Provincial Doctors Association

Provincial Doctors Association Provincial Doctors Association

07/05/2026
07/05/2026
خیبر پختنخواہ کے سرکاری ہسپتال من پسند ٹھیکداروں کے حوالے کرنے کا فیصلہ تاکہ عوام مفت علاج سے محروم ہوسکیں یاد رہے کہ یہ...
05/05/2026

خیبر پختنخواہ کے سرکاری ہسپتال من پسند ٹھیکداروں کے حوالے کرنے کا فیصلہ تاکہ عوام مفت علاج سے محروم ہوسکیں یاد رہے کہ یہ ہسپتالوں کی نجکاری کا نظام پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے ۔

05/05/2026

خیبر پختنخواہ کے ایم ٹی ائیز ہسپتالوں میں کرپشن کے ریکارڈ قائم نیب خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے
🚨🚨ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد میں ادویات سکینڈل: کتنی مالیت کی کرپشن ہوئی؟ کیا جعلی دستاویزات پر ٹھیکے دیے گئے؟ اور اس میں کتنے ملازمین ملوث ہیں؟ تمام تفصیلات جانئے تیمور خان کے وی لاگ میں

پریس ریلیزتاریخ: 3 مئی 2026ڈسٹرکٹ ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈسٹرکٹ ٹانک میں نجی کلینکس پر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز کا ایک...
04/05/2026

پریس ریلیز
تاریخ: 3 مئی 2026
ڈسٹرکٹ ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈسٹرکٹ ٹانک میں نجی کلینکس پر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز کا ایک اہم اجلاس آج ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں دونوں اضلاع کے نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اجلاس کا ایجنڈا:
خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (KPRA) کی جانب سے مریضوں پر 2 فیصد اضافی ٹیکس (بنام سیلز ٹیکس) کا نفاذ۔
ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو (FBR)، ڈیرہ اسماعیل خان کی ہدایت پر کلینکس میں پوائنٹ آف سیل (POS) مشینوں کی تنصیب۔
اجلاس کی کارروائی اور اہم نکات:
اجلاس میں مقررین نے تفصیل سے آگاہ کیا کہ:
فروری میں اسسٹنٹ کلیکٹر KPRA کی جانب سے سیکشن 29 اور 31 کے تحت نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔
ان نوٹسز کا بروقت اور قانونی طریقے سے جواب دیا گیا۔
اس معاملے پر پشاور ہائی کورٹ (بنچ ڈیرہ اسماعیل خان) میں کیس دائر کیا گیا، جہاں سے حکمِ امتناعی حاصل کیا گیا، جس کی نقل KPRA کو بھی فراہم کی گئی۔
اس کے باوجود KPRA کی جانب سے تیسری مرتبہ نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں، جن میں ڈاکٹروں کو مریضوں سے 2 فیصد ٹیکس وصول کرنے کا کہا جا رہا ہے۔
اسی طرح ایف بی آر کی جانب سے کلینکس میں POS مشینوں کی تنصیب کے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب نے فروری میں اسلام آباد میں چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات کی تھی، جس کے نتیجے میں پی ایم اے کی درخواست پر پنجاب میں کلینکس میں POS ڈیوائسز کی تنصیب مؤخر کر دی گئی۔
اجلاس کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی اسی طرز پر POS سسٹم کے نفاذ کو فوری طور پر مؤخر کیا جائے، کیونکہ جب تک یہ نظام پنجاب، اسلام آباد اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں مکمل طور پر نافذ نہیں ہوتا، اس وقت تک ڈی آئی خان جیسے پسماندہ علاقے میں اس کا نفاذ غیرمنصفانہ ہوگا۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اس نظام کے نفاذ کے لیے:
مسلسل بجلی کی فراہمی
مستحکم انٹرنیٹ
بیک اپ پاور (بیٹری/سولر)
تربیت یافتہ کمپیوٹر آپریٹر
کی ضرورت ہوگی، جس سے اخراجات میں اضافہ ہوگا اور بالآخر اس کا براہِ راست بوجھ مریضوں پر پڑے گا۔
قانونی مؤقف:
مقررین نے واضح کیا کہ:
پشاور ہائی کورٹ کے مختلف بنچز (بشمول بنوں اور ڈی آئی خان) سے حکمِ امتناعی موجود ہے، جس کے باوجود کوئی بھی زبردستی اقدام توہینِ عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
وفاقی فنانس ایکٹ کے تحت ڈاکٹرز اور وکلاء جیسے سروس پرووائیڈرز کو اس نوعیت کے صوبائی ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے۔
خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز پہلے ہی سالانہ پروفیشنل ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جو دیگر صوبوں خصوصاً پنجاب کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
صوبے میں صحت کی سہولیات، سکیورٹی، بجلی اور انٹرنیٹ کے مسائل دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے ایسے اقدامات خصوصاً پسماندہ علاقوں میں قابلِ عمل نہیں۔
مزید یہ کہ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت ڈاکٹرز اور وکلاء دونوں سروس پرووائیڈرز ہیں، لیکن:
وکلاء کو نہ POS مشینوں کی تنصیب کے نوٹسز دیے گئے ہیں اور نہ ہی اس نوعیت کے ٹیکس کا سامنا ہے۔
یہ صورتحال امتیازی سلوک اور ڈاکٹروں کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔
اہم فیصلے:
باہمی مشاورت سے درج ذیل فیصلے کیے گئے:
ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تمام ڈاکٹر تنظیموں، جن میں پروونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، انصاف ڈاکٹرز فورم، ٹیچنگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور دیگر شامل ہیں، نے متفقہ طور پر “خیبر پختونخوا ڈاکٹرز کونسل – ڈی آئی خان چیپٹر” کے قیام پر اتفاق کیا۔
عوام اور مریضوں میں آگاہی مہم چلائی جائے گی۔
آئندہ ہفتے پریس کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے گا۔
قانونی ماہرین سے مشاورت کے ساتھ مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔
مطالبات:
مریضوں پر عائد 2 فیصد ٹیکس فوری طور پر واپس لیا جائے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں POS مشینوں کی لازمی تنصیب فوری طور پر مؤخر کی جائے۔
جب تک پنجاب، اسلام آباد اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں یکساں نفاذ نہ ہو، ڈی آئی خان میں اس پالیسی کا اطلاق نہ کیا جائے۔
ایف بی آر کے ساتھ موجودہ دستی ریٹرن فائلنگ کا نظام برقرار رکھا جائے۔
قرارداد:
اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ:
ڈاکٹرز مریضوں سے 2 فیصد ٹیکس وصول نہیں کریں گے۔
اس قسم کے اقدامات کے خلاف قانونی اور اجتماعی مزاحمت کی جائے گی۔
انتباہ:
اگر کسی ڈاکٹر کے خلاف زبردستی کارروائی، چھاپے یا ہراسانی کی گئی تو:
اس کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ، KPRA اور FBR پر عائد ہوگی۔
بطور احتجاج ڈیرہ اسماعیل خان میں تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں اور کلینکس بند کر دیے جائیں گے۔
اجلاس کے اختتام پر قرارداد پر تمام شرکاء نے دستخط کیے اور آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے مکمل اختیار خیبر پختونخوا ڈاکٹرز کونسل (ڈی آئی خان چیپٹر) کو دے دیا گیا۔

پریس ریلیزتاریخ: 3 مئی 2026ڈسٹرکٹ ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈسٹرکٹ ٹانک میں نجی کلینکس پر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز کا ایک...
03/05/2026

پریس ریلیز
تاریخ: 3 مئی 2026
ڈسٹرکٹ ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈسٹرکٹ ٹانک میں نجی کلینکس پر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز کا ایک اہم اجلاس آج ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں دونوں اضلاع کے نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اجلاس کا ایجنڈا:
خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (KPRA) کی جانب سے مریضوں پر 2 فیصد اضافی ٹیکس (بنام سیلز ٹیکس) کا نفاذ۔
ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو (FBR)، ڈیرہ اسماعیل خان کی ہدایت پر کلینکس میں پوائنٹ آف سیل (POS) مشینوں کی تنصیب۔
اجلاس کی کارروائی اور اہم نکات:
اجلاس میں مقررین نے تفصیل سے آگاہ کیا کہ:
فروری میں اسسٹنٹ کلیکٹر KPRA کی جانب سے سیکشن 29 اور 31 کے تحت نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔
ان نوٹسز کا بروقت اور قانونی طریقے سے جواب دیا گیا۔
اس معاملے پر پشاور ہائی کورٹ (بنچ ڈیرہ اسماعیل خان) میں کیس دائر کیا گیا، جہاں سے حکمِ امتناعی حاصل کیا گیا، جس کی نقل KPRA کو بھی فراہم کی گئی۔
اس کے باوجود KPRA کی جانب سے تیسری مرتبہ نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں، جن میں ڈاکٹروں کو مریضوں سے 2 فیصد ٹیکس وصول کرنے کا کہا جا رہا ہے۔
اسی طرح ایف بی آر کی جانب سے کلینکس میں POS مشینوں کی تنصیب کے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پنجاب نے فروری میں اسلام آباد میں چیئرمین ایف بی آر سے ملاقات کی تھی، جس کے نتیجے میں پی ایم اے کی درخواست پر پنجاب میں کلینکس میں POS ڈیوائسز کی تنصیب مؤخر کر دی گئی۔
اجلاس کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی اسی طرز پر POS سسٹم کے نفاذ کو فوری طور پر مؤخر کیا جائے، کیونکہ جب تک یہ نظام پنجاب، اسلام آباد اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں مکمل طور پر نافذ نہیں ہوتا، اس وقت تک ڈی آئی خان جیسے پسماندہ علاقے میں اس کا نفاذ غیرمنصفانہ ہوگا۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اس نظام کے نفاذ کے لیے:
مسلسل بجلی کی فراہمی
مستحکم انٹرنیٹ
بیک اپ پاور (بیٹری/سولر)
تربیت یافتہ کمپیوٹر آپریٹر
کی ضرورت ہوگی، جس سے اخراجات میں اضافہ ہوگا اور بالآخر اس کا براہِ راست بوجھ مریضوں پر پڑے گا۔
قانونی مؤقف:
مقررین نے واضح کیا کہ:
پشاور ہائی کورٹ کے مختلف بنچز (بشمول بنوں اور ڈی آئی خان) سے حکمِ امتناعی موجود ہے، جس کے باوجود کوئی بھی زبردستی اقدام توہینِ عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
وفاقی فنانس ایکٹ کے تحت ڈاکٹرز اور وکلاء جیسے سروس پرووائیڈرز کو اس نوعیت کے صوبائی ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے۔
خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز پہلے ہی سالانہ پروفیشنل ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جو دیگر صوبوں خصوصاً پنجاب کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
صوبے میں صحت کی سہولیات، سکیورٹی، بجلی اور انٹرنیٹ کے مسائل دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں، جس کی وجہ سے ایسے اقدامات خصوصاً پسماندہ علاقوں میں قابلِ عمل نہیں۔
مزید یہ کہ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت ڈاکٹرز اور وکلاء دونوں سروس پرووائیڈرز ہیں، لیکن:
وکلاء کو نہ POS مشینوں کی تنصیب کے نوٹسز دیے گئے ہیں اور نہ ہی اس نوعیت کے ٹیکس کا سامنا ہے۔
یہ صورتحال امتیازی سلوک اور ڈاکٹروں کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔
اہم فیصلے:
باہمی مشاورت سے درج ذیل فیصلے کیے گئے:
ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تمام ڈاکٹر تنظیموں، جن میں پروونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، انصاف ڈاکٹرز فورم، ٹیچنگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور دیگر شامل ہیں، نے متفقہ طور پر “خیبر پختونخوا ڈاکٹرز کونسل – ڈی آئی خان چیپٹر” کے قیام پر اتفاق کیا۔
عوام اور مریضوں میں آگاہی مہم چلائی جائے گی۔
آئندہ ہفتے پریس کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے گا۔
قانونی ماہرین سے مشاورت کے ساتھ مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔
مطالبات:
مریضوں پر عائد 2 فیصد ٹیکس فوری طور پر واپس لیا جائے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں POS مشینوں کی لازمی تنصیب فوری طور پر مؤخر کی جائے۔
جب تک پنجاب، اسلام آباد اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں یکساں نفاذ نہ ہو، ڈی آئی خان میں اس پالیسی کا اطلاق نہ کیا جائے۔
ایف بی آر کے ساتھ موجودہ دستی ریٹرن فائلنگ کا نظام برقرار رکھا جائے۔
قرارداد:
اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ:
ڈاکٹرز مریضوں سے 2 فیصد ٹیکس وصول نہیں کریں گے۔
اس قسم کے اقدامات کے خلاف قانونی اور اجتماعی مزاحمت کی جائے گی۔
انتباہ:
اگر کسی ڈاکٹر کے خلاف زبردستی کارروائی، چھاپے یا ہراسانی کی گئی تو:
اس کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ، KPRA اور FBR پر عائد ہوگی۔
بطور احتجاج ڈیرہ اسماعیل خان میں تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں اور کلینکس بند کر دیے جائیں گے۔
اجلاس کے اختتام پر قرارداد پر تمام شرکاء نے دستخط کیے اور آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے مکمل اختیار خیبر پختونخوا ڈاکٹرز کونسل (ڈی آئی خان چیپٹر) کو دے دیا گیا۔

پریس ریلیزپروونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخواپروونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا، بنوں، ڈی آئی خان اور صوبے کے...
02/05/2026

پریس ریلیز
پروونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا
پروونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا، بنوں، ڈی آئی خان اور صوبے کے دیگر شہروں میں نجی کلینکس پر طبی خدمات پر 2 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ کی شدید مذمت کرتی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق یہ ٹیکس بالواسطہ طور پر غریب مریضوں پر منتقل ہوگا، جس سے علاج مزید مہنگا اور عوام کی رسائی محدود ہوگی۔
خصوصی طور پر جنوبی اضلاع جیسے ڈی آئی خان اور بنوں، جہاں سیکیورٹی صورتحال انتہائی چیلنجنگ ہے، وہاں ڈاکٹرز پہلے ہی مشکل حالات میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حکومت کو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے نہ کہ مزید مالی بوجھ ڈالنا چاہیے۔
KPRA قوانین کے مطابق سیلز ٹیکس سروس کے recipient یعنی مریض سے وصول کیا جائے گا، جو کہ عوام پر براہ راست اضافی بوجھ ہے۔ مزید یہ کہ ڈاکٹرز اشیاء فروخت نہیں کرتے بلکہ خدمات فراہم کرتے ہیں، اس لیے سیلز ٹیکس کا اطلاق اصولی طور پر بھی قابلِ اعتراض ہے۔
اہم قانونی نکتہ:
فیڈرل فائنانس ایکٹ کے مطابق ہیلتھ، ڈاکٹری اور وکالت بنیادی طور پر وفاق (Federal) کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں اور ان پر وفاقی سطح پر ٹیکسز (انکم ٹیکس) پہلے ہی لاگو ہیں، لہٰذا یہ شعبے صوبائی سطح پر اضافی ٹیکسز سے مستثنیٰ (exempt) ہیں اور صوبائی حکومت ان پر مزید ٹیکس عائد نہیں کر سکتی۔ ایسے میں جبکہ ڈاکٹرز پہلے ہی وفاقی انکم ٹیکس اور صوبائی سطح پر پروفیشنل ٹیکس ادا کر رہے ہیں، مریضوں پر 2 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کرنا دوہرا اور غیر منصفانہ ٹیکس ہے۔ مزید برآں، چونکہ ڈاکٹرز خدمات فراہم کرتے ہیں نہ کہ اشیاء فروخت کرتے ہیں، اس لیے اس نوعیت کا سیلز ٹیکس اصولی و قانونی لحاظ سے بھی غیر مناسب اور قابلِ اعتراض ہے۔
ایسوسی ایشن حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس اقدام کو فوری واپس لیا جائے۔ KPRA کی جانب سے POS ڈیوائسز اور رجسٹریشن نوٹسز بھی امتیازی اور آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25 (برابری کے اصول) کے منافی ہیں۔ جب دیگر پیشہ ور طبقات، خصوصاً وکلاء، بھی خدمات فراہم کر رہے ہیں تو انہیں اس نوعیت کے نوٹسز کیوں جاری نہیں کیے جا رہے؟ ڈاکٹرز کو مسلسل “سافٹ ٹارگٹ” کیوں بنایا جا رہا ہے؟ KPRA واضح کرے کہ صوبہ بھر میں کتنے وکلاء کو اس طرح کے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔
صوبے کے بیشتر علاقوں میں بجلی اور انٹرنیٹ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث POS سسٹم کا نفاذ عملی طور پر بھی مشکل اور مہنگا ہے، جس کا بوجھ بھی مریضوں پر منتقل ہوگا۔
دیگر صوبوں میں اس نوعیت کا ٹیکس نافذ نہیں، لہٰذا خیبر پختونخوا میں اس کا اطلاق امتیازی اقدام ہے۔
آخر میں ایسوسی ایشن واضح کرتی ہے کہ اگر ڈی آئی خان اور بنوں میں KPRA حکام نے یہ اقدامات واپس نہ لیے تو نجی و سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال، پریس کلبز کے سامنے دھرنے، KPRA دفاتر کا گھیراؤ اور عوامی و سوشل میڈیا مہم شروع کی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے نظرثانی نہ ہونے کی صورت میں ہر سطح کے پرامن احتجاج اور ایجیٹیشن کا حق محفوظ رکھا جائے گا۔

Address

Khyber Pakhtunkhwa

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Provincial Doctors Association posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share