STDs یعنی sexually transmitted diseases۔ شادی سے پہلے لڑکے لڑکی کے اگر کسی سے جنسی تعلقات رہے ہوں تو اسکے پارٹنر سے بھی اسے چند بیماریاں لگ سکتی ہیں جن میں human immunodeficiency virus) جسے HIV وائرس کہتے ہیں جو ایڈز کا سبب بنتا۔ مزید ہیپاٹائٹس بی اور سی بھی اسی وجہ سے ہو سکتا ہے یہ سب ٹیسٹ بھی ضرور کروائیں۔ یہ پرسن ٹو پرسن لگنے والی بیماریاں ہیں.۔

پانچواں اور آخری وہ ٹیسٹ ہے جو دائمی یا آپکے خاندان میں کوئی موروثی بیماری ہو جیسے دل کے امراض، شوگر، گردوں کے مسائل، خون کی بیماریاں جیسے ہیمو فیلیا جس میں کٹ لگنے پر خون جمتا نہیں اور مریض کی موت تک واقع ہو سکتی ہے۔ الغرض کوئی بھی مرض آپکے والدین کو دائمی ہو تو اپنا وہ ٹیسٹ ضرور کروائیں۔.

ان سب ٹیسٹوں کے بعد آپ کے لیے نئی زندگی شروع کرنا اور اسے خوشی سے لیکر چلنا بہت ہی آسان ہوجائے گا۔ ان ٹیسٹوں پر زیادہ سے زیادہ مرد کے 5 ہزار روپے لگیں گے اور خاتون کے 10 سے 15 ہزار روپے۔.

کچھ جینو ٹائپ ٹیسٹ ہوتے ہیں جن سے معلوم ہوتا کہ والدین کے جین میں اگر کوئی خرابی ہے تو وہ بچوں کو منتقل ہونے کے کتنے چانسز ہیں۔ آپ یہ سمجھیں کہ جینز ایک سافٹ ویئر ہوتا ہے جو بلکل ویسے ہی والدین huسے بچوں میں انسٹال ہوجاتا ہے۔ کسی بھی ایک خراب جین سے کوئی بھی معذوری ہو سکتی ہے۔ یہ ٹیسٹ بھی کروا لیں تو بہتر ہے۔.

یہ پوسٹ ڈاکٹر ایم اے رحمان صاحب مخدوم پور والے نے شیئر کی..

مجھے بہت اچھی لگی اور بہت ضروری لگی اس لیے میں بھی شیئر کر رہی ہوں اگاہی کی نیت سے اپ بھی شیئر کیجئے تاکہ اچھی بات اگے تک پہنچے...

حنیفہ کا بیٹا🥺🥺🥺🥺🥺🥺🥺🥺))) اچھا بھائی یہاں ایک بات تو دماغ اور کان کھول کے سن لیں جن لوگوں کو مسئلہ ہے نا میری اردو سے اور...
31/12/2025

حنیفہ کا بیٹا

🥺🥺🥺🥺🥺🥺🥺🥺

))) اچھا بھائی یہاں ایک بات تو دماغ اور کان کھول کے سن لیں جن لوگوں کو مسئلہ ہے نا میری اردو سے اور پوسٹ سے تو مہربانی کریں. اور میری پوسٹ پڑھ کر اپنا وقت ضائع نہ کریں..
☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️

کل کے دن میرے کلینک پہ ایک ایسا واقعہ اور ایسا درد بھرا لمحہ ہوا جس نے ایک لمحے کے لیے مجھے چونکا کے رکھ دیا...

یہ ایک بالکل سچی کہانی ہے... خانیوال سے تعلق رکھنے والی حنیفہ نام کی ایک ماجی کل میرے پاس ائی... ان ماں جی کی چار بیٹیاں تھی اور ایک بیٹا تھا.. تقریبا تین ماہ پہلے وہ پہلے بھی میرے پاس ائی تھی اور اس ٹائم میں نے انہیں بتایا تھا کہ ان کا کالے یرقان سے جگر سکڑ چکا تھا اور پیٹ میں پانی پڑنا شروع ہو چکا تھا.... ماں جی کو دوائیاں شروع کرا دی گئی اور وہ بہتر بھی ہو گئی... اس کے بعد تین ماہ بعد کل وہ دوبارہ واپس ائیں اور پتہ لگا کہ انہوں نے کالے یرقان کا بڑا ٹیسٹ پی سی ار بھی اب تک نہیں کرایا تھا..
میں نے ان کو چیک چیک کیا اور حالات کے بارے میں سمجھایا.. مریضہ کو کالے پاخانے شروع ہو چکے تھے....
جو بڑی خطرناک حالت ہوتی ہے کالے یرقان کے مریض کے لیے..
اور یہ بڑی ہی شدید ایمرجنسی ہوتی ہے...

تکلیف کا عالم یہ تھا کہ جب میں نے ان کو بتایا کہ ان کو داخل کرنا پڑے گا اور ان کے اینڈوسکوپی کرانے کی ضرورت پیش ا سکتی ہے
. مریض کی بیٹی رونے لگی.. اور اس نے روتے ہوئے بتایا ان کی ماں جی کا ایک ہی بیٹا تھا جو ان کو چھوڑ کر چلا گیا اپنی پسند کی شادی کی اور مکمل طور پہ لاہور میں ہو کر رہ گیا.. اب بیگم کے ساتھ رہتا ہے اور ساتھ ساتھ ہوگا کبھی ماں کو ملنے نہیں ایا اور نہ ہی ماں سے بات کرتا ہے... ماں جی نے کئی بار مختلف نمبروں سے رابطہ بھی کیا ہے لیکن اس کی بیگم ان کی اواز سن کر فون بند کر دیتی ہے نہ ہی بیٹے نے کبھی بہن یا ماں سے رابطہ کیا...

میرے لیے بہت ناقابل یقین تھی اس لیے میں نے کہا ایسا کیسے ہو سکتا ہے ہو سکتا ہے بیچارہ زندہ ہی نہ ہو ورنہ کوئی بھی بیٹا اس طرح کا سلوک اپنی ماں یا بہنوں کے ساتھ نہیں کر سکتا... تو اس لڑکی نے روتے ہوئے کہا کہ یقین کیجیے یہ سچائی ہے..
اس کی انکھوں کے انسو اس کے لہجے کی سچائی کا بیان کر رہے تھے.. میں نے زندگی میں مریضوں کے کبھی بھی گھر والوں سے فون پہ بات نہیں کی لیکن اس ماں کی تڑپ اور اخری وقت میں بیٹے سے ملنے کی خواہش نے میرے بھی ضمیر کو ہلا کر رکھ دیا اور میں نے اس کا فون ملایا... اور واقعی اس عورت نے فون اٹھایا.. اور اس ادمی کی بہن کی اواز سن کر فون کاٹ دیا...
میں نے پھر فون کیا.. اس عورت نے فون اٹھایا اور میری اواز سن کر تھوڑا حیران ہوئی ہے پوچھنے لگے اپ کون بات کر رہی ہیں... میں نے بولا میں ڈاکٹر ہوں جس کے پاس اس ادمی کے بد نصیب ماں ہے.. جو مرنے والی ہے جس کا جگر ختم ہے اور وہ بیٹے سے ملنے کی اس میں تڑپ رہی ہے .....
اس عورت نے فون کاٹ دیا کہ مر جائے.
تکلیف کا عالم تھا اور اس عورت کی انکھوں کی تکلیف میں بیان ہی نہیں کر سکتی... میں خود ایک لمحے کے لیے بس خاموش ہو کے رہ گئی اور سوچنے لگی کہ یہ کیسی عورت ہے... کوئی عورت اتنی ظالم کیسے ہو سکتی ہے... کوئی عورت اتنی بڑی فرعون کیسے بن سکتی ہے... کوئی ماں ہو کر کر ایک ماں سے اس کا بیٹا کیسے چھین سکتی ہے.
لیکن پھر میں نے صبر سیکھا کیونکہ جب میں نے اس عورت سے فون پر بات کی تو اس عورت کی گود میں بھی ایک معصوم سا بچہ تھا جو رو رہا تھا.. اور میں نے اسے کہا کہ اللہ کرے کہ یہ بھی بڑا ہو کر حنیفہ کا بیٹا بنے.... اور تمہارے اگے بھی وہی ائے جو تم نے دوسروں کے ساتھ کیا
.
اگر بیٹے ایسے ہی ہوتے ہیں تو حنیفہ کا بیٹا بننے سے بہتر ہے کہ بیٹا ہوئی نہ انسان بے اولاد بہتر ہے اگر اولاد ہی انسان کے ساتھ وفا نہ کرے...

اللہ تعالی ہر مسلمان کو بچائے کہ وہ کبھی بھی حنیفہ کا بیٹا نہ بنے اور اللہ کسی کو بھی حنیفہ کے بیٹے جیسی اولاد نہ دے....

اگر اپ اولاد والے ہیں تو اپ کا کیا خیال ہے.... کیا ایسے لوگ زندگی میں خوش رہ سکتے ہیں اور اپ کے خیال میں ایسی اولاد کے ساتھ انسان کیا کرے.....

اگر اپ مرد ہیں تو اپ کے خیال میں کیا ایسی مجبوری ہو سکتی ہے ایسے مرد کی جو اپنی ماں کو ہی چھوڑ دے....

ہم کس طرف جا رہے ہیں باحیثیت معاشرہ....

اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کیجئے گا
.

30/12/2025

اج کی پوسٹ بہت خاص
اپ کے گھر میں ہر شخص اس مرض کا شکار ہو سکتا ہے...

جوڑوں میں درد

کہانی شروع ہوتی ہے عبدالحکیم سے ایک جوان خاتون میرے پاس ائی. اس کو دو سال سے جوڑوں کا درد تھا تھا اور بہت ڈاکٹروں کے دھکے کھائے ہوئے تھے اور اس کو ٹائیفائیڈ ٹی بی پتہ نہیں کون کون سی بیماریاں بنا بنا کے کون کون سی دوائیاں کرائی جا چکی تھی مسئلہ یہ تھا کرائی جا چکی تھی مسئلہ یہ تھا کہ جوڑوں میں درد شروع ہوتا اور بخار بھی 100 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاتا تھا اور بچی کی حالت انتہائی سنگین ہو جاتی تھی.. مریضہ کو جب میں نے چیک کیا تو سب سے بڑا مسئلہ مجھے یہی لگا کہ خدانخواستہ اس کو خونی گھنٹیا ہوا ہے.. میرے لیے بحیثیت ڈاکٹر اس کی تشخیص سے بھی زیادہ مشکل فیملی کو اس مرض کے بارے میں سمجھانا ہے اور ایک ایک بات سمجھانا ہے عموما ڈاکٹر کے پاس کتنے عرصے بعد چیک اپ کے لیے انا پڑے گا دوائی کتنا عرصہ کھانا پڑے گی....

یقین کیجئے یہ وہ سوالات ہیں جو خدا نہ کرے اگر اپ میں یا ہم سے جڑے کسی شخص کو گھنٹیا ہوا ہوں تو ہم ایک ایک سوال ڈاکٹر سے پوچھنا پڑھیں گے اور افسوس یہ ہے کہ کچھ ڈاکٹر حضرات اس کے بارے میں مریض کو پوری طرح سے گائیڈ نہیں کرتے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مریض دوائی چھوڑ دیتا ہے اور جو میرے پاس مریض اتے ہیں اکثر اوقات کے ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہوتے ہیں اور مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ یہ بیماری ایسی ہے جس میں اگر یقین کیجئے یہ وہ سوالات ہیں جو خدا نہ کرے اگر اپ میں یا ہم سے جڑے کسی شخص کو گھنٹیا ہوا ہوں تو ہم ایک ایک سوال ڈاکٹر سے پوچھنا پڑھیں گے اور افسوس یہ ہے کہ کچھ ڈاکٹر حضرات اس کے بارے میں مریض کو پوری طرح سے گائیڈ نہیں کرتے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مریض دوائی چھوڑ دیتا ہے اور جو میرے پاس مریض اتے ہیں اکثر اوقات کے ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہوتے ہیں اور مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ یہ بیماری ایسی ہے جس میں اگر بروقت علاج شروع کیا جائے تو مریض کے ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہونے سے بچ سکتے ہیں . اچھا افسوس کا عالم یہ ہے کہ انپڑ لوگوں کو تو انسان نہیں سمجھانا مشکل ہے لیکن پڑھے لکھے لوگ جو ہوتے ہیں وہ بھی بے وقوفوں کی طرح بات کو نہیں سمجھتے ہیں اور میرے پاس بہت سارے پڑھے لکھے لوگ بھی جو ٹیڑھے کر کے ا رہے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں جی ہم سے دوائی نہیں کھائی جاتی اور نتیجہ کیا ہوتا ہے کہ ہاتھ پاؤں ٹیڑے میڑے اور پھر پھیپڑے سکڑے ہوئے ہوتے ہیں اور حالت بہت خراب ہوئی ہوئی ہوتی ہے.. اور اس ٹائم ہمارے پاس کوئی حل بھی نہیں
اور اس ٹائم وہ شور ڈالتے ہیں کہ اب کسی طرح ہمیں نارمل کر دو اور ہم کسی کے محتاج نہیں رہنا چاہتے... رہتا..

تو اج کی پوسٹ اپ کے نام اب ہم کچھ تفصیل سے بات کریں گے گھنٹیا وا کے بارے میں اور ہمیں کتنا عرصہ علاج کرنا ہے..

جوڑوں کا درد نظر انداز نہ کریں

– رومیٹائڈ آرتھرائٹس، عام آرتھرائٹس اور اینکیلوزنگ اسپونڈلائٹس کی مکمل رہنمائی
اکثر لوگ جوڑوں کے درد کو بڑھتی عمر، تھکن یا موسم کی تبدیلی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ بعض اوقات یہی درد خطرناک بیماریوں کی ابتدائی علامت ہوتا ہے، جیسے رومیٹائڈ آرتھرائٹس اور اینکیلوزنگ اسپونڈلائٹس (AS)۔

میں بطور ڈاکٹر آپ کو سادہ الفاظ میں ان بیماریوں کے بارے میں آگاہ کرنا چاہتی ہوں تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے

۔
🔹 آرتھرائٹس کیا ہے؟

آرتھرائٹس ایک عام اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے جوڑوں کی سوزش۔ اس کی کئی اقسام ہیں، جن میں سب سے عام:
اوسٹیو آرتھرائٹس
رومیٹائڈ آرتھرائٹس
اینکیلوزنگ اسپونڈلائٹس

🔹 رومیٹائڈ آرتھرائٹس

(Rheumatoid Arthritis)
یہ ایک آٹو امیون بیماری ہے، جس میں جسم کا مدافعتی نظام خود اپنے جوڑوں پر حملہ کر دیتا ہے۔
علامات:
صبح کے وقت جوڑوں میں اکڑن (ایک گھنٹے سے زیادہ)
ہاتھوں اور پیروں کے چھوٹے جوڑوں میں درد اور سوجن
دونوں طرف ایک جیسے جوڑ متاثر ہونا
مسلسل تھکن
ہلکا بخار
وزن میں کمی
⚠️ اگر علاج نہ کیا جائے تو جوڑ مستقل خراب ہو سکتے ہیں۔

🔹 اینکیلوزنگ اسپونڈلائٹس (AS)

یہ بیماری زیادہ تر نوجوان مردوں اور خواتین میں ہوتی ہے اور ریڑھ کی ہڈی کو متاثر کرتی ہے۔
علامات:
کمر کے نچلے حصے میں مسلسل درد
صبح کے وقت سختی
آرام سے درد بڑھنا، حرکت سے کم ہونا
گردن اور کندھوں میں اکڑاؤ
وقت کے ساتھ ریڑھ کی ہڈی کا جھک جانا
🔹 ان بیماریوں کی وجوہات:
جینیاتی عوامل
مدافعتی نظام کی خرابی
سگریٹ نوشی
انفیکشن
ہارمونی تبدیلیاں
🔹 ضروری ٹیسٹ (Diagnosis)
اگر آپ کو درج بالا علامات ہوں تو یہ ٹیسٹ کروانا ضروری ہیں:
خون کے ٹیسٹ:
RA Factor
Anti-CCP
ESR
CRP
HLA-B27 (خاص طور پر AS کے لیے)
امیجنگ:
X-ray
MRI (خاص طور پر کمر کے درد میں)
🔹 علاج (Treatment)
❗ یاد رکھیں: ان بیماریوں کا مکمل علاج نہیں مگر بروقت علاج سے بیماری کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
ادویات:
Pain Killers (درد کم کرنے کے لیے)
Anti-inflammatory دوائیں
DMARDs (Methotrexate وغیرہ)
Biologic injections (شدید کیسز میں)
⚠️ دوائیں صرف ڈاکٹر کے مشورے سے لیں۔
🔹 فزیوتھراپی اور ورزش:

روزانہ ہلکی ورزش
اسٹریچنگ
تیراکی
درست پوسچر
🔹 طرزِ زندگی میں تبدیلی:
وزن کنٹرول کریں
سگریٹ ترک کریں
متوازن غذا
کیلشیم اور وٹامن D
مناسب نیند
🔹 کن علامات پر فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں؟
درد مسلسل بڑھتا جائے
جوڑوں کی سوجن کم نہ ہو
صبح کی اکڑن بڑھتی جائے
کمر درد تین ماہ سے زیادہ رہے
🌿 پیغامِ صحت:
جوڑوں کا درد قسمت نہیں، بیماری ہو سکتا ہے۔
جلدی تشخیص = بہتر زندگی
اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو یہ علامات ہوں تو خود علاج نہ کریں، ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

📌 یہ پوسٹ شیئر کریں تاکہ دوسروں کو بھی بروقت آگاہی مل سکے۔


اپنا اور خود سے جوڑے لوگوں کا خیال رکھیں مجھے دعاؤں میں یاد رکھیں

اپ کی بہن .
ڈاکٹر عائشہ جلیس
ابراہیم کلینک خانیوال. 03036519267
(عوامی صحت آگاہی)

دمے کی مریض جو وہاڑی سے میرےپاس ائی اور ادھی ڈاکٹر بن گئی تھی...😷😷😷😷😷😷😷😷😷😂ماں جی کو دمے کا مسئلہ 17 سال سے تھا ہر سردی ر...
30/12/2025

دمے کی مریض جو وہاڑی سے میرے
پاس ائی اور ادھی ڈاکٹر بن گئی تھی...

😷😷😷😷😷😷😷😷😷😂

ماں جی کو دمے کا مسئلہ 17 سال سے تھا ہر سردی روزانہ سٹیرائڈ والا ٹیکا لگاتے💉💉💉💉💉 اور تین گھنٹے سکون کے گزرتے اس کے بعد پھر دوبارہ ٹیکا لگواتی... ڈسپنسر کو روزانہ 200 روپے دیتی ہوں اور وہ ٹیکہ لگا جاتا.... ڈاکٹر کے پاس بھی چکر لگائے وہاڑی ہسپتال میں بھی چیک کرایا.... لیکن دم کنٹرول نہیں ہوا چار سال سے کبھی کسی ڈاکٹر کے پاس کبھی کسی ڈاکٹر کے پاس جاتی ہے لیکن دما کنٹرول نہیں ہو رہا تھا...
😭😭😭😭😭

ابھی ان کی بیٹی کا علاج میرے سے ہوا اب عمل کے دوران اس کو ڈاکٹر نے جواب دے دیا اور اکسیجن کی کمی سے اس کو اور اس کے بچوں کو خطرہ تھا تب میں نے اس کا سانس کا علاج کیا..... اور اب وہ بیٹی اپنی ماں کو اپنے ساتھ لے کر ائی کہ امی کا دمہ ٹھیک نہیں ہو رہا ہے....

حیرت کے بعد یہ تھی کہ ماں جی کے پاس کوئی پرانا ریکارڈ نہیں تھا ڈاکٹر نے ایچ والو ائی کا ٹیسٹ کرایا ہوا تھا اور ایک اور ٹیسٹ تھا اس کے علاوہ کوئی بھی ٹیسٹ نہیں تھا نہ خون کا ٹیسٹ نہ کوئی الرجی کا ٹیسٹ بس دوائیاں لے لیتی تھی اور اس کے بعد کوئی بتا نہیں کہ یہ کب تک ٹھیک ہوگا
ہم نے ان کا ایکسرے کرایا تو پتہ لگا کام خراب ہے...
🩻🩻🩻🩻🩻🩻🩻🩻🩻
اج ہم نے ان کے ٹیسٹ کرائے ہیں تو پتہ لگا کہ پھیپڑے سکڑنے کی طرف جا رہے ہیں..
🫁🫁🫁🫁🫁🫁🫁🫁
بچے کو بلا کے سمجھایا انجیکشن شروع کرائے اور اللہ سے امید ہے کہ ماں جی انشاءاللہ تعالی بہتر ہو جائیں گی...
.

🥺🥺🥺🥺🥺🥺🥺🥺
یاد رکھیے گا دم علاج کے قابل ہے یہ لاعلاج مرض کبھی بھی نہیں ہے بس وقت پہ علاج بہت ضروری ہے اور اس کا کنٹرول حاصل کرنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے ورنہ انجیکشن لگوا لگوانا کبھی بھی دمے کا حل نہیں ہے....
☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️

دعاؤں میں یاد رکھیں
اپ کی بہن ڈاکٹر عائشہ جلیس
🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️
ابراہیم کلینک

پولیس لائن روڈ خانیوال.
0303 6519267
#نمونیا

عبرت کا انجام🥺🥺🥺🥺🥺🥺🥺🥺اج کی کہانی ایک ایسے شخص کی جو اپنی ڈاکٹری سے خود کو برباد کر بیٹھا....🩺🩺🩺🩺🩺🩺🩺🙄🙄26 سالہ نوجوان فیکٹ...
29/12/2025

عبرت کا انجام

🥺🥺🥺🥺🥺🥺🥺🥺

اج کی کہانی ایک ایسے شخص کی جو اپنی ڈاکٹری سے خود کو برباد کر بیٹھا....
🩺🩺🩺🩺🩺🩺🩺🙄🙄

26 سالہ نوجوان فیکٹری کام کرتا تھا کراچی میں.. بخار کھانسی رہنے لگا تو بے ٹھیک نہیں ہو رہی تھی تین ماہ میں کافی وزن کم ہ ہو گیا .. گھر والے بہت پریشان ہوں گے کبھی بخار ہو جاتا کبھی ٹھنڈے پسینے اتے بی بی لو رہنا شروع ہو گیا بھوک لگنا بند ہو گئی🤒🫩😴🤒🫨 جو دیکھتا گیا تھا بھائی تو دو ہڈیوں کا ڈانچہ, 👹👹بن گیا ہے... کام میں دل نہ لگنے لگا اور نہ ہی ہمت رہنے لگی کہ وہ کام کر پاتا...
🤕🤢🤧🥵🤒🤒

بالاخر گھر والوں نے اس کو خانے وال وال واپس بلا لیا... جب وہ میرے پاس ایا اس وقت بہت کمزور تھا اور یہ اج چھ ماہ پہلے کی بات ہے اس وقت اس لڑکے کی حالت بڑی خطرناک سی تھی اور اس تو ایکس رے 🩻🩻کرایا تو کافی خراب ایکسرے تھا🩻🩻 اس بچے کو بلغم کیا ٹیسٹ کرانے کے بعد اس کو ٹی بی کی💊💊💊 دوائی شروع کرا دی.. اس کو میں نے بہت تسلی سے سمجھایا کہ اپ نے چھ ماہ مکمل کورس کرنا ہے دو ماہ بڑی گولی چلے گی اور چار مہینے چھوٹی گولی چلے گی...
💊💊💊💊💊💊💊💊💊💊💊💊💊💊💊💊💊💊💊💊💊💊

🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️🧑‍⚕️

میری ایک عادت ہے میں ہمیشہ مریض کو سمجھاتی ہوں کہ اپ نے چھ ماہ کا کورس مکمل کرنا اور بیچ میں نہیں چھوڑنا اور کون کون سے ٹیسٹ کرانے ہیں اور کیا کیا مسائل ہو سکتے ہیں تاکہ وہ پریشان ہونے سے ٹی بی کا علاج بھیج میں نہ چھوڑ دے..
☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️

اس لڑکے کے اندر تھوڑی بہت نیم حکیم خطرہ جان والی صفت موجود تھی. 🧑‍🔬اور سمجھانے کے باوجود بھی. اس بے وقوف بچے نے نہ دوبارہ چیک اپ کے لیے ایا اور اب جب دوبارہ ایا تو حالت یہ تھی اب اس کو mdrtb ہو گئی ہے اور اس کا علاج 18 مہینے ہوتا ہے ....

😷😷😷😷😷😷😷😷😷😷😷

مجھے بہت افسوس ہوتا ہے ایسے لوگوں پہ جن کو اتنا سمجھایا جائے اور پھر وہ اپنی بے وقوفی سے اپنے اپ کو عبرت کا نشان بنا لیں اور اب وہ جوان بچہ اور پھیپھڑوں میں اتنا نقصان ہو چکا ہے کہ وہ علاج کے باوجود بھی مکمل طور پر کام کاج کے قابل نہیں ہو سکے گا اور کہیں نہ کہیں اس کے اندر وہ کمزوری اور وہ مسائل باقی رہیں گی جن سے وہ مکمل نارمل لائف نہیں جی سکے گا....

😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭

ایسے لوگوں کے بارے میں اپ کیا کہنا چاہیں گے . بہت دکھ ہوتا ہے..

ایک علاج کے قابل بیماری جب لاعلاج بنتی ہے تو ڈاکٹر واقعی دکھی ہوتا ہے اگر اس کے اندر انسانیت ہو...
ٹی بی علاج کے قابل بیماری ہے اور اس کا علاج چھ مہینے اگر یہ پھیپھڑوں کی ٹی بی ہو اور کوئی مسئلہ نہ ہو....

☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️☝️

اور یہ بات لازمی شیئر کریں تاکہ کوئی اور مریض دوبارہ یہ غلطی نہ کر بیٹھے .....

🙄🙄🙄🙄🤔🤔🤔🤔🤔🤔

اپنا اور اپنے سے جڑے لوگوں کا خیال رکھیں.. مجھے دعاؤں میں یاد رکھیں اپکی بہن ❤️❤️❤️❤️❤️❤️
ڈاکٹر عائشہ جلیس
ابراہیم کلینک خانیوال
0303 6519267

#نمونیا

Address

Https://maps. App. Goo. Gl/ymGMWmDfUvF7Z63a 7
Khanewal

Opening Hours

Monday 14:00 - 17:00
Tuesday 14:00 - 17:00
Wednesday 14:00 - 17:00
Thursday 14:00 - 17:00
Friday 14:00 - 17:00
Saturday 14:00 - 17:00

Telephone

+923036519267

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Ayesha Jalees posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Ayesha Jalees:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category