Dr.Asif Raza Zaidi

Dr.Asif Raza Zaidi Assistant Professor Gastroenterologist/ Hepatologist Shaikh Zayed and Farooq hospital Lahore Assistant Professor Dr. Asif Raza Zaidi

سن 1500 میں جیکب نیوفر نامی ایک شخص نے مجبوری میں ایسا قدم اٹھایا جس نے طبی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ اس کی بیوی کئی دنوں سے ...
06/01/2026

سن 1500 میں جیکب نیوفر نامی ایک شخص نے مجبوری میں ایسا قدم اٹھایا جس نے طبی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ اس کی بیوی کئی دنوں سے زچگی کے درد میں مبتلا تھی، اور تیرہ دایاؤں کی کوششوں کے باوجود بچے کی پیدائش ممکن نہ ہو سکی۔ ماں اور بچے دونوں کی جان کو شدید خطرہ لاحق تھا۔ ایسے نازک وقت میں جیکب، جو پیشے کے اعتبار سے سوروں کی خصی کرنے والا (pig castrator) تھا، نے خود ذمہ داری اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اسے جانوروں پر جراحی کرنے کا تجربہ تھا اور وہ زچگی کے نازک عمل کی باریکیوں کو سمجھتا تھا، جو اس دور میں بہت کم انسان جانتے تھے۔

اس زمانے میں سیزیرین آپریشن صرف اس صورت میں جائز سمجھا جاتا تھا جب ماں پہلے ہی فوت ہو چکی ہو۔ زندہ ماں پر یہ عمل کرنا نہ صرف ناممکن بلکہ ممنوع بھی تصور کیا جاتا تھا۔ مگر اپنی بیوی اور بچے کو بچانے کی شدید خواہش میں جیکب نے خاص اجازت حاصل کی اور زندہ حالت میں اپنی بیوی کا آپریشن کیا۔ اس نے محض ایک استرے کی مدد سے نہایت احتیاط سے چیرا لگایا اور بچے کو بحفاظت دنیا میں لے آیا۔ حیرت انگیز طور پر ماں اور بچہ دونوں زندہ بچ گئے، جو اس دور کے لیے ایک ناقابلِ یقین واقعہ تھا اور اس نے طبی اصولوں کو چیلنج کر دیا۔

اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ بعد ازاں جیکب کی بیوی نے قدرتی طور پر مزید پانچ بچوں کو جنم دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زخم سی دینے میں جیکب کی مہارت غیر معمولی تھی۔ اس کی ہمت اور ذہانت نے نہ صرف اس کے خاندان کی جان بچائی بلکہ زچگی کے ایک نئے طریقۂ علاج کی بنیاد بھی رکھی۔

جو کام ذاتی مجبوری سے شروع ہوا، وہ رفتہ رفتہ جدید سیزیرین آپریشن کی بنیاد بن گیا، جہاں آج ماں اور بچے دونوں کی جان کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ جیکب نیوفر کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جدت اکثر ضرورت اور جرات سے جنم لیتی ہے۔ ایسے دور میں جب طبی قوانین سخت اور موت کا خطرہ بہت زیادہ تھا، ایک شخص کے عزم نے ممکنات کی حدود کو بدل دیا۔ اس کی میراث ہر اس لمحے زندہ ہو جاتی ہے جب سیزیرین آپریشن کے ذریعے ایک نئی زندگی بحفاظت دنیا میں آتی ہے—یہ بہادری، مہارت اور اپنوں کی حفاظت کی انسانی جبلت کی روشن مثال ہے۔

06/01/2026

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ... وَبَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ
وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ

Arif Zaidi

السرٹیو کولائٹس: ایک سنجیدہ مگر قابلِ کنٹرول بیماریالسرٹیو کولائٹس آنتوں کی ایک دائمی (Chronic) سوزشی بیماری ہے جو بڑی آ...
06/01/2026

السرٹیو کولائٹس: ایک سنجیدہ مگر قابلِ کنٹرول بیماری

السرٹیو کولائٹس آنتوں کی ایک دائمی (Chronic) سوزشی بیماری ہے جو بڑی آنت (Colon) اور ریکٹم کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری میں آنت کی اندرونی جھلی میں زخم بن جاتے ہیں، جس کی وجہ سے بار بار دست، خون آنا، پیٹ درد، کمزوری اور وزن میں کمی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

یہ کوئی وقتی یا عام معدے کی خرابی نہیں بلکہ زندگی بھر رہنے والی بیماری ہے جس کا درست اور باقاعدہ علاج نہ کیا جائے تو خطرناک پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

درست تشخیص کیوں ضروری ہے؟

السرٹیو کولائٹس کی تشخیص صرف علامات کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔
کولونوسکوپی اس بیماری کی تشخیص کا سب سے اہم اور مستند طریقہ ہے، جس میں تربیت یافتہ گیسٹروانٹیرولوجسٹ بڑی آنت کو براہِ راست دیکھ کر بیماری کی شدت، پھیلاؤ اور نوعیت کا تعین کرتا ہے۔

❗ بغیر کولونوسکوپی کے:
• درست تشخیص ممکن نہیں
• غلط علاج شروع ہو سکتا ہے
• بیماری خاموشی سے بگڑتی رہتی ہے

یہ ٹیسٹ صرف تجربہ کار اور تربیت یافتہ ماہر سے ہی کروانا چاہیے۔

غلط علاج کے خطرات

اگر السرٹیو کولائٹس کا بروقت اور مسلسل علاج نہ کیا جائے تو:
• بڑی آنت میں سوراخ (Perforation) ہو سکتا ہے
• شدید انفیکشن اور جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے
• وقت کے ساتھ بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ واضح طور پر بڑھ جاتا ہے
• ایمرجنسی سرجری کی نوبت آ سکتی ہے

اسی لیے اس بیماری کو نظرانداز کرنا یا غیر سائنسی طریقوں سے علاج کروانا خطرناک ہے۔

حکیم، عطائی یا غیر مستند علاج سے پرہیز

السرٹیو کولائٹس کا علاج:
❌ نبض دیکھ کر
❌ دیسی نسخوں سے
❌ روحانی یا غیر سائنسی دعوؤں سے

ممکن نہیں۔

یہ ایک میڈیکل بیماری ہے اور اس کا علاج صرف مستند گیسٹروانٹیرولوجسٹ ہی کر سکتا ہے۔
غلط ہاتھوں میں جانے سے بیماری بگڑتی ہے، ٹھیک نہیں ہوتی۔

کیا علاج زندگی بھر چلتا ہے؟

جی ہاں۔
السرٹیو کولائٹس کا علاج اکثر لمبے عرصے بلکہ زندگی بھر جاری رکھنا پڑتا ہے، چاہے علامات وقتی طور پر ختم کیوں نہ ہو جائیں۔

علاج چھوڑنے سے:
• بیماری دوبارہ شدید ہو سکتی ہے
• پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

اس لیے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر علاج بند کرنا نقصان دہ ہے۔

السرٹیو کولائٹس میں غذائی رہنمائی

خوراک بیماری کو ختم نہیں کرتی، لیکن علامات کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ضرور دیتی ہے۔

✅ بہتر غذا:
• نرم، سادہ اور آسانی سے ہضم ہونے والی خوراک
گوشت انڈا ہائی پروٹن ابلی ہوئی سبزیاں
• سادہ چاول
• کیلا، سیب (پکا ہوا)
• دہی (اگر سوٹ کرے)
• مناسب مقدار میں پانی

❌ پرہیز:
• تلی ہوئی اور مصالحے دار چیزیں
• فاسٹ فوڈ
• زیادہ فائبر والی سخت سبزیاں (دورانِ شدت)
• کولڈ ڈرنکس


ہر مریض کی برداشت مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے خوراک بھی انفرادی بنیاد پر طے ہونی چاہیے۔

اہم پیغام

السرٹیو کولائٹس:
• لاعلاج نہیں
• مگر لاپرواہی برداشت نہیں کرتی

درست تشخیص، باقاعدہ فالو اپ، کولونوسکوپی، اور مستقل علاج سے مریض نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔

📌 ہمیشہ مستند گیسٹروانٹیرولوجسٹ سے رجوع کریں — تجربہ گاہی علاج سے بچیں۔

Dr. Asif Raza Zaidi
Consultant Gastroenterologist

مریض کا جسمانی معائنہ: درست تشخیص کی بنیادطبی تاریخ میں آج تک کوئی بھی ایسی مستند تشخیص موجود نہیں جس کی بنیاد مکمل اور ...
05/01/2026

مریض کا جسمانی معائنہ: درست تشخیص کی بنیاد

طبی تاریخ میں آج تک کوئی بھی ایسی مستند تشخیص موجود نہیں جس کی بنیاد مکمل اور درست جسمانی معائنے کے بغیر رکھی گئی ہو۔ مریض کا معائنہ (Physical Examination) تشخیص کا ستون ہے۔ صرف لیبارٹری رپورٹس یا مشینوں پر انحصار کرنا طب کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

ہر ڈاکٹر کو اپنے تربیتی دور میں مریض کا مکمل معائنہ سکھایا جاتا ہے۔ میڈیکل کالج، ہاؤس جاب، اور بعد ازاں قومی و بین الاقوامی امتحانات اسی بنیاد پر پاس کیے جاتے ہیں۔ دل کی دھڑکن سننا، پیٹ کو ٹٹولنا، آنکھ، زبان، جلد اور اعصابی نظام کا معائنہ — یہ سب وہ مہارتیں ہیں جو برسوں کی محنت سے سیکھی جاتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ پھر عملی زندگی میں بعض کلینکس میں یہ معائنہ کیوں نظر انداز ہو رہا ہے؟
کیا وقت کی کمی؟
کیا مریضوں کا زیادہ دباؤ؟
یا پھر صرف رپورٹس پر اندھا اعتماد؟

اس کے برعکس حیرت کی بات یہ ہے کہ حکیم یا ہومیوپیتھک معالج محض نبض دیکھ کر، یا چند سوال پوچھ کر، پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص کا دعویٰ کرتے ہیں۔ نہ سٹیتھو اسکوپ، نہ بلڈ پریشر، نہ معائنہ — پھر بھی دعویٰ مکمل تشخیص کا! یہ طرزِ عمل سائنسی طب کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

حقیقت یہ ہے کہ اچھی تشخیص = اچھی تاریخ + مکمل جسمانی معائنہ
اگر ان میں سے کوئی ایک چیز بھی غائب ہو تو علاج اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے۔

مریضوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے معالج سے علاج کروائیں جو وقت لے، معائنہ کرے، اور بیماری کو سمجھے — نہ کہ صرف نسخہ لکھ دے۔

طب اعتماد، علم اور معائنہ کا نام ہے، محض دعوؤں کا نہیں۔


Dr. Asif Raza Zaidi

05/01/2026

یہ پانچ غلط عادتیں آپکی شوگر کو بڑھا رہی ہیں
اگر ان عادات کو نہ چھوڑا تو یہ مرض جان بھی لے سکتا ہے

اگر رپورٹس بتائیں کہ جگر دن بہ دن سکڑ رہا ہے — تو کیا کرنا چاہیے؟یہ سننا کہ آپ کا جگر “دن بدن سکڑ رہا ہے” یقیناً پریشان ...
05/01/2026

اگر رپورٹس بتائیں کہ جگر دن بہ دن سکڑ رہا ہے — تو کیا کرنا چاہیے؟

یہ سننا کہ آپ کا جگر “دن بدن سکڑ رہا ہے” یقیناً پریشان کن بات ہے، لیکن اس صورتحال کو سمجھداری اور سکون سے لینا بے حد ضروری ہے۔ جگر کا سکڑنا عموماً دائمی جگر کی بیماری یا سروسس کی علامت ہوتا ہے۔ بروقت اور درست اقدامات بیماری کی رفتار کو سست کر سکتے ہیں اور بعض صورتوں میں حالت کو مستحکم بھی رکھا جا سکتا ہے۔

سب سے پہلے: گھبرائیں نہیں، مگر نظر انداز بھی نہ کریں
جگر کا سکڑنا ایک سنگین انتباہ ہے، مگر یہ فوری موت کا فیصلہ نہیں۔ گھبراہٹ غلط فیصلوں کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ لاپرواہی بیماری کو تیزی سے بڑھا دیتی ہے۔

تشخیص کی تصدیق کروائیں
• کسی مستند گیسٹروانٹرولوجسٹ / ہیپاٹولوجسٹ سے دوبارہ معائنہ
• مناسب ٹیسٹ (الٹراساؤنڈ، فائبروسکین، ضرورت ہو تو سی ٹی یا ایم آر آئی)
• خون کے ٹیسٹ (بلی روبن، INR، البومن، پلیٹ لیٹس)

بیماری کی اصل وجہ معلوم کریں
درست علاج کا انحصار وجہ پر ہے:
• ہیپاٹائٹس بی یا سی
• فیٹی لیور
• شراب سے ہونے والا جگر کا نقصان
• خودکار مدافعتی یا موروثی جگر کی بیماریاں
بغیر وجہ جانے علاج ادھورا رہتا ہے۔

طرزِ زندگی میں سخت تبدیلیاں
• شراب مکمل طور پر ترک کریں (تھوڑی مقدار بھی خطرناک ہے)
• غیر ضروری ادویات، دیسی یا ہربل نسخوں اور درد کش ادویات سے پرہیز
• متوازن غذا اور مناسب پروٹین (جب تک ڈاکٹر منع نہ کرے)
• شوگر، بلڈ پریشر اور وزن کو کنٹرول میں رکھیں

طبی علاج اور فالو اَپ
• ادویات باقاعدگی سے اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق لیں
• باقاعدہ فالو اَپ تاکہ بیماری یا پیچیدگیوں پر نظر رکھی جا سکے
• ضرورت کے مطابق ہیپاٹائٹس اے اور بی کی ویکسینیشن

خطرے کی علامات پر فوراً توجہ دیں
درج ذیل علامات میں فوری طبی مدد حاصل کریں:
• آنکھوں یا جلد کا پیلا ہونا
• پیٹ یا ٹانگوں میں سوجن
• ذہنی الجھن یا غیر معمولی غنودگی
• خون کی الٹی یا کالے رنگ کا پاخانہ

امید ابھی باقی ہے
بہت سے مریض مناسب علاج اور احتیاط کے ساتھ لمبی اور بامقصد زندگی گزار سکتے ہیں۔ بروقت تشخیص، نظم و ضبط اور باقاعدہ نگرانی بہت فرق ڈالتی ہے۔

آخری پیغام
جگر کا سکڑنا خوف کی نہیں بلکہ فوری توجہ اور درست اقدام کی پکار ہے۔ بروقت علاج، مستند طبی مشورہ اور غلط معلومات سے اجتناب ضروری ہے۔

ڈسکلیمر: یہ تحریر عوامی آگاہی کے لیے ہے اور ڈاکٹر سے براہِ راست مشورے کا متبادل نہیں۔

— ڈاکٹر آصف رضا زیدی
کنسلٹنٹ گیسٹروانٹرولوجسٹ

05/01/2026

زندہ لیبارٹری

05/01/2026

حکیم ٹیسٹ اپنی لیب سے کیوں نہیں کرواتے لیب نہیں بنائی کیا

دوائی دیسی دینی ہے
اور ٹیسٹ انگریزی
یہ کھلا تضاد نہیں
😛🫣😌🙏🏼

جگر کی نالی میں پتھر بغیر ERCP کیسے نکلیں گے
05/01/2026

جگر کی نالی میں پتھر
بغیر ERCP
کیسے نکلیں گے

“سر ڈھانپنے سے ناک کھلتی ہے” — حقیقت یا غلط فہمی؟یہ بات زیادہ تر ایک غلط فہمی (Myth) ہے، تاہم اس میں معمولی سی حقیقت شام...
05/01/2026

“سر ڈھانپنے سے ناک کھلتی ہے” — حقیقت یا غلط فہمی؟

یہ بات زیادہ تر ایک غلط فہمی (Myth) ہے، تاہم اس میں معمولی سی حقیقت شامل ہے۔

🔹 سائنسی حقیقت:
سر کو ڈھانپنے سے (ٹوپی، شال یا دوپٹہ) ناک براہِ راست نہیں کھلتی اور نہ ہی ناک کی بندش کا علاج ہوتا ہے۔ ناک کا کھلنا یا بند ہونا زیادہ تر ناک کی جھلی کی سوجن، الرجی، انفیکشن، سائنوسائٹس یا ناک کی ہڈی کے ٹیڑھے پن کی وجہ سے ہوتا ہے۔

🔹 غلط فہمی کی وجہ:
سرد موسم میں سر ڈھانپنے سے جسم کی حرارت محفوظ رہتی ہے۔ گرم ہوا سردی سے پیدا ہونے والی ناک کی عارضی بندش کو کچھ حد تک کم کر سکتی ہے، جس سے وقتی طور پر سکون محسوس ہوتا ہے، مگر یہ کوئی مستقل یا طبی علاج نہیں۔

🔹 کن صورتوں میں تھوڑا فائدہ ہو سکتا ہے:
• سردی کی وجہ سے ناک کا بