Speak For Life

Speak For Life Psychologist

Speech And Language Pathologist (Gold Medalist)

Masters in Applied Psychology from Punjab University

Speech And Language Pathologist (Gold Medalist)
Riphah International University

Eighteen years experience of working with various disabilities in different settings.

03/01/2026
03/01/2026

🏠 بغیر اطلاع کے آنے کا غیر اخلاقی رواج!
ہماری ثقافت میں سب سے زیادہ غیر اخلاقی اور تکلیف دہ عادتوں میں سے ایک یہ خیال ہے کہ کسی کے گھر بغیر اطلاع دیے، اچانک "آ ٹپکنا" بالکل درست ہے۔ کوئی کال نہیں، کوئی میسج نہیں، کوئی تصدیق نہیں...
بس گھنٹی بجا دینا اور یہ توقع کرنا کہ آپ کو فوراً گرم جوشی سے خوش آمدید کہا جائے گا، تازہ چائے ملے گی، اور بھرپور مہمان نوازی کی جائے گی...
بظاہر تو یہ بے ضرر لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ دوسرے شخص کے وقت، جگہ (Space)، اور ذہنی حالت سے شدید لاپرواہی ہے۔
آپ کو کوئی اندازہ نہیں کہ اس دروازے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے...
• ہو سکتا ہے گھر میں صفائی نہ ہو...
• ہو سکتا ہے کوئی بیمار ہو...
• ہو سکتا ہے بچے ابھی ایک بھرپور "جنگ کے میدان" کے بعد سوئے ہوں...
• ہو سکتا ہے میزبان تھکا ہوا ہو، پریشان ہو، یا کسی کے لیے بھی "سماجی طور پر پیش ہونے" کے موڈ میں نہ ہو...
• ہو سکتا ہے ان کے کوئی منصوبے ہوں، کام کی ڈیڈلائن ہو، کوئی میٹنگ ہو، فیملی ٹائم طے ہو، کسی دوسرے مہمان کا انتظار ہو، یا وہ آخر کار سکون کے چند لمحے گزار رہے ہوں...
مگر آپ کا یہ 'اچانک' دورہ سب کچھ درہم برہم کر دیتا ہے!
حدود کا احترام کرنا کوئی عیاشی نہیں، یہ بنیادی انسانی تہذیب ہے۔
ایک سادہ سا میسج، ایک چھوٹی سی کال، ایک "ارے، اگر میں کل یا کچھ گھنٹوں بعد آؤں تو کیا آپ فارغ ہیں؟" پوچھنا مشکل نہیں، یہ ذمہ داری ہے۔
صرف چند گھنٹوں کی اطلاع بھی لوگوں کو تیاری کا موقع دیتی ہے اور انہیں ہاں یا نہ کہنے کا اختیار دیتی ہے، تاکہ وہ دباؤ کے بجائے سکون سے آپ کی میزبانی کر سکیں۔
لہٰذا، یہ بات واضح ہو:
بغیر بتائے اچانک آ جانا نہ تو اچھا لگتا ہے، نہ ہی یہ کوئی روایتی طریقہ ہے اور نہ ہی یہ محبت کا اظہار ہے... یہ سراسر بے احترامی ہے!
یہ اصول طے ہونا چاہیے:
آپ اجازت کے بغیر کسی کے گھر نہیں پہنچتے۔ آپ پوچھتے ہیں، آپ تصدیق کرتے ہیں، اور پھر آپ ملاقات کے لیے جاتے ہیں، تاکہ آپ کی موجودگی ایک تکلیف نہیں بلکہ ایک خوشی کا احساس دلائے.

Copied

02/01/2026

ذہن کو مضبوط رکھنے کے لیے چند سادہ مگر گہرے
اصولوں پر عمل کیا جا سکتا ہے:

1. منفی سوچوں کو پہچاننا اور ان کا مثبت متبادل ڈھونڈنا ایک اہم قدم ہے۔ خود سے رحمدلی سے بات کرنا سیکھیں۔
2. صحت مند غذا، ورزش، اور نیند، دماغی طاقت کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
3. ذہنی سکون کی تکنیکیں ذہن کو پرسکون اور بیدار رکھتی ہیں۔
4. کتابیں پڑھنا، نئے خیالات پر غور کرنا اور سوال کرنا ذہنی طاقت میں اضافہ کرتا ہے۔
5. مثبت لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا جو ہمت بڑھائیں اور منفی توانائی سے دور رہنے میں مدد دیں۔

31/12/2025

اس سال نے مجھے بڑی نرمی مگر بڑی سختی کے ساتھ✨✨
✨✨تین سچائیاں سمجھا دیں—

وہ سچائیاں جو دل توڑ کر بھی
انسان کو اندر سے مضبوط بنا دیتی ہیں۔

✨1. جو لوگ جہاں ٹھہرے ہوں،
انہیں وہیں چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔
رابطوں کی عمر بڑھانے سے نہیں،
دل کی سچائی سے ہوتی ہے۔
جو آپ تک آنا چاہتے ہیں،
وہ راستہ خود ڈھونڈ لیتے ہیں—
اور جو نہیں آنا چاہتے،
اُن کا پیچھا کرنا بس اپنے آپ کو کھو دینا ہے۔

✨2. ہر بات کا جواب دینا
ہماری ذمہ داری نہیں۔
کچھ رویّے ایسے ہوتے ہیں
جن کی بہترین سزا صرف یہ ہے
کہ ہم اُنہیں اپنی خاموشی میں دفن کر دیں۔
کچھ جنگیں لڑنے کے لائق نہیں ہوتیں—
اور کچھ باتیں ردعمل کے بغیر ہی مر جاتی ہیں۔

✨3. اور تیسرا سچ…
قبولیت سب سے بڑی آزادی ہے۔
ہر رشتہ، ہر موقع، ہر خواہش
جیسی ہے ویسی مان لینا—
یہ تلخ بھی ہے، مگر شفا بھی۔
کیونکہ جو بدلنا ہمارے ہاتھ میں نہ ہو،
اسے تھامے رکھنا بس بوجھ بڑھاتا ہے
سکون نہیں دیتا۔

یہ تین سادہ سے جملے
انسان کو اندر سے ایسے بدل دیتے ہیں
جیسے کوئی دھیرے سے کندن کو آگ میں رکھ کر
پروان چڑھا دے۔

اگر یہ سمجھ آ جائے
تو یہی ہے وہ سکون جو بہت دیر بعد ملتا ہے۔🥀

27/12/2025

ھر دل کی زمین پر ایک پھول کھلنا چاهیے
محبت کا پھول احساس کا پھول اچھائی کا پھول
تاکہ دلوں کی زمین نفرتوں سے پاک ھو جائے اور ھر جگہ امن اور سلامتی هو!!🤍🤍
ام مدثر

24/12/2025

سردیوں کی چھٹیاں والدین کے لیے اپنے بچوں کے ساتھ بامعنی وقت گزارنے کا بہترین موقع ہوتی ہیں۔ یہاں کچھ مفید طریقے ہیں جن سے آپ ان چھٹیوں کو کارآمد بنا سکتے ہیں:

- *پڑھنے کی عادت ڈالیں*: بچوں کو روزانہ تھوڑا سا پڑھنے کی عادت ڈالیں، چاہے وہ کہانیاں ہوں یا معلومات افزا کتابیں 📖۔
- *تخلیقی سرگرمیاں*: ڈرائنگ، رنگ بھرنا، اور دیگر تخلیقی کاموں میں بچوں کو شامل کریں 🎨۔
- *گھر کے کام*: بچوں کو گھر کے چھوٹے کاموں میں شامل کریں، جیسے کہ کھانا بنانے میں مدد یا گھر کی صفائی 🏠۔
- *تعلیمی کھیل*: تعلیمی کھیل کھیلیں جو بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو بڑھائیں 🎲۔
- *محبت اور توجہ*: بچوں کے ساتھ محبت اور توجہ سے بات چیت کریں، ان کے مسائل سنیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں ❤️۔

یہ چھٹیاں بچوں کی شخصیت نکھارنے، ان کا اعتماد بڑھانے، اور والدین سے مضبوط رشتہ بنانے کا سنہری وقت ہیں 😊۔
*مریم شہاب*

24/12/2025

ہم کس طرح بچوں میں خود اعتمادی پیدا کر سکتے ہیں ہم خود گھر میں بچوں کے کام کرتے ہیں مثلاً پانی کھانا لانا کپڑے پہنے اور دوسرے چھوٹے چھوٹے کام اور بچوں کو احساس زمہ داری نہیں دیتے سکول ٹیچر کے ساتھ ساتھ والدین کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بچوں میں خود اعتمادی پیدا کر ے

24/12/2025

زندگی ایک مسلسل عمل ہے جس میں ہم سیکھتے ہیں، بدلتے ہیں، اور بڑھتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ، ہمارا رویہ اور سوچنے کا انداز بھی بدل جاتا ہے۔ ہم اُن چیزوں کو اہمیت دینا چھوڑ دیتے ہیں جو کبھی ہمیں بے حد پریشان کرتی تھیں۔ یہ عمل ذہنی پختگی کا اشارہ ہوتا ہے۔
جب ہم ناراض ہونا چھوڑ دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں جذبات کی کمی ہو گئی ہے، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے اپنی توانائی کو بے فائدہ باتوں پر ضائع کرنا ترک کر دیا ہے۔ ہمیں یہ سمجھ آ جاتی ہے کہ ہر کسی کے رویے کو دل پر لینا اور ہر بات پر غصہ کرنا صرف ہماری زندگی کو مشکل بناتا ہے ۔
خوش رہیں ، خوشیاں بانٹیں
Silahkhankhral

23/12/2025

والدین کے لیے عملی اصلاحی اقدامات
1. روزانہ کی روٹین اور نظم و ضبط قائم کریں:
بچوں کو وقت پر سونا، جاگنا، پڑھائی اور کھیل کی عادت ڈالیں۔ چھوٹے چھوٹے شیڈولز بنائیں تاکہ وہ وقت کی اہمیت اور ذاتی ذمہ داری کو سمجھیں۔

2. ذاتی صفائی اور دیکھ بھال کی عادت ڈالیں:
نہانا، اپنے کمرے کو صاف رکھنا اور روزمرہ کی دیکھ بھال کرنا سکھائیں۔ بچوں کو یہ سمجھائیں کہ یہ ان کی خود اعتمادی اور صحت کے لیے ضروری ہے۔

3. شکریہ اور قدر سکھائیں:
بچوں کو یہ سمجھائیں کہ ہر چیز کے پیچھے کسی کی محنت اور قربانی ہوتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی کامیابیوں اور سہولیات کے لیے بھی شکرگزاری کی عادت ڈالیں۔

4. جذباتی برداشت اور صبر کی تربیت:
بچوں کو “نہیں” سننے کی عادت ڈالیں، چھوٹی ناگواریوں پر غصے کو کنٹرول کرنا سکھائیں۔ انہیں یہ سکھائیں کہ جذبات کو سمجھنا اور قابو پانا بالغ ہونے کی نشانی ہے۔

5. وقت پر توجہ اور بات چیت کریں:
بچوں کو سکرین سے الگ کر کے بات چیت کرنے کی عادت ڈالیں۔ ان کے خیالات، خواب اور منصوبے جانیں اور انہیں اپنی رائے کا احترام کرنا سکھائیں۔ والدین کے ساتھ وقت گزارنا دلچسپ اور معنادار بنائیں۔

6. حدود اور ذمہ داری کا تعین کریں:
محبت اور سہولت کے ساتھ حدود بھی مقرر کریں۔ بچوں کو ذمہ داری دینے سے وہ خود اعتماد، خود مختار اور باشعور بنیں گے۔

7. مثال کے طور پر رہنمائی کریں:
والدین اپنی عادات، وقت کی پابندی، اور احترام کے ذریعے بچوں کو سبق سکھائیں۔ بچے اپنے والدین کو دیکھ کر سیکھتے ہیں، لہذا مثبت مثال بہت ضروری ہے۔

8. پازیٹو فیڈبیک اور حوصلہ افزائی:
اچھے رویّے اور ذمہ داری کے مظاہر پر بچوں کی تعریف کریں۔ یہ ان میں مثبت رویّے پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

یہ اقدامات والدین کو بچوں کی پرورش میں ذمہ دار، باشعور اور خود مختار افراد بنانے میں مدد دیتے ہیں، تاکہ وہ زندگی کے پیچیدہ حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوں۔

Copied

22/12/2025

خیال رکھیں کہ آپ اپنے خیالات کو دھونے کی اجازت کسے دیتے ہیں؛ ہر ہاتھ پاک نہیں ہوتا۔ بعض لوگ آپ کے ذہن کو صاف کرنے کے نام پر اس پر اپنے خوف، عدمِ تحفظات اور پوشیدہ ارادوں کے داغ چھوڑ جاتے ہیں۔ اپنے باطنی جہان کی حفاظت کریں، کیونکہ آپ جن خیالات کو پروان چڑھاتے ہیں وہی آپ کی زندگی بناتے ہیں۔ اس آواز کا انتخاب دانشمندی سے کریں جو آپ کی روح کو شکل دے۔

Address

Lahore
54000

Telephone

+923270047628

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Speak For Life posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Speak For Life:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram