Dr Bashir Ahmad Marwat skin expert

Dr Bashir Ahmad Marwat skin expert "I'm here to peel away your problems... and maybe a layer of skin."

 ゚viralシalシ
08/02/2026

゚viralシalシ




ٹینیا ایک سطحی فنگل انفیکشن ہے جو جلد، بالوں اور ناخنوں کے کیراٹین والے حصوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ بیماری ڈرماٹوفائٹس نام...
27/01/2026

ٹینیا ایک سطحی فنگل انفیکشن ہے جو جلد، بالوں اور ناخنوں کے کیراٹین والے حصوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ بیماری ڈرماٹوفائٹس نامی فنگس کی وجہ سے ہوتی ہے جن میں ٹرائیکوفائٹن، مائیکروسپورم اور ایپیڈرموفائٹن شامل ہیں۔ یہ فنگس کیراٹینیز انزائم کے ذریعے کیراٹین کو توڑ کر انفیکشن پیدا کرتی ہے۔

ٹینیا کو عموماً جسم کے متاثرہ حصے کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے۔ اگر دھڑ یا بازو اور ٹانگیں متاثر ہوں تو اسے ٹینیا کارپوریس کہتے ہیں، رانوں کے جوڑ میں ہونے والی بیماری ٹینیا کرورس کہلاتی ہے، چہرے کی ٹینیا کو ٹینیا فیشئی، ہاتھوں کی ٹینیا کو ٹینیا مینیوئم اور پاؤں کی ٹینیا کو ٹینیا پیڈس کہتے ہیں۔ بالوں میں ہونے والی ٹینیا کو ٹینیا کیپیٹس کہا جاتا ہے جو زیادہ تر بچوں میں پائی جاتی ہے اور اس کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں جیسے گرے پیچ، بلیک ڈاٹ، کیرین اور فیوس۔ ناخنوں کی ٹینیا کو ٹینیا انگوئم یا اونائکومائکوسس کہا جاتا ہے۔

ٹینیا کی پہچان عام طور پر اس کے مخصوص ظاہری خد و خال سے کی جاتی ہے۔ عموماً یہ بیماری گول دائرے کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے جس کے کنارے ابھرے ہوئے، سرخ اور خارش والے ہوتے ہیں جبکہ درمیان کا حصہ نسبتاً صاف نظر آتا ہے۔ بیماری آہستہ آہستہ باہر کی طرف پھیلتی ہے اور اکثر خارش موجود ہوتی ہے۔ اگر کنارے زیادہ فعال ہوں اور درمیان صاف ہو تو یہ ٹینیا کی اہم علامت ہے۔ سٹیرائیڈ کے غلط استعمال سے ٹینیا کی شکل بدل سکتی ہے جسے ٹینیا انکاگنیٹو کہتے ہیں، اس میں اسکیل کم ہو جاتی ہے اور حدود واضح نہیں رہتیں۔

تشخیص کے لیے سب سے اہم اور آسان ٹیسٹ کے او ایچ یعنی کے او ایچ ماؤنٹ ہے۔ اس میں متاثرہ جگہ کے فعال کنارے سے اسکریپنگ لے کر دس سے بیس فیصد کے او ایچ لگایا جاتا ہے اور مائیکروسکوپ میں شاخ دار سیپٹیٹ ہائفے نظر آتے ہیں۔ بعض صورتوں میں فنگل کلچر کی ضرورت ہوتی ہے جو سبوراڈ ڈیکسٹروز ایگار پر کیا جاتا ہے اور اس کے نتائج آنے میں دو سے چار ہفتے لگ سکتے ہیں۔ ووڈز لیمپ کا استعمال خاص طور پر مائیکروسپورم میں مددگار ہوتا ہے جبکہ ناخنوں کی بیماری میں نیل کلپنگ اور پی اے ایس اسٹین مفید ہے۔

علاج کا انحصار بیماری کی شدت اور پھیلاؤ پر ہوتا ہے۔ اگر بیماری محدود ہو تو موضعی اینٹی فنگل ادویات جیسے کلوتھریمیزول، کیٹو کونازول یا ٹربائنافین استعمال کی جاتی ہیں اور علاج کم از کم دو سے چار ہفتے جاری رکھا جاتا ہے، حتیٰ کہ زخم ختم ہونے کے بعد بھی ایک ہفتہ مزید دوا لگائی جاتی ہے۔ اگر بیماری زیادہ پھیلی ہوئی ہو، بالوں یا ناخنوں میں ہو یا موضعی علاج سے ٹھیک نہ ہو رہی ہو تو منہ کے ذریعے دی جانے والی ادویات جیسے ٹربائنافین، اٹرا کونازول یا بچوں میں گریسیوفلوین دی جاتی ہیں۔ صرف سٹیرائیڈ کا استعمال کبھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس سے بیماری بگڑ جاتی ہے۔

احتیاطی تدابیر میں جلد کو خشک رکھنا، پسینہ آنے پر کپڑے فوراً بدلنا، تنگ کپڑوں سے پرہیز کرنا اور تولیہ، کپڑے یا جوتے کسی کے ساتھ شیئر نہ کرنا شامل ہے۔ گھر کے دوسرے افراد اور جانوروں میں اگر فنگل انفیکشن ہو تو ان کا بھی علاج ضروری ہے تاکہ بیماری بار بار نہ ہو۔ ذیابیطس، کمزور مدافعت یا سٹیرائیڈ کے غیر ضروری استعمال کی صورت میں ٹینیا زیادہ شدید ہو سکتی ہے، اس لیے ان عوامل پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

Address

Khyber Pakhtunkhwa

Telephone

+923119991798

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Bashir Ahmad Marwat skin expert posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Bashir Ahmad Marwat skin expert:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram