LIFE LINE CLINIC-Gulberg

LIFE LINE CLINIC-Gulberg At LIFE LINE CLINIC we are bringing expert doctors of different specialties to provide quality health care treatments at affordable fee.

We also offer free of cost treatment to deserving patients.

لاہور کے جنرل ہسپتال میں ایک نوجوان مریض کو فالج کی حالت میں لایا گیا تھا، جس کے جسم کا بایاں حصہ، بازو اور ٹانگ مکمل طو...
13/04/2026

لاہور کے جنرل ہسپتال میں ایک نوجوان مریض کو فالج کی حالت میں لایا گیا تھا، جس کے جسم کا بایاں حصہ، بازو اور ٹانگ مکمل طور پر مفلوج ہو چکے تھے۔ وہاں موجود ڈاکٹروں نے فالج کے علاج کے لیے مخصوص انجکشن بروقت لگایا، اور حیرت انگیز طور پر چند ہی گھنٹوں میں مریض بغیر کسی کمزوری کے اپنے پاؤں پر چلتا ہوا گھر چلا گیا۔

یہ جدید میڈیکل سائنس کا ایک حقیقی معجزہ ہے، اور آج ہم اسی موضوع پر بات کر رہے ہیں۔ یہ معلومات ہم سب کے لیے نہایت اہم ہیں کیونکہ فالج ایک ایسی بیماری ہے جو زندگی بھر کی معذوری کا سبب بن سکتی ہے اور انسان کو دوسروں پر مکمل طور پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

فالج دراصل ایک ایسی کیفیت ہے جس میں دماغ کو خون کی فراہمی متاثر ہو جاتی ہے۔ فالج کی دو بڑی اقسام ہوتی ہیں: ایک وہ جس میں خون جمنے کی وجہ سے دماغ کی شریان بند ہو جاتی ہے، اور دوسری وہ جس میں خون کی شریان پھٹ جاتی ہے۔ فالج کے بعد عام طور پر مریض کے جسم کے ایک حصے اور چہرے میں کمزوری آ جاتی ہے۔

آج ہمارا موضوع خون کے جمنے کی وجہ سے ہونے والے فالج کے علاج پر ہے۔ اس کے علاج کے لیے ٹی پی اے (TPA) نامی انجکشن استعمال کیا جاتا ہے، جو دماغ کی شریان میں جمے ہوئے خون کو تحلیل کر سکتا ہے۔ اگر یہ انجکشن بروقت، یعنی دماغی خلیات کے مستقل طور پر ضائع ہونے سے پہلے لگا دیا جائے، تو شریان کی رکاوٹ دور ہو سکتی ہے اور مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو سکتا ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ انجکشن اب پاکستان کے کئی بڑے مراکز میں دستیاب ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ فالج کی ابتدائی علامات کو پہچانا جائے اور بروقت ہسپتال پہنچا جائے۔ اگر مریض ساڑھے تین گھنٹے کے اندر ہسپتال پہنچ جائے تو یہ انجکشن لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد دماغی ٹشوز کو مستقل نقصان پہنچ جاتا ہے اور انجکشن کا فائدہ بہت محدود رہ جاتا ہے۔

فالج کی ابتدائی علامات کو یاد رکھنے کے لیے FAST یا BE FAST کا اصول بہت مددگار ہے:

B (Balance): توازن برقرار نہ رکھ پانا
E (Eyes): نظر میں اچانک مسئلہ
F (Face): چہرے کا ایک طرف لٹک جانا
A (Arm): بازو یا ٹانگ میں اچانک کمزوری
S (Speech): بولنے میں دقت یا الفاظ کا صحیح ادا نہ ہونا
T (Time): وقت ضائع کیے بغیر فوراً ہسپتال پہنچنا

حکومتِ پنجاب نے فالج کے بروقت علاج کے لیے ایک قابلِ تحسین قدم اٹھایا ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں پرائمری سٹروک سینٹرز قائم کیے جا چکے ہیں، جہاں ایمرجنسی میں فالج کے مریضوں کے لیے خصوصی سہولیات دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ حکومتِ پنجاب اب یہ سہولت پنجاب کے ہر ڈی ایچ کیو ہسپتال تک پھیلانے جا رہی ہے، تاکہ ہر ضلع میں فالج کے مریضوں کو بروقت اور مؤثر علاج میسر آ سکے۔

لہٰذا اگر کسی بھی شخص میں یہ علامات نظر آئیں تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر فوراً قریبی ہسپتال پہنچیں۔
براہِ کرم اس پیغام کو دوسروں تک ضرور پہنچائیں تاکہ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔ جزاک اللہ۔
صحت اور اعصابی بیماریوں سے متعلق مستند معلومات اور رہنمائی کے لیے ہماری پوسٹس دیکھتے رہیں۔

ڈاکٹر محمد بلال اشرف (ایم بی بی ایس، میڈیکل آفیسر لائف لائن کلینک گلبرگ3 لاہور)

بچے فطری طور پر بہت ایکٹو ہوتے ہیں، اسی وجہ سے گھر میں بستر، سیڑھیوں، فرنیچر یا چھت وغیرہ سے گرنے کے واقعات عام ہیں۔ گرن...
31/03/2026

بچے فطری طور پر بہت ایکٹو ہوتے ہیں، اسی وجہ سے گھر میں بستر، سیڑھیوں، فرنیچر یا چھت وغیرہ سے گرنے کے واقعات عام ہیں۔ گرنے کی صورت میں سب سے زیادہ تشویش سر پر لگنے والی چوٹ کی ہوتی ہے۔ خوش قسمتی سے زیادہ تر بچوں میں جسم کی لچک اور کھوپڑی کی ساخت کی وجہ سے سنگین چوٹ نہیں لگتی، لیکن بعض حالات میں سر کی چوٹ خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ کن علامات کی موجودگی میں فوراً ایمرجنسی میں بچے کو دکھانا چاہیے۔

اس پوسٹ میں ہم ان خطرے کی علامات پر بات کریں گے جنہیں گھر پر گرنے کے بعد والدین کو ضرور دیکھنا چاہیے۔ عمومی اصول یہ ہے کہ سر پر چوٹ لگنے کی صورت میں ہر بچے کو ماہرِ اطفال کو دکھانا بہتر ہوتا ہے، لیکن اگر درج ذیل میں سے کوئی علامت موجود ہو تو فوری ایمرجنسی چیک اپ ضروری ہے۔ ایسے کیسز میں میں خود بھی ہمیشہ چائلڈ نیورولوجسٹ سے مشورہ کرتا ہوں تاکہ بچے کی دماغی حالت اور علامات کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔

اگر گرنے کے بعد بچے کو جھٹکے (fits) لگنا شروع ہو جائیں، بچے کا ہوش کم ہو جائے یا وہ غیر معمولی طور پر بے جان نظر آئے، بچے کے جسم کا کوئی حصہ کام نہ کرے یا سن ہو جائے، یا ایک سال سے کم عمر کے بچے میں سر پر پانچ سینٹی میٹر سے زیادہ نیل پڑ جائے یا کٹ لگ جائے، تو یہ خطرے کی علامات ہیں اور فوری توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

اسی طرح اگر سر کو ہاتھ لگانے پر فریکچر محسوس ہو، یا ایک سال سے کم عمر کے بچوں میں سر کا نرم حصہ (فونٹینیلا) ابھرا ہوا محسوس ہو، تو یہ بھی تشویشناک ہے۔ سر کی ہڈی کے فریکچر کی کچھ خاص نشانیاں بھی ہوتی ہیں، جیسے آنکھوں کے گرد نیلاہٹ، کان کے پیچھے نیلاہٹ، کان سے خون آنا، یا ناک سے صاف پانی جیسا مائع آنا۔ یہ علامات اس بات کی طرف اشارہ کر سکتی ہیں کہ دماغ کو اندرونی چوٹ لگی ہے۔

اگر کسی بچے میں گرنے کے بعد مندرجہ بالا علامات موجود ہوں تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ بچے کو دماغی انجری ہوئی ہے، جو بعض اوقات جان لیوا بھی ہو سکتی ہے، جیسے دماغ کے اندر خون کی نالی کا پھٹ جانا۔ ایسے حالات میں ایمرجنسی میں دماغ کا سی ٹی اسکین کروانا ضروری ہو جاتا ہے۔

ان واضح علامات کے علاوہ کچھ اور نشانیاں بھی ہیں جو اگر ایک سے زیادہ اکٹھی نظر آئیں تو دماغی انجری کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر بچہ غیر معمولی غنودگی کا شکار ہو، تین یا اس سے زیادہ بار الٹی کرے، گرنے کے بعد پانچ منٹ یا اس سے زیادہ بے ہوش رہے، یا گرنے کے بعد پانچ منٹ سے زیادہ یادداشت متاثر رہے۔ اسی طرح اگر بچے کو خون جمنے کی کوئی بیماری ہو جیسے ہیموفیلیا، یا وہ خون پتلا کرنے والی دوائیں استعمال کر رہا ہو (جیسے ڈسپرین یا وارفرین)، تو معمولی چوٹ بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

آخر میں والدین کے لیے یہی پیغام ہے کہ بچے کے گرنے کو کبھی بھی مکمل طور پر نظر انداز نہ کریں۔ بروقت پہچان اور صحیح وقت پر ایمرجنسی میں رجوع کرنا بچے کی جان بچا سکتا ہے۔ شک کی صورت میں انتظار کرنے کے بجائے فوراً ماہرِ اطفال یا ایمرجنسی سروس سے رابطہ کریں۔

ہمیشہ یاد رکھیں: اگر آپ کے بچے کو گرنے کے بعد کوئی غیر معمولی علامات محسوس ہوں تو خود تشخیص نہ کریں اور خود علاج شروع نہ کریں۔ ایسے کیسز میں ہمیشہ ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

ڈاکٹر محمد بلال اشرف (ایم بی بی ایس، میڈیکل آفیسر لائف لائن کلینک گلبرگ3 لاہور)

بچوں میں سانس روکنے کے دورے(Breath holding spell)سانس روکنے کے دورے بچوں میں ایک عام مسئلہ ہے۔ یہ خاص طور پر 6 ماہ سے 5 ...
17/02/2026

بچوں میں سانس روکنے کے دورے
(Breath holding spell)

سانس روکنے کے دورے بچوں میں ایک عام مسئلہ ہے۔ یہ خاص طور پر 6 ماہ سے 5 سال کی عمر کے بچوں میں دیکھا جاتا ہے۔ یہ دورے اکثر بچے کے غصے، رونے یا کسی چوٹ کے فوری ردعمل کے دوران ہوتے ہیں۔ والدین کے لیے بچے کی یہ حالت بہت خوفناک ہوتی ہے، کیونکہ بچہ اچانک سے روتے روتے سانس روک لیتا ہے اور کبھی کبھار جھٹکے یا مختصر بے ہوشی کے ساتھ نیلا یا سفید پڑ جاتا ہے۔ زیادہ تر صورتوں میں یہ دورے خطرناک نہیں ہوتے اور وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں، لیکن صحیح معلومات اور نگرانی بہت ضروری ہے۔

نیلا ہونے والے دورے سب سے عام ہیں اور یہ زیادہ تر بچے کے شدید رونے یا غصے کے فوری ردعمل کے دوران آتے ہیں۔ اس دوران بچہ روتے روتے اچانک سانس روک لیتا ہے، اور اس کے چہرے، ہونٹ یا انگلیاں نیلے پڑ سکتے ہیں۔ بعض اوقات دل کی دھڑکن سست ہو جاتی ہے، اور بچے کو جھٹکے یا دورہ نما حرکتیں محسوس ہو سکتی ہیں۔ یہ دورے عموماً چند سیکنڈ سے ایک یا دو منٹ تک رہتے ہیں۔ نیلا ہونے والے دورے کی شدت بچے کے جذبات اور سانس روکنے کی مدت پر منحصر ہوتی ہے۔ جیسے ہی بچہ سانس لینا شروع کرتا ہے، رنگ نارمل ہو جاتا ہے، دل کی دھڑکن معمول پر آ جاتی ہے اور بچہ خود بخود ہوش میں آ جاتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچے کو سکون دیں اور خوفزدہ نہ ہوں، کیونکہ والدین کے پرسکون رویے سے بچے کی حالت جلد بہتر ہو جاتی ہے۔

سفید ہونے والے دورے نسبتاً کم ہوتے ہیں اور عموماً کسی اچانک درد یا چوٹ کے فوری ردعمل میں آتے ہیں۔ اس میں بچے کا چہرہ عارضی طور پر سفید یا پیلا پڑ جاتا ہے کیونکہ دماغ تک خون کی مقدار کم ہو جاتی ہے، اور بعض اوقات بچے کو مختصر بے ہوشی محسوس ہوتی ہے۔ یہ دورے عموماً چند سیکنڈ میں ختم ہو جاتے ہیں اور زیادہ تر صورتوں میں بچوں کے دل یا دماغ میں کوئی مستقل مسئلہ نہیں ہوتا۔

سانس روکنے کے دورے اکثر ایک خاندان کے مختلف افراد میں بھی دیکھے جاتے ہیں۔ اگر والدین یا بہن بھائی کو بچپن میں ایسے دورے پڑے ہوں، تو بچے میں یہ ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ تر بچوں میں یہ دورے 1 سے 3 سال کی عمر میں زیادہ عام ہیں اور جیسے جیسے دماغ کی گروتھ ہوتی ہے ، یہ دورے خود بخود کم ہو جاتے ہیں۔

زیادہ تر بچوں میں سانس روکنے کے دورے کے لیے کوئی مخصوص دوا یا علاج ضروری نہیں ہوتا۔ اصل مقصد بچے کی دورے کے دوران اور بعد کے وقت میں حفاظت اور والدین کو صحیح فرسٹ ایڈ کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔ بہت کم صورتوں میں ڈاکٹر کچھ مخصوص ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں، جیسے EEG کا ٹیسٹ یا دل کی جانچ ECG ، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ دورے دماغ یا دل کے کسی مسئلے کی وجہ سے تو نہیں آ رہے۔ یہ ٹیسٹ صرف ان بچوں میں کیے جاتے ہیں جن میں دورے طویل دورانیہ کے ہوں، یا بار بار آئیں۔

دورے کے دوران والدین کو چاہیے کہ بچے کو محفوظ جگہ پر رکھیں، سخت یا نوکیلی چیزیں ہٹا دیں، بچے کو ایک طرف لٹا دیں تاکہ سانس کی نالی بلاک نہ ہو اور بچے کو جھٹکے لگنے سے بچائیں۔ بچے کے منہ میں کبھی بھی کچھ نہ ڈالیں۔ زیادہ تر دورے چند سیکنڈ سے ایک یا دو منٹ میں ختم ہو جاتے ہیں اور بچہ خود بخود ہوش میں آ جاتا ہے۔ والدین کا پرسکون رویہ بچے کے جلد بہتر ہونے میں مددگار ہوتا ہے۔

بعض بچوں میں آئرن کی کمی یا غذائی کمی کے باعث سانس روکنے کے دورے زیادہ بار بار آ سکتے ہیں۔ اچھی اور متوازن غذا، مکمل ویکسینیشن، اور بیماریوں سے بچاؤ ان دوروں کے امکانات کو کم کر سکتے ہیں۔ آئرن کی کمی دماغ اور اعصابی نظام کی فعالیت پر اثر ڈال سکتی ہے، جس سے بچے بار بار سانس روکنے کے دورے محسوس کر سکتے ہیں۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سانس روکنے کے دورے زیادہ تر بچوں میں خطرناک نہیں ہوتے اور وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں۔ والدین کو صرف سکون، درست معلومات اور صحیح نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر دورے بہت طویل ہوں، بار بار آئیں، بچے کے ہوش میں دیر تک نہ آئیں، یا بچے کو سانس لینے میں مشکل ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔

صحیح معلومات، والدین کا پرسکون رویہ، فرسٹ ایڈ کے اصولوں کی جانکاری اور باقاعدہ طبی مشاورت بچوں کی حفاظت اور والدین کے اطمینان کے لیے نہایت اہم ہیں۔

ڈاکٹر محمد بلال اشرف (ایم بی بی ایس، میڈیکل آفیسر لائف لائن کلینک گلبرگ3 لاہور)

Vitamin D Deficiency and Women's Health Hazardsپاکستان میں وٹامن ڈی کی کمی ایک خاموش وبا ہے جو جسمانی ، اعصابی ، مدافعتی...
13/02/2026

Vitamin D Deficiency and Women's Health Hazards

پاکستان میں وٹامن ڈی کی کمی ایک خاموش وبا ہے جو جسمانی ، اعصابی ، مدافعتی ، جنسی صحت اور بریسٹ کینسر ہونے اور شدت بڑھانے کے امکانات میں اضافہ کرتی ہے ۔

اپنی عمر کے مطابق اپنی غذائی ضروریات کو سمجھیں اور صحت مند زندگی گزاریں

بچوں میں کھانسی کے لیے گھریلو علاج اپنانا بہت ضروری ہے۔براہِ کرم یہ معلومات دوسرے والدین کے ساتھ شیئر کریں ڈاکٹر محمد بل...
07/01/2026

بچوں میں کھانسی کے لیے گھریلو علاج اپنانا بہت ضروری ہے۔
براہِ کرم یہ معلومات دوسرے والدین کے ساتھ شیئر کریں

ڈاکٹر محمد بلال اشرف (ایم بی بی ایس، میڈیکل آفیسر لائف لائن کلینک گلبرگ3 لاہور)

🌟 بچوں میں آئرن کی کمی – اہم نکات 🌟1️⃣ آئرن کی کمی بچوں میں سب سے عام غذائی مسئلہ ہے، جس سے کمزوری، تھکن اور پڑھائی میں ...
05/12/2025

🌟 بچوں میں آئرن کی کمی – اہم نکات 🌟

1️⃣ آئرن کی کمی بچوں میں سب سے عام غذائی مسئلہ ہے، جس سے کمزوری، تھکن اور پڑھائی میں کمی آ سکتی ہے۔

2️⃣ دیر سے وزن بڑھنا، بار بار بیمار ہونا، چڑچڑاپن اور سانس پھولنا اس کے اہم علامات ہیں۔

3️⃣ دودھ زیادہ پینے والے اور کم خوراک (meat/سبزیاں) کھانے والے بچوں میں آئرن کی کمی زیادہ ہوتی ہے۔

4️⃣ سرخ گوشت، دالیں، پالک، چقندر، انڈہ، کھجور اور آئرن سیرپ اس کمی کو پورا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

5️⃣ آئرن سیرپ ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے دیں اور ساتھ میں وٹامن C والے پھل (لیموں، مالٹا) ضرور دیں تاکہ آئرن بہتر جذب ہو۔

6️⃣ بچوں کا ہیموگلوبن 6–12 ماہ اور پھر سال میں ایک بار چیک کروانا ضروری ہے۔




Follow  LINE CLINIC -GULBERG for more tips
18/11/2025

Follow LINE CLINIC -GULBERG for more tips

پولیو کا عالمی دناکتوبر 24پولیو کےمکمل خاتمےکی اپیل!یہ دن پولیو ویکسینیشن کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے منایا جاتا ہے ...
24/10/2025

پولیو کا عالمی دن
اکتوبر 24
پولیو کےمکمل خاتمےکی اپیل!
یہ دن پولیو ویکسینیشن کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے منایا جاتا ہے تاکہ ہر بچے کو اس بیماری سے بچایا جا سکے اور ان تمام لوگوں کو سراہا جا سکے،جنہوں نے پولیو کے خاتمہ کے لیے کوششیں کیں۔
آئیے!پولیو کے خاتمہ کی کاوشوں کو سراہیں۔ یہ ایک جان لیوا بیماری ہے جو پولیو وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے، جسے عالمی ادارہ صحت نے 1988ء میں ختم کرنے کا عزم کیا تھا۔

بچوں کے لیے انڈا ! کب کیسے اور کیوں دیں ۔انڈا ایک مکمل اور متوازن غذا ہے، مگر ہمارے معاشرے میں اس کے حوالے سے مختلف توہم...
30/07/2025

بچوں کے لیے انڈا ! کب کیسے اور کیوں دیں ۔

انڈا ایک مکمل اور متوازن غذا ہے، مگر ہمارے معاشرے میں اس کے حوالے سے مختلف توہمات پائی جاتی ہیں۔ اکثر والدین اس الجھن میں مبتلا ہوتے ہیں کہ بچے کو انڈہ کب سے دینا چاہیے، کتنی مقدار میں دینا مناسب ہے، اور کیا یہ الرجی یا جسم میں "گرمی" پیدا کرتا ہے؟ آئیے ان سوالات کے سادہ، سائنسی اور مستند جوابات جانتے ہیں

انڈا کیوں ضروری ہے؟
۔ انڈا ایک مکمل غذا ہے جو اعلیٰ معیار کی پروٹین، وٹامن B12، وٹامن D، آئرن، کولین اور اومیگا 3 فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتا ہے (National Institutes of Health, USA)۔
۔ کولین بچے کے دماغ کی نشوونما، یادداشت اور نیورونل فنکشن کے لیے نہایت اہم ہے۔
۔ یہ اجزاء بچے کی جسمانی نشوونما اور ذہنی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

بچے کو انڈہ کس عمر سے دینا چاہیے؟
۔ بچے کو چھ ماہ کی عمر سے انڈہ دینا محفوظ اور مفید ہے۔
۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ انڈے میں تاخیر الرجی سے بچا سکتی ہے، لیکن LEAP Study (2015) اور AAP (American Academy of Pediatrics) کی تحقیق کے مطابق، انڈے سمیت ممکنہ الرجینز کو ابتدائی عمر میں دینا الرجی کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔
۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) بھی 6 ماہ کی عمر سے ٹھوس غذاؤں کی شروعات کی حمایت کرتا ہے۔


انڈہ کیسے تیار کر کے دیں؟
۔ انڈے کو اچھی طرح ابال کر دیں، یہاں تک کہ زردی اور سفیدی دونوں مکمل طور پر سخت ہو جائیں۔
۔ بچے کو انڈے کے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر کھلائیں۔
۔ کچا، ہاف بوائل یا فرائی انڈہ نہ دیں کیونکہ اس میں سالمونیلا بیکٹیریا موجود ہو سکتا ہے، جو ٹائیفائیڈ جیسی بیماری کا باعث بنتا ہے (CDC – Centers for Disease Control and Prevention)۔

انڈہ کتنی مقدار میں دیا جائے؟
۔ آغاز میں ایک سے دو چائے کے چمچ ہفتے میں دو سے تین بار دینا مناسب ہے۔
۔ بچے کی عمر اور ہضم کی صلاحیت کے مطابق مقدار بتدریج بڑھائی جا سکتی ہے۔

گھر میں انڈے کو خراب ہونے سے کیسے بچائیں؟

انڈوں کو ہمیشہ ریفریجریٹر میں محفوظ کریں تاکہ وہ جراثیم سے محفوظ اور تازہ رہیں (FDA guidelines)۔

انڈے سے الرجی کی علامات کیا ہیں ؟
۔انڈے سے الرجی تقریباً 2–4٪ بچوں میں دیکھی جاتی ہے، جو عام طور پر وقتی ہوتی ہے اور عمر کے ساتھ ختم ہو سکتی ہے۔ علامات میں شامل ہیں:
- جلد پر دھپڑ، سرخی یا چھپاکی
- سینے کی بندش، سانس کی دقت
- قے، پیٹ درد یا دست
نوٹ: اگر ایسی علامات ظاہر ہوں، تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

گرمیوں میں انڈہ دینا چاہیے یا نہیں؟
یہ ایک غلط فہمی ہے کہ انڈہ گرمی پیدا کرتا ہے۔ سائنسی طور پر، انڈے کا گرمی یا سردی سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔ اگر انڈہ صحیح طریقے سے پکایا جائے تو یہ ہر موسم میں محفوظ ہے۔

اگر خاندان میں دمہ یا الرجی ہو تو کیا انڈہ دیا جا سکتا ہے؟
اگر بچے یا خاندان کے کسی فرد کو الرجی یا دمہ ہو، تب بھی بچے کو انڈہ دینا محفوظ ہے، جب تک کہ پہلے سے کوئی شدید الرجک ریکشن نہ دیکھا گیا ہو۔

انڈہ ایک غذائیت سے بھرپور، سستی اور مفید غذا ہے۔ اگر اسے محفوظ طریقے سے تیار کر کے مناسب وقت پر دیا جائے، تو یہ بچے کی صحت اور ذہنی نشوونما کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

فلیورز میں چھپا ہے نقصان۔ویپس سے درحقیقت خطرے میں ہے جان!ہر کَش کی چکانی پڑ سکتی ہے قیمت۔اپنی حفاضت کریں۔ تمباکو نوشی او...
30/05/2025

فلیورز میں چھپا ہے نقصان۔
ویپس سے درحقیقت خطرے میں ہے جان!

ہر کَش کی چکانی پڑ سکتی ہے قیمت۔
اپنی حفاضت کریں۔ تمباکو نوشی اور ویپ سے دور رہیں!

دنیا بھر میں 13 سے 15 سال کی عمر کے تقریباً 37 ملین بچے تمباکو استعمال کرتے ہیں۔ فلیورز کو نکوٹین اور تمباکو مصنوعات کا استعمال شروع کرنے کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔

ہیٹ اسٹروک صرف تھکن نہیں ہے – یہ ایک طبی ایمرجنسی ہے، جو کہ گرمی سے متعلق شدید بیماری ہے۔ علامات کو جانیں اور اپنے آپ کو...
14/05/2025

ہیٹ اسٹروک صرف تھکن نہیں ہے – یہ ایک طبی ایمرجنسی ہے، جو کہ گرمی سے متعلق شدید بیماری ہے۔
علامات کو جانیں اور اپنے آپ کو بچانے کے لیے تیزی سے عمل کریں!

Address

Main Gurumangat Road Opposite SUI Gas HEAD Office
Lahore

Telephone

+924235773103

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when LIFE LINE CLINIC-Gulberg posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category