Dr Shahroz Kayani

Dr Shahroz Kayani ڈاکٹر شہروز الحمداللہ پچھلے 27 سال سے معدے کے مسائل مردوں کے امراض کا مکمل اور کامیاب علاج کررہے ہیں

ڈاکٹر شہروز کیانی الحمداللہ پچھلے 27 سال سے پرانی سے پرانی بواسیر معدے کے تمام مسائل کا مکمل اور کامیاب علاج کررہے ہیں
جن میں خونی بواسیر ، بادی بواسیر ، موقعے والی بواسیر ، بھگندر، ناسور، فسچولہ ، اور فشر جریان اح**ام ، ٹائمنگ سختی شامل ہیں
ایسے افراد جو بواسیر کی وجہ یا ٹائمنگ سختی کی وجہ سے پریشان ہیں اور بواسیر کا بغیر آپریشن مکمل اور کامیاب علاج کروانا چاہیتے ہیں تو دئیے گئے نمبر پر کال یا واٹس ایپ کریں اور اپنے تمام مسائل سے چھٹکارہ حاصل کریں

0317-8886957

ڈاکٹر شہروز کیانی الحمداللہ پچھلے 27 سال سے پرانی سے پرانی بواسیر معدے کے تمام مسائل کا مکمل اور کامیاب علاج کررہے ہیںجن...
06/11/2023

ڈاکٹر شہروز کیانی الحمداللہ پچھلے 27 سال سے پرانی سے پرانی بواسیر معدے کے تمام مسائل کا مکمل اور کامیاب علاج کررہے ہیں
جن میں خونی بواسیر ، بادی بواسیر ، موقعے والی بواسیر ، بھگندر، ناسور، فسچولہ ، اور فشر جریان اح**ام ، ٹائمنگ سختی شامل ہیں
ایسے افراد جو بواسیر کی وجہ یا ٹائمنگ سختی کی وجہ سے پریشان ہیں اور بواسیر کا بغیر آپریشن مکمل اور کامیاب علاج کروانا چاہیتے ہیں تو دئیے گئے نمبر پر کال یا واٹس ایپ کریں اور اپنے تمام مسائل سے چھٹکارہ حاصل کریں

0317-3177227

ڈاکٹر شہروز کیانی الحمداللہ پچھلے 27 سال سے پرانی سے پرانی بواسیر معدے کے تمام مسائل کا مکمل اور کامیاب علاج کررہے ہیںجن...
19/08/2023

ڈاکٹر شہروز کیانی الحمداللہ پچھلے 27 سال سے پرانی سے پرانی بواسیر معدے کے تمام مسائل کا مکمل اور کامیاب علاج کررہے ہیں
جن میں خونی بواسیر ، بادی بواسیر ، موقعے والی بواسیر ، بھگندر، ناسور، فسچولہ ، اور فشر جریان اح**ام ، ٹائمنگ سختی شامل ہیں
ایسے افراد جو بواسیر کی وجہ یا ٹائمنگ سختی کی وجہ سے پریشان ہیں اور بواسیر کا بغیر آپریشن مکمل اور کامیاب علاج کروانا چاہیتے ہیں تو دئیے گئے نمبر پر کال یا واٹس ایپ کریں اور اپنے تمام مسائل سے چھٹکارہ حاصل کریں

0317-8886957

مٹاپا کم کرنے والی غذائیں -مٹاپا ایک علم گیر وبا کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اس کی بڑی وجہ خراب طرزِ زندگی ہے۔ ہم فطری طرزز...
10/07/2023

مٹاپا کم کرنے والی غذائیں -
مٹاپا ایک علم گیر وبا کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اس کی بڑی وجہ خراب طرزِ زندگی ہے۔ ہم فطری طرززندگی سے دُور ہورہے ہیں۔ تن آسانی اور وقت نہ ہونے کے باعث بازاری غذائیں کھانے کا رجحان بڑھ گیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر ، ذیابیطس جوڑوں کا درد ، امراض قلب اور کولیسٹرول میں اضافہ ہورہا ہے۔
مٹاپے میں جسم میں ضرورت سے زیادہ چربی جمع ہوجاتی ہے۔ اگرچہ یہ مرض مردوں کے بجائے خواتین میں زیادہ ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو آرام طلب ہوتے ہیں، سیریا ورزش نہیں کرتے اور روغنی غذائیں زیادہ کھاتے ہیں، وہ مٹاپے کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ آرام طلبی کے باعث جسم کی فالتو چربی تحلیل نہیں ہوتی اور مٹاپے کا باعث بن جاتی ہے۔

بعض لوگ فطری طور پر چربی زیادہ جمع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بعض اپنی جسمانی ضرورت سے زیادہ چربی والی غذائیں کھاتے ہیں۔

یہ لوگ نہ جسمانی کام کرتے ہیں اور نہ ورزش ۔ اس طرح چربی جمع ہوکر مٹاپے کا باعث بن جاتی ہے۔ ہم جو غذا کھاتے ہیں ، وہ جزوِ بدن بن کر جسم کی صحت کو برقرار رکھتی ہے۔ بعض لوگ پُرکشش ، خوب صورت اور صحت مند رہنے کے لئے روغنی غذائیں زیادہ کھاتے ہیں اور صحت کی بالکل پروا نہیں کرتے، جس کی وجہ سے جسم میں چربی کی مقدار بڑھ جاتی اور مٹاپے کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔
ہر شخص کو اپنی روزانہ کی جسمانی ضرورت کے مطابق غذا کھانی چاہیے ۔ غذا کھانے کا مقصد جسم کی صحت برقرار رکھنا اور بھوک مٹانا ہے، نہ کہ بسیار خوری سے چربی بڑھانا۔ آج کل خواتین ، خصوصاََ لڑکیوں میں مٹاپے سے بچنے کے لئے ڈائٹنگ کرنے کا رجحان بہت زیادہ ہے، جس سے دوسرے امراض جنم لیتے ہیں۔ ڈائٹنگ کرنے والے کا چہرے پُرکشش نہیں رہتا، بلکہ بے رونق ہوجاتا ہے، خون کی کمی ہوجاتی ہے، رنگت زرد پڑجاتی ہے، ماہانہ ایّام میں باقاعدگی نہیں رہتی اور جسمانی قوت میں بھی کمی آجاتی ہے۔
کم کھانا یا ڈائٹنگ کرنا مٹاپا ختم کرنے کے صحیح طریقہ نہیں ہے۔ آپ روزانہ بھرپور غذا کھائیں۔ وہ غذائیں بھی ضرورت کے مطابق کھائیں، جن میں چربی بنانے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ غذائیں زیادہ کھائیں جن میں چربی کم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایسی غذائیں ضرور کھائیں، جو چربی تحلیل کرنے کے عمل کو تیز کرتی ہیں۔ ذیل میں ایسی چند غذاؤں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

دہی: ناشتا دہی سے کریں۔ تحقیق کے مطابق ناشتے میں بغیر چینی کا دہی کھانے سے جسمانی وزن میں کمی ہونے لگتی ہے۔
چکوترا: چکوترا (گریپ فروٹ) حیاتین ج (وٹامن سی) سے بھرپور پھل ہے۔ یہ جسم میں چربی کو جمع ہونے سے روکتا اور انسولین کی سطح کو کم رکھتا ہے۔ چکوترا چربی کے خلاف مزاحمت کرنے والی منفرد کیمیائی خصوصیات کے باعث مٹاپا کرنے میں مدد دیتا ہے۔

گوبھی:گوبھی نشاستے (کاربوہائڈریٹ)سے پاک سبزی ہے۔ یہ جسمانی وزن کم کرنے میں بھی مفید ہے۔ اسے کسی بھی صورت کھایا جاسکتا ہے، تاہم اعتدال سے کھانے میں فائدہ ہے۔
اخروٹ: جدید تحقیق کے مطابق 30 گرام اخروٹ روزانہ کھانے سے کولیسٹرول کم ہوجاتا ہے۔ یہ کولیسٹرول کی سطح کو متوازن رکھتا ہے۔ اخروٹ چربی کو قابو میں کرکے مٹاپا کم کرتا ہے۔

جَو: جَو کا دلیا کولیسٹرول کے برھنے سے روکتا ہے۔ اس میں موجود ریشہ نہ صرف چربی تحلیل کرنے میں مدد دیتا ہے، بلکہ ہضم وجذب کی کارکردگی کو بھی بہتر بناتا ہے ۔ جَو کا دلیا ناشتے میں باقاعدہ کھانے سے کولیسٹرول کی سطح اعتدال پر آجاتی اور مٹاپے سے نجات مل جاتی ہے۔
دالیں: دالیں بھی مٹاپا کم کرنے میں مفید ہیں۔
ایک پلیٹ دال کھانے سے ۱۸ گرام لمحیات (پروٹینز) ملتی ہیں، جس سے جسم میں توانائی بڑھتی ہے۔ دال کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر کو کم کرتی ہے ، اس لیے مٹاپے سے محفوظ رہنے کے لئے ڈائٹنگ کرنے کے بجائے دالیں کھائیں۔
زیتون کا تیل: زیتون کا تیل کھانے سے وزن کم ہوتا ہے ، اس لیے کہ یہ چربی جمع نہیں ہونے دیتا۔ تحقیق کے مطابق یہ مٹاپا کم کرنے میں بہت مفید ہے۔

