26/12/2025
ٹنگ ٹائی اور تقریر میں تاخیر: غلط فہمیوں کو دور کریں
ٹنگ ٹائی (Tongue Tie) کیا ہے؟
ٹنگ ٹائی یا اینکائیلوگلوسیا (Ankyloglossia) ایک ایسی حالت ہے جس میں زبان کے نیچے موجود جھلی (frenulum) زیادہ چھوٹی یا سخت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے زبان کی حرکت محدود ہو جاتی ہے۔
عام غلط فہمی
غلط فہمی نمبر 1: "ٹنگ ٹائی سے بچے کو بولنے میں دیر ہو گی"
حقیقت: ٹنگ ٹائی اور تقریر میں تاخیر کا براہ راست تعلق ہمیشہ نہیں ہوتا۔ بہت سے بچے جن میں ٹنگ ٹائی ہوتی ہے وہ بالکل وقت پر بولنا شروع کر دیتے ہیں۔
غلط فہمی نمبر 2: "ہر ٹنگ ٹائی کو فوری سرجری کی ضرورت ہے"
حقیقت: تمام معاملات میں سرجری ضروری نہیں ہوتی۔ صرف وہی کیسز جن میں:
دودھ پلانے میں مشکل ہو
واضح طور پر تلفظ متاثر ہو رہا ہو
منہ کی صفائی مشکل ہو
ان صورتوں میں علاج کی ضرورت پڑتی ہے۔
تقریر میں تاخیر کی اصل وجوہات
تقریر میں تاخیر کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں:
سماعت کے مسائل: کان میں انفیکشن یا سماعت کی کمی بولنے میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہے۔
ماحولیاتی عوامل: اگر بچے کے ساتھ بات چیت کم ہو یا ان کو زبان سیکھنے کے مواقع نہ ملیں۔
ترقیاتی مسائل: بعض بچوں میں زبان کی نشوونما قدرتی طور پر آہستہ ہوتی ہے۔
نیورولوجیکل یا ترقیاتی عوارض: جیسے آٹزم، ڈاؤن سنڈروم یا دماغی فالج۔
اسپیچ تھراپی کب ضروری ہے؟
اگر آپ کے بچے میں یہ علامات ہیں تو اسپیچ تھراپسٹ سے رابطہ کریں:
12 ماہ کی عمر میں: بابابا، ماماماما جیسی آوازیں نہ نکالنا
18 ماہ کی عمر میں: کوئی لفظ نہ بولنا
2 سال کی عمر میں: دو لفظوں کے جملے نہ بنانا
3 سال کی عمر میں: بات سمجھنے میں دشواری
کسی بھی عمر میں: تلفظ بہت غیر واضح ہونا
اسپیچ تھراپی کیسے مدد کرتی ہے؟
اسپیچ اینڈ لینگویج تھراپسٹ:
بچے کی زبان اور تقریر کی مکمل جانچ کرتے ہیں
گھر پر استعمال کے لیے ورزشیں بتاتے ہیں
والدین کو رہنمائی فراہم کرتے ہیں
کھیل کے ذریعے بچے کی مدد کرتے ہیں
ہر بچے کے لیے خاص منصوبہ بناتے ہیں
والدین کے لیے مشورے
بچے سے باتیں کریں: روزمرہ کے کاموں کے بارے میں بتائیں
کتابیں پڑھیں: تصویری کتابیں دیکھنا بہت مفید ہے
گانے گائیں: بچوں کے گانے زبان سیکھنے میں مددگار ہیں
انتظار کریں: بچے کو جواب دینے کا وقت دیں
اسکرین ٹائم محدود رکھیں: دو سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے اسکرین سے بچیں
یاد رکھیں
ہر بچہ اپنی رفتار سے ترقی کرتا ہے۔ صرف ٹنگ ٹائی کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے بچے کو تقریر میں مسئلہ ہوگا۔ اگر آپ کو فکر ہے تو پیشہ ور اسپیچ تھراپسٹ سے مشورہ ضرور کریں۔
نوٹ: یہ معلومات عام رہنمائی کے لیے ہیں۔ اپنے بچے کی مخصوص صورتحال کے لیے ماہر ڈاکٹر یا اسپیچ تھراپسٹ سے رابطہ کریں۔