Dr. Muhammed Ahmar Ashiq

Dr. Muhammed Ahmar Ashiq My patients find me empathic, good listener and responsible.

Assistant Professor and Consultant Neurophysician and working as Head of Department of Neurology at Social Security Hospital, and evening practice at Iqraa Medical Complex, Johar Town, Lahore.

ایک سردی کا چیلنج: خدیجہ کی ہائی بلڈ پریشر کی کہانیخدیجہ، ایک 42 سالہ ٹیچر، ہمیشہ اپنی صحت کا خیال رکھتی تھیں، لیکن جیسے...
01/12/2024

ایک سردی کا چیلنج: خدیجہ کی ہائی بلڈ پریشر کی کہانی

خدیجہ، ایک 42 سالہ ٹیچر، ہمیشہ اپنی صحت کا خیال رکھتی تھیں، لیکن جیسے ہی سردیاں آئیں، انہوں نے کچھ تبدیلیاں محسوس کیں۔ سرد موسم نہ صرف ٹھنڈی صبحیں لایا بلکہ ان کے بلڈ پریشر کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دی۔ ان کے ڈاکٹر نے ایک سال پہلے انہیں ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص کی تھی، لیکن اس سردی میں یہ مسئلہ خاص طور پر بڑھ گیا تھا۔

علامات

خدیجہ نے محسوس کیا کہ ان کے بلڈ پریشر کی ریڈنگز معمول سے زیادہ ہو رہی ہیں، اور سردیوں کے مقابلے میں ان کے سسٹولک لیول تقریباً 5 mmHg تک بڑھ گئے ہیں۔ وہ اکثر چکر محسوس کرتی تھیں اور غیر معمولی دباؤ میں رہتی تھیں۔ ان کے ڈاکٹر نے وضاحت کی کہ سرد موسم وَیَسُوکانسٹرکشن (vasoconstriction) کا باعث بنتا ہے، جس سے پردیی مزاحمت (peripheral resistance) بڑھتی ہے اور بلڈ پریشر زیادہ ہو جاتا ہے۔

خدیجہ نے یہ بھی محسوس کیا کہ وہ زیادہ تناؤ اور بے چینی کا شکار ہو رہی ہیں۔ ان کے ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ جسم کے سردی کے خلاف سمپیتھٹک نروس سسٹم (sympathetic nervous system) کے بڑھتے ہوئے ردعمل کی وجہ سے ہے۔

مزید برآں، خدیجہ نے محسوس کیا کہ وہ عام دنوں کے مقابلے میں کم پانی پی رہی ہیں۔ یہ ڈی ہائیڈریشن ان کے ہائی بلڈ پریشر کو مزید بڑھا رہی تھی اور انہیں تھکاوٹ کا شکار بنا رہی تھی۔

---

منصوبہ بندی

خدیجہ نے اس مسئلے پر قابو پانے کا پختہ ارادہ کیا اور اپنے ڈاکٹر کے ساتھ ایک منصوبہ ترتیب دیا:

گرم لباس پہننا

خدیجہ نے گرم کپڑوں کا ذخیرہ کیا۔ نرم اون کے سویٹر، تھرمل لیگنگز، اور ایک آرام دہ جیکٹ ان کی سردیوں کی بنیادی ضرورت بن گئے۔ گرم رہنے سے ان کے جسم کو وَیَسُوکانسٹرکشن کی ضرورت کم ہو گئی۔

بلڈ پریشر کی باقاعدہ نگرانی

ان کے ڈاکٹر نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنے بلڈ پریشر کی باقاعدہ نگرانی کریں۔ خدیجہ نے گھر کے لیے ایک بلڈ پریشر مانیٹر خریدا اور ہر صبح اپنے ریڈنگز نوٹ کرتی رہیں۔

انڈور سرگرمیاں

چونکہ باہر چہل قدمی مشکل ہو گئی تھی، خدیجہ نے اپنے کمرے کو ایک چھوٹے جم میں تبدیل کر دیا۔ وہ ہر روز 30 منٹ تک اندر تیز قدموں سے چلتی رہتیں اور آن لائن یوگا کی ویڈیوز دیکھ کر سکون حاصل کرتیں۔ ہفتے میں دو دن وہ ہلکے وزن کے ساتھ ریزسٹنس ٹریننگ کرتی تھیں، جیسے بازو اٹھانے، باڈی ویٹ اسکواٹس اور ٹانگوں کی مشقیں۔

خوراک میں تبدیلی

خدیجہ نے اپنی غذا کو بہتر بنایا اور اپنے ڈاکٹر کے مشورے پر ڈیش ڈائٹ (DASH Diet) اپنائی۔ ان کی خریداری کی فہرست میں شامل تھا:

پھل: بیر، کیلے، اور نارنجی۔

سبزیاں: پتوں والی سبزیاں، گاجر، اور شملہ مرچ۔

اناج: براؤن رائس اور مکمل اناج کی روٹی۔

کم چکنائی والی ڈیری: دہی اور سکم دودھ۔

گریاں اور بیج: بادام اور فلیکس سیڈز۔

انہوں نے نمکین اسنیکس، پروسیسڈ فوڈز، میٹھے مشروبات، اور ریڈ میٹ سے پرہیز کیا۔

احتیاطی عادات

ٹھنڈی صبحوں میں خدیجہ نے کافی کے بجائے ہربل چائے کو ترجیح دی اور کیفین کا استعمال محدود کر دیا۔ انہوں نے خاندانی محفلوں میں شراب سے بھی گریز کیا کیونکہ یہ ان کے ہائی بلڈ پریشر کو مزید بڑھا سکتی تھی۔

ادویات میں تبدیلی

خدیجہ نے اپنے ڈاکٹر سے اپنے علاج پر مشاورت کی، جنہوں نے سردیوں میں ان کے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے معمولی تبدیلیاں کیں۔

---

نتیجہ

سردیوں کے اختتام تک، خدیجہ خود کو زیادہ صحت مند اور مضبوط محسوس کر رہی تھیں۔ ان کی مستقل محنت رنگ لائی اور ان کے بلڈ پریشر کی ریڈنگز ایک مستحکم حد میں واپس آ گئیں۔

خدیجہ کا یہ سفر ان کے خاندان اور دوستوں کے لیے ایک مثال بن گیا کہ درست طریقے سے سردیوں کے چیلنجز پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔

سردیوں میں مائگرین کو سمجھناسردیوں کے دوران مائگرین میں شدت ہو سکتی ہے، خاص طور پر:سرد موسم: سر کی خون کی نالیوں کے سکڑن...
30/11/2024

سردیوں میں مائگرین کو سمجھنا

سردیوں کے دوران مائگرین میں شدت ہو سکتی ہے، خاص طور پر:

سرد موسم: سر کی خون کی نالیوں کے سکڑنے (vasoconstriction) سے درد پیدا ہو سکتا ہے۔

ماحولیاتی دباؤ میں تبدیلی: فضائی دباؤ میں اچانک کمی سر درد کو بڑھا سکتی ہے۔

دھوپ کی کمی: سورج کی روشنی کی کمی سے سیروٹونن کی سطح متاثر ہوتی ہے، جو مائگرین کا سبب بن سکتی ہے۔

سرد ہوا کا سامنا: چہرے یا سر پر ٹھنڈی ہوا کا براہ راست اثر مائگرین کو بڑھا سکتا ہے۔

پانی کی کمی: سرد موسم میں کم پانی پینا مائگرین میں شدت پیدا کر سکتا ہے۔

---

سردیوں میں مائگرین سے بچاؤ اور علاج

1. سردی سے بچاؤ کریں:

ٹوپیاں، مفلر اور کانوں کو ڈھانپنے کے لیے اسکارف پہنیں۔

گھر کے اندر کا درجہ حرارت مستقل رکھیں۔

2. پانی کی مقدار بڑھائیں:

زیادہ پانی اور جڑی بوٹیوں والی چائے یا سوپ پئیں۔

3. لائٹ تھراپی کا استعمال کریں:

سورج کی روشنی کی کمی کے دوران سیروٹونن کی سطح کو برقرار رکھنے کے لیے لائٹ تھراپی کریں۔

4. ذہنی دباؤ کو کم کریں:

یوگا، مائنڈفلنس، یا مسلز کی آرام دہ مشقیں کریں تاکہ دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

5. دوائی کے آپشنز:

اگر مائگرین زیادہ ہو تو نیورولوجسٹ سے دوائیوں جیسے بیٹا بلاکرز یا CGRP inhibitors کے بارے میں مشورہ لیں۔

---

ورزش کے مشورے

ہلکی پھلکی ایروبکس: ہفتے میں 3-4 دن، 20-30 منٹ پیدل چلیں، سائیکل چلائیں یا تیراکی کریں۔

یوگا برائے مائگرین:

چائلڈ پوز (Balasana): گردن اور سر کے درد کو کم کرنے میں مددگار۔

کیٹ-کاؤ پوز: خون کی روانی بہتر اور گردن کی سختی کم کرتا ہے۔

فارورڈ بینڈ (Uttanasana): سکون فراہم کرتا ہے اور خون کی روانی بڑھاتا ہے۔

ناک کے متبادل سانس (Nadi Shodhana): اعصابی نظام کو سکون دیتا ہے۔

---

خوراک کے مشورے

شامل کریں:

میگنیشیم سے بھرپور غذائیں: پالک، بادام، ایووکاڈو اور کدو کے بیج۔

اومیگا 3 فیٹی ایسڈز: سالمن، اخروٹ اور السی کے بیج۔

پانی والی غذائیں: تربوز، کھیرا، سوپ، اور یخنی۔

ادرک: متلی اور سوزش کم کرنے کے لیے مفید۔

پرہیز کریں:

پرانا پنیر، پراسیس شدہ گوشت، MSG یا مصنوعی مٹھاس والی غذائیں۔

زیادہ کیفین یا چاکلیٹ، خاص طور پر اگر یہ آپ کے محرکات ہوں۔

---

اضافی مشورے

نیند، کھانے اور ورزش کا مستقل معمول رکھیں تاکہ مائگرین کے محرکات سے بچا جا سکے۔

ایک ڈائری رکھیں جس میں مائگرین کے محرکات اور علاج کے اثرات نوٹ کریں۔

یہ معلومات آپ کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتی ہے۔ مزید مشورے کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

پاکستان میں عوام کو مشابہ ناموں یا آوازوں والی دوائیوں کے بارے میں آگاہی دینے کے لیے درج ذیل ہدایات دی جا سکتی ہیں:1.دوا...
28/11/2024

پاکستان میں عوام کو مشابہ ناموں یا آوازوں والی دوائیوں کے بارے میں آگاہی دینے کے لیے درج ذیل ہدایات دی جا سکتی ہیں:

1.دوائی خریدتے وقت دھیان دیں
- دوائی کا نام احتیاط سے پڑھیں اور اس کے اسپیلنگ کو چیک کریں۔
- کسی بھی مشابہ نام کی دوائی لینے سے پہلے فارماسسٹ سے تصدیق کریں۔

2. فارماسسٹ یا ڈاکٹر سے مشورہ کریں
- اگر دو دوائیوں کے نام ملتے جلتے لگیں یا آپ کو شک ہو، تو فارماسسٹ یا ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
- اپنی مطلوبہ بیماری کے لیے صحیح دوا کا انتخاب یقینی بنائیں۔

3. پیکجنگ اور لیبل چیک کریں
- دوائی کے ڈبے پر لکھی گئی معلومات (لیبل) کو غور سے پڑھیں۔
- دوائی کی طاقت (مثلاً 500mg یا 250mg) اور مقدار دیکھیں۔

4. دوائی کی پرانی بوتلیں یا پیکٹ محفوظ نہ کریں
- مشابہ بوتلیں یا پیکجنگ کی وجہ سے الجھن سے بچنے کے لیے استعمال شدہ دوائیں ٹھیک طریقے سے ضائع کریں۔

5. بچوں کو دوائی دینے سے پہلے دھیان دیں
- بچوں کو کوئی بھی دوا دیتے وقت مکمل تصدیق کریں کہ یہ درست دوا ہے۔
- اگر نام میں تھوڑا سا بھی فرق لگے، تو ڈاکٹر سے دوبارہ مشورہ لیں۔

6. ایمرجنسی کی صورت میں فوری مدد حاصل کریں
- غلط دوا لینے کی صورت میں فوراً قریبی ہسپتال سے رابطہ کریں۔

7. لوک الائیک/ساؤنڈ الائیک کی فہرست یاد رکھیں
- حکومت اور فارماسسٹ دوائیوں کی مشابہ فہرست فراہم کریں تاکہ عوام زیادہ محتاط رہیں۔

یہ ہدایات عوام کو مشابہ دوائیوں کی خریداری میں الجھن اور ممکنہ خطرات سے بچانے میں مدد فراہم کریں گی۔

Here’s a list of some common **Look-Alike Sound-Alike (LASA)** over-the-counter (OTC) medications that can cause confusion:

---

Look-Alike Medications (Similar Packaging/Appearance)
1. **Paracetamol (Panadol)** vs. **Ibuprofen (Brufen)**
2. **Benadryl (Diphenhydramine)** vs. **Benylin (Cough Syrup)**
3. **Dulcolax (Laxative)** vs. **DulcoGas (Simethicone)**
4. **Zyrtec (Cetirizine)** vs. **Zantac (Ranitidine)**
5. **Calpol (Paracetamol for children)** vs. **Cough syrups for kids (similar bottles)**

---

Sound-Alike Medications (Similar Pronunciation)
1. **Advil (Ibuprofen)** vs. **Aleve (Naproxen)**
2. **Claritin (Loratadine)** vs. **Clarinex (Desloratadine)**
3. **Maalox (Antacid)** vs. **Mylanta (Antacid)**
4. **Tylenol (Paracetamol)** vs. **Tylenol PM (Paracetamol + Diphenhydramine)**
5. **Dramamine (Dimenhydrinate)** vs. **Dramamine Less Drowsy (Meclizine)**

---

Common Mix-ups Due to Function
1. **Loperamide (Anti-diarrheal)** vs. **Loratadine (Antihistamine)**
2. **Hydrocortisone Cream** vs. **Anti-fungal Creams** (e.g., Clotrimazole)
3. **Sudafed (Pseudoephedrine)** vs. **Sudafed PE (Phenylephrine)**

- ہمیشہ **دوائی کا نام، طاقت، اور اجزاء** کو اچھی طرح چیک کریں۔
- اگر کسی دوائی کے بارے میں یقین نہ ہو، تو فارماسسٹ سے مشورہ کریں۔
- **کمبینیشن والی دوائیوں** کے بارے میں خاص احتیاط کریں، کیونکہ ان کے نام اکثر سنگل اجزاء والی دوائیوں سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔
- اپنے علاقے میں عام **لُک الائیک/ساؤنڈ الائیک دوائیوں** کے جوڑوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔

**گھر پر فالج کی علامات کی جانچ کے لیے ہدایات (عالمی معیار کے مطابق)**  فالج کی علامات کو جلد پہچاننا زندگی بچانے میں مد...
27/11/2024

**گھر پر فالج کی علامات کی جانچ کے لیے ہدایات (عالمی معیار کے مطابق)**

فالج کی علامات کو جلد پہچاننا زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ فالج کی ابتدائی علامات کو سمجھنے کے لیے **"FAST"** طریقہ استعمال کریں:

1. F - Face (چہرہ):
- مریض سے مسکرانے کو کہیں۔
- دیکھیں کہ کیا چہرے کا ایک طرف جھکاؤ ہے یا ایک طرف ہلکی سی کمزوری نظر آتی ہے؟

2. A - Arms (بازو):
- مریض سے دونوں بازو اوپر اٹھانے کو کہیں۔
- اگر ایک بازو نیچے گر جائے یا وہ اٹھانے میں مشکل محسوس کرے، تو یہ فالج کی علامت ہو سکتی ہے۔

3. S - Speech (گفتگو):
- مریض سے ایک عام جملہ دہرانے کو کہیں (مثال: "آج موسم اچھا ہے")۔
- اگر الفاظ صاف نہ ہوں یا بولنے میں دشواری ہو، تو یہ ایک انتباہی نشان ہے۔

4. T - Time (وقت):
- اگر اوپر دی گئی علامات ظاہر ہوں تو فوراً ہنگامی مدد (Emergency) حاصل کریں۔
- وقت ضائع کیے بغیر ایمبولینس کو کال کریں یا قریبی اسپتال جائیں۔

**اضافی علامات پر توجہ دیں:**
- اچانک چکر آنا یا توازن کھونا۔
- ایک یا دونوں آنکھوں سے دھندلا دکھائی دینا یا اندھیرا چھا جانا۔
- بغیر کسی وجہ کے شدید سر درد ہونا۔

**اہم نکات:**
- فالج ایک طبی ہنگامی حالت ہے، تاخیر خطرناک ہو سکتی ہے۔
- جتنی جلدی علاج شروع ہو گا، اتنا ہی نقصان کم ہو گا۔
- "FAST" کو یاد رکھیں اور دوسروں کو بھی اس بارے میں آگاہ کریں۔

اگر آپ یا آپ کے آس پاس کسی کو یہ علامات ظاہر ہوں، تو **فوراً 1122** یا اپنی مقامی ایمبولینس سروس سے رابطہ کریں۔

حمل کے دوران مائیگرین کے مریضوں کے لیے درج ذیل ہدایات مددگار ثابت ہو سکتی ہیں:1. دوائی کا استعمال صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر ...
27/11/2024

حمل کے دوران مائیگرین کے مریضوں کے لیے درج ذیل ہدایات مددگار ثابت ہو سکتی ہیں:

1. دوائی کا استعمال صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر کریں: حمل کے دوران دوائیوں کا بےجا استعمال بچے پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

2. نیند کا خیال رکھیں: نیند کی کمی مائیگرین کو بڑھا سکتی ہے، اس لیے روزانہ کم از کم 7-8 گھنٹے نیند لیں۔

3. متوازن غذا کھائیں: پروٹین، پھل، اور سبزیوں سے بھرپور غذا لیں اور مائیگرین کو بڑھانے والی غذائیں (چاکلیٹ، کیفین، پرانی پنیر) سے پرہیز کریں۔

4. پانی زیادہ پئیں: جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے سے مائیگرین کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔

5. دباؤ اور تناؤ سے بچیں: ذہنی سکون کے لیے یوگا، گہری سانسیں لینے کی مشق، یا ہلکی پھلکی واک کریں۔

6. خود علاج سے گریز کریں: جڑی بوٹیاں یا ہربل سپلیمنٹس استعمال کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔

7. مائیگرین ڈائری رکھیں: مائیگرین کے دورے کی وجوہات اور شدت نوٹ کریں تاکہ ڈاکٹر علاج بہتر طریقے سے تجویز کر سکے۔

ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی بھی قدم نہ اٹھائیں۔

27/05/2024
24/05/2024

Consultant Neurophysician
Mon to Friday
Old Iqra Medical Complex, Johar Town, Lahore
8-10pm

09/05/2024

MD Neurology has been recognised as a Specialist degree/certificate in Saudi Commission for Health Specialities (SCFHS). You are welcome!

05/07/2022

Address

24-25-26-A, Johar Town
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 19:00 - 22:00
Tuesday 19:00 - 22:00
Wednesday 19:00 - 22:00
Thursday 19:00 - 22:00
Friday 19:00 - 22:00
Saturday 16:00 - 18:00
19:00 - 21:00

Telephone

+923217474693

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Muhammed Ahmar Ashiq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr. Muhammed Ahmar Ashiq:

Share

Category