Eman Homeo Store & Clinic

Eman Homeo Store & Clinic We are Certified from the Government of Pakistan National Council for Homeopathy From Since 2013

کنجیسٹو ہارٹ فیلئر (Congestive Heart Failure) — مکمل رہنمائی❤️ کنجیسٹو ہارٹ فیلئر کیا ہے؟Congestive Heart Failure ایک ای...
30/03/2026

کنجیسٹو ہارٹ فیلئر (Congestive Heart Failure) — مکمل رہنمائی

❤️ کنجیسٹو ہارٹ فیلئر کیا ہے؟
Congestive Heart Failure ایک ایسی حالت ہے جس میں دل جسم کی ضرورت کے مطابق خون کو مؤثر طریقے سے پمپ نہیں کر پاتا، جس کی وجہ سے جسم میں پانی (Fluid) جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
⚙️ وجوہات (Causes)
✔️ دل کی کمزوری
✔️ ہائی بلڈ پریشر
✔️ دل کی شریانوں کی بندش (Heart attack کے بعد)
✔️ دل کے والوز کی خرابی
✔️ ذیابیطس (Diabetes)
⚠️ علامات (Symptoms)
🔸 سانس پھولنا (خاص طور پر چلنے یا لیٹنے پر)
🔸 ٹانگوں، ٹخنوں اور پیروں میں سوجن
🔸 جلدی تھکن ہونا
🔸 وزن میں اچانک اضافہ (پانی جمع ہونے کی وجہ سے)
🔸 رات کو بار بار پیشاب
🔸 دل کی دھڑکن تیز ہونا
🚨 اہم پیچیدگیاں
🔻 پھیپھڑوں میں پانی بھرنا
🔻 دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہونا🔻

سانس میں گھٹن، خاص طور پر رات کو
🥗 غذائی اور طرزِ زندگی کی احتیاط
✔️ نمک کم استعمال کریں
✔️ پانی کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے سے
✔️ ہلکی ورزش (ڈاکٹر کی اجازت سے)
✔️ وزن کنٹرول کریں
✔️ تمباکو نوشی سے پرہیز
✔️ Stress کم کریں
🏥 جدید میڈیکل علاج (مختصر)
🔹 Diuretics (پانی کم کرنے والی ادویات)
🔹 ACE inhibitors
🔹 Beta blockers
🔹 بعض کیسز میں سرجری یا pacemaker
📌 اہم پیغام
کنجیسٹو ہارٹ فیلئر ایک سنجیدہ بیماری ہے، مگر صحیح علاج، پرہیز اور احتیاط سے مریض نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔
❗ اگر سانس میں شدید کمی، سینے میں درد یا اچانک سوجن ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
💚 دل کا خیال رکھیں — یہی زندگی کی ضمانت ہے

رحم کی رسولی (Uterine Fibroids)یہ رحم (Uterus) میں بننے والی گلٹیاں ہوتی ہیں، جو عموماً تولیدی عمر کی خواتین میں پائی جا...
29/03/2026

رحم کی رسولی (Uterine Fibroids)
یہ رحم (Uterus) میں بننے والی گلٹیاں ہوتی ہیں، جو عموماً تولیدی عمر کی خواتین میں پائی جاتی ہیں۔
یہ رسولیاں سائز میں چھوٹی (چنے کے دانے) سے لے کر بڑی (کئی سینٹی میٹر) تک ہو سکتی ہیں
#علامات
زیادہ اور لمبی ماہواری (Heavy bleeding)
پیٹ کے نچلے حصے میں درد یا دباؤ
بار بار پیشاب آنا
کمر درد
بانجھ پن یا حمل میں مشکل
پیٹ کا غیر معمولی بڑھ جانا

#وجوہات
ہارمونز (خاص طور پر Estrogen) کا زیادہ ہونا
خاندانی تاریخ (Genetics)
موٹاپا
دیر سے شادی یا حمل میں تاخیر
غیر متوازن خوراک

#گھریلو علاج
سبز سبزیاں، پھل، فائبر والی غذا
وزن کنٹرول میں رکھنا
روزانہ ہلکی ورزش
سبز چائے (Green tea) کا استعمال
وٹامن D اور آئرن کی مناسب مقدار

#ادویات
درد کے لیے: Ibuprofen
ہارمونل تھراپی (OCPs)
GnRH agonists (رسولی کو سکیڑنے کے لیے)
آئرن سپلیمنٹس (خون کی کمی میں)

شدید کیس میں سرجری کی ضرورت ہو سکتی ہے:
Myomectomy (صرف رسولی نکالنا)
Hysterectomy (رحم نکالنا – آخری حل)

#ٹیسٹ
الٹراساؤنڈ (Ultrasound)
MRI (تفصیلی تشخیص کے لیے)
CBC (خون کی کمی چیک کرنے کے لیے)
Hysteroscopy (رحم کے اندر دیکھنے کے لیے)

🌸 نسوانی صحت اور pH بیلنس: ایک طبی راہنمائی 🌸طبِ یونانی اور نظریہ مفرد اعضاء کی روشنی میں، اندام نہانی (Va**na) کی رطوبت...
28/03/2026

🌸 نسوانی صحت اور pH بیلنس: ایک طبی راہنمائی 🌸
طبِ یونانی اور نظریہ مفرد اعضاء کی روشنی میں، اندام نہانی (Va**na) کی رطوبت کا معتدل رہنا صحت کی علامت ہے۔ جب جسم میں تیزابیت (Acidosis) یا عفونت (Infection) حد سے بڑھ جائے، تو یہی pH بیلنس بگڑ جاتا ہے، جسے ہم طب کی زبان میں "تعفنِ رحم" یا "فسادِ رطوبات" کہتے ہیں۔

🩺 نظریہ مفرد اعضاء اور طبِ یونانی کا نکتہ نظر
حکیمِ حاذق کے مطابق، ویجائنل انفیکشن اکثر غدی عضلاتی (صفراوی) تحریک یا عضلاتی غدی (سوداوی) خشکی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب جگر اور غدد میں سوزش ہو یا خلطِ سودا بڑھ جائے، تو قدرتی حفاظتی نظام (قوتِ مدافعت) کمزور پڑ جاتا ہے۔

📜 حکمت کے علمی خزانے
صحت اور اعتدال کی اہمیت پر یہ اشعار آپ کی پوسٹ کی زینت بن سکتے ہیں:
> تندرستی ہے تو دنیا میں ہے سب کچھ اے دوست
> ورنہ یہ زیست بھی اک بارِ گراں لگتی ہے
>
> علاجِ دردِ دل کر لو، ابھی فرصت میسر ہے
> تباہی جب مچاتی ہے تو پھر مہلت نہیں ملتی
>

🧬 وہ اووریز (Ovaries) جو “جاگتی” نہیں! — Savage Syndrome کی مکمل حقیقتذرا ایک لمحے کے لیے تصور کریں…آپ کا دماغ مسلسل پیغ...
26/03/2026

🧬 وہ اووریز (Ovaries) جو “جاگتی” نہیں! — Savage Syndrome کی مکمل حقیقت

ذرا ایک لمحے کے لیے تصور کریں…آپ کا دماغ مسلسل پیغامات بھیج رہا ہے، بار بار، پوری طاقت کے ساتھ… مگر جسم کا ایک اہم حصہ جیسے سننے سے ہی انکار کر دے۔یہ کوئی عام بات نہیں — یہی کیفیت Savage Syndrome میں دیکھنے کو ملتی ہے۔

یہ ایک نایاب مگر نہایت اہم ہارمونل مسئلہ ہے، جس میں عورت کی اووریز (بیضہ دانیاں) کے اندر انڈوں (Eggs) کا ذخیرہ بالکل صحیح اور مکمل موجود ہوتا ہے، مگر وہ دماغ کی طرف سے آنے والے ہارمونز کے سگنلز کو “قبول” نہیں کر پاتیں۔

🔄 جب حکم آتا ہے… مگر عمل نہیں ہوتا

عام حالات میں، دماغ کے اندر موجود پچیوٹری گلینڈ (Pituitary Gland) ایک خاص ہارمون خارج کرتا ہے جسے FSH (Follicle Stimulating Hormone) کہا جاتا ہے۔یہ ہارمون اووریز کو متحرک کرتا ہے تاکہ وہ فولیکلز (Follicles) کو نشوونما دے سکیں اور بیضہ (Egg) تیار ہو سکے۔

مگر Savage Syndrome میں صورتحال کچھ یوں ہوتی ہے:

• دماغ مسلسل FSH بھیجتا رہتا ہے• اووریز اس سگنل کو نظر انداز کرتی رہتی ہیں• دماغ سمجھتا ہے کہ ہارمون کم ہے، اس لیے مقدار مزید بڑھا دیتا ہے

📊 نتیجہ کیا نکلتا ہے؟خون کے ٹیسٹ میں FSH اور دیگر ہارمونز کی سطح بہت زیادہ نظر آتی ہے — بالکل ویسی جیسے مینوپاز (Menopause) میں ہوتی ہے۔مگر حقیقت میں اووریز کے اندر زندگی موجود ہوتی ہے… انڈے موجود ہوتے ہیں… صرف ردِعمل نہیں ہوتا۔

🔐 مسئلہ طاقت کا نہیں، نظام کا ہے

یہ بیماری ہمیں ایک بہت اہم سبق دیتی ہے:ہر مسئلہ کمی کا نہیں ہوتا… کبھی کبھی مسئلہ “کنکشن” کا ہوتا ہے۔

اسے آسان مثال سے سمجھیں:

• ہارمونز = چابیاں 🔑• اووریز کے رسیپٹرز = تالے 🔐

Savage Syndrome میں:• تالے یا تو بند ہو جاتے ہیں• یا ان کی ساخت بگڑ جاتی ہے

لہٰذا چابی کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو،اگر تالا ہی خراب ہو جائے تو دروازہ نہیں کھلے گا۔

💤 یہ ختم نہیں… صرف سوئی ہوئی ہیں

یہاں ایک نہایت اہم فرق سمجھنا ضروری ہے:

❌ قبل از وقت مینوپاز (Early Menopause):انڈے ختم ہو جاتے ہیں، اووریز خالی ہو جاتی ہیں

✅ Savage Syndrome:انڈے موجود ہوتے ہیں، مگر “غیرفعال” ہو جاتے ہیں

یہ انڈے گویا ایک گہری نیند (Hibernation) میں چلے جاتے ہیں،اور اس سگنل کا انتظار کرتے ہیں جسے ان کے رسیپٹرز سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

⚠️ شوگر (Diabetes) والی خواتین کے لیے بڑا خطرہ

یہ بات اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے، مگر حقیقت نہایت اہم ہے:

ایسٹروجن (Estrogen) ہارمون:✔ انسولین کے اثر کو بہتر بناتا ہے✔ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے

جب اووریز “سو” جاتی ہیں:

• ایسٹروجن کم ہو جاتا ہے• انسولین ریزسٹنس بڑھ جاتی ہے

📌 نتیجہ:• شوگر لیول اچانک بڑھ سکتا ہے 📈• کنٹرول مشکل ہو جاتا ہے• جسم کی میٹابولک بیلنس بگڑ جاتی ہے• بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

🩺 اہم علامات جنہیں نظر انداز نہ کریں

اگر آپ یا آپ کے کسی مریض میں یہ علامات موجود ہوں:

• بغیر کسی واضح وجہ کے شوگر بڑھ رہی ہو• ماہواری (Periods) بند یا بے ترتیب ہو جائے• ہارمون ٹیسٹ میں FSH بہت زیادہ آئے• مگر الٹراساؤنڈ میں اووریز میں فولیکلز موجود ہوں

تو یہ ایک اہم اشارہ ہو سکتا ہے کہ مسئلہ عام نہیں ہے۔

⚠️ اہم طبی ہدایت (Medical Advisory)

Savage Syndrome کی تشخیص عام ٹیسٹ سے نہیں ہوتی۔اس کے لیے:

• مخصوص ہارمونل ٹیسٹ• اوورین فنکشن کا تفصیلی جائزہ• بعض کیسز میں بایوپسی

ضروری ہوتی ہے تاکہ اسے اووریئن فیلئر (Ovarian Failure) سے الگ کیا جا سکے۔

❗ خود سے علاج کرنے یا اندازے لگانے سے گریز کریں۔ہمیشہ کسی ماہر اینڈوکرائنولوجسٹ یا مستند معالج سے رجوع کریں۔

🌿 اپنا طبی دواخانہ — آپ کی بہتر صحت کے لیے کوشاں 💚

ہم سمجھتے ہیں کہ ہر بیماری کی جڑ صرف دوا نہیں… بلکہ نظام کا توازن ہے۔اسی لیے ہم نیچرل جڑی بوٹیوں اور فطری اصولوں کے ذریعے جسم کو اصل توازن کی طرف لانے کی کوشش کرتے ہیں۔

📌 اہم نوٹ:یہ تحریر صرف معلومات اور آگاہی کے لیے ہے۔

⚠️ ڈسکلیمر:یہ کسی بھی قسم کے طبی مشورے، تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں ہے۔اپنی صحت کے بارے میں کسی بھی فیصلے سے پہلے مستند معالج سے ضرور رجوع کریں۔

خواتین میں یوٹرائن فائبرائڈز تیس پینتیس سال کی عمر کے بعد اکثر بن جاتے ھیں ایسے خواتین جو محنت مشقت کم کرتی ھیں خون کی ک...
26/03/2026

خواتین میں یوٹرائن فائبرائڈز تیس پینتیس سال کی عمر کے بعد اکثر بن جاتے ھیں ایسے خواتین جو محنت مشقت کم کرتی ھیں خون کی کمی کا شکار رھتی ھیں زھنی طور پر پریشان رھتی ھیں انتہا کی شکی اور حاسد ھوتی ھیں یا جو من میں انتقامی جذبات رکھتی ھیں معاف نہی کرتیں ان میں یہ یوٹرس کے اندر یوٹرس کے منہ پر فائبرائیڈ بن جاتے ھیں جو چربی نما مسلز کی گروتھ ھوتی ھے نان کینسر ھوتے ھیں شروع شروع میں ایبنارمل بلیڈنگ ھوتی ، سیکس کے دوران بلیڈنگ ھوتی اور اکثر بلیڈنگ کی وجہ سے خون کی شدید کمی بھی واقع ھو جاتی ھے

اگر تو نام ایمرجنسی کنڈیشن ھے بلیڈنگ نہی یا ایچ بی بہت زیادہ کم نہی تب تو ھومیوپیتھی سے علاج ممکن ھے لیکن اگر بلیڈنگ بہت زیادہ ھے فائبرائڈ سائز یا تعداد زیادہ ھے تو فوری سرجری کروا لینی چاہیے اور اسکے بعد ھومیوپیتھک علاج لینا چاییے تا کہ دوبارہ فائبرائیڈ نہ بنیں

زھنی جزباتی صحت جسم کے ھارمونز پر گہرا اثر ڈالتی ھے سٹریس مینجمنٹ پر فوکس کریں ، لوگوں کو معاف کرنا سیکھیں من میں انتقامی جذبات مت رکھیں اپنی خوراک اور فزیکل ایکٹیوٹی پر فوکس کریں جسم میں خون کی کمی ھرگز مت رھنے دیں ایچ بی کو رھنا بھی وجہ بن سکتا ھے اور بلیڈنگ کی وجہ سے انتہائ خطرناک حد تک خون کی کمی دل کو بھی نقصان پہنچاتی ھے ۔

بروقت علاج کروائیں
سرجری سے پہلے سرجری کے بعد

اوولیشن اور اس کی علامات۔اوولیشن وہ عمل ہے جس میں عورت کے بیضہ دانی (o***y) سے ایک پکا ہوا انڈا خارج ہوتا ہے۔یہ عام طور ...
20/03/2026

اوولیشن اور اس کی علامات۔
اوولیشن وہ عمل ہے جس میں عورت کے بیضہ دانی (o***y) سے ایک پکا ہوا انڈا خارج ہوتا ہے۔
یہ عام طور پر ماہواری کے درمیانی دنوں میں ہوتا ہے، اور اسی وقت حمل ٹھہرنے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔

اوویولیشن کی علامات
1. رویے اور حسی تبدیلیاں
جنسی خواہش (libido) میں اضافہ (ایسٹروجن ہارمون کے بڑھنے کی وجہ سے)
سونگھنے کی حس میں تیزی
2. سروائیکل اور ویجائنل تبدیلیاں
انڈے کی سفیدی جیسا مادہ (cervical mucus) زیادہ، شفاف اور کھنچنے والا ہو جاتا ہے
ویجائنل نمی (lubrication) میں اضافہ (ایسٹروجن کی وجہ سے)
3. پیلوک اور پیٹ کے نچلے حصے میں احساسات
ہلکا سا درد یا چبھن (جسے “مِٹیل شمرز” کہا جاتا ہے)
عام طور پر ایک طرف اور تھوڑی دیر کے لیے ہوتا ہے
4. ہارمون کی نشاندہی
اوویولیشن ٹیسٹ (Ovulation Predictor Kit) مثبت آ سکتا ہے
LH ہارمون میں اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ اوویولیشن اگلے 24–36 گھنٹوں میں ہو سکتی ہے
5. چھاتی اور جسم میں تبدیلیاں
چھاتی میں حساسیت یا درد
ہلکی سی اپھارہ (bloating)
6. ہارمون اور درجہ حرارت میں تبدیلی
جسم کے بنیادی درجہ حرارت (Basal Body Temperature) میں معمولی اضافہ
اوویولیشن کے بعد درجہ حرارت 0.2 سے 0.5 ڈگری سیلسیس بڑھ سکتا ہے
اہم طبی نوٹ:
اوویولیشن عام طور پر اگلی ماہواری سے 12 سے 16 دن پہلے ہوتی ہے، لیکن ہر عورت کے سائیکل میں فرق ہو سکتا ہے۔

Blood Pressure: جسم خون کی گردش کو کیسے کنٹرول کرتا ہے؟ہمارے جسم میں Blood Pressure (بلڈ پریشر) وہ قوت ہے جس سے خون دل س...
10/03/2026

Blood Pressure: جسم خون کی گردش کو کیسے کنٹرول کرتا ہے؟
ہمارے جسم میں Blood Pressure (بلڈ پریشر) وہ قوت ہے جس سے خون دل سے نکل کر پورے جسم میں گردش کرتا ہے۔ اگر یہ بہت زیادہ یا بہت کم ہو جائے تو جسم کے اہم اعضاء متاثر ہو سکتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ہمارا جسم خودکار نظام کے ذریعے اسے متوازن رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
جسم Blood Pressure کو کیسے کنٹرول کرتا ہے؟
1️⃣ دل (Heart)
دل ایک پمپ کی طرح کام کرتا ہے۔ جب دل زور سے خون پمپ کرتا ہے تو بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور جب دھڑکن آہستہ ہو تو بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے۔
2️⃣ خون کی نالیاں (Blood Vessels)
خون کی نالیاں سکڑ اور پھیل سکتی ہیں۔
سکڑنے (Vasoconstriction) سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے
پھیلنے (Vasodilation) سے بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے
3️⃣ گردے (Kidneys)
گردے جسم میں پانی اور نمک کی مقدار کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اگر جسم میں پانی زیادہ ہو تو بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔
4️⃣ اعصابی نظام (Nervous System)
اعصابی نظام دل کی رفتار اور خون کی نالیوں کو کنٹرول کرتا ہے تاکہ جسم کی ضرورت کے مطابق بلڈ پریشر تبدیل ہو سکے۔
5️⃣ ہارمونز (Hormones)
کچھ ہارمونز جیسے Renin اور Aldosterone جسم میں نمک اور پانی کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں جس سے بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے۔
بلڈ پریشر خراب ہونے کی علامات
سر درد
چکر آنا
دل کی دھڑکن تیز ہونا
سانس پھولنا
تھکن
احتیاطی تدابیر
✔ نمک کم استعمال کریں
✔ باقاعدہ ورزش کریں
✔ وزن کو متوازن رکھیں
✔ ذہنی دباؤ کم کریں
✔ روزانہ بلڈ پریشر چیک کروائیں

وٹامن ڈی کی کمی آج کل عام مسئلہ بن چکی ہے۔ تھکن، ہڈیوں میں درد، کمزوری، موڈ کی خرابی اور بار بار انفیکشن۔یہ سب علامات ہم...
28/02/2026

وٹامن ڈی کی کمی آج کل عام مسئلہ بن چکی ہے۔ تھکن، ہڈیوں میں درد، کمزوری، موڈ کی خرابی اور بار بار انفیکشن۔یہ سب علامات ہمیں فوراً سپلیمنٹ کی طرف لے جاتی ہیں۔ بلاشبہ جدید طب میں وٹامن ڈی سپلیمنٹ فوری سطح بہتر کرنے کا ذریعہ ہیں، خاص طور پر جب لیبارٹری ویلیوز بہت کم ہوں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف عدد (لیول) بڑھانا ہی مکمل علاج ہے؟
ہومیوپیتھی اس مسئلے کو مختلف زاویے سے دیکھتی ہے۔ یہاں کمی کو محض ایک بائیو کیمیکل خسارہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے جسم کی مجموعی کمزوری، جذب کی خرابی اور مِیازمی رجحان سے جوڑا جاتا ہے۔ اگر جسم میں غذائی اجزاء جذب کرنے کی صلاحیت کمزور ہو تو محض سپلیمنٹ عارضی سہارا دے سکتے ہیں، مستقل توازن نہیں۔
ہومیوپیتھک طریقۂ علاج میں مریض کی انفرادیت، مزاج، ذہنی کیفیت، پسینہ، سردی گرمی کی برداشت، ہڈیوں کے درد کی نوعیت سب کو مدنظر رکھ کر دوا منتخب کی جاتی ہے۔ ہومیوپیتھک دوائیں جسم کی اندرونی صلاحیت کو بیدار کر کے قدرتی توازن بحال کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
دانشمندی یہ ہے کہ شدید کمی میں وقتی طور پر سپلیمنٹ سے سطح بہتر کی جائے، مگر طویل المدت صحت کے لیے جسم کی اندرونی قوتِ مدافعت اور جذب کی صلاحیت کو ہومیوپیتھی کے ذریعے مضبوط کیا جائے۔ فیصلہ یقیناً آپ کا ہے، مگر مقصد صرف لیول نہیں مکمل صحت ہونا چاہیے۔

01/02/2026
کھجلی (Scabies) کیا ہے؟کھجلی جلد کی ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو Sarcoptes Scabiei نامی باریک طفیلی کیڑوں (mites) کی و...
31/01/2026

کھجلی (Scabies) کیا ہے؟
کھجلی جلد کی ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو Sarcoptes Scabiei نامی باریک طفیلی کیڑوں (mites) کی وجہ سے ہوتی ہے۔
• یہ کیڑے جلد کے نیچے بل بناتے ہیں، جہاں وہ انڈے دیتے ہیں اور اپنی نسل بڑھاتے ہیں۔
• اس کے نتیجے میں شدید خارش ہوتی ہے، جو خاص طور پر رات کے وقت بڑھ جاتی ہے۔ یہ مرض دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔
📌 علامات کیا ہیں؟
• شدید خارش جو رات کے وقت بدتر ہو جاتی ہے۔
• چھوٹے سرخ دانے یا ابھار جو پپڑیوں کی طرح نظر آتے ہیں اور گچھوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔
• جلد پر ٹیڑھی میڑھی لکیریں (جو کیڑوں کے چلنے کے راستے یا بل ہوتے ہیں)۔
• خارش کی وجہ سے بننے والے زخم۔
• شدید صورتحال میں جلد کا سخت اور پپڑی دار ہو جانا۔
📌 یہ جسم کے کن حصوں پر ہوتی ہے؟
کھجلی عام طور پر درج ذیل جگہوں پر دیکھی جاتی ہے:
• انگلیوں کے درمیان
• کلائیوں پر
• کہنیوں پر
• بغلوں میں
• مخصوص اعضاء کے گرد
• کولہوں پر
• کمر کی لائن (waist line) کے ساتھ
📌 یہ کیسے پھیلتی ہے؟
کھجلی زیادہ تر متاثرہ شخص کے ساتھ براہ راست اور طویل عرصے تک جلد سے جلد ملنے (Skin to skin contact) سے پھیلتی ہے۔
دیگر ذرائع میں شامل ہیں:
• متاثرہ شخص کا بستر، تولیہ یا کپڑے استعمال کرنا۔
• پرہجوم جگہوں پر رہنا جیسے کہ ہاسٹل، نرسنگ ہوم، جیل یا ڈے کیئر سینٹرز۔
📌 تشخیص کیسے کی جاتی ہے؟
ڈاکٹر جسمانی معائنے یا جلد کے ایک چھوٹے سے حصے کا ٹیسٹ (Skin scraping test) کر کے اس کی تشخیص کر سکتا ہے۔
📌 علاج کیسے کیا جاتا ہے؟
کھجلی کا علاج کافی آسان ہے:
• کیڑوں کے خاتمے کے لیے خاص کریمیں اور گولیاں استعمال کی جاتی ہیں۔
• خارش سے نجات کے لیے اینٹی ہسٹامائن (Antihistamines) ادویات دی جاتی ہیں۔
احتیاطی تدابیر:
• چونکہ یہ بیماری تیزی سے پھیلتی ہے، اس لیے متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے والے تمام افراد کا علاج ضروری ہے، چاہے ان میں علامات ظاہر نہ بھی ہوئی ہوں۔
• متاثرہ شخص کے تمام کپڑے، بستر کی چادریں اور تولیے گرم پانی سے دھوئیں اور دھوپ میں خشک کریں۔
• وہ اشیاء جو دھوئی نہیں جا سکتیں، انہیں ایک پلاسٹک بیگ میں بند کر کے 72 گھنٹوں کے لیے رکھ دیں تاکہ کیڑے مر جائیں

Febrile Fits (بخار کے دورے)بخار کے دورے یا جھٹکے بچوں میں دماغی جھٹکے لگنے کی ایک اھم وجہ ہیں اور عموماً چھ ماہ سے پانچ ...
22/01/2026

Febrile Fits (بخار کے دورے)

بخار کے دورے یا جھٹکے بچوں میں دماغی جھٹکے لگنے کی ایک اھم وجہ ہیں اور عموماً چھ ماہ سے پانچ سال کی عمر کے بچوں میں تیز بخار کے دوران ہوتے ہیں۔ یہ دورے اس وجہ سے پڑتے ہیں کہ اس عمر میں بچے کا دماغ ابھی مکمل طور پر پختہ نہیں ہوتا اور بخار کے اچانک بڑھنے پر دماغ عارضی طور پر جھٹکوں کی صورت میں ردِعمل دیتا ہے۔ یہ دورے عام طور پر پورے جسم میں اکڑاؤ، ہاتھ پاؤں کے جھٹکے، آنکھوں کا اوپر کی طرف چلے جانا اور چند لمحوں کے لیے ہوش ختم ہونے کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ زیادہ تر دورے ایک سے پانچ منٹ میں خود ہی رک جاتے ہیں اور بچے کو کوئی مستقل دماغی نقصان نہیں پہنچتا، حالانکہ والدین کے لیے یہ کیفیت نہایت خوفناک ہوتی ہے۔

بخار کے دوروں کی بنیادی وجہ تیز بخار ہے، خاص طور پر جب بخار اچانک اور تیزی سے بڑھے۔ اکثر بچوں میں یہ بخار وائرل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے جیسے نزلہ، زکام، کان کا انفیکشن، گلا خراب ہونا، سینے یا پیٹ کا انفیکشن۔ بعض اوقات حفاظتی ٹیکوں کے بعد بھی بخار آ سکتا ہے جو چند بچوں میں دورے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ دورہ بخار کی شدت سے زیادہ اس کے تیزی سے بڑھنے کی وجہ سے پڑتا ہے، اسی لیے بعض بچوں کو نسبتاً کم بخار میں بھی دورہ ہو جاتا ہے۔

کچھ بچوں میں بخار کے دوروں کا رجحان خاندانی ہوتا ہے۔ اگر والدین، بہن بھائی یا قریبی رشتہ داروں کو بچپن میں بخار کے دورے پڑے ہوں تو بچے میں بھی اس کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر بچے کو پہلا دورہ کم عمر میں پڑے، بخار کے دوران بار بار دورے ہوں یا دورہ نسبتاً لمبا ہو تو آئندہ بخار میں دوبارہ دورے پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

زیادہ تر بچوں میں کسی خاص دماغی ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ عام طور پر بخار کے دورے خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ تاہم بعض مخصوص حالات میں ڈاکٹر مزید جانچ کا مشورہ دیتے ہیں۔ ان میں دماغ کی برقی سرگرمی جانچنے کے لیے EEG اور دماغ کی ساخت دیکھنے کے لیے MRI برین ٹیسٹ شامل ہیں۔ یہ ٹیسٹ اس وقت ضروری ہو سکتے ہیں جب دورہ پندرہ منٹ سے زیادہ رہے، ایک ہی بخار میں بار بار دورے ہوں، دورہ جسم کے ایک حصے تک محدود ہو، بچہ دورے کے بعد دیر تک ہوش میں نہ آئے یا بچے کی نشوونما پہلے سے نارمل نہ ہو۔

بخار کے دوروں کے لیے عموماً کسی مستقل علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اصل مقصد بخار کی وجہ کو پہچاننا، انفیکشن کا مناسب علاج کرنا اور بخار کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے۔ زیادہ تر بچوں میں جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے اور دماغ پختہ ہوتا ہے، بخار کے دورے خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے عام طور پر روزانہ یا طویل عرصے تک دوروں کی دوائیں دینا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔

کچھ بچوں میں جنہیں بار بار بخار کے دورے پڑتے ہوں یا جن کے پچھلے دورے طویل رہے ہوں، ڈاکٹر بخار کے دنوں میں منہ کے ذریعے دی جانے والی دوا Va**um tablet (Diazepam) تجویز کر سکتے ہیں۔ یہ دوا بخار کے شروع ہوتے ہی محدود مدت کے لیے دی جاتی ہے تاکہ دورے کے امکانات کم ہو سکیں۔ اس دوا کے ممکنہ اثرات میں غنودگی، کمزوری اور سستی شامل ہو سکتی ہے، اس لیے اسے صرف ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کرنا چاہیے۔

