Sehar Marriage Bureau

Sehar Marriage Bureau 🎀Sehar Marriage Bureau🎀 is providing matrimonial services and leads you to find a perfectly suitable spouse online.

We are providing our services online as well as offline.🎊🎉🎆

25/03/2026

Gender: Female, Divorced: One Son two years old living with me,
Qualification: BSIT and MBA
🙂







سحر میرج بیورو کے ذریعے ایک اور رشتے کی میٹنگ کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔۔۔😁 ٹرمپو مان گئے، ایرانم کو منانے کی بھرپور کوشش...
24/03/2026

سحر میرج بیورو کے ذریعے ایک اور رشتے کی میٹنگ کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔۔۔😁 ٹرمپو مان گئے، ایرانم کو منانے کی بھرپور کوشش جاری ہے۔ 🙃 رشتے کروانے میں وڈا کردار وڈے حافظ صاحب اور شریفو انکل کا ہے

24/03/2026
I've just reached 220K followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each one of you. ...
24/03/2026

I've just reached 220K followers! Thank you for continuing support. I could never have made it without each one of you. 🙏🤗🎉

دہلی میں عید کی نماز میں ایک ہندو پولیس کا افیسر راہول  مسلمانوں کےحسن اخلاق سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیا  میڈیا رپورٹ...
24/03/2026

دہلی میں عید کی نماز میں ایک ہندو پولیس کا افیسر راہول مسلمانوں کےحسن اخلاق سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیا میڈیا رپورٹ کے مطابق دہلی میں نماز عید کے بعد ایک پولیس والا مسجد کے اندر داخل ہورہا تھا جس کو باہر موجود مسلمانوں نے روکا کہ آپ غیر مسلم ہو مسجد کےاندر اپ کا جانا منع ہے لیکن امام مسجد مفتی عبدالفتح نے آواز دی کہ اس کو آنے دو جب وہ پولیس مسجد میں گیا امام مسجد کو کہا کہ میں نے آج آپ کی عبادت دیکھی میری ڈیوٹی تھی جتنا ڈسپلن سے لوگ بیٹھ کر آپ کی باتیں سن رہے تھے تو میں بھی سن رہا تھا اور میں کافی عرصے سے سوچ میں تھا کہ مجھے اسلام میں آنا چاہئے کیونکہ میرے محلے میں زیادہ ترمسلمانوں کے گھر ہے اور رمضان میں مغرب کے وقت ہمارے گھر مسلمانوں کی گھروں سے اتنا پھل فروٹ اور کھانا آتا ہے کہ آپ یقین کرئے پورے رمضان میں ہم نے کھانے نہیں پکایا اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے گزشتہ چارسالوں سے میں نے اس محلے میں گھر خریدا ہے اور یہ سلسلے چل رہا ہے میرا ایک چھوٹا بچہ ہے اور میری اہلیہ ہے میرے ماں باپ گزار گئے بھائی میرے باہر ممالک میں ہے مجھے کلمہ پڑھایا جائے جس پر امام مسجد نے کہا کہ آپ اپنی مرضی سے اسلام قبول کررہے ہے اس نے جواب دیا بالکل اور اس کے بعد وہ اسلام میں داخل ہوگیا,اس موقع پر مسلمان جزباتی ہوگئے اسلام زندہ باد کےنعرے لگائے گئے اور عید کے دن مسلمانوں کی خوشی دوبالا ہوئی سب نے اس کو گلے لگایا جس کے جیب میں جتنی رقم بھی تھی سب نے پولیس والے کے اوپر پھنک دی جسکا وہ لینے سے انکار کررہا تھا لیکن امام مسجد کے حکم پر اس نے وہ لے لی
سید غفار شاہ صاحب کی وال سے

24/03/2026

دوسری بیوی بننے پر کوئی اعتراض نہیں۔
جنس: لڑکی، 36، تعلیم:ایم بی اے،طلاق یافتہ, قد:5.7، گورنمنٹ جاب گریڈ 17، 3 کنال کا گھر نوشہرہ

23/03/2026

رشتوں میں ایک دوسرے کا ویسے ہی خیال رکھنا چاہیے جیسے وہ تمہارا خیال رکھیں۔

23/03/2026

شادی ہر عورت کے لیے نہیں ہوتی۔






23/03/2026

Gender: Male
Martial Status: Single
Age: 28 years
Height: 6' ft
Cast: Malik
Sect: Sunni
*Qualifications*: MBBS, Fcps Continue







میری عمر 40 سال ہے اور میری وائف کی عمر 38 سال ہے۔ ہماری شادی کو چھے سال ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک ہمارے ہاں اولاد نہیں ہو...
23/03/2026

میری عمر 40 سال ہے اور میری وائف کی عمر 38 سال ہے۔ ہماری شادی کو چھے سال ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک ہمارے ہاں اولاد نہیں ہوئی۔ اس حوالے سے ہم نے میڈیکل چیک اپ کروایا،

گائناکالوجسٹ (خواتین کے ڈاکٹر) اور سیکیٹرسٹ (دماغی ڈاکٹر) سے بھی مشورہ لیا۔ ڈاکٹروں نے کچھ علاج تجویز کیے لیکن میری وائف ان چیزوں پر عمل کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

پہلے ہم جوائنٹ فیملی میں رہتے تھے، وہاں بھی اکثر ہماری بحث ہوتی رہتی تھی۔ میرے والد نے گھر کے کام کے لیے نوکرانی کا انتظام کر دیا تھا تاکہ میری وائف پر بوجھ نہ پڑے۔ نوکرانی گھر کی صفائی، کپڑے دھونا اور دن کا کھانا بنانے جیسی ذمہ داریاں نبھاتی تھی۔ میری وائف پر صرف رات کا کھانا گرم کرنا یا سالن بنانا ہوتا تھا، کیونکہ انہیں روٹی بنانی نہیں آتی تھی جو ہم باہر سے منگوا لیتے تھے۔

اس کے باوجود، میری وائف کو اس بات پر اعتراض ہوتا تھا کہ ہر دوسرے یا تیسرے ویک اینڈ پر میرا کوئی بھائی اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ آ جاتا تھا۔ اس بات پر ہماری اکثر لڑائی ہوتی تھی کہ وہ کہتی تھیں کہ سب انہیں نوکرانی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اکثر مہمانوں کے آنے پر بھی کھانا باہر سے ہی منگوایا جاتا تھا، پھر بھی یہ چیز ان کے لیے الجھن کا باعث بنتی تھی اور ہم میں ہر بار جھگڑا ہو جاتا تھا۔

جب ہماری شادی ہوئی تو میرے گھر والوں نے صاف کہہ دیا تھا کہ اگر ہم جوائنٹ فیملی میں رہیں گے تو والدین سے ملنے کوئی نہ کوئی آتا رہے گا۔ میرے گھر والوں نے شادی سے پہلے ہی یہ شرط رکھی تھی تاکہ بعد میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔ میں نے شادی سے چند ہفتے پہلے اپنی وائف سے اس بارے میں صاف بات کی تو انہوں نے کہا کہ وہ خود بڑی فیملی سے تعلق رکھتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ سب بہن بھائی آپس میں ملتے رہیں۔ یہاں تک کہ اس وقت ان کے اپنے گھر والوں کی خواہش تھی کہ ہم دونوں میرے والدین کے ساتھ ہی رہیں۔

شاید اگر ہم شروع میں ہی الگ ہو جاتے تو میرے والدین کو اتنا دکھ نہ ہوتا، لیکن ہم چھے سال تک جوائنٹ فیملی میں ہی رہے۔ اب جب ہم کچھ ماہ سے الگ رہ رہے ہیں تو والدین کو اکیلے میں پریشانی ہوتی ہے، جس کا مجھے بھی دکھ ہے کہ میری وائف کی وجہ سے اس عمر میں انہیں اکیلا چھوڑنا پڑا۔ حالانکہ میرے اور بھائی بھی ہیں، مگر پھر بھی والدین کے ساتھ چھے سال رہنے کے بعد انہیں یوں اکیلا کرنا میرے لیے آسان نہیں تھا۔

اب میری وائف جاب بھی کر رہی ہیں اور اچھی کمائی بھی ہو رہی ہے، لیکن ہمارے جھگڑے بڑھ گئے ہیں۔ ہر چھوٹی بات پر غصے میں چیزیں پھینکنا، چلانا اور بعض اوقات میرے کپڑے پھاڑ دینا تک نوبت آ جاتی ہے۔ میں نے بارہا سکون سے ان سے بات کرنے کی کوشش کی کہ ہم کب تک اس رشتے کو ایسے ہی کھینچتے رہیں گے، لیکن بات کسی نتیجے پر نہیں پہنچی۔

اب صورتحال یہ ہے کہ پچھلے دو مہینے سے ہم ایک ہی گھر میں ہونے کے باوجود الگ کمروں میں رہ رہے ہیں۔ اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم ساتھ رہنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ میں علیحدگی کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ کہیں میں غلط فیصلہ نہ کر رہا ہوں۔

