Dr Zaheer ud din Babar Children Clinic

Dr Zaheer ud din Babar Children Clinic We Provide Best Management of Disease to your Child from very First day of Life till Adolescence.

12/08/2025

For Proper Growth of your child ..Diet Must be Healthy and Nutritious...IT will Enhance Immunity ,Mental and Physical Growth of Your Child , It will Protect your child from various Diseases as well

اگر کوئی کتا، بلی، چمگاڈر، یا کوئی بھی جانور کاٹ لے. تو فوراً زخم کو پانی اور صابن سے اچھی طرح صاف کریں. اور فوری طور پر...
26/06/2025

اگر کوئی کتا، بلی، چمگاڈر، یا کوئی بھی جانور کاٹ لے. تو فوراً زخم کو پانی اور صابن سے اچھی طرح صاف کریں. اور فوری طور پر کسی ہسپتال چلے جائیں. اور اینٹی ریبیز ویکسین لگوائیں.

ان جانوروں میں خاص طور پر کُتوں میں ریبیز وائرس ہو سکتا ہے. جو کہ جان لیوا ہے. اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں مریض کی حالت بگڑ سکتی ہے. آوارہ اور پاگل کتوں میں یہ وائرس یقینی ہوتا ہے.

صوبہ بھر کے تمام ضلعی و تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال اور دیہی مراکز صحت پر کتے و دیگر جانوروں کے کاٹے کی ویکسین 'ARV' کا مکمل کورس دستیاب ہے. جو کہ واقعہ کے فوری بعد، تیسرے اور ساتویں دن لگائی جاتی ہے.

17/06/2025
26/11/2023

I have reached 500 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉

Blood and Juices Distribution to Needy Thalassemia Patients
08/09/2023

Blood and Juices Distribution to Needy Thalassemia Patients

Little kids Enjoying various Fun activity at Dr Zaheer ud din Babar Children Clinic Nishat Colony Cantt Lahore
08/03/2023

Little kids Enjoying various Fun activity at Dr Zaheer ud din Babar Children Clinic Nishat Colony Cantt Lahore

Burns/جسم کے کسی حصے کا جل جانا♦️♦️جلنے کے لیے ابتدائی طبی امداد🔸جلنے کے عمل کو جلد از جلد روک دیں۔ اس کا مطلب ہو سکتا ہ...
02/01/2023

Burns/جسم کے کسی حصے کا جل جانا

♦️♦️جلنے کے لیے ابتدائی طبی امداد

🔸جلنے کے عمل کو جلد از جلد روک دیں۔ اس کا مطلب ہو سکتا ہے کہ اس شخص کو آگ کے قریب سے ہٹانا، پانی سے شعلوں کو بجھانا، یا کمبل سے شعلوں کو دبانا ہے۔ اپنے آپ کو بھی جل جانے کے خطرے میں مت ڈالیں۔
🔸جلد کے جلے ہوئے حصے کے قریب کپڑے یا زیورات کو ہٹا دیں، بشمول بچوں کی نیپی۔ لیکن جلی ہوئی جلد سے چپکی ہوئی چیز کو ہٹانے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ اس سے زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔
🔸چوٹ لگنے کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو 20 منٹ کے لیے ٹھنڈے یا ہلکے گرم بہتے پانی سے جلنے کو ٹھنڈا کریں۔ کبھی بھی برف، برف والا پانی، یا کوئی کریم یا چکنائی والی چیز جیسے مکھن کا استعمال نہ کریں۔
🔸اپنے آپ کو یا شخص کو گرم رکھیں جسم کو ٹھنڈا ہونے سے بچائیں ۔ کمبل یا کپڑے کی تہوں کا استعمال کریں، لیکن انہیں زخمی جگہ پر ڈالنے سے گریز کریں۔ گرم رکھنے سے ہائپوتھرمیا کو روکا جائے گا، جہاں ایک شخص کے جسم کا درجہ حرارت 35C (95F) سے نیچے گر جاتا ہے۔ یہ ایک خطرہ ہے اگر آپ کسی بڑے جلے ہوئے حصے کو ٹھنڈا کر رہے ہیں، خاص طور پر چھوٹے بچوں اور بوڑھوں میں۔
🔸پیراسیٹامول یا آئبوپروفین سے جلنے کے درد کا علاج کریں۔ اوور دی کاؤنٹر ادویات استعمال کرتے وقت ہمیشہ مینوفیکچرر کی ہدایات کو چیک کریں۔ 16 سال سے کم عمر کے بچوں کو اسپرین نہیں دی جانی چاہیے۔
🔸اگر چہرہ یا آنکھیں جل گئی ہوں تو زیادہ سے زیادہ سیدھا بیٹھیں۔ جتنی دیر ممکن ہو لیٹنے سے گریز کریں، کیونکہ اس سے سوجن کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

♦️♦️فوراً ہسپتال کے ایکسیڈنٹ اینڈ ایمرجنسی (A&E) ڈیپارٹمنٹ میں کب جائیں:

🔹متاثرہ شخص کے ہاتھ سے بڑا یا گہرا جلنا,
کسی بھی سائز کا جلنا جو سفید یا جلی ہوئی جلد کا سبب بنتا ہے۔
🔹چہرے، ہاتھوں، بازوؤں، پیروں، ٹانگوں پر جلنا جس سے چھالے پڑتے ہیں۔
🔹تمام کیمیائی اور برقی جلن

♦️♦️اس کے علاوہ فوری طور پر طبی مدد حاصل کریں اگر جلنے والا شخص:

🔹دوسرے زخم ہیں جن کے علاج کی ضرورت ہے۔
🔹صدمے(shock) میں جا رہا ہے - علامات میں سردی، چپچپی جلد، پسینہ آنا، تیز مگر ہلکی سانس لینا، اور کمزوری یا چکر آنا شامل ہیں۔
🔹حاملہ ہے
🔹60 سال سے زیادہ عمر ہے
🔹5 سال سے کم عمر ہے
🔹کوئی طبی بیماری ہے، جیسے دل، پھیپھڑوں یا جگر کی بیماری، یا ذیابیطس
🔹کمزور مدافعتی نظام (جسم کا دفاعی نظام) ہے - مثال کے طور پر، ایچ آئی وی یا ایڈز کی وجہ سے، یا اس وجہ سے کہ وہ کینسر کے لیے کیمو تھراپی کر رہے ہیں۔
🔹اگر کسی نے دھوئیں یا دھوئیں میں سانس لیا ہے تو اسے بھی طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔

🌟گھر سے باہر کام کرنے والی اور نوکری کرنے والی ماؤں کی طرف سے بار بار ایک سوال پوچھا جاتا ہے کہ جب وہ ڈیوٹی پر ہوتی ہیں ...
29/12/2022

🌟گھر سے باہر کام کرنے والی اور نوکری کرنے والی ماؤں کی طرف سے بار بار ایک سوال پوچھا جاتا ہے کہ جب وہ ڈیوٹی پر ہوتی ہیں تو وہ اپنے بچوں کے لیے چھاتی کا دودھ گھر میں کتنی دیر تک سٹور کر سکتی ہیں۔

💭ہدایات حسب ذیل ہیں:

🌀چھاتی کے دودھ کو کمرے کے درجہ حرارت (25C) پر چار گھنٹے تک سٹور کیا جا سکتا ہے۔

🌀ماں کے دودھ کو فریج میں چار دن تک محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

🌀ماں کے دودھ کو چھ ماہ تک فریزر میں رکھا جا سکتا ہے تاہم یہ 1 سال تک بھی یہ قابل قبول ہے۔

🌀تو بچے کے بچہ دودھ پیتے ہوۓ جو دودھ چھوڑ دیتا ہے اسکے بارے میں کیا
کرنا چاہیے ؟؟
بچے کو بچا ہوا دودھ ایک سے دو گھنٹے کے اندر استعمال کرنا چاہیے۔

🌀ایک بار پگھلنے کے بعد منجمد دودھ کا استعمال کیسے ہوگا؟

اسے ایک دن کے اندر استعمال کیا جانا چاہیے اور اسے دوبارہ منجمد نہیں کیا جا سکتا۔

28/12/2022

سوال ۔ڈاکٹر صاحب ایک سال کی عمر پہلے بچے کو شہد کھلانے سے کونسا انفیکشن لگنے کا خطرہ ہوا ہے ۔
جواب ۔ انفنٹ بو ٹٹو لزم Infant botulism ایک ایسا انفیکشن ہے جو شہد کھانے سے لگ سکتا ہے یہ اک جرا ثم Clostridium botulinum کی شہد میں موجودگی کی وجہ سے ہو سکتا ہے ۔ بڑو ں اور ایک سال سے بڑے بچوں میں اس کا اثر نہیں ہوتا مگر ا ک سال سے کم عمر بچوں میں یہ سنگین بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔جس میں پٹھون کا کمزور ہونا ۔کھانے پینے اور نگلنے میں تکلیف ۔سانس لینے میں دشواری ستی وغیرہ شامل ہیں ۔یاد رہے یہ اس شہد سے ہوگا جس میں یہ جرا ثم کے سپور ز موجود ہوں اور اس بات کا امکان کافی زیادہ ہے ۔کیونکہ یہ جرا ثیم درجہ حرارت سے بھی ضایع نہیں ہوتا

28/12/2022

ایک ایسی شکائیت جوآجکل بہت زیادہ سننے میں آتی ہے۔
وہ یہ کہ ماں کا دودھ بچے کیلئے ناکافی ہے ۔ بچہ ماں کا دودھ پی کر بھی روتا رہتا ہے۔
بچہ ماں کا دودھ نہیں پیتا۔
ماں کا دودھ خراب ہے۔
کیا واقعی ایسی کوئی بات ہے؟
ماں کا دودھ پورا نہ ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کچھ ٹیکنیکل مسائل کو چھوڑ کر جوکہ بہت ہی کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تروہ غلطیاں ہوتی ہیں جو مائیں ابتدائی دنوں سے کرنا شروع کر دیتی ہیں۔
:پہلے یہ بات کلیئر کر لیں
ماں کے دودھ کی غذائیت اور مقدار ہمیشہ بچے کی عمر اور ضرورت کے مطابق ہوتی ہے۔اور اس بات میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ ماں کا دودھ کم ہے اور بچے کیلئے ناکافی ہے۔ورنہ جتنا دودھ بچہ پیئے گا اتنا دودھ پیدا ہوگا۔ اگر ایک بچہ ماں کا دودھ پی رھا ہے ، ایک اور بچے کو بھی ساتھ پلانا شروع کردیا جائے تو قدرت کی طرف سے جسم میں ایسی صلاحیت ہوتی ہے کہ دودھ اتنا بڑھ جائے گا کہ دوسرا بچہ بھی پیٹ بڑھ کر دودھ پینا شروع کردے گا۔۔
ماں کے دودھ کے ساتھ فیڈر کا ستعمال ماں کا دودھ کم ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
ہمارے ہاں ایک غلط فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ ماں کا دودھ تیسرے دن اترے گا۔ اور ابتدائی دودھ جو کچھ گہرا زردی مائل پانی کی صورت میں ہوتا ہے۔جسے کلوسٹرم کہا جاتا ہے، غذائیت اور توانائی سے بھرپور ہوتا ہے ۔بلکہ اس دودھ کو بچے کا پہلا حفاظتی ٹیکہ بھی کہا جاتا ہے۔پلانے سے گریز کیا جاتا ہے۔۔ اور پہلے تین دن فیڈر پر رکھا جاتا ہے۔
بچے کے ابتدائی دس سے بارہ دن خوارک کی بہت زیادہ ضرورت نہیں ہوتی۔بلکہ کچھ وجوہات کی بنا پر پہلے ہفتے بچے کا وزن لگ بھگ دس فیصد کم ہوجاتا ہے۔ جو کہ دوسرے ہفتے کے اختتام تک دوبارہ بحال ہوجاتا ہے لیکن بہت زیادہ متفکر مائیں بچے کی پیدائش کے بعداس کمزوری کو دودھ کی کمی سمجھ کر فیڈر کا استعمال شروع کروادیتی ہیں۔
ماں کا دودھ شروع کرنے کے ابتدائی دنوں میں بچہ بار بار پخانہ کر سکتا ہے لیکن ماں کے دودھ میں خرابی قرار دے کر یا تو دودھ روک دیا جاتا ہے یا پھر فیڈر کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔
جب بچے کو فیڈر کا استعمال شروع کیا جاتاہے تو ماں کا دودھ کم پینے کی وجہ سے دودھ خود بخود کم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اوردوسرا ماں کا دودھ نکالنے میں بچے کو کافی مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ فیڈر کا دود ھ باآسانی حاصل ہوجاتا ہے۔جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ رو کر اور ماں کا دودھ نہ پینے کی ضد کرکے فیڈر کے دودھ کی مقداربڑھاتا جاتا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ اگر آپ باڑے جا کر دودھ لانے کے عادی ہوں۔ لیکن کوئی گوالا وہی دودھ آپ کے دروازے تک پہنچانا شروع کردے تو کس کا دل کرے گا کہ روز باڑے جا کر دودھ لانے کی تکلیف اٹھائے۔
اور یوں فیڈر کے استعمال کے بعد بچہ ماں کا دودھ کم پیتاہے تو دودھ بھی خودبخود کم ہونا شروع ہوجاتا ہے
تو کیا کرنا چاہیئے؟
۔۔۔بچے کی پیدائش کے بعد بچے کے منہ میں پہلی خواراک ماں کا دودھ ہی ہونا چاہیئے۔ حتی کے آپریشن سے پیدا ہونے والے بچے کو بھی جونہی ماں سنبھلے، بچے کو اپنا دودھ پلانا شروع کردے۔
۔۔۔بچے کو دودھ پلاتے وقت مناسب وقت دیں۔ پیٹ بڑھ کر دودھ پینے کیلئے بچہ پندرہ منٹ سے پونا گھنٹہ تک وقت لے سکتا ہے۔
۔۔۔بچے کے زیادہ رونے یا تنگ کرنے پر فیڈر کا استعمال شروع نہ کروایا جائے بلکہ اپنے قریبی بچوں کے ڈاکٹر سے رہنمائی حاصل کریں۔
۔۔۔ بچے کو ہمیشہ دودھ اس وقت پلانا چاہیئے جب وہ بھوکا ہو اور صحت میں ٹھیک ہے تو اسے اچھی طرح رو لینے دیا جائے۔ تاکہ جب بھی دودھ پیئے تو اتنا دودھ پی لے کہ بار بار دودھ نہ مانگے ۔
۔۔بچے کو صحت مند بنانے کیلئے غیر ضروری ٹوٹکوں سے بچائیں ۔روایتی غیر تصدیق شدہ نسخے بچے کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہں

سوال: ڈاکٹر صاحب ہمارا بچہ اکثر شام کے وقت ہاتھ پیر گھوٹ کر زور لگا کر بہت زیادہ روتا ہے. اکثر تو لال پیلا ہو جاتا ہے. ی...
28/12/2022

سوال: ڈاکٹر صاحب ہمارا بچہ اکثر شام کے وقت ہاتھ پیر گھوٹ کر زور لگا کر بہت زیادہ روتا ہے. اکثر تو لال پیلا ہو جاتا ہے.

یہ اکثر والدین کے لئیے بہت پریشانی کا باعث ہوتا ہے اور اکثر رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے بہت پریشان ہو جاتے ہیں.

جواب: ایسے والدین کو بالکل بھی نہیں گھبرانا چاہیئے. اس حالت کو میڈیکل کی زبان میں Colic کا نام دیا جاتا ہے. آپکے لئیے چند معلومات شئیر کرتے چلیں.

کولک (colic) یا مروڑ روزانہ ایک ہی وقت پہ بچے کا تسلسل سے رونا ہے، جسے کوشش کے باوجود چپ کروانا مشکل ہو۔ یہ عموماً شام چھ سے آدھی رات تک ہوتا ہے اور ایک سے تین ماہ کی عمر کے بچوں میں زیادہ ہوتا ہے، کچھ بچوں میں چھ ماہ کی عمر تک ہوتا ہے۔
رونے کا دورانیہ تین گھنٹے تک ہو سکتا ہے، جو تین مہینے کی عمر میں سب سے زیادہ ہوتا ہے اور اس کے بعد کم ہوتا جاتا ہے، اس میں عموماًبچہ اپنے مخصوص وقت اور دورانیے پہ رونے کے بعد باقی وقت ٹھیک رہتا ہے اورکچھ بچے زیادہ شدت سے اور زیادہ دورانیے کے لیے بھی روتے ہیں۔
دو سے پانچ ماہ کی عمر کے دوران قریباً ہر پانچواں بچہ اس کا شکار ہوتا ہے، ایسا رونا جس میں چپ کروانا مشکل ہو، اکثر چیخنا اور جس پہ بچے کا پیٹ گیس کے ساتھ پھول جانا کولک کی وجہ سے ہو سکتا ہے، یہ دن رات میں کسی بھی وقت ہو سکتا ہے لیکن عموماً شام کے وقت زیادہ دیکھا گیا ہے۔

میڈیکل سائنس میں کولک کی ختمی وجہ نہیں معلوم، لیکن کولک والے بچے کو چپ کروانے اور کھیلنے، خوراک کی تبدیلی، ماں کے دوددھ پینے والے بچوں کی ماں کی خوراک میں تبدیلی سے فائدہ ہوتا ہے۔
اگر آپ کا بچہ اسی طرح روتا ہے اور آپ کو لگتا ہے کہ اسے کولک ہے تو سب سے پہلے بچوں کے اسپیشلٹ ڈاکٹر کو معائنہ کروا کر یہ تسلی کر لیں کہ یہ کولک ہی ہے اور کوئی ایسی خطرناک چیز تو نہیں جس کا فوری علاج ناگزیر ہے۔

اگر بچہ ڈبے کا دودھ پیتا ہے تو دودھ بناتے بناتے وقت کوشش کریں کہ دودھ میں بلبلے نہ بنیں اور ڈاکٹر سے مشورہ کریں کہ رونے کی وجہ دودھ کی کوئی خاص قسم تو نہیں۔
بچے کو مناسب مقدار میں دودھ پلائیں، نہ کم نہ زیادہ، دودھ پلانے کے دوران کم از کم دوسے ڈھائی گھنٹے کا وقفہ ضرور دیں اور چار سے پانچ گھنٹے سے زیادہ بھوکا نہ رہنے دیں۔ بچے کے وزن اور عمر کے عین مطابق صحیح مقدار ڈاکٹر سے پوچھیں۔

روتے بچے کو لے کر ہلکی چہل قدمی کرنے سے، بہت ہی آہستگی سے جھولا دینے سے اکثر بچے چپ کر جاتے ہیں۔
پنگھوڑے یا بستر پہ لٹا کر بچے سے باتیں کریں، یا کوئی ایسی چیز جس کی آواز ہو، جیسے واشنگ مشین یا ریڈیو وہ ایک فاصلے پہ چلا دیں اس سے بھی بچے چپ کر جاتے ہیں۔
کچھ بچے چوسنی سے بھی چپ کرتے ہیں۔
بچے کو پیٹ کے بل لٹا کر بھی چُپ کروانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
کچھ علاقوں میں بچوں کو ایک خاص طریقے سے کمبل یا چادر میں لپیٹا (swaddle) جاتا ہے، اس سے بھی کچھ بچوں کو آفاقہ ہوتا ہے، اس کے بارےمیں مزید آپ ڈاکٹر سے پوچھ سکتے ہیں۔

یہ سب کرنے کے بعد بھی آپ کا بچہ چُپ نہیں کرتا تو ہمارا مشورہ ہے کہ مایوس ہونے یا تنگ آنےکے بجائے گھر کے دوسرے افراد کی مدد لیں، بچے کو کچھ دیر ان کے پاس چھوڑیں اور خود تھوڑی دیر آرام کریں، آرام کے بعد تازہ دم ہو کر بچہ سنبھالیں۔

🌀

Address

Near Ayesha Hospital Opposite Nishat Pharmacy Nishat Colony Cantt Lahore
Lahore
54000

Opening Hours

Monday 16:00 - 22:00
Tuesday 16:00 - 22:00
Wednesday 16:00 - 22:00
Thursday 16:00 - 22:00
Friday 16:00 - 22:00
Saturday 16:00 - 22:00

Telephone

+923338559954

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Zaheer ud din Babar Children Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Zaheer ud din Babar Children Clinic:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram