Ali Health Care Clinic

Ali Health Care Clinic And If You Have Any Other Health Problem
Please Write Us. For People Who Love Going To The Gym Staying Fit & Healthy !

A model and excellent center for treatment of Severe Diseases like Hemorrhoid(Piles) Gastritis, Joints Pain
Sexual weakness,Leucorrhoea,Infertility and Other Diseases.

09/10/2017

پھٹکری ایک طرح کا نمک ہوتا ہے جو بازاروں میں باآسانی پاؤڈر اور ڈلیوں کی صورت میں دستیاب ہوتاہے۔ اسکا استعمال پانی صاف کرنے کے لیے یا پھر شیو کروانے کے بعد چہرے پر رگڑ کر جراثیموں سے بچاؤ کے لیے کیا جاتا ہے لیکن اس بات سے آپ شاید ہی واقف ہونگے کہ اسکا استعمال صحت اور خوبصورتی کے لئے بھی کیا جا سکتا ہے۔

داد اورچنبل
پسی ہوئی پھٹکری کو پانی یا سرکے میں ملا کر صبح شام متاثرہ حصے پر لگائیں جلد آرام ا جائے گا۔

کیل مہاسوں اور دانوں سے نجات
کیل مہاسوں اور دانوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے پھٹکری کو پیس کے پانی میں شامل کر کے دانوں اور کیل مہاسوں پر لگائیں بیس منٹ لگا رہنے کے بعد دھو لیں روزانہ یہ عمل کریں لکن اگر پھٹکری لگانے کے بعد جلن محسوس ہو تو فورا دھو لیں اور یہ ٹوٹکا آئندہ مت دوہرائیں۔

نکسیر کے لئے
نکسیر پھوٹنے کے مریض پھٹکڑی کوپانی میں حل کے کے اس کے قطرے ناک میں ٹپکائیں جلد آرام ا جائے گا۔

جھریاں
جھریوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے پھٹکری کے ایک چھوٹے دے ٹکڑے کو گیلا کر کے آہستہ آہستہ اپنے چہرے پر رگڑیں کچھ دیر بعد عرق گلاب سے چہرے کو دھو لیں اسکے بعد موسچرائزر کا استعمال کریں۔

خارش
خارش دوطرح کی ہوتی ہے اور دونوں ہی صورتوں میں تکلیف دہ ہوتی ہے۔پھٹکری جلاکر راکھ بناکراسمیں ایک انڈہ کی سفیدی ملاکر مساج کرنے سے ہر قسم کی خارش میں آرام آجاتاہے۔

دمہ اورکھانسی کا علاج
ایک ماشہ پھٹکڑی کا پاؤڈر صبح و شام ایک گلاس نیم گرم پانی کے ساتھ کھانے سے کھانسی دور ہو تی ہی اور دمہ کی شکایت بھی دور ہو جاتی ہے۔

خشکی سے نجات
سر میں خشکی ہونے کی صورت میں شیمپو کے ساتھ ایک چٹکی پھٹکری اور نمک شامل کر کے سر دھو لیں خشکی ختم ہو جائے گی۔

پھٹی ایڑیاں
پھٹکری کو خالی پیالی میں اتنا گرم کریں کے وہ پگھل کے فوم کی شکل میں ا جائے ٹھنڈا ہونے کے بعد اس میں ناریل کا تیل ملا کے متاثرہ حصوں پر لگیں۔

پسینہ
جن افراد کو زیادہ پسینہ آتا ہو اور وہ اس سے بہت پریشان ہوں ایسے افراد صرف نہاتے وقت پانی کی بالٹی میں پھٹکری دال کے اس پانی سے نہائیں پسینہ نہیں آئے گا۔

زخموں کے لئے
ایک ماشہ پھٹکڑی کو پاؤ بھر گرم پانی میں گھول کر دن میں دو بار زخموں کو دھونے سے زخم سہی ہو جاتے ہیں۔

06/10/2017

ہر وقت چھینکیں آنے کی وجوہات

ہر ایک کو کبھی نا کبھی ایک آدھ چھینک آہی جاتی ہے۔ لیکن اگر کبھی اچانک چھینکیں آنا شروع ہوں اور رکنے کا نام نہ لیں تو طبیعت کو بہت ناگوار گزرتا ہے۔ چھینکیں یوں ہی نہیں آتیںان کے پیچھے کوئی نا کوئی وجہ ہوتی ہے۔
ہماری ناک میں موجود باریک بال باہر سے آنے والی دھول کو روک لیتے ہیں اور اس کو باہر نکالنے کے لیے چھینک آتی ہے۔اگر آپ کو اچانک چھینکیں شروع ہو جائیں تو آپ اس کی وجہ جاننا ضرور چاہیں گے۔

موسمی اثرات:
چھینک آنے کی ایک وجہ الرجی اور موسمی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ جو لوگ موسم سے الرجک ہوتے ہیں ان کو لمبے عرصے تک چھینکیں آتی رہتی ہیں۔ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی کھانسی، چھینکیں، سینہ جکڑنا اور آنکھیں لال ہو جانا موسمی الرجی کی نشانی ہیں۔

نزلے کی شروعات:
اکثر خیال کیا جاتا ہے کہ نزلہ سردیوں کی بیماری ہے۔لیکن ایسا نہیں ہے نزلہ سال کے کسی حصے میں بھی ہوسکتا ہے۔ اور چھینکیں نزلے کی علامات میں سے ایک ہیں۔ چھینکیں آنے کی سب سے عام وجہ نزلہ ہوتا ہے۔

جانوروں کے جسم سے جھڑنے والی خشکی:


اکثر لوگ بچپن میں پالتو جانوروں سے الرجک ہوتے ہیں اور بعض اوقات یہ الرجی بڑے ہونے پر بھی رہتی ہے۔ یہ الرجی جانوروں کے جسم سے جھڑنے والی ایک طرح کی خشکی سے ہوتی ہے۔ جس کی الرجی سے چھینکوں کا دورہ پڑ جاتا ہے ۔ اگر آپ کو یہ چھینکیں اپنے پالتو جانور کے کمرے میں شروع ہوتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کو اس سے الرجی ہو رہی ہے جس کو دور کرنے کے لیے ڈاکٹر کا مشورہ ضروری ہے۔

ٹھنڈ سے نکل کر گرمی میں آجانا:
درجہ حرارت میں بہت زیادہ تبدیلی بھی چھینکوں کا باعث بنتی ہے ۔ اگر باہر نکلنے پر چھینکیں شروع ہو جائیں تو یہ کسی الرجی کی وجہ سے ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر یہ چھینکیں ایک یا دو منٹ بعد رک جائیں تو اس کی وجہ ٹھنڈے سے گرم موسم کی تبدیلی ہوسکتی ہے۔
ایسا خاص طور پر اس وقت ہوتا ہے جب آپ ائر کنڈیشنڈ کمرے سے باہر گرمی میں آجائیں۔

سگریٹ کا دھواں:
سگریٹ کا دھواں بھی ناک میں سوزش پیدا کرکے چھینکوں کا باعث بنتا ہے۔ اگر آپ مستقل طور پر اپنے کمرے یا کسی جگہ پر ہوں جہاں سگریٹ پی جا رہی ہو تو اس کا دھواں آپ کو الرجک کرتا ہے۔

مصالحوں سے الرجی ہونا:
اگر آپ کو کچن میں یا کچھ کھاتے ہوئے مستقل چھینکیں آتی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ کسی مصالحے کی وجہ سے آپ کی ناک میں سوزش ہورہی ہے۔ بعض اوقات بہت زیادہ مصالحہ دار کھانا کھا کر بھی چھینکیں شروع ہو جاتی ہیں۔
اگر آپ کو زیادہ عرصے تک مستقل چھینکیں آتی رہیں تو اس کی وجہ جاننے کے لیے الرجسٹ سے رابطہ کریں تاکہ وہ اس سے متعلق ٹیسٹ کرکے صحیح وجہ بتا سکیں۔ اپنی چھینکوں کی صحیح وجہ جاننے کے بعد ہی آپ ان سے نجات پا سکتے ہیں.

04/10/2017

Asslam.o.Alaykum
Have A Nice Day.

ٹانسلز بچوں میں ہونے والی عام بیماری ہے جبکہ اکثر بڑے بھی اس سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ اکثر وائرل یا بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے ٹانسلز بڑھ جاتے ہیں۔
ٹانسلز کی عام علامات میں گلے کی خراش، بخار، سوجن ہوجانا ، ناک بہنا، نگلنے میں تکلیف ہونا، سانس میں بدبو، کھانسی اور چھینکیں شامل ہیں۔
ٹانسلز کی بیماری کھانسی اور چھینکوں کے ذریعے ایک سے دوسرے کو لگتی ہے اس لیے اس کا فوری علاج ضروری ہوتا ہے۔ یوں تو ٹانسلز کے لیے اینٹی بایوٹکس کا استعمال کرایا جاتا ہے۔لیکن علامات ظاہر ہونے کے ساتھ ہی گھریلو علاج کے ذریعے بھی انفیکشن سے بچا سکتا ہے۔

1۔نمک کا پانی:
نمک کے گرم پانی سے غرارے ٹانسلز کا سب سے عام اور آسان علاج ہے۔ گرم پانی سے گلے کو سکون ملتا ہے جبکہ نمک بیکٹیریا کو ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ نمک گلے کی خراش کم کرکے فوری آرام پہنچاتا ہے۔
۔ ایک چائے کا چمچ کھانے والا نمک ایک کپ نیم گرم پانی میں شامل کرکے دن میں کئی مرتبہ غرارے کریں۔

2۔لیموں:
لیموں میں موجود اینٹی بیکٹیریل، اینٹی وائرل خصوصیات انفیکشن سے بچاتی ہے۔ اس میں موجود وٹامن سی جسم کو انفیکشن سے بچنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔
۔ ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک لیموں کا رس ، ایک چٹکی نمک اور ایک چائے کا چمچ شہد شامل کریں۔ دن میں دو مرتبہ اس پانی کو آہستہ آہستہ پیئیں۔

3۔تلسی کے پتے:
تلسی کے پتوں میں اینٹی وائرل خصوصیات ہیں۔ یہ گلے کی خراش کو کم کرنے کے ساتھ سوجن اور درد کو بھی کم کرتے ہیں۔
۔ ڈیڑھ کپ پانی میں ۱۰۔ ۱۲ تلسی کے پتے ڈال کر جوش دے لیں۔
۔ دس منٹ تک پکا کر چھان لیں۔
۔ اس میں لیموں کا رس شامل کریں ۔ چاہیں تو ایک چائے کا چمچ شہد بھی شامل کر لیں۔
۔ دو، تین دن تک دن میں تین مرتبہ پیئیں۔

4۔ہلدی:
ہلدی میں موجود اینٹی سیپٹک خصوصیات ٹانسلز کے انفیکشن کو ختم کرتی ہیں اور خراش میں آرام دیتی ہیں۔
۔ ایک گلاس گرم پانی میں ایک چمچ ہلدی پاؤڈر شامل کریں۔ چاہیں تو نمک بھی ملا لیں اور اس پانی سے دن میں کئی مرتبہ غرارے کریں۔ خاص طور پر رات کو سونے سے پہلے۔
۔ اس کے علاوہ ایک چائے کا چمچ ہلدی پاؤڈر اور ایک چٹکی پسی ہوئی کالی مرچ گرم دودھ کے گلاس میں ملائیں۔ دو، تین دن تک رات کو سونے سے پہلے پیئیں۔

5۔دار چینی:
دارچینی کو بھی ٹانسلز کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دارچینی ٹانسلز میں بیکٹیریا کی نشونما کو روکتی ہے اور سوجن ، درد اور سوزش کو کم کرتی ہے۔
۔ ایک چائے کا چمچ دار چینی پاؤڈر ایک گلاس گرم پانی میں شامل کریں۔
۔ اس میں دو چائے کے چمچ شہد ڈالیں۔
۔ چھوٹے چھوٹے گھونٹ لے کر گرم ہی پیئیں۔
۔ ایک ہفتے تک دن میں دو مرتبہ پیئیں۔

6۔پودینہ:
پودینہ ٹانسلز میں پیدا ہونے والے بیکٹیریا اور وائرس کو ختم کرتا ہے۔ پودینے میں موجود مینتھول خراش کو ختم کرکے آرام پہنچاتا ہے۔
۔ ایک گلاس پانی میں مٹھی بھر پودینے کی پتیاں ڈال کر ابال لیں۔ اتنا پکائیں کہ پانی آدھا رہ جائے۔ چھان کر ایک چائے کا چمچ شہد شامل کریں اور گرم ہی پیئیں۔ کچھ دنوں تک دن میں دو سے تین مرتبہ پیئیں۔
۔اس کے علاوہ آپ پودینے کے ذائقے والے مائوتھ واش سے بھی غرارے کرسکتے ہیں۔

7۔میتھی دانہ:
میتھی میں اینٹی بیکٹیریل صلاحیتیں موجود ہیں جو ٹانسلز کے بیکٹیریا کو ختم کرکے فوری آرام پہنچاتی ہے۔
۔ دو کھانے کے چمچ میتھی دانہ ۲ سے ۳ کپ پانی میں ڈال کر ۳۰ منٹ تک پکائیں۔
۔ چھان کر ٹھنڈا کرلیں۔
۔ اس پانی سے ۳۰ سیکنڈز تک غرارے کرکے کلی کردیں۔
۔ جب تک ٹانسلز ختم نہ ہوں دن میں دو مرتبہ کریں۔

8۔اجوائن:
اجوائن بھی ٹانسلز کی علامات کو ختم کرنے میں مدد دیتی ہے اس میں اینٹی آکسیڈنٹ کے ساتھ وٹامنز اور منرلز بھی موجود ہیں جو ٹانسلز کے خلاف قوت مدافعت کو بڑھاتے ہیں۔
۔ ایک برتن میں چوتھائی چائے کا چمچ اجوائن ڈال کر اتنا بھونیں کہ یہ برائون ہوجائے۔
۔ ایک چٹکی ہلدی ڈال کر چند سیکنڈ ملائیں پھر اس میں ایک کپ گرم دودھ شامل کرکے اچھی طرح ملائیں اور دن میں دو تین مرتبہ روزانہ کھائیں۔

9۔انجیر:
ٹانسلز کے علاج میں انجیر بھی بہت مفید ہے۔ ٹانسلز کی وجہ سے ہونے والے درد اور سوزش کو کم کرتی ہے۔
۔ ۳ عدد خشک انجیر پانی میں ابال کر نرم کرلیں ۔ انہیں میش کرکے ایک کھانے کا چمچ شہد ملائیں اور دن میں دو، تین مرتبہ روزانہ کھائیں۔
ٹانسلز ہونے کی صورت میں صفائی کا خاص خیال رکھیں اگر انفیکشن ہو تو زیادہ آرام کریں اور جتنا ممکن ہو آہستہ بات کریں اور پانی اور دوسرے لکوئڈ کا زیادہ استعمال کریں۔

28/09/2017

Asslam.o.Alaykum
Have A Nice Day.


عام عادات جو ہمارے گردوں کو تباہ کردیتی ہیں



گردوں کا شمار اہم ترین جسمانی اعضا میں ہوتا ہے کیونکہ گردوں کا سب سے بنیادی کام ہمارے جسم سے اضافی پانی کو خارج کرنا ہوتا ہے جو کہ فاسد مادوں اور غیر ضروری اشیاﺀ پر مشتمل ہوتا ہے- لیکن ہر سال لاکھوں افراد گردوں کی بیماری کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں- اکثر اس بیماری کی بنیادی وجہ ہماری اپنی ہی چند عام عادات ہوتی ہیں جن کے نقصان سے ہم لاعلم ہوتے ہیں- اور یہی عادات ہمارے گردوں کی خرابی کا باعث بنتی ہیں- آئیے ہم بتائے ہیں کہ گردوں کی بیماری سے بچنے کے لیے آپ کو کونسی عادات بدلنے کی ضرورت ہے؟

درد کُش دوائیں
اکثر افراد میں یہ بری عادت پائی جاتی ہے کہ ہلکے پھکے درد کے لے بھی پین کلرز کھانے لگتے ہیں- پین کلرز کا زیادہ استعمال گردوں سمیت جسم کے کئی اعضا کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے- گردوں پر اس کے سب سے زیادہ مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں- ایک حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایک طویل مدت تک پین کلرز کا استعمال خون کے بہاؤ میں کمی پیدا کرنے کے علاوہ گردوں کے نظام میں خرابی بھی پیدا کرتا ہے

حد سے زیادہ پروٹین
حد سے زیادہ پروٹین سے بھرپور غذاؤں کا استعمال یا گوشت زیادہ کھانے سے بھی گردے خراب ہوسکتے ہیں- بنیادی طور پر پروٹین پر مشتمل غذائیں صحت بخش ہوتی ہیں لیکن ڈاکٹروں کے مطابق پروٹین سے بھرپور غذاؤں استعمال بھی محدود انداز میں کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے- غذا کے ذریعے بہت زیادہ پروٹین جسم میں جانے سے بھی گردوں پر دباؤ پڑتا ہے

تمباکو نوشی
سینٹر فار ڈیزیز اینڈ پری وینشن کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی جسم کے ہر عضو پر اثر انداز ہوتی ہے اور تباہی کا باعث بنتی ہے اور ان عضو میں گردے بھی شامل ہیں- متعدد تحقیق میں تمباکو نوشی اور گردوں کی بیماری کے درمیان ایک گہرا تعلق پایا گیا ہے

سوڈیم کا زیادہ استعمال
جو سوڈیم غذا کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل ہوتا ہے وہ بھی گردوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے- زیادہ سوڈیم اندر جانے پر اس کا اخراج لازمی ہوتا ہے اور یہ زیادہ تر نمک کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل ہوتا ہے- نمک کے زیادہ استعمال سے گردے سوڈیم کو خارج کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں اور یوں ان پر طویل مدت کے لیے دباؤ پڑ جاتا ہے

نزلہ اور سردی کو نظر انداز کرنا
عام طور پر نزلے اور سردی یا اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں مثلاً کھانسی اور زکام کو نظر انداز کردیتے ہیں لیکن ماہرین کے مطابق یہ عادت یا یہ بیماریاں بھی ہمارے گردوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں-کئی تحقیق میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ جن افراد نے اپنے ماضی میں کسی بخار میں آرام نہیں کیا ان میں بعد میں گردوں کی بیماری پائی گئی

کیفین کا بکثرت استعمال
اکثر لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب انہیں پیاس محسوس ہوتی ہے تو وہ پانی کے بجائے دیگر مشروبات جیسے سوڈا یا سوفٹ ڈرنکس پینا شروع کردیتے ہیں- لیکن یاد رکھیں کہ ان مشروبات کی اکثریت کیفین پر مشتمل ہوتی ہے- کیفین سے بلڈ پریشر بلند ہوجاتا ہے اور اس کی وجہ سے گردوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے جس سے گردے خراب بھی ہوسکتے ہیں

نیند کی کمی
جب آپ رات کے وقت سوتے ہیں تو آپ کے جسم کے اندرونی اعضا اپنی خود ہی مرمت میں مصروف ہوجاتے ہیں- لیکن اگر آپ ایک آرام دہ٬ معیاری اور بھرپور نیند نہیں لیتے تو اعضا کی مرمت کا عمل بھی خرابی کا شکار ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں گردے خراب ہوسکتے ہیں

پانی کی کمی
گردوں کی خرابی کا ایک سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ ہم روزانہ اتنا پانی نہیں پیتے جتنا کہ ہمارے جسم کی ضرورت ہوتا ہے- گردوں کا بنیادی کام خون کے سرخ جسیمہ کو باقاعدگی سے متوازن رکھنا ہوتا ہے- جسم کو اگر مناسب پانی نہ ملے تو خون کے بہاؤ میں کمی آنا شروع ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے خون میں زہریلے مادے جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں

پیشاب روک کر رکھنا
اکثر اوقات لوگ پیشاب آنے کی صورت میں بھی خارج کرنے کی طرف دھیان نہیں دیتے جب تک کہ وہ برداشت سے باہر نہ ہوجائے- لیکن یہ عادت بھی گردوں کی تباہی کا باعث بنتی ہے اور صرف گردوں کے لیے ہی نہیں بلکہ جلد اور خون کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہے۔

Address

Post Off Fatteh Bhand, Dist Gujrat, Teh Kharian
Kharian
75070

Telephone

03332476425

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ali Health Care Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ali Health Care Clinic:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category