میری زندگی میں پہلے ایک تلخ تجربہ ہو چکا ہے۔ 2006 میں میری منگنی ہوئی تھی جو کچھ مسائل کی وجہ سے ختم ہو گئی تھی۔ جب 2019 میں میری شادی ہوئی تو یہ رشتہ خاندان سے باہر کا تھا، جس پر میرے والدین خوش نہیں تھے۔ میرے بھائیوں نے والدین کو راضی کیا، میں نے بھی انہیں منایا لیکن وہ دل سے خوش نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود میں نے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کی کہ یہ رشتہ کامیاب ہو۔

اب جب ہم علیحدہ رہتے ہیں تو ہماری لڑائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ میری وائف اکثر کہتی ہیں کہ ان کا اپنے گھر والوں سے زیادہ تعلق نہیں ہے اور اگر میں نے انہیں چھوڑ دیا تو وہ ہوسٹل میں رہیں گی۔ یہ سوچ کر میں بہت پریشان ہو جاتا ہوں کہ نہ تو ہم ساتھ خوشی سے رہ پا رہے ہیں، اور نہ میں علیحدگی کا فیصلہ کر پا رہا ہوں کیونکہ اس کا دکھ بھی میرے والدین کو مجھ سے ہی ملے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھا آپ نے لاپرواہی کا نتیجہ؟

شادی جلد کریں۔

اولاد پینتیس سال کی عمر سے پہلے ہو تو بہتر ہے۔

جو بیوی پہلے دو سال میں کسی بات پر خوش نہ ہو وہ کبھی خوش نہیں ہو گی۔ اسکے خمیر میں خرابی ہوتی ہے۔

پاکستان میں شادی سے پہلے ننانوے فیصد جھوٹ بولے جاتے ہیں۔ اس لیے جوائنٹ فیملی، یا دیگر معاملات میں باتوں کی بجائے نفسیات کو دیکھیں۔

سوشل میڈیا نے جنرلی یعنی عمومی طور پر عورتوں کو ناشکری گزار اور ناخوش بنا دیا ہے۔ کوشش کریں کہ نصیب سے کوئی ان باتوں کو سمجھنے والی عورت مل جائے۔

پاکستان میں نوکری کرنے والی ہر تیسری عورت خود کو بھگوان کا اوتار سمجھنے لگتی ہے۔ اسکی نفسیات بگڑ جاتی ہے۔ مغرب میں چونکہ عورتوں کی تیسری چوتھی نسل جاب کر رہی ہے وہاں چیزیں نارملائز ہو چکی ہیں۔ ۔ اس لیے پاکستان میں جاب کرنے والی عورت سے شادی کے لالچ میں مت آئیں۔

سوال منقول ۔ جواب محمود فیاض


23/03/2026

شادی ہر عورت کے لیے نہیں ہوتی۔ اگر آپ کی انا اتنی بڑی ہے کہ آپ کسی مرد کا احترام نہیں کر سکتیں، تو سب پر احسان کریں اور تنہا ہی رہیں۔ شادی ان خواتین کے لیے کامیاب ہوتی ہے جو عزت، نظم و ضبط، فرماں برداری اور شراکت داری کے معنی سمجھتی ہیں

مرد کے بڑے مزے ہیں۔ ۔ ایک بیوی سے تعلق نہیں نبھ رہا تو دوسری کر لے۔ جبکہ عورت کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ پہ...
22/03/2026

مرد کے بڑے مزے ہیں۔ ۔ ایک بیوی سے تعلق نہیں نبھ رہا تو دوسری کر لے۔ جبکہ عورت کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ پہلے وہ خلع لے اور پھر دوسرے بندے سے شادی کرے۔

ویسے تو عورتوں کو مرد ہمیشہ ہی "مزے میں" نظر آتے ہیں۔

کیونکہ مرد کو اللہ نے بیشمار اچھی صفات دی ہیں۔ جن میں سے ایک ہر حال سے خوشی کا کوئی پہلو نکال لینا بھی ہے۔

میں کبھی کبھار ایسی تصاویر یا پوسٹ شئیر کرتا رہتا ہوں جہاں مرد مشکل کام کے دوران خوش و خرم نظر آتے ہیں۔

مرد تو وہ مخلوق ہے کہ جنگ کے میدان میں بھی شگوفے چھوڑتے ہیں، دوستیاں نبھاتے جان سے چلے جاتے ہیں، اور موت کے سائے میں بھی حواس قائم رکھتے ہیں۔

