13/04/2026
لاہور کے جنرل ہسپتال میں ایک نوجوان مریض کو فالج کی حالت میں لایا گیا تھا، جس کے جسم کا بایاں حصہ، بازو اور ٹانگ مکمل طور پر مفلوج ہو چکے تھے۔ وہاں موجود ڈاکٹروں نے فالج کے علاج کے لیے مخصوص انجکشن بروقت لگایا، اور حیرت انگیز طور پر چند ہی گھنٹوں میں مریض بغیر کسی کمزوری کے اپنے پاؤں پر چلتا ہوا گھر چلا گیا۔
یہ جدید میڈیکل سائنس کا ایک حقیقی معجزہ ہے، اور آج ہم اسی موضوع پر بات کر رہے ہیں۔ یہ معلومات ہم سب کے لیے نہایت اہم ہیں کیونکہ فالج ایک ایسی بیماری ہے جو زندگی بھر کی معذوری کا سبب بن سکتی ہے اور انسان کو دوسروں پر مکمل طور پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
فالج دراصل ایک ایسی کیفیت ہے جس میں دماغ کو خون کی فراہمی متاثر ہو جاتی ہے۔ فالج کی دو بڑی اقسام ہوتی ہیں: ایک وہ جس میں خون جمنے کی وجہ سے دماغ کی شریان بند ہو جاتی ہے، اور دوسری وہ جس میں خون کی شریان پھٹ جاتی ہے۔ فالج کے بعد عام طور پر مریض کے جسم کے ایک حصے اور چہرے میں کمزوری آ جاتی ہے۔
آج ہمارا موضوع خون کے جمنے کی وجہ سے ہونے والے فالج کے علاج پر ہے۔ اس کے علاج کے لیے ٹی پی اے (TPA) نامی انجکشن استعمال کیا جاتا ہے، جو دماغ کی شریان میں جمے ہوئے خون کو تحلیل کر سکتا ہے۔ اگر یہ انجکشن بروقت، یعنی دماغی خلیات کے مستقل طور پر ضائع ہونے سے پہلے لگا دیا جائے، تو شریان کی رکاوٹ دور ہو سکتی ہے اور مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو سکتا ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ انجکشن اب پاکستان کے کئی بڑے مراکز میں دستیاب ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ فالج کی ابتدائی علامات کو پہچانا جائے اور بروقت ہسپتال پہنچا جائے۔ اگر مریض ساڑھے تین گھنٹے کے اندر ہسپتال پہنچ جائے تو یہ انجکشن لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد دماغی ٹشوز کو مستقل نقصان پہنچ جاتا ہے اور انجکشن کا فائدہ بہت محدود رہ جاتا ہے۔
فالج کی ابتدائی علامات کو یاد رکھنے کے لیے FAST یا BE FAST کا اصول بہت مددگار ہے:
B (Balance): توازن برقرار نہ رکھ پانا
E (Eyes): نظر میں اچانک مسئلہ
F (Face): چہرے کا ایک طرف لٹک جانا
A (Arm): بازو یا ٹانگ میں اچانک کمزوری
S (Speech): بولنے میں دقت یا الفاظ کا صحیح ادا نہ ہونا
T (Time): وقت ضائع کیے بغیر فوراً ہسپتال پہنچنا
حکومتِ پنجاب نے فالج کے بروقت علاج کے لیے ایک قابلِ تحسین قدم اٹھایا ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں پرائمری سٹروک سینٹرز قائم کیے جا چکے ہیں، جہاں ایمرجنسی میں فالج کے مریضوں کے لیے خصوصی سہولیات دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ حکومتِ پنجاب اب یہ سہولت پنجاب کے ہر ڈی ایچ کیو ہسپتال تک پھیلانے جا رہی ہے، تاکہ ہر ضلع میں فالج کے مریضوں کو بروقت اور مؤثر علاج میسر آ سکے۔
لہٰذا اگر کسی بھی شخص میں یہ علامات نظر آئیں تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر فوراً قریبی ہسپتال پہنچیں۔
براہِ کرم اس پیغام کو دوسروں تک ضرور پہنچائیں تاکہ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔ جزاک اللہ۔
صحت اور اعصابی بیماریوں سے متعلق مستند معلومات اور رہنمائی کے لیے ہماری پوسٹس دیکھتے رہیں۔
ڈاکٹر محمد بلال اشرف (ایم بی بی ایس، میڈیکل آفیسر لائف لائن کلینک گلبرگ3 لاہور)