Hakim Kabeer Ahmed Siddiqui

Hakim Kabeer Ahmed Siddiqui حکیم کبیر احمد صدیقی
(فاضل طب الجراحت اسلام آباد پاکستان ®)

08/02/2026

سول انجینئرنگ کو اکثر "تمام انجینئرنگ کی ماں" کہا جاتا ہے کیونکہ یہ انسانی تہذیب کی بنیاد ہے۔ اس شعبے کا کام صرف عمارتیں بنانا نہیں، بلکہ ایک ایسا نظام کھڑا کرنا ہے جس پر ہماری روزمرہ زندگی چلتی ہے۔
​سول انجینئرنگ میں کچھ ایسی شاخیں (specializations) ہیں جو بہت اہم ہیں:
​سول انجینئرنگ کے اہم ستون
شعبہ کام کی نوعیت
Structural Engineering یہ دیکھنا کہ عمارت، پل یا ڈیم اپنا وزن اور زلزلے جیسے جھٹکے برداشت کر سکے گا۔
Geotechnical زمین اور مٹی کی جانچ کرنا تاکہ معلوم ہو سکے کہ بنیاد (foundation) کتنی گہری ہونی چاہیے۔
Transportation سڑکوں، ہائی ویز، ریلوے لائنوں اور ائیرپورٹس کا ڈیزائن۔
Hydraulics & Water Resources پانی کی سپلائی، نہریں، ڈیم اور سیوریج کے نظام کا انتظام۔
جدید دور کی سول انجینئرنگ
​آج کل یہ فیلڈ صرف اینٹ اور سیمنٹ تک محدود نہیں رہی۔ اب اس میں بہت جدید ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے:
​BIM (Building Information Modeling): عمارت بنانے سے پہلے اس کا مکمل ڈیجیٹل 3D ماڈل تیار کرنا جس میں پائپ لائن سے لے کر بجلی کے تاروں تک کی تفصیل ہوتی ہے۔
​Smart Materials: ایسا کنکریٹ جو خود اپنی دراڑیں بھر سکے (Self-healing concrete)۔
​Green Buildings: ایسی عمارات جو کم بجلی استعمال کریں اور ماحول دوست ہوں۔
​پاکستان میں اسکوپ
​پاکستان میں سی پیک (CPEC) جیسے منصوبوں، ڈیموں کی تعمیر اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کی بھرمار کی وجہ سے سول انجینئرز کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔ تاہم، اب صرف ڈگری کافی نہیں، سافٹ ویئرز جیسے AutoCAD, Revit, اور Primavera پر عبور ہونا بہت ضروری ہے۔
https://whatsapp.com/channel/0029VbCcBiUFMqrVzQcYGp2n

25/05/2025
 ِ_پُرانوار_میاں_شیر_محمد_شرقپوریعلامہ اقبال پہلی بار میاں صاحب کو ملنے گئے تو دور ہی سے میاں صاحب کا جلال دیکھ کر واپس ...
30/08/2023

ِ_پُرانوار_میاں_شیر_محمد_شرقپوری

علامہ اقبال پہلی بار میاں صاحب کو ملنے گئے تو دور ہی سے میاں صاحب کا جلال دیکھ کر واپس آ گئے، جب حضرت میاں صاحبؒ لاہور آئے، وہیں پر علامہ اقبالؒ کو بھی ملاقات کا شرف عطا ہوا، چونکہ آپؒ داڑھی نہ رکھنے والوں کو سخت ناپسند فرماتے تھے، اس لیے علامہ اقبال کی طرف بھی التفات نہ فرمایا، چہرہ پر ناگواری کے اثرات دیکھ کر ، علامہؒ نے اپنا وہ معروف جملہ عرض کیا کہ اقبالؒ کی بات سُن کر میاں صاحبؒ کے چہرے پہ تبسم آیا، مُسکرا کر فرمایا ُو_تے_ناراض_ای_ہو_گیا_ایںـ آپؒ نے ازرہِ محبت اقبالؒ کے کندھے پہ دستِ شفقت رکھا، جس کی بابت اقبالؒ نے کہا کہ مجھے یوں لگا، جیسے میرے وجود میں کوئی نورانیت سی کوند گئی ہو۔ آپؒ سے اپنی معروضات پیش کیں، علامہ اقبالؒ اس ملاقات سے بہت سرشار اور از حد متاثر ہوئے، واپس آکر ، عالمِ محویت میںاپنی کیفیات اپنے معروف اشعارمیں بیان کیں ،جو حضرت میاں صاحب کی زیارت کے وقت ،ان کے قلب پہ وارد ہوئیں، بانگ درا میں منقول ان شہر ۂ آفاق غزل،

جنہیں میں ڈُھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہوتو دیکھ ان کو
یدِبیضا لیئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
جِلا سکتی ہے شمع کشتہ کو موجِ نفس اُنکی
اِلہٰی کیا چھپا ہوتا ہے، اہلِ دِل کے سینوں میں
تمنا درد ِدل کی ہو، تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
مہینے وصل کے گھڑیوں کی مانند اُڑتے جاتے ہیں
مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں
خاموش اے دل! بھری محفل میں چلّانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

اس کے بعد علامہ اقبالؒ نے آپؒ کی بار گاہ میں حاضری کا متعدد مرتبہ حاضری کا شرف پایا۔

Address

Lahore

Telephone

+923013164126

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakim Kabeer Ahmed Siddiqui posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram