17/10/2025
دمہ اور سی او پی ڈی کے لئے استعمال ہونے والے انہلیرز ۔
انہلیر ایک ایسی ڈیوائس ہے جس میں سانس کی بیماری کے لئے دوائی ہوا کی صورت میں موجود ہوتی ہے جس کو مریض کھینچ کر اپنے سینے کے اندر لے جاتاہے۔ اس ڈیوائس کی خوبی یہ ہے کہ اس میں موجود دوائی براہ راست مریض کے سانس کی نالیوں میں پہنچ جاتی ہے اور وہاں سے خون میں جذب ہو جاتی ہے۔اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ داوئی کی بہت کم مقدار مریض کے جسم کے اندر جاتی ہے جس کا اثر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں مریض جو دوائی لیتاہے وہ مائکرو گرام میں ہوتی ہے جبکہ گولی/ٹیبلٹ اور انجکشن کی صورت میں لینے والی دوائی ملی گرام اور گرام میں ہوتی ہے مطلب انہلیرز میں موجود دوائی گولی میں موجود دوائی سے ایک ہزار گنا کم ہوتی ہے ۔ظاہر ہے اس کے سائڈ ایفیکٹس/مضر اثرات بھی اتنے ہی کم ہونگے۔ انہلیرز کی صورت میں لینے والی دوائی کا اثر براہ راست سانس کی نالیوں پر ہوتا ہے اور بہت کم وقت میں شروع ہو کر کئے گھنٹوں تک برقرار رہتا ہے۔ انہلیرز سے پھیپھڑوں میں موجود انفلیمیشن کم ہوجاتی ہے، سانس کی نالیاں کھل جاتی ہیں اور بلغم باہر نکل جاتا ہے۔ انہلیرز لینے کے تھوڑی دیر بعد(تقریبا آدھا گھنٹہ بعد) سانس کی نالیاں کھل جاتی ہیں اور مریض کافی بہتر محسوس کرتا ہے ۔
انہلیرز ڈیوائسز کئی طرح کے ہوتے ہیں مثلا میٹر ڈوز انہلیرز (MDIs ), ڈرائی پاؤڈر انہلیرز (DPIs ) اور سوفٹ موئسٹ انہلیرز (SMIs) وغیرہ۔ اس کے علاوہ ایمرجنسی کی صورت میں جبکہ مریض انہلیرز لینے کے قابل نہ ہو تو نیبولائزر کے ذریعے بھی دوائی براہ راست پھیپھڑوں میں پہنچائی جاتی ہے۔
انہلیرز میں ایک، دو یا تین اقسام کی دوائی بیک وقت موجود ہوسکتی ہیں۔ کونسا مریض کس انہلیر کو استعمال کریں اس کا انحصار مریض اور ڈاکٹر کی چوائس اور اس کو استعمال کرنے کی صلاحیت پر ہے۔ کچھ لوگ میٹر ڈوز انہلیرز(جن کو عام طور پر پمپ یا اسپرے بھی کہا جاتا ہے ) پسند کرتے ہیں جبکہ دوسرے لوگ ڈرائی پاؤڈر انہلیرز(جن کو مشین والا کیپسول بھی کہا جاتا ہے ) پسند کرتے ہیں۔ مریض کے پسند نا پسند کے علاوہ ایک ٹسٹ بھی کیا جاتا ہے جس کو انسپائریٹری فلو ریٹ کہا جاتا ہے جو کہ بتاتا ہے کہ مریض کے لئے کونسی ڈیوائس موزوں ہے۔ مریض جو بھی ڈیوائس استعمال کرتا ہو یہ ضروری ہے کہ متعلقہ ڈاکٹر اس کو استعمال کرتے ہوئے چیک کریں کہ آیا مریض اس کو صحیح طور پر استعمال کرتا ہے یا نہیں۔ جینا گائیڈ لائنز کے مطابق تقریبا 80 فیصد مریضوں کا انہلیرز استعمال کرنے کا طریقہ صحیح نہیں ہوتا اور تقریبا 75 فیصد مریض انہلیرز کو ڈاکٹر کے تجویز کردہ دورانیے / وقفے سے کم استعمال کرتے ہیں۔ مریض کو طریقہ استعمال بتانے کے علاوہ ڈیوائس میں دوائی موجود ہونے یا ختم ہونے کا طریقہ کار بھی بتانا ضروری ہے۔
انہلیرز کے بارے میں لوگوں میں موجود غلط توہمات۔
1۔ کچھ مریضوں کے مطابق انہلیرز استعمال کرنے سے انسان ان کا عادی ہوجاتا ہے اور پھر زندگی بھر ان کو استعمال کرنا پڑے گا۔بات دراصل یہ ہے کہ انہلیرز سانس کی دائمی بیماری مثلا دمہ یا سی او پی ڈی میں تجویز کئے جاتے ہیں۔ چونکہ یہ دونوں بیماریاں دائمی ہوتی ہیں یعنی اکثر و بیشتر مریض کو سانس کی تکلیف رہتی ہے اور اگر مریض دوائی لیتا رے تو اس کی بیماری کنٹرول میں رہتی ہے اور اس کی شدت کم ہوتی ہے لیکن اگر دوائی نہ لے تو نہ صرف یہ کہ بیماری کنٹرول نہیں رہتی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شدت بھی بڑھ جاتی ہے اور شدید دورے پڑنے (ایکسزاسربیشن ) کی واقعات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس کو یوں سمجھایا جاسکتا ہے کہ اگر ایک شخص کو بلڈ پریشر یا شوگر کی بیماری ہو اور وہ دوائی لینے سے اس لئے انکار کرتا ہو کہ پھر دوائی کی عادت پڑ جائے گی؟ تو اگر اس صورت میں دوائی استعمال نہ کیجائے تو ظاہر ہے مریض کو فالج، ہارٹ اٹیک، گردے فیل ہونے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
2۔ انہلیرز میں سٹیرائڈز ہوتے ہیں اور اس سے میرے گردے خراب ہو جائے گے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر انہلیر میں سٹیرائڈز نہیں ہوتے اور جن میں ہوتے بھی ہیں وہ انتہائی کم مقدار میں ہوتے ہیں (مائکرو گرام میں جیساکہ اوپربیان کیاگیا) اور چونکہ ان کا براہ راست اثر زیادہ ہوتا ہے اور باقی جسم میں بہت کم مقدار میں جذب ہو جاتے ہیں اس لئے اس کے سائیڈ ایفیکٹس بھی بہت کم ہوتے ہیں۔
3۔ انہلیرز کے بارے میں یہ غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے کہ یہ پھیپھڑوں کی شدید بیماری اور آخری سٹیج میں استعمال کیے جاتے ہیں جو کہ سراسر غلط بات ہے۔ انہلیرز دمہ یا سی او پی ڈی کے ابتدائی مراحل میں زیادہ فائدہ مند ہوتے ہیں۔جب یہ بیماریاں زیادہ بگڑ جاتی ہیں تو انہیلرز کا فائدہ بھی کم ہوجاتا ہے اور پھر دوسری ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے۔
4۔ انہلیرز کے مقابلے میں گولی یا انجکشن کا فائدہ زیادہ ہوتا ہے۔ جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔جب ہم گولی نگلتے ہیں تو وہ معدے سے ہوتی ہوئی آنتوں میں جاکر خون میں شامل ہوتی ہے اور اس کے بعد پھیپھڑوں میں پہنچ جاتی ہے۔ اس دوران تین کام ہوجاتے ہیں ایک تو وقت کا ضیاع ہوتا ہے اور سانس کے مریضوں کے لئے وقت بہت اہم ہوتا ہے۔دوسرا یہ کہ پھیپھڑوں تک پہنچتے پہنچتے دوائی کا زیادہ تر حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔ تیسرا یہ کہ دوائی کی زیادہ مقدار بدن میں جذب ہو کر زیادہ سائیڈ ایفیکٹس کا باعث بنتی ہے۔
5۔ انہلیرز استعمال کرنے سے پھیپھڑے کمزور ہوجاتے ہیں ۔ یہ بالکل برعکس بات ہے۔پھیپھڑے بیماری کی وجہ سے کمزور ہوجاتے ہیں جبکہ انہلیرز کے استعمال سے یہ کمزوری یا تو ختم ہوجاتی ہے یا کم ہوجاتی ہے۔
انہلیرز کے نقصانات۔
آج کل انہلیرز کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے۔ڈاکٹرز بھی ان کو زیادہ تجویز کرتے ہیں اور کچھ مریض اپنی طرف سے بھی ان کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں خاص طور پر ڈرائی پاؤڈر انہلیرز کا۔ ڈرائی پاؤڈر کا استعمال باقی انہلیرز کے مقابلے میں نسبتا آسان ہوتا ہے اس لئے ان کا غیر ضروری استعمال بھی زیادہ ہوتا ہے۔
سانس کے مخصوص امراض مثلا دمہ اور سی او پی ڈی میں
انہلیرز کا استعمال کیا جانا چاہئے اور وہ بھی ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخے کے مطابق۔ کچھ لوگ بیک وقت میٹر ڈوز انہلیرز اور ڈرائی پاؤڈر انہلیرز کا استعمال کرتے ہیں جن میں موجود دوائیاں یکساں ہوتی ہیں۔اس صورت میں ضرورت سے زیادہ دوائی استعمال ہوجاتی ہے جس کے سائیڈ ایفیکٹس بھی زیادہ ہونگے۔
دمہ اور سی او پی ڈی کے علاوہ بہت کم بیماریاں ایسی ہیں جن میں انہلیرز کا استعمال تجویز کیا جاسکتا ہے لیکن کچھ لوگ ایسی بیماریوں کے لئے بھی انہلیرز استعمال کرتے ہیں جن میں ان کا فائدہ تو ہوتا نہیں البتہ الٹا نقصان ہوتا ہے۔ مثلا دل کے مریضوں میں جن کے پھیپھڑوں میں دل فیل ہونے کی وجہ سے پانی آتا ہے(پلمونری ایڈیمیاء) تو ایسے مریضوں کے سانس کی نالیاں پانی کی موجودگی کی وجہ سے تنگ ہوجاتی ہے۔اس صورت میں ایسی دوائی کا استعمال زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے جو بدن سے اضافی پانی نکال سکے(مثلا ڈائیوریٹیکس )۔ دل کے مریضوں کو ایسی دوائی کا فائدہ بھی زیادہ ہوتا ہے جو دل کے دھڑکن کو کم سے کم رکھے جن کو بیٹا بلاکر کہا جاتا ہے۔ انہلیرز میں جو دوائی ہوتی ہے وہ دل کے رفتار کو تیز کرنے کا بھی سبب بنتی ہے جو کہ سانس میں دشواری کا باعث بن سکتا ہے۔
اس کے علاوہ انٹرسٹیشئل لنگ ڈیزیز میں بھی کچھ لوگ انہلیرز استعمال کرتے ہیں جن کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا اور مریض کے جیب پر بھاری پڑتا ہے۔ ٹی بی کی بیماری میں مبتلا افراد کو بھی انہلیرز کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے جو کہ بہت ہی غیر ضروری بلکہ غیر اخلاقی بھی ہے۔