16/05/2021
کووڈ- 19 سے نجات کے بعد مریضوں کیلیے بڑا خطرہ ...بلیک فنگس !
تحریر و ترتیب : ڈاکٹر سیّد حفیظ الرحمان
انڈیا سے ملنے والی ہولناک خبروں میں سے ایک خبر یہ ہے کہ وہاں کووڈ.19 سے نجات پانے والے سینکڑوں افراد ,Mucormycosis کے باعث اذیتناک موت کا شکار ہونے لگے ہیں .
جیو نیوز کے.مطابق اس بیماری کے کچھ مریض پاکستان میں بھی رپورٹ ہوئے ہیں .
اس بیماری کی وجہ " بلیک فنگس" ہے .
بلیک فنگس کو عرف عام میں ہم پھپھوندی یا اُلّی کہتے ہیں .
یہ اسی قسم کی.پھپھوندی ہے جو ہمارے گھروں میں بچی ہوئی باسی روٹیوں پہ اگ آتی ہے .
کہا جارہا ہے کہ یہ بیماری کووڈ - 19 کے ان مریضوں میں دیکھی جارہی ہے جو کووڈ کے باعث کچھ عرصہ آکسیجن پہ رہے ہیں , بیماری اور سٹیرائیڈز وغیرہ کے باعث جنکی قوت مدافعت کم ہوگئی. جولوگ بلڈ شوگر میں مبتلا ہیں وہ سب سے زیادہ رسک پر ہیں .
ایک اندازے کے مطابق یہ بلیک فنگس , مریض آکسیجن سسٹم کے ذریعے مریض کے نتھنوں میں پہنچ رہی ہے . اسکی وجہ آکسیجن میں نمی رکھنے کیلیے humidifier chamber میں استعمال ہونے والا ناقص پانی ہے , یا پانی کے کنٹینر , جنہیں شاذو نادر ہی صاف کیا جاتا ہے .یہاں سے " بلیک فنگس کے بیج مریض کے نتھنوں تک پہنچتے ہیں اور پھر یہاں یہ پھلنے پھولنے لگتے ہیں .
نتھنوں سے نروز اور خون کے ذریعے یہ آنکھوں , جبڑوں کے جوڑوں , پھیپھڑوں اور دل و دماغ وغیرہ تک پہنچتے ہیں .
بلیک فنگس کے باعث متاثرہ نرو مفلوج ہو جاتا ہے , سب سے آنکھیں متاثر ہوتی ہیں , آنکھوں میں سوزش , ورم , درد کے ساتھ نظر ختم.ہونے لگتی ہے . بر وقت علاج نہ ہو تو مریض مستقل اندھا ہو جاتا ہے .آنکھ گلنے سڑنے لگتی ہے تو مریض کی آنکھ نکال دیتے ہیں, جبڑوں.کی ہڈیا گلنے سڑنے لگتی ہیں تو جبڑے نکال دیتے ہیں ,یہ فنگل انفیکشن دماغ میں پہنچتی ہے تو مریض مفلوج ہو جاتا اور اسکے کئی اھم اور نازک اعضاء کام کرنا بند کر دیتے ہیں آخر مریض دردناک موت کا شکار بن جاتا ہے .
جو مریض آکسیجن سپورٹ پہ ہیں انکا آکسیجن ماسک صاف ستھرا ہو انکے نتھنوں کو صاف رکھیں اور خصوصی نظر رکھیں اگر نتھنوں پہ بلیک پگمنٹ نظر آئیں اگر چہ دو چار ہی ہوں , فورا" ڈاکٹر کو بتائیں.
آکسیجن سپلائی کرنے والوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کو بھی چاھیے کہ مریض کو آکسیجن سپلائی میں استعمال ہونے والے آلات فنگس فری ہوں , آکسیجن میں نمی کیلیے عام پانی کی بجائے ڈسٹلڈ واٹر استعمال کریں یا فلٹر شدہ پانی . محض پانی کا صاف اور ابلا ہوا ہونا کافی نہیں .
مریض کی قوت مدافعت بیماری کے دوران اور بیماری کے بعد بہت کمزور ہوتی ہے . ذرا سی لا پرواہی کسی بھی المناک صورتحال سے دوچار کر سکتی ہے . جیسا کہ انڈیا میں ہو رہا ہے . مریض کووڈ سے چھٹکارا پاکے اور صحتیاب ہو کے گھر پہنچا . سب خوش ہیں لیکن چند دن بعد ہی بلیک فنگس نے کام دکھانا شروع کر دیا .
بیماری کی ابتدائی علامات
سردرد , بخار ,آنکھوں اور آنکھوں کے نیچے درد , انکھوں میں سوزش , ورم ,بینائی میں نمایاں کمی , ناک کی جڑ اور اطراف میں بھراو (سائنو سائٹس سے ملتی جلتی علامات). ناک کے نتھنوں پہ بلیک پگمنٹس.
مزید معلومات کیلیے اس پیج سے جڑے رھیے .......