ووسری طرف عورت اپنی بیسٹ فرینڈ کو بھی اپنا ڈریس دینے سے پہلے ہزار بار سوچتی ہے۔

تو مرد اور عورت کے مزاجوں کا موازنہ تو ممکن ہی نہیں ہے۔ ۔ لیکن موضوع پوسٹ کچھ اور تھا۔ ۔

واپس ادھر ہی چلتے ہیں۔ ۔ ۔ تو عورتوں کے خیال میں مردوں کو یہاں بھی فائدہ دیا گیا ہے۔ ۔ کہ مرد چاہے تو دوسری شادی کر لے ۔ ۔ جبکہ پہلی بیوی بھی رہے ۔ ۔

تھوڑی دیر کے لیے عورتانہ تعصب سے باہر آئیں تو میں بتا سکوں کہ مرد و عورت کا رشتہ جو دین اسلام میں طے کیا گیا ہے اس میں مرد پر عورت کے حوالے سے ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں۔

مرد نے عورت کو شیلٹر دینا ہے۔ یعنی چھت مہیا کرنا ہے۔ یعنی گھر دینا ہے۔

مرد نے عورت کو نان نفقہ مہیا کرنا ہے۔

مرد نے عورت کو تحفظ مہیا کرنا ہے۔

اب اگر مرد یکدم بیوی کو چھوڑ دیگا تو وہ ان سب چیزوں سے محروم ہو سکتی ہے۔ اس لیے اس کو عدت کے تین ماہ دیے گئے ہیں۔ حاملہ ہونے کی صورت میں وہ مکمل نو ماہ شوہر کے گھر رہ سکتی ہے۔ اور شوہر اس کو گھر سے نکالنے کا مجاز نہیں ہے۔

یہ سب بھی طلاق کی صورت میں ہے۔ اگر شوہر کی دوسری شادی کے باوجود پہلی بیوی خوشی سے رہنا چاہے تو شوہر پر اس کو طلاق دینا لازم نہیں ہے (جیسا کہ مغربی قوانین میں ہے کہ صرف ایک بیوی رکھ سکتے ہیں۔ اگر دوسری بیوی سے قانونی شادی کرنا ہے تو پہلی بیوی سے جان چھڑا لو)۔

ان سب باتوں میں "مرد مزے میں ہے" کہاں ہے؟

مرد کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ کہ اپنی عورت کو بےیارومددگار مت چھوڑو۔ ۔ تمہارا دل بھر گیا ہے۔ پسندیدگی ختم ہو گئی ہے۔ یا پھر عورت ہی کے رویے سے تم بیزار ہو چکے ہو۔ ۔ تب بھی طلاق تمہارے لیے ایک مکروہ عمل ہے۔ اس کو طلاق مت دو ۔ ۔ بلکہ دوسری شادی کر لو ۔ ۔ اور پہلی کے حقوق بھی ادا کرتے رہو۔ ۔

جبکہ عورت کو خلع کی صورت میں کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی۔ کیونکہ مرد کی حفاظت، یا تسلی مقصود نہیں ہے۔ مرد کو اپنا آپ خود سنبھالنے کا مکلف بنایا گیا ہے۔ مذہب، معاشرہ سب مل کر مرد کو ذمہ دار بناتے ہیں۔ ۔ کہ وہ عورت اور گھر کا خیال کرے ۔ ۔ لیکن یہی مذہب اور معاشرہ عورت کو مرد کی ذمہ دار نہیں ٹھہراتے ۔ ۔ عورت کو رشتہ پسند نہیں رہا ۔ ۔ اس کو نہ مرد کے بچوں کا خیال کرنا ہے ۔ ۔ کیونکہ مرد پریگننٹ نہیں ہوتا۔ ۔ نہ اس نے مرد کی عدت یا کوئی اور معاملہ دیکھنا ہے کیونکہ اس پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس نے خلع لینا ہے ۔ ۔ وہ بھی اگر شوہر نہیں دیتا ۔ ۔ تو عدالت سے نکاح فسخ کروانا ہے اور وہ اپنا دوسرا رشتہ شروع کر سکتی ہے۔

محمود فیاض




فوٹو کریڈٹ: میٹا اے آئی نے میری اس تحریر کے لیے یہ فوٹو بنائی ہے۔ اللہ جانے اس میٹے کے ذہن میں کیا تصویر بنی ہے میری اس تحریر سے۔ ۔ ممکنہ آئیڈیا کیا ہو سکتا ہے؟ کامنٹ اوپن ہیں۔

Address

H2 Plaza, H Block, Street 20, Sector 2, Gate No 4, DHA Rahbar Lahore
Lahore
53700

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sehar Marriage Bureau posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram