Provincial Doctors Association

Provincial Doctors Association Provincial Doctors Association

Senior Vice President and Member of Supreme Council PDA KP Prof Dr Naeem Ullah held a detailed discussion regarding the ...
14/02/2026

Senior Vice President and Member of Supreme Council PDA KP Prof Dr Naeem Ullah held a detailed discussion regarding the implementation of the MTI system at Saidu Group of Teaching Hospital and resolving the issues related to District Headquarters Hospital on priority basis.

Also with Mr Khaliq ur Rehman Honourable Health Minister KPK and Dr Nowsherawan Burki Chairman Policy Board and founder of the MTI Act.

InshaAllah, the public will soon hear good news regarding these important matters in the interest of patient care and the medical community.

Focal Person PDA SGTH


for all

اگر ہمارے سینئر ڈاکٹرز  یوں ہی استعفیٰ دیتے رہے تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہے  کہ  ہسپتال  کھنڈر بن جائے گے ۔ اور یہاں کوئی ...
13/02/2026

اگر ہمارے سینئر ڈاکٹرز یوں ہی استعفیٰ دیتے رہے تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہے کہ ہسپتال کھنڈر بن جائے گے ۔ اور یہاں کوئی بھی ملازمت کرنا پسند نہیں کرے گا۔
یہ ظلم اور ناانصافی بند ہونی چاہیے، ورنہ ان غریب لوگوں کے ساتھ زیادتی پر اللہ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔

ڈایریکٹر جنرل ہیلتھ سروسیسز تمام کیڈرز کی عارضی سینیارٹی لسٹ برائے سال 2026فی الفور آفیشل ویب سائٹس پر جاری کریں  ۔پراون...
13/02/2026

ڈایریکٹر جنرل ہیلتھ سروسیسز تمام کیڈرز کی عارضی سینیارٹی لسٹ برائے سال 2026فی الفور آفیشل ویب سائٹس پر جاری کریں ۔پراونشل ڈاکٹرز اسوسیشن

ڈایریکٹر جنرل ہیلتھ افس فی الفور تمام ڈاکٹرز سے اہم کاغذات جسمیں ٹرینگ سرٹیفیکٹ ،نو ڈیمانڈ سرٹیفیکٹ،تصاویر، پے سلپ ، ایف بی ار سرٹیفیکٹ ،ایسڈ ڈیکلریشن اور اے سی ار بذریعہ آفیشل ای میل اور وٹس ایپ نمبر کے زریعے اے سی ار سیکشن میں جمع کروائیں۔ ۔پراونشل ڈاکٹرز اسوسیشن

ڈی جی ہیلتھ افس 15فروری 2026تک تمام کیڈرز کے ڈاکٹرز کے سینیارٹی اور ورکنگ پیپرز مکمل کریں تاکہ ڈاکٹرز کے لئے سپیشل پی ایس بی کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔ڈی جی ہیلتھ اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائیں ۔پراونشل ڈاکٹرز اسوسیشن


ڈایریکٹر جنرل ہیلتھ سروسیسز اے سی ارز سیکشن کو لیپ ٹاپ ،وائی پائی پرنٹر ،فوٹو سٹیٹ مشین اور پرنٹنگ کیلئے کاغذات فی الفور مہیا کریں تاکہ پروموشنز کیلئے کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔پراونشل ڈاکٹرز اسوسیشن خیبر پختنخواہ

تمام اضلاع کے ڈاکٹرز تیاری کر لیں اگر اس مرتبہ پروموشنز میں تمام کیڈرز کے ڈاکٹرز کو شامل نہیں کیاگیا اور رکاوٹ ڈالا گیا تو صوبے بھر میں احتجاج کریں گے ۔پراونشل ڈاکٹرز اسوسیشن

Congratulations to all
12/02/2026

Congratulations to all

12/02/2026

اگر ہمارے سینئر ڈاکٹرز یوں ہی استعفیٰ دیتے رہے تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہے کہ ہسپتال کھنڈر بن جائے گے ۔ اور یہاں کوئی بھی ملازمت کرنا پسند نہیں کرے گا۔
یہ ظلم اور ناانصافی بند ہونی چاہیے، ورنہ ان غریب لوگوں کے ساتھ زیادتی پر اللہ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔

12/02/2026

فنانس ڈپارٹمنٹ نے 1500میڈیکل آفیسرز ۔250ڈینٹل سرجنز اور 750 نرسیسز کی سیٹوں کی منظوری دے دی ہے جس پر جلد محکمہ صحت بھرتی کا عمل شروع کریں گے ۔اور اسکے کے علاوہ ائی ایچ پی کی ملازمین کی گزشتہ دس مہینوں سے روکھی تنخواہوں کی فنڈز ریلیز کی بھی منظوری دے دی ہے اس سلسلے میں سیکٹری صحت خیبر پختنخواہ شاہد اللہ نے کلیدی کردار ادا کر دیا ۔

پراونشل ڈاکٹرز اسوسیشن

پراونشل ڈاکٹرز اسوسیشن  صوبائی وزیر صحت میاں خلیق الرحمن  ۔سیکٹری صحت شاہد اللہ ۔سپیشل سیکٹری صحت سعیداللہ اور ایڈیشنل چ...
10/02/2026

پراونشل ڈاکٹرز اسوسیشن صوبائی وزیر صحت میاں خلیق الرحمن ۔سیکٹری صحت شاہد اللہ ۔سپیشل سیکٹری صحت سعیداللہ اور ایڈیشنل چیف سیکٹری عابد مجید صاحب اور ڈی جی ہیلتھ کے پروموشنز سیل کے مشکور ہیں کے انکی کوشیشں سے گریڈ 17کی گزشتہ 4سالوں روکھی پروموشنز کا مسلہ حل کر کے 337ڈاکٹروں کی گریڈ 18میں ترقی دے دی گئی ہے ۔

ہم تمام جنرل کیڈر گریڈ 17 سے گریڈ 18 میں ترقی پانے والے ڈاکٹرز کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور انشااللہ جلد دوبارہ پروموشنز بورڈ کا اجلاس ہو گا اور باقی تمام کیڈرز کے ڈاکٹرز بھی پروموٹ ہونگے ۔

پراونشل ڈاکٹرز اسوسیشن

خیبر پختنخواہ کے ایم ٹی ائیز ہسپتالوں میں کرپشن عروج پر کوئی پوچھنے والا نہیںاس کرپشن پر بورڈ اف گورنرز اور ہسپتال کی ان...
09/02/2026

خیبر پختنخواہ کے ایم ٹی ائیز ہسپتالوں میں کرپشن عروج پر کوئی پوچھنے والا نہیں
اس کرپشن پر بورڈ اف گورنرز اور ہسپتال کی انتظامیہ کے خلاف کب اور کون ایکشن لے گا ؟؟؟؟
*دل کے مریضوں کا حق بھی محفوظ نہ رہ سکا؟ پشاور
کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ میں کروڑوں کے طبی سامان کی مبینہ چوری*

پشاور() سرکاری اسپتالوں میں دوائی نہ ہونے کا رونا تو عام ہے، مگر اب معاملہ اس سے بھی آگے نکل گیا۔ خیبرپختونخوا کے بڑے دل کے اسپتال پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (PIC) میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے مالیت کے کارڈیالوجی سامان، جن میں دل کے مریضوں کے علاج میں استعمال ہونے والے مہنگے اسٹنٹس اور دیگر خصوصی ڈسپوزیبل آئٹمز شامل بتائے جا رہے ہیں، کے غائب ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ تھانہ تہکال، حیات آباد کو دی گئی تحریری درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسپتال کے اسٹور سے قیمتی طبی سامان کم پایا گیا، جس پر پولیس سے فوری ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک خصوصی کارڈیالوجی ادارے کے اندر ہی جان بچانے والا سامان محفوظ نہیں تو عام اسپتالوں کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔زرائع مطابق ایک کنٹریکٹ ملازم ابوبکر ولد جوہر علی کو نامزد کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ مستقل سرکاری ملازم نہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل سوال فردِ واحد نہیں بلکہ وہ نظام ہے جس میں اسٹنٹس جیسے قیمتی اور حساس سامان کی نگرانی کا مؤثر میکنزم معلوم ہی نہیں ہوتا۔ اگر اسٹور سے لاکھوں یا ملینز کا سامان نکل سکتا ہے تو کیا وہاں آڈٹ، بائیومیٹرک لاگ، یا ڈیجیٹل انوینٹری کنٹرول موجود تھا یا نہیں؟ادارے نے پولیس کو یقین دہانی کرائی ہے کہ CCTV فوٹیج، اسٹور ریکارڈ اور دیگر دستاویزات فراہم کیے جائیں گے، مگر ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسے کیسز اکثر فائلوں میں دب کر رہ جاتے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں پہلے ہی مریض مہنگے اسٹنٹس باہر سے خریدنے پر مجبور ہوتے ہیں، اگر اندر کا سامان بھی مبینہ طور پر غائب ہونے لگے تو یہ سیدھا سیدھا عوام کے علاج پر ڈاکہ تصور ہوگا۔
درخواست میں دفعہ 154 ض ف کا حوالہ دے کر پولیس پر قانونی ذمہ داری بھی ڈالی گئی ہے کہ ایف آئی آر درج کی جائے۔ تاہم اصل امتحان صرف مقدمہ درج کرنا نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہوگا کہ تحقیقات کس حد تک آزاد، شفاف اور اثرورسوخ سے پاک رہتی ہیں۔ معاملہ محض چوری کا نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے قتل کا ہے۔ دل کے مریضوں کے لیے مختص سامان اگر اسٹور سے غائب ہو جائے تو اس کا مطلب صرف مالی نقصان نہیں بلکہ ممکنہ طور پر کسی مریض کی جان کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ تاحال یہ معاملہ درخواست اور الزامات کی حد تک ہے۔ حتمی حقائق پولیس تحقیقات اور باضابطہ قانونی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئیں گے، جبکہ نامزد فرد کا مؤقف بھی آنا باقی ہے۔
اس سے پہلے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں بھی کمپوٹر آپریٹر کے 5 کروڑ سے زیادہ غبن کا کیس ایا تھا ۔

09/02/2026

خیبر پختنخواہ کے ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان
اربوں روپے ایم ٹی ائیز میں لگانے کے باوجود مریضوں کو سہولیات ناپید
خیبر پختونخوا میں ڈائیلاسز مشینوں اور سہولیات کی کمی

خیبر پختنخواہ کے ایم ٹی ائیز ہسپتالوں میں کرپشن عروج پر کوئی پوچھنے والا نہیںاس کرپشن پر بورڈ اف گورنرز اور ہسپتال کی ان...
08/02/2026

خیبر پختنخواہ کے ایم ٹی ائیز ہسپتالوں میں کرپشن عروج پر کوئی پوچھنے والا نہیں
اس کرپشن پر بورڈ اف گورنرز اور ہسپتال کی انتظامیہ کے خلاف کب اور کون ایکشن لے گا ؟؟؟؟

Address

Khyber Pakhtunkhwa

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Provincial Doctors Association posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram