Sehar Marriage Bureau

Sehar Marriage Bureau 🎀Sehar Marriage Bureau🎀 is providing matrimonial services and leads you to find a perfectly suitable spouse online.

We are providing our services online as well as offline.🎊🎉🎆

17/10/2025

کون کہتا ہے لڑکیاں پیسوں پر مرتی ہیں ؟؟؟
حاصل پور کی طلاق یافتہ لڑکی اور اس کے والد کو یوکے سے دو کروڑ کمانے والے شخص کا رشتہ دکھایا جو پہلے گھر بھی نام کروا کر دینے کے لیے راضی تھا لیکن یہ کہہ کر منع۔۔۔۔چیک کمینٹ

17/10/2025

ایک چوالیس سالہ خاتون کا رشتہ جس کے پاس گھر گاڑی اور جاب بھی تھی ایک پینتیس سالہ جوان کیساتھ طے پا گیا۔۔۔ الحمدللہ ❤️
مزید تفصیلی پوسٹ جلد اپلوڈ کروں گا۔

17/10/2025

Sehar Marriage Bureau
Shared with Public
Sehar Marriage Bureau · Original audio
Purposal required ......
Free Registration on Website:
🌐 Seharmarriage.com

17/10/2025

اکیس سالہ شیخ فیملی کی خوبصورت بیٹی
تعلیم: بیچلرز ان انٹرنیشنل ریلیشنشپ قد:5.3،
والد صاحب
Industrialist رہائش پیراگون سٹی لاہور

17/10/2025

Pretty, Smart, Stylish MBBS Doctor Girl Age:24, from Decent Settled Renowned High Business Man Family Required MBBS Doctor boy from Lahore or UK

17/10/2025

چھتیس سالہ
MBBS Doctor
طلاق یافتہ بہاولنگر سے تعلق
گریڈ 18 کی آفیسر آرائیں فیملی سے تعلق دوسری بیوی بننے پر کوئی اعتراض نہیں ❤️😍

17/10/2025

پینتیس سالہ مرد
سنگل، قد:5.7، ذات: اعوان،
تعلیم ایم بی بی ایس، پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ (MRCP) جاب بطور میڈیکل آفیسر ماہانہ آمدن دو لاکھ سے زائد لینڈ لارڈ فیملی بہاولنگر

17/10/2025

جوائنٹ فیملی سسٹم اور ہمارا کلچر

یہ بات کسی سے چھپی نہیں کہ ہمارے معاشرے میں کلچر نے ہماری زندگیوں پر مذہب سے زیادہ اثر ڈال رکھا ہے۔
زندگی کے کسی بھی پہلو کو اٹھا لیں، خاص طور پر شادی بیاہ کے معاملات میں، مذہب کے بجائے ثقافت کا رنگ گہرا نظر آتا ہے۔
رشتہ دیکھنے سے لے کر شادی کے ہر فنکشن تک، ہماری ساری کوششوں کا محور اللہ کی رضا نہیں بلکہ لوگوں کو خوش کرنا ہوتا ہے۔

ایسے میں یہ توقع رکھنا کہ شادی کے بعد اچانک کوئی لڑکی یا اس کے گھر والے مذہب کا حوالہ دے کر جوائنٹ فیملی سسٹم کے خلاف دلائل دیں، اور دوسرا فریق فوراً ان باتوں کو سمجھ کر مان جائے اور ان کی بیٹی کو الگ گھر مل جائے فورا یہ حقیقت سے بہت دور سوچ ہے۔
یہ بات تبھی ممکن ہے جب رشتہ طے کرنے سے لے کر شادی کے تمام مراحل مذہبی اصولوں کے مطابق طے کیے گئے ہوں، اور ایسے ہی لوگوں کا انتخاب کیا گیا ہو جو دین پر عمل کرنے والے ہوں۔
لیکن جب خود ہم نے ہر فیصلہ معاشرتی دباؤ یا رسم و رواج کے تحت کیا ہو، تو صرف اپنے مطلب کے وقت مذہب کو بیچ میں لانا اور جوائنٹ فیملی کو "گناہ" یا "ظلم" کہنا، مذہب کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کے مترادف ہے۔

اب یہاں یہ کہنا مقصود نہیں کہ جوائنٹ فیملی سسٹم بالکل درست اور بے عیب ہے۔
مذہبی طور پر یہ سسٹم درست نہیں ہے لیکن یہ ہمارے کلچر کا حصہ بن چکا ہے جس کو بدلنے میں وقت لگے گا
اگر کوئی لڑکی واقعی جوائنٹ سسٹم میں ایڈجسٹ نہیں کر پا رہی اور ذہنی یا جسمانی اذیت سے گزر رہی ہے، تو اس میں سب سے بڑا قصور لڑکی کے والدین کا ہے لڑکے کے ماں باپ کا نہیں۔

بیٹی کے والدین اپنی بیٹی کے مزاج، فطرت اور برداشت کو بہتر جانتے ہیں۔
اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی بیٹی جوائنٹ فیملی کی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکے گی، تو انہیں رشتہ طے کرتے وقت صاف طور پر یہ بات سامنے رکھنی چاہیے۔
پوچھنا چاہیے کہ برخودار کیا اتنی حیثیت اور ہمت ہے کہ شادی کے بعدفورا بعد ہماری بیٹی کو الگ گھر یا الگ پورشن دے سکو
یہ سوچنا کہ شادی کے بعد بیٹی راتوں رات شوہر کی سوچ بدل کر الگ ہو جائے گی ایک غیر حقیقی سوچ ہے۔
اگر الگ گھر یا کسی خاص طرزِ زندگی کی خواہش ہے، تو یہ رشتہ طے ہونے سے پہلے واضح کر دینا چاہیے

اب تو زمانہ بدل چکا ہے، لوگ سمجھدار ہو گئے ہیں۔
میں خود ایسے والدین کو جانتی ہوں جنہوں نے رشتہ طے کرتے وقت کھل کر کہا کہ "ہماری بیٹی کو کھانا پکانا نہیں آتا" یا "ہمیں الگ پورشن چاہیے" — تاکہ بعد میں کسی کو غلط فہمی نہ ہو۔
اس طرح اگر دوسرا فریق رشتہ قبول کرتا ہے تو اپ کی شرائط جان کر کرتا ہے اور اگر نہیں کرتا تو کوئی شکایت باقی نہیں رہتی۔

اصل مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب والدین رشتہ طے کرتے وقت آنکھیں بند کر لیتے ہیں جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں میچ لیتا ہے اور بعد میں سارا الزام جوائنٹ فیملی پر ڈال دیتے ہیں۔
اور مسئلے مسائل کھڑے ہوتے ہیں لڑکے اور لڑکی دونوں کا گھر خراب ہوتا ہے
حالانکہ رشتہ طے کرتے وقت ہی یہ سب کچھ صاف ہوتا ہے کہ لڑکا کس ماحول میں رہ رہا ہے، گھر میں کتنی فیملیز ہیں، نظام کیسا ہے۔
ایسی واضح صورتحال کے باوجود اگر کوئی پھر بھی یہ سوچ لے کہ "شادی کے فورا بعد سب کچھ بدل جائے گا" تو یہ صرف خواب ہے، حقیقت نہیں۔
لڑکی کے ماں باپ نے معاشرے میں عمر گزاری ہے اور ان سے بہتر جوائنٹ فیملی کے مسائل کو کون جانتا ہے تو سب جانتے بوجھتے اگر انہوں نے رشتہ کر دیا ہے تو بہتر ہے کہ لڑکی پھر کچھ عرصہ صبر کرے
اور اہستہ اہستہ حالات کو سازگار کرنے کی کوشش کریں نہ کہ ایک دم الگ ہونے کے فیصلے اور ضد سے شوہر کا دماغ خراب کرے۔

لہٰذا بہتر یہی ہے کہ بعد میں جوائنٹ فیملی کو برا بھلا کہنے کے بجائے ابتداء میں ہی اپنی ترجیحات واضح کریں
تاکہ بعد کی زندگی الجھن کے بجائے سکون اور سمجھ بوجھ سے گزرے۔

#مـــــــاریــــᷧـــᷜـــᷧـــᷦــــہ

17/10/2025

Purposal required ......
Free Registration on Website:
🌐 Seharmarriage.com

17/10/2025

یونیورسٹیوں میں ہراسمنٹ ہوتی ہے کیا آپ نے اپنے بچے یونیورسٹیوں میں پڑھانے چھوڑ دیے۔۔۔۔۔۔۔۔؟

سڑکوں پہ ہراسمنٹ ہوتی ہے کیا آپ اپنی بیٹیوں کو گھر میں قید رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔؟

جابز پر ہراسمنٹ ہوتی ہے اس پر نوکری چھوڑی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟

پھر جوائنٹ فیملی کی ہی بات کیوں کی کرتے ہیں کہ یہ غلط ہے اس کو چھوڑ دو۔

اس کو بہتر کرنے پہ بات کریں جیسے ہم یونیورسٹیوں کالجوں اور آفس کا ماحول اچھا رکھنے کی بات کرتے ہیں۔

جوائنٹ فیملی سسٹم میں بھی بہتری لائی جا سکتی ہے یہاں بھی کچھ اصول بنائے جا سکتے ہیں اس پر بات کریں۔ خاندانوں کو توڑیں گے تو نسلیں لاوارث ہو جائیں گی۔
رشتے ٹوٹیں گے تو زندگی کا چس ختم ہو جائے گا۔ خاندانوں کو جوڑنے کی بات کریں توڑنے کی نہیں۔

متفق غیر متفق ؟؟
جویریہ ساجد
16 اکتوبر 2025

مسواک کی اہمیتمسواک صرف دانتوں کی صفائی نہیں بلکہ دل کو سکون اور روح کو پاکیزگی عطا کرتی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اگر م...
17/10/2025

مسواک کی اہمیت
مسواک صرف دانتوں کی صفائی نہیں بلکہ دل کو سکون اور روح کو پاکیزگی عطا کرتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اگر میری امت پر مشقت نہ ہوتی تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔" (بخاری)

مسواک اپنائیں اور اپنی عبادتوں کو مزید بابرکت بنائیں۔
📍 آفس ایڈریس: 2، ایچ بلاک، سیکٹر 2، ڈی ایچ اے رہبر، لاہور
📞 0300-0966994 | 0327-7770361
🌐 Seharmarriage.com
📱 Seher Marriage Bureau

16/10/2025

" جمع تقسیم "

جوائنٹ فیملی میں اس لیے نہیں رہنا ہوتا کہ پرائیویسی نہیں ہے۔

اور پرائیویسی کیوں چاہیے کہ دن چڑھے سوتے رہو میاں ناشتہ کیے بنا آفس چلا جائے۔
میڈ دروازہ بجا بجا کے واپس چلی جائے۔
اس کے بعد گھر گندا پڑا ہے تو ہڑا رہے
برتن میلے پڑے ہیں تو بلا جانے۔
کھانا چولہے پہ چڑھا کے بھول گئیں جل گیا تو جل گیا یہ نہیں کچھ اور بنا لیں میاں واپسی پر لیتا آئے گا کچھ نا کچھ نہیں تو آرڈر کر دیں گی فوڈ پانڈا کس لیے ہے۔
خود صوفے پر لم لیٹ ہو کے سہیلیوں سے گپیں لگ رہی ہیں ہوش نہیں کہ شوہر کے واپس آنے کا وقت ہو گیا ہے۔

بس شوہر آئے اٹھکیلیاں کرو چپک کے بیٹھ جاو کھانا جل گیا میڈ ائی نہیں تو گھر صاف نہیں خود بھی میلی کچیلی۔

جوائنٹ فیملی میں تیار شیار رہنا پڑتا تھا وقت پر کام کرنے پڑتے تھے سونے جاگنے کا خیال رکھنا پڑتا تھا کیونکہ شادی زمہ داری کا نام ہے جان چھڑانے کا نہیں۔

اور فیملیز میں سب کے ساتھ مل کر چلنا ہوتا ہے وہ برا لگتا ہے بس آزادی چاہیے کہ کوئی پوچھنے والا نا ہو
شوہر کھانا مانگے تو اسے کہو کھانا جل گیا بات ختم
وہ ناراض ہو تو خعد بھی کمرے میں روٹھ کے بیٹھ جاو
ٹھیک ہے ساس سسر برے تھے جوائنٹ فیملی سسٹم برا تھا تو بی بی اپنا گھر تو سنبھالو وہ بھی نہیں سنبھل رہا۔

جو کچھ بڑی بہوؤں نے ساتھ رہ کے کیا وہی یہ الگ رہ کے کر رہی ہیں کیا فرق ہے انہوں نے بھی لاپروائی دیکھائی فیملی پالیٹکس میں پڑی رہیں یہ بھی لاپروا ہیں صوفے پہ پڑے رہنے کی شوقین۔۔۔۔
ان کے بچے بھی ویسے کی نیگلیکٹ ہوں گے جیسے بڑی کے ہوئے
ان کے کزن نے ہراسمنٹ کی یہاں ملازم کریں گے۔

اس لیے جناب سسٹم کوئی بھی برا نہیں ہے اس کو چلانے والے انسان اچھے یا برے ہیں جوائنٹ فیملی میں انصاف ہو اور حقوق غصب نا کیے جائیں تو یہ سسٹم گروم کرتا ہے بہوؤں کو بھی بچوں کو بھی۔
اس سسٹم سے بھاگنے کی نہیں اس کو درست کرنے کی ضرورت ہے ناخن بڑھ جائیں تو ناخن کاٹے جاتے ہیں انگلیاں نہیں
اسی طرح ایک سسٹم میں خرابیاں ہوں تو خرابیوں کو درست کریں سسٹم ختم مت کریں اس سسٹم کو موثر بنائیں۔

جوائنٹ فیملیز میں والدین کی زندگی تک اگر دو تین بھائی ہیں تو سب کے الگ پورشن ہوں کھانا پینا الگ ہو مگر ماں باپ کے ساتھ ہوں۔

ہمارے معاشرے میں والدین کا اولاد کی زندگیوں میں رول بہت زیادہ ہے قربانیاں بہت زیادہ ہیں یہاں صحت تعلیم کچھ بھی مفت نہیں سب والدین کو کرنا پڑتا ہے اور وہ خون پسینہ ایک کر کے اولاد کے لیے یہ سب کرتے ہیں پڑھاتے لکھاتے قابل بناتے پھر سیٹل کرتے ہیں۔

ہاں والدین کو اولاد کی زندگیاں نہیں جینی چاہیں انہیں خود مختار کریں اپنے فیصلے کرنے دیں ان کی بیویوں کے ساتھ معاملات میں ہرگز مداخلت مت کریں مگر والدین کا یہ حق ہے کہ اولاد ان کا خیال رکھے انہیں بڑھاپے میں اکیلا چھوڑ کے الگ دنیا نا بسائے
بڑھاپے میں اولاد اور ان کی اولاد تھراپی ہوتی ہے ماں باپ کا دل بہلا رہتا ہے ان کے بڑھاپے کا سہارا بننا اولاد کا فرض ہے بالکل ویسے جیسے اولاد جب تک مکمل نہیں سنبھلتی والدین سہارا بنے رہتے ہیں انہیں کبھی نہیں چھوڑتے۔

جوائنٹ فیملی سسٹم کو ایسا بنائیں کہ سب الگ الگ رہیں مگر جڑے رہیں خود مختاری ہو مگر ماں باپ کو تنہا نا چھوڑا جائے یہاں بزرگوں کا کردار بہت اہم ہے کہ نئی بہووں کو سپیس دیں انہیں اپنائیں گھر کا فرد سمجھیں اور اس کے بعد انہیں گروم کریں گھر داری سیکھائیں انکی شخصیت نکھاریں نا کہ ان سے انسیکیور ہوں۔

یہ بہت وسیع ٹاپک ہے اس ہر بات ہوتی رہنی چاہیے نیوکلئیر فیملی کا مطلب شتر بے مہار ہونا نہیں ہے شادی تب بھی ایک زمہ داری ہی رہے گی ۔

جویریہ ساجد
16 اکتوبر 2025

Address

DHA Rahbar Lahore
Lahore
53700

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sehar Marriage Bureau posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram