12/01/2026
آپ نے نوٹ کیا ہوگا…
جیسے ہی شدید سردی کے دو مہینے آتے ہیں
فیس بُک پر ایک ہی طرح کی خبریں قطار باندھ لیتی ہیں:
“والد صاحب کا قضائے الٰہی سے انتقال ہو گیا”
“والدہ محترمہ ہم سے بچھڑ گئیں”
“ساس، سسر اس دنیا سے رخصت ہو گئے”
یہ محض اتفاق نہیں۔
آپ کو خاموشی سے خبردار کیا جا رہا ہے
کہ ان بزرگوں میں سے اکثریت سردی کی نذر ہو جاتی ہے۔
💭
والدین کبھی اولاد سے کچھ نہیں مانگتے۔
ضرورت انتہا پر بھی ہو تو بھی نہیں مانگتے۔
یہ ان کی فطرت میں ہی نہیں ہوتا۔
سوچئے…
ساری زندگی مسجد و مدرسے کے لیے چندہ مانگنے والا maulana Sb بھی
بڑھاپے میں اپنی اولاد سے ایک کمبل مانگنے کی ہمت نہیں کر پاتا۔
💭
اس لیے سوال مت کیجیے۔
کیونکہ آپ پوچھیں گے تو جواب ہمیشہ یہی ملے گا:
“نہیں، مجھے کچھ نہیں چاہیے۔”
اور المیہ یہ ہے
کہ ہم اس “نہیں” کو قبول کر لیتے ہیں 😐
💭
خود احساس کیجیے۔
خود ذمہ داری اٹھائیے۔
ان کے لیے
گرم رضائیاں لائیے،
گرم کپڑے، کوٹ،
موٹے موزے، مناسب جوتے،
اور گرم، طاقت بخش خوراک مہیا کیجیے۔
یہ بات ذہن میں بٹھا لیجیے:
ان کی رضائی آپ کی رضائی سے ڈبل ہونی چاہیے،
ان کے کپڑے آپ کے کپڑوں سے زیادہ گرم ہونے چاہئیں۔
کیونکہ بڑھاپے میں سردی زیادہ لگتی ہے۔
اور قوتِ مدافعت
باقی قوتوں کی طرح کمزور ہو چکی ہوتی ہے۔
💭
سردیوں میں بزرگوں کی اموات میں جو غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے
وہ اکثر
اسی نالائق اولاد کی وجہ سے ہوتا ہے
جو ان باتوں کا شعور ہی نہیں رکھتی۔
یاد رکھیے…
جس طرح آپ کے بچپن میں
والدین خود دیکھتے تھے
کہ آپ کے گرم کپڑے پورے ہیں یا نہیں،
اب وہی رول آپ نے پلے کرنا ہے۔
پوچھنا نہیں ہے۔
خود دیکھنا ہے۔
خود انتظام کرنا ہے۔
💭
یہ صرف ایک پوسٹ نہیں،
یہ ایک امانت ہے،
ایک ذمہ داری ہے
جو اللّٰه نے آپ کے کندھوں پر رکھی ہے۔
خود بھی عمل کیجیے
اور دوسروں تک بھی یہ بات پہنچائیے۔
امید ہے آپ سمجھیں گے…
اور عمل کریں گے
(ان شاء اللّٰه)