سبز چائے: ماہرین صحت کے مطابق سبز چائے وزن نہیں بڑھاتی۔ یہ چربی تحلیل کرنے اور غذا میں شامل گلوکوس سے توانائی خارج کرنے میں مفید ہے۔ نیز یہ ہضم و جذب کی کارکردگی کو بہتر کرتی ہے۔
پانی: کھانے سے قبل پانی پینے سے وزن کم ہونے لگتا ہے۔ روزانہ کھانے سے کچھ دیر قبل پانی پینے سے ہضم وجذب کی شرح بڑھ جاتی ہے، جو حراروں کو جلانے میں مدد دیتی ہے۔ آپ کھانے سے قبل پا نی پینے کی عادت سے مٹاپا کم کرسکتے ہیں۔

بخار کی شدت -بخار کی شدتسرکہ اور عرق گلاب کو ملا کر پانی میں ڈالیں اورپٹیاں پانی میں بگھو کر سر پر رکھیں بخار کی شدت کم ...
08/07/2023

بخار کی شدت -
بخار کی شدت
سرکہ اور عرق گلاب کو ملا کر پانی میں ڈالیں اورپٹیاں پانی میں بگھو کر سر پر رکھیں بخار کی شدت کم ہوجائے گی۔

چقندر۔ ایک مفید سبزی -چقندر شلجم سے مشابہ ایک سبزی ہے ، جو گہرے سرخ رنگ کی ہوتی ہے ۔ اس کا رنگ اتنا تیز ہوتا ہے کہ جب اس...
07/07/2023

چقندر۔ ایک مفید سبزی -
چقندر شلجم سے مشابہ ایک سبزی ہے ، جو گہرے سرخ رنگ کی ہوتی ہے ۔ اس کا رنگ اتنا تیز ہوتا ہے کہ جب اسے پکایا جائے تو پوری ہنڈیا سرخ ہوجاتی ہے۔ گہرے سرخ رنگ کی یہ سبزی نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے ، بلکہ کئی امراض دور کرنے میں بھی مفید ہے۔ایران میں اس کارس بہت شوق سے پیا جاتا ہے۔

آئر لینڈ کے ساحلی علاقوں کے لوگ اس کے پتے بہت شوق سے کھاتے ہیں وہاں ڈنٹھل سمیت پکا کرکھانے کا رواج ہے ۔ یہ صحت بخش سبزی کئی امراض سے چھٹکارا دلانے میں مدد کرتی ہے۔
قبض:چقندر کھانے سے آنتوں میں تحریک پیدا ہوتی ہے، جس کے باعث اجابت آسانی سے ہوجاتی ہے۔ اسے سلاد کی طرح یا روزانہ پکا کر کھایا جائے تو قبض سے نجات مل جاتی ہے۔

جن لوگوں کو دائمی قبض کی شکایت ہو، انھیں چاہیے کہ وہ روزانہ رات کو سوتے وقت آدھا گلاس چقندر کا سُوپ پییں۔ جو افراد خون کی کمی کا شکار ہوں، وہ روزانہ چقندر کا رس پییں، انھیں بہت فائدہ ہوگا۔
سر میں درد: کچھ لوگوں کے سر میں درد کی مسلسل شکایت رہتی ہے۔ سر بوجھل رہتا ہے۔ جکڑن سی محسوس ہوتی ہے۔ کام کاج میں دل نہیں لگتا۔
ایسی صورت حال میں ایک عدد چقندر پتوں سمیت کاٹ کر ایک درمیانی پتیلی میں ڈال کر دو گلاس پانی شامل کرکے جوش دیں، لیکن زیادہ نہ پکائیں۔ ذائقہ بہتر کرنے کے لیے اس میں تھوڑی سی چینی ملا دیں۔ سات سے آٹھ دن تک یہ پانی پینے اور چقندر کے ٹکڑے کھانے سے سرکادرد اور بوجھل پن دور ہوجاتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو ناشتے میں صرف یہی پانی پییں اور ٹکڑے کھائیں۔
اس کے بعد ایک گھنٹے تک چائے نہ پییں۔
ہاضمے کی خرابی:اگر یرقان کی وجہ سے متلی اور قے کی شکایت ہو یا اسہال یاپیچش ہوجائے تو اس میں بھی چقندر بہت کام آتا ہے۔ اس کے رس میں ایک چمچہ لیموں کا رس ملا کر پینے سے ہاضمے کی خرابی دور ہوجاتی ہے۔ نہار منھ چقندر کے رس میں شہد ملا کر پینے سے معدے کے زخم ٹھیک ہوجاتے ہیں اس کا رس صحت کے لیے مفید ہے۔

جوڑوں کا درد:تِلوں کے ڈیڑھ لیٹر تیل میں چقندر اور ارنڈ کا رس ملا کر درمیانی آنچ پر پکائیں۔ پتیلی بڑی ہونی چاہیے، تاکہ تیل نیچے نہ گرے۔ جب پانی خشک ہوکر تیل اور اس کی مقدار کم ہوجائے تو اسے اتار کر کپڑے سے چھان لیں، اس سے جوڑوں پر مالش کروائیں۔ اس سے ورم رفتہ رفتہ ختم ہوجاتا ہے۔ پسلی میں درد کی صورت میں بھی اس تیل کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔

داغ اور جھائیاں:چقندر کا رس چہرے کے داغ دھبے اور جھائیاں دُور کرتا ہے۔ ایک چقندر کاٹ کر پانی میں اُبال کر رکھ لیں۔ یہ پانی روئی کی مدد سے داغ دھبوں اور جھائیوں پر اچھی طرح لگائیں اور پانچ سے سات منٹ بعد منھ دھولیں۔ اس کے بعد چہرے پر گلاب کا عرق لگالیں۔ چند روز میں داغ دھبے اور جھائیاں کم ہوجائیں گی۔ اگر جلد پر خارش ہوتو آپ تین حصے چقندر کے رس میں ایک حصہ پھلوں کا سرکہ ملا کر اس پر لگاسکتے ہیں۔
جِلد زیادہ خراب ہوتو آپ انھیں پتوں سمیت اُبال لیں اور اس پانی سے جلد کو دن میں دوبار دھوئیں، فائدہ ہوگا۔ کیل مہاسوں اور پھنسیوں کے خاتمے کے لیے بھی چقندر مفید ہے۔
ہائی بلڈ پریشر:چقندر کا رس ہائی بلڈ پریشر ، شریانوں کی بندش اور دل کی تکالیف کو کم کرتا ہے۔ یہ پھُولی ہوئی رگوں کو درست کرتا ہے۔ جن افراد کو بلڈ پریشر کی شکایت ہو ، وہ اس کا رس پییں، چوبیس گھنٹوں میں ہی بہتری محسوس کریں گے۔

سر کی خشکی:اگر سر کے بالوں میں خشکی زیادہ ہوتو ایک چقندر کا رس نکال کر اس میں ایک بڑا چمچہ پھلوں کا سرکہ ملا لیں اور بالوں کی جڑوں میں لگا کر پندرہ بیس منٹ بعد سر دھو لیں۔ اگر بال خورے(ایک مرض جس میں جگہ جگہ سے بال اُڑ جاتے ہیں)کی شکایت ہوتو اس کر نرم پتوں کا رس دن میں تین سے چار بار لگانے سے افاقہ ہوتا ہے۔

صحت اور تندرستی -انسان کے جسم کو صحت مند رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے امراض کی تکلیف اور تباہ کاریوں سے محفوظ رکھا...
06/07/2023

صحت اور تندرستی -
انسان کے جسم کو صحت مند رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے امراض کی تکلیف اور تباہ کاریوں سے محفوظ رکھا جائے اس مقصد کے لیے جو طریقے استعمال کیے جاتے ہیں ان کا حفظ ماتقدم کہتے ہیں۔اور ظاہر ہے کہ یہ طریقے امراض کے علاج سے کہیں زیادہ فائدہ مند اور قابل عمل ہوں گے۔ان پر عمل کرنے سے ہم بہت سی مصیبتوں سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں ان پر کچھ زیادہ خرچ بھی نہیں آتا اس لیے ہر شخص ان پر عمل پیرا ہوسکتا ہے۔
امراض کئی قسم کے ہوتے ہیں لیکن جہاں تک ہمارے عنوان کا تعلق ہے ان سب میں اہم ترین وہ بیماریاں ہیں جو متعدی یا چھوت کی بیماریاں کہلاتی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بیماریاں ایک بیمار شخص سے دوسرے تندرست شخص کو لگ جاتے ہیں اورجب کوئی ایک مرض ایک وقت میں کسی ایک مقام پر بہت سے لوگوں کو لاحق ہوجاتے ہیں تو اسے ”وبا“کہتے ہیں اس قسم کے امراض کا سبب مختلف قسم کے جراثیم ہوتے ہیں جو اپنی مخصوص شکل وشہبات اور دیگر اوصاف کی بنا پر خردبین کے ذریعے دیکھنے سے یہ آسانی پہنچائے جاسکتے ہیں اکثر و بیشتر جراثیم کی ساخت کو اللہ تعالیٰ نے صرف ایک خلیے تک ہی محدود رکھا ہے یعنی ایک خانہ یا بکس سا ہوتا ہے اور بس یہ جراثیم نم دار اور چمکدار ہوتے ہیں چنانچہ گردوغبار کے ذرات یا پانی کے چھوٹے چھوٹے قطروں پر جم کر یہ ہوا میں اُڑتے پھرتے ہیں اسی لیے گردوغبار والی ہوا میں یااس ہوا میں جسے انسان اپنے گلے منہ یا ناک سے بذریعہ چھینک یا کھانسی یا تھوک خارج کرتا ہے یہ جراثیم زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں یہ ان فضلات میں بھی پائے جاتے ہیں جو ہم پیشاپ،پاخانہ یا بلغم کی صورت میں خارج کرتے ہیں۔

کئی ایک جراثیم کوڑے کرکٹ کے ساتھ کھیتیوں میں پہنچ جاتے ہیں اور پھروہاں سے مختلف جانوروں کے جسم میں یا پھلوں اور سبزیوں کے اندر بھی۔پس اگرہم سب لوگ گھروں،سکولوں،عام سڑکوں یا ان مقامات جہاں بہت سے لوگ جمع ہوتے ہیں ان منہ اورناک کو رومال سے ڈھکے بغیر نہ چھینکیں اور نہ ہی کھانسیں،عام سڑکوں پر نہ ہی بلغم پھینکیں اور نہ ہی ناک صاف کریں اور جب بھی پاخانہ یا پیشاپ کرکے آئیں تواپنے ہاتھوں کو خوب اچھی طرح صاف کرلیں اور کھانا کھانے سے پہلے ابھی اپنے برتنوں اور ہاتھوں کو خوب اچھی طرح دھولیں اور جہاں کھانے پینے کی اشیا بڑی ہوں اس مقام کے اردگرد کی ہوا کو گردوغبار سے پاک رکھنے کی کوشش کریں تو ہم اپنے آپ کو بہت سی بیماریوں سے بچاسکتے ہیں۔
ذرات اور فطرات کے علاوہ جراثیم کے پھیلنے کے ذرائع اور بھی ہیں جن سے آپنے آپ کو محفوظ کیا جاسکتاہے اس سلسلے میں ہمارے سب سے بڑے دشمن مکھیاں اور چوہے ہیں جو غلاظت کو ہماری کھانے پینے کی اشیا تک پہنچادیتے ہیں اس لیے کھانے پینے کی اشیا تک پہنچادیتے ہیں اس لیے کھانے پینے کی چیزوں کو ان سے پوری طرح محفوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے اگر ان میں سے کسی ایک کا گزر ان پرسے ہوجائے تو وہ استعمال نہ کریں یا استعمال کرنے سے پہلے ان کو اچھی طرح دھو کر ابالیں خواہ وہ کھانے پینے کے برتن ہی کیوں نہ ہوں نہ صرف یہ بلکہ کسی جانور کو ان کے پاس پھٹکنے بھی نہ دیں خواہ وہ پالتو ہی کیو ں نہ ہوں۔
چوٹ ضرب یا زخم آنے سے بھی یہ جراثیم ہمارے جسم میں داخل ہوجاتے ہیں مثلاً چلتے چلتے آپ کے پاؤں میں کاٹنا کیل یا روڑا چبھ گیا چونکہ ان پر اکثر غلاظت لگی ہوتی ہیں اس لیے ان کے پیدا کردہ زخم کے راستے جراثیم جسم میں داخل ہوجاتے ہیں اس لیے جب کوئی ایسا حادثہ پیش آجائے تو فوراً اس پر ٹنکچر آئیوڈین لگادیں تاکہ تمام جراثیم مردہ ہوجائیں یا اس ہر پسی ہوئی ہلدی چھڑک دیں یا کسی جراثیم کش دوا سے دھوکر اس پر اس قسم کی کوئی دوا لگادیں،مثلاً سلفانومائیڈ پوڈر وغیرہ،تاکہ یہ جراثیم وہیں بلاک ہوجائیں اور جسم کے اندر داخل نہ ہونے پائیں ایک خاص قسم کے جراثیم سڑکوں کے کوڑا کرکٹ میں بالخصوص جس میں گوبر ملا ہوا ہو اس کے اندر پائے جاتے ہیں یہ بڑے موذی اور خطرناک ہوتے ہیں اور ان سے مرض کزاز لاحق ہوجاتا ہے اس مرض میں تمام جسم اکثر اکڑ کر تختے کی مانند سخت ہوجاتا ہے اور بے حد تکلیف کا باث ہوتا ہے یہ مرض اکثر مہلک ثابت ہوتاہے اور ویسے بھی اس کا علاج بڑا مشکل ہے یہ مرض بالعموم جبڑے سے شروع ہوتا ہے اور منہ بڑے زور سے بند ہوجاتا ہے ،پھر تھوڑی دیر کے لیے کھلنے کے بعد دوبارہ بڑی سختی سے بند ہوجاتا ہے اورجب بھی اسے جبراً کھولنے کی کوشش کی جائے تو یہ اور زیادہ سختی سے بند ہوجاتا ہے اس کے بعد تشنج کے دورے پڑنے لگتے ہیں اور بالآخر مریض ہلاک ہوجاتے ہیں ایسے مریض کو فوراً ہسپتال پہنچا دینا چاہیے کیونکہ اس کا علاج گھر پرنہیں ہوسکتا معلوم ہوگیا ہوگا کہ گندی سڑکوں پر آئے ہوئے زخم کبھی بھی معمولی نہ سمجھیں،بالخصوص شہر کی ان سڑکوں پر جہاں مویشی آتے جاتے ہوں یا گھوڑے خچر وغیرہ لید کرتے ہیں ایسے زخموں پر فوراً ٹنکچر آئیوڈین یا اس قسم کی کوئی دوسری دوا لگا دینی چاہیے اور کسی ماہر سے مشورہ کریں۔
بعض جراثیم اس پانی میں داخل ہوجاتے ہیں جسے ہم پیتے ہیں یا جس سے کھانے پینے کے برتن دھوئے جاتے ہیں پانی کے ہمراہ یہ ہمارے جسم کے اندر داخل ہوجاتے ہیں اور مرض پیدا کرتے ہیں ،چنانچہ ہیضہ اور تپ محرقہ جیسی مشہور بیماریاں اس طرح لاحق ہوتی ہیں تپ محرقہ کے مریض کے پاخانے میں بھی اس مرض کے جراثیم پائے جاتے ہیں اور استنجا کرنے کے بعد یہ جراثیم مریض کے ہاتھوں پر لگے رہ جاتے ہیں اگر پاخانہ پھرنے کے بعد وہ اپنے ہاتھوں کو اور بالخصوص ناخنوں کو اچھی طرح صاف نہ کریں تو اس کے ہاتھوں سے برتنوں پر بھی جراثیم لگ جاتے ہیں اور جب تندرست آدمی ان برتنوں کو استعمال کرتا ہے تو یہ جراثیم اس کے جسم میں چلے جاتے ہیں اور مرض پیدا کرنے کا باعث بن جاتے ہیں،دق وسل ایک مشہور مرض ہے جو بالکل اسی طریقے پر دودھ کے ذریعے لاحق ہوجاتا ہے ان جراثیم کی ایک قسم ایسی بھی ہوتی ہے جو مویشی کے دودھ کے اندر پائی جاتی ہیں اس لیے کچا دودھ کبھی نہیں پینا چاہیے اگر کھانے پینے کی چیزیں بیچنے والا دکاندار اس مرض میں مبتلا ہوگا وہ بھی اس مرض کو پھیلانے کا باعث ہوگا۔
جراثیم بھی جاند ار ہوتے ہیں اس لیے ان کے زندہ رہنے اور پھیلنے کے لیے ارد گرد کے ماحول کا سازگار ہونا ضروری ہوتا ہے اور اس کی چند شرائط ہیں چنانچہ انہیں اپنی زندگی اور نشوونما کے لیے خوراک کی ضرورت ہوتی ہیں جسے وہ فضلات اور گلی سڑی چیزوں سے حاصل کرتے ہیں ان کو زندہ رہنے کے لیے ایک خاص درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہیں اور یہ درجہ حرارت انسانی جسم کے درجہ حرارت کے تقریباً برابر ہونا چاہیے ان کے لیے رطوبت یا نمی کی بھی ضرورت ہوگی اور ان کی کثیر تعداد کے لیے اکسیجن کی بھی یہ دونوں چیزیں وہ ہوا سے حاصل کرتے ہیں اگرچہ ان کی کچھ تعداد ایسی بھی ہوتی ہیں جو بہت کم درجہ اکسیجن یا اس کے بغیر بھی بہت اچھی طرح نشوونما پاسکتے ہیں مثلاً کزاز کے جراثیم۔
چنانچہ یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہیں کہ اگر ہم یہ ماحول پیدا نہ ہونے دیں یا اس قسم کے ماحول کو بدل ڈالیں تو جراثیم کی نشوونما کو روکا جاسکتا ہے،علاوہ ازیں مناسب تدابیر اختیار کرنے یعنی صفائی کا خیال رکھنے سے ہم کھانے پینے کی اشیا کو ان کے پھیلانے کا ذریعہ بننے سے بھی روک سکتے ہیں۔پانی اور کھانے پینے کی اشیاء کو اُبالنے سے ان کے جراثیم کو ہلاک کیا جاسکتا ہے پانی کب تک اُبالا جائے؟یہ وقفہ تین منٹ سے آدھ گھنٹے تک ہونا چاہیے اور اس وقفے کا انحصار چیز کی ماہیت اور ن جراثیم پر ہوتا ہے جنہیں ہلاک کرنے کا ارادہ ہو،جراثیم جسم میں داخل ہونے کے لیے یا تو گلے کی جھلی کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں جیسا کہ مریض خناق میں ہوتا ہے یا انتڑیوں کی اندرونی سطح اور جو جھلی لگی ہوتی ہیں اس پر چمٹ جاتے ہیں اور پھر وہاں سے ہوا کے ساتھ پھیپھڑوں کے اندر اور انتڑیوں سے خوراک کے ساتھ یہ جراثیم اور ان کی پیدا کردہ زہر تمام جسم میں چلا جاتا ہے ،جب جلد پر کہیں زخم آجائے خواہ وہ صرف چھل ہی گئی ہو تو اس راستے سے بھی جسم کے اندر یہ جراثیم داخل ہوجاتے ہیں سب سے زیادہ آسان اور کھلے ہوئے راستے تو ناک اور منہ ہیں۔
آپ نے دیکھ لیا ہوگا کہ میلے کچیلے اور صاف ستھرا نہ رہنے سے جراثیم کس قدر جلدی نشوونما پانے لگتے ہیں اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہوگیا کہ دوسرے لوگوں کے استعمال شدہ صابن کپڑے،تولیے،رومال دانت صاف کرنے والے برش یا مسواک اور نہانے دھونے کی دیگر اشیا اپنے استعمال میں نہ لائی جائیں بالخصوص ان لوگوں کی جو حال ہی میں کسی بیماری سے صحت یاب ہوئے ہوں نیز اپنے ہاتھوں کو جہاں تک ہو صاف رکھیں اور کھانے سے پہلے ان کو ضرور اچھی طرح دھولیا کریں،تیسرے وہی کھانا دودھ اور پانی استعمال کریں جس کے متعلق آپ کو یقین ہوکہ صاف ستھرا ہوگا اورمنہ کے اندر سوائے کھانے پینے کی اشیا کے اور کچھ نہ ڈالیں چوتھے یہ کہ اپنی جلد کو صابن اور تازہ پانی سے نہا کر صاف رکھیں اور جب کہیں زخم آجائے خواہ وہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو اس پر کوئی جراثیم کش دوا لگادیا کریں،پانچویں اپنے گھروں سے مچھروں ،مکھیوں اور چوہوں کو دور رکھنے کی کوشش کریں اور اخیر میں اور سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جب یہ جراثیم جسم کے اندر داخل ہوجاتے ہیں تو جسم کی قوت مدافعت ان کو ہلاک کرنے کے لیے فوراً حرکت میں آجاتی ہیں اس لیے مناسب غذا صاف ہوا ورزش نیند اور آرام سے جسم کی قوت مدافعت کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔
ہمارے ملک میں متعدد امراض اکثر سال کے دو حصوں میں پھیلتے ہیں ایک تو برسات کے موسم میں جب اسہال ہیضہ تپ محروقہ اور ملیریاک بخار عام ہوجاتے ہیں اور دوسرے وہ زمانہ جب سردیوں کا موسم ختم ہونے کو ہو ۔اسی وقت نمونیا کھانسی زکام خسرہ خناق اور دق وسل کے امراض عام دیکھے جاتے ہیں۔اس سے یہ نہ سمجھے کہ مرض دوسرے وقتوں میں نہیں ہوتے بلکہ محض یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ان وقتوں میں لوگوں کی بہت زیادہ تعداد ان امراض میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔
ان متعددی امراض میں سے بعض بچوں کے امراض کہلاتے ہیں مثلاً خسرہ،گلسوئے لاکڑا کاکڑا،کالی کھانسی وغیرہ اس لیے کہ یہ اکثر بچوں میں دیکھے جاتے ہیں ان امراض کے متعلق بھی کچھ غلط خیالات پھیلے ہوئے ہیں۔مثلاً یہ کہ امراض خود بخود فع ہوجاتے ہیں اور ان سے کوئی مستقل نقصان نہیں پہنچتا دوسرے یہ کہ ان کا علاج نہیں کرانا چاہیے حالانکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بظاہر آرام آجانے کے بعد مریض کبھی بھی اپنی اصل حالت میں نہیں آتا کیونکہ کسی نہ کسی عضو میں کوئی نہ کوئی نقص مستقل طور پر رہ جاتا ہے جس کا مداوا مشکل ہوجاتا ہے،مثلاً خسرہ سے آنکھ میں پھولا پڑجاتا ہے یاکان میں پیپ بڑھ جاتی ہیں،گلسوؤں اورخناق سے قلب اور گردے بیمار ہوجاتے ہیں اس لیے ان امراض میں غفلت سے کام نہیں لینا چاہیے اور کسی ماہر کے مشورے کے مطابق ان کا علاج ضرور کرانا چاہیے بڑوں میں یہ امراض کم دیکھے جاتے ہیں کیونکہ اکثر بچے میں وہ ان امراض میں مبتلا رہ چکے ہوتے ہیں اور ان کے جسم میں ان امراض کے خلاف وقت مدافعت پیدا ہوچکی ہوتی ہیں،ان امراض کی ابتدائی علامات تقریباً یکساں ہوتی ہیں مثلاًسر درد،کسل منڈی،آنکھوں کا سرخ ہوجانا اور ان سے پانی بہنا،زکام،بخار،گلے میں درد وغیرہ اور یہ بیماریاں پھیلتی بھی ان رطوبات اور مواد سے ہیں جو آنکھ ناک یا گلے سے خارج ہوتا ہے خواہ وہ کھانسی سے نکلے یا چھینک وغیرہ سے،سکولوں میں ان علامات کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور جوں ہی کسی بچے میں دیکھی جائیں اسے سکول آنے سے منع کردیا جائے اور ڈاکٹر کی تصدیقی تحریر کے بغیر اسے سکول آنے نہ دیا جائے کہ اب بچہ بالکل تندرست ہیں۔

پس یہ سمجھے کہ ان بیماریوں کے پھیلنے کے اسباب یہ ہوسکتے ہیں:
۱۔جراثیم میں بیماری پیدا کرنے کی قوت زیادہ ہوجائے،
۲۔انسان کے جسم میں قوت مدافعت یعنی بیماری کا مقابلہ کرنے کی قوت کم ہوجائے یا وہ انسان کسی خاص بیماری میں مبتلا ہونے کی طرف قدرتی طور پر زیادہ رجحان رکھتا ہو۔
۳۔
آبادی کے ماحول میں اس قسم کے تغیرات آجائیں جن سے جراثیم کی قوت بڑھ جائے یا انسانوں کی قوت مدافعت کم ہوجائے مثلاً موسمی تغیرات حد سے زیادہ بڑھ جائیں یا مستعد اور کمزور آدمی ایک مقام پر زیادہ تعداد میں جمع ہوجائیں سرد ملک کے رہنے والے باشندے گرم ملک میں جا آباد ہوں اور گرم ملک کے سرد ملک میں،
اسی اعتبار سے کسی ایک وبا کی قوت اس وقت کم ہوجاتی ہیں جب:
۱۔
امراضی رجحان رکھنے والے آدمیوں کی تعداد کم ہوجائے۔
۲۔مرض پیدا کرنے والے جراثیم کی قوت گھٹ جائے۔
۳۔آبادی کی قوت مدافعت زیادہ ہوجائے۔
۴۔موسمی تغیرات ایسے ہوجائیں جن سے جراثیم کی قوت کم ہوجائے یا ختم ہوجائے آبادی کی قوت مدافعت بڑھ جائے۔
متعدی امراض اور وبا کی روک تھام میں انسانی کوششوں کو بھی بڑا دخل حاصل ہے مثلاً چیچک کی روک تھام کے لیے ٹیکے لگوانا پانی کو صاف ستھرا اور اُبال کر پینا دودھ کو اُبال کر پینا وغیرہ۔

Address

Shahroz Kayani Care Clinic 36-B Sabzazar B Block Lahore
Lahore
54500

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Shahroz Kayani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Shahroz Kayani:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category