اگر دورہ پانچ منٹ سے زیادہ جاری رہے، یا بچہ بار بار دورے میں جا رہا ہو اور فوری طور پر ہسپتال پہنچنا ممکن نہ ہو تو Re**al Diazepam (Va**um suppository) استعمال کی جاتی ہے۔ یہ دوا پاخانے کے راستے دی جاتی ہے اور چند منٹ میں دورہ روکنے میں مدد دیتی ہے۔ ایسے بچوں کے والدین کو اس دوا کے درست استعمال، مقدار اور طریقہ کار کے بارے میں مکمل آگاہی اور تربیت دینا نہایت ضروری ہے۔

زیادہ تر بچوں میں بخار کے دوروں کے بعد مرگی ہونے کا خطرہ نہیں بڑھتا، تاہم کچھ خاص حالات میں مستقبل میں مرگی کا امکان نسبتاً زیادہ ہو سکتا ہے۔ ان خطرے کے عوامل میں دورے کا غیر معمولی ہونا، پندرہ منٹ سے زیادہ دیر تک رہنا، ایک ہی بخار میں بار بار دورے ہونا، دورے کا جسم کے ایک حصے تک محدود ہونا، بچے کی اعصابی نشوونما میں پہلے سے مسئلہ ہونا یا خاندان میں مرگی کے مسلے کا ہونا شامل ہیں۔ اس کے باوجود یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے بچوں کی تعداد بہت کم ہے اور اکثریت مکمل طور پر نارمل زندگی گزارتی ہے۔

دورے کے دوران والدین کا پرسکون رہنا سب سے اہم ہے۔ بچے کو ایک کروٹ کے بل لٹا دینا چاہیے تاکہ تھوک یا قے سانس کی نالی میں نہ جائے۔ اردگرد موجود سخت یا نوکیلی چیزیں ہٹا دیں، کپڑے ڈھیلے کریں اور دورے کا وقت نوٹ کریں۔ بچے کے منہ میں کچھ نہ ڈالیں، نہ پانی پلائیں اور نہ ہی جھٹکے روکنے کی کوشش کریں، کیونکہ اس سے دانت ٹوٹنے یا سانس رکنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

اگر دورہ پانچ منٹ سے زیادہ رہے، ایک ہی دن میں بار بار دورے پڑیں، بچہ دورے کے بعد ہوش میں نہ آئے، جسم کے کسی حصے میں کمزوری محسوس ہو، بخار کے ساتھ گردن اکڑ جائے، مسلسل قے ہو یا بچے کی عمر چھ ماہ سے کم ہو تو فوراً ہسپتال لے جانا ضروری ہے کیونکہ ایسی صورت میں کسی سنگین بیماری کو خارج کرنا لازمی ہوتا ہے۔

بخار کم کرنے والی دوائیں بچے کو آرام پہنچاتی ہیں اور بخار کی شدت کم کرتی ہیں، لیکن یہ بخار کے دوروں کو مکمل طور پر روک نہیں سکتیں۔ پیراسیٹامول یا بروفن بچے کے وزن کے مطابق اور مناسب وقفے سے دینی چاہیے۔ بار بار یا ضرورت سے زیادہ دوائیں دینے سے فائدہ نہیں ہوتا بلکہ نقصان کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔

اچھی اور متوازن غذا بچے کی قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتی ہے۔ جب قوتِ مدافعت بہتر ہوتی ہے تو انفیکشن کم ہوتے ہیں، بخار کم آتا ہے اور یوں بخار کے دوروں کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ مکمل ویکسینیشن بچوں کو کئی سنگین بیماریوں سے بچاتی ہے، اس لیے حفاظتی ٹیکے وقت پر لگوانا بہت ضروری ہے۔

آئرن کی کمی والے بچوں میں بخار کے دورے زیادہ دیکھے گئے ہیں کیونکہ آئرن دماغ کی نشوونما اور اعصابی افعال کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس لیے آئرن سے بھرپور غذا جیسے گوشت، کلیجی، انڈا، دالیں، سبز پتوں والی سبزیاں اور خشک میوہ جات بچے کی روزمرہ خوراک میں شامل ہونے چاہئیں۔ اگر آئرن کی کمی زیادہ ہو تو ڈاکٹر آئرن کی دوا تجویز کرتے ہیں۔

بخار کے دوروں میں Piracetam کو مخصوص دوا کے طور پر معمول کے علاج میں شامل کرنے کی سفارش نہیں کی جاتی، کیونکہ اس کے فائدے کے حوالے سے مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔ اس لیے اس دوا کو بغیر واضح وجہ اور ڈاکٹر کے مشورے کے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

یہ حقیقت ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بخار کے دورے دیکھنے میں جتنے خوفناک محسوس ہوتے ہیں، زیادہ تر اتنے خطرناک نہیں ہوتے۔ درست معلومات، والدین کا سکون، بروقت فرسٹ ایڈ اور مناسب طبی رہنمائی بچے کی حفاظت اور والدین کے اطمینان کے لیے نہایت اہم ہیں۔
ڈاکٹر ارشد محمود
کنسلٹنٹ چائلڈ نیورولوجسٹ

اکثر میاں بیوی یہ سوال کرتے ہیں کہ حمل جلد کیسے ٹھہرے؟ اور ہمبستری کن دنوں میں کرنی چاہیے؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر طریقہ درست...
19/01/2026

اکثر میاں بیوی یہ سوال کرتے ہیں کہ حمل جلد کیسے ٹھہرے؟ اور ہمبستری کن دنوں میں کرنی چاہیے؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر طریقہ درست ہو، وقت صحیح منتخب کیا جائے اور مرد و عورت کی بنیادی صحت نارمل ہو تو حمل ٹھہرنا کوئی پیچیدہ عمل نہیں ہوتا۔ زیادہ تر مسائل لاعلمی، غلط ٹائمنگ اور بنیادی خرابیوں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

عورت کے ماہواری کے دن مکمل ختم ہونے کے بعد تقریباً پانچ دن کا وقفہ دیا جائے، اس کے بعد حمل کی نیت سے ہمبستری شروع کرنی چاہیے۔ اس کے بعد اگلے سات دن نہایت اہم ہوتے ہیں۔ انہی دنوں میں بیضہ (egg) تیار ہو کر خارج ہوتا ہے، اور یہی وقت حمل کے لیے سب سے زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ اگر جسمانی طاقت اجازت دے تو ان دنوں میں روزانہ ایک بار ہمبستری بہترین نتائج دیتی ہے، اور اگر روزانہ ممکن نہ ہو تو 24 یا 48 گھنٹے کے وقفے سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ ہمیشہ اپنی صحت، طاقت اور سہولت کو مدنظر رکھ کر کرنا چاہیے، نہ کہ خود پر دباؤ ڈال کر۔

ان دنوں میں ایک قدرتی نشانی اکثر عورتوں میں ظاہر ہوتی ہے، جس میں شفاف، انڈے کی سفیدی جیسا پانی آتا ہے۔ طبّی زبان میں یہی ovulation days کہلاتے ہیں، اور انہی دنوں میں حمل ٹھہرنے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا ایک قدرتی نظام ہے، جسے سمجھ کر عمل کیا جائے تو کامیابی کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

لیکن یہاں ایک نہایت اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ صرف عورت کی ٹائمنگ درست ہونا کافی نہیں، بلکہ مرد کی صحت کا درست ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر مرد کے سپرم کاؤنٹ کم ہوں، سپرم کی حرکت (motility) کمزور ہو، ریپڈ موٹائل سپرم کم ہوں، یا semen analysis میں pus cells موجود ہوں، یا مرد کو ٹائمنگ، جلدی انزال یا کمزوری کا مسئلہ ہو، تو بار بار کوشش کے باوجود حمل نہیں ٹھہرتا۔ ایسی صورت میں سب سے پہلے مردانہ مسئلے کا علاج کروانا ضروری ہوتا ہے، ورنہ وقت، محنت اور امید سب ضائع ہو جاتی ہے۔

اسی لیے اگر آپ کو شک ہو کہ سپرم، ٹائمنگ یا طاقت کے مسائل موجود ہو سکتے ہیں تو تاخیر نہ کریں۔ اپنی semen analysis رپورٹ اور مکمل ہسٹری ضرور شیئر کریں تاکہ مسئلے کی جڑ تک پہنچ کر صحیح رہنمائی دی جا سکے۔ اگر طبیعت کمزور ہو تو اپنی طاقت کے مطابق ہی عمل کریں، غیر ضروری دباؤ، زیادہ کوشش یا بے جا ٹینشن نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

یاد رکھیں، علاج، درست وقت اور کوشش کے ساتھ دعا بھی بے حد ضروری ہے۔ ان مخصوص دنوں میں کی گئی ہمبستری میں اکثر اللہ تعالیٰ خصوصی کرم فرماتے ہیں اور حمل ٹھہر جاتا ہے، ان شاء اللہ۔ مایوسی اختیار نہ کریں، بلکہ صحیح معلومات، صبر اور اعتماد کے ساتھ قدم اٹھائیں۔

الحمدللہ! بنیامین دواخانے میں ایسے کئی مریضوں کا کامیاب علاج کیا جا چکا ہے جن کی رپورٹس میں pus cells اور RBCs کی وجہ سے سپرم شدید متاثر تھا، مگر درست مزاجی علاج کے بعد نمایاں بہتری آئی۔ چونکہ ہم مکمل تشخیص کے قائل ہیں، اس لیے مشاورت کے لیے اپنی زبان کی واضح تصویر، آنکھوں کی تصویر، ہاتھ کے ناخنوں کی تصویر اور تازہ رپورٹس ضرور واٹس ایپ کریں۔ مکمل رازداری کے ساتھ رہنمائی کی جاتی ہے،

Address

HC3G+7WV, غوث الاعظم سٹریٹ, Aziz Bhatti Town, Punjab
Lahore
124400

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Eman Homeo Store & Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Eman Homeo Store & Clinic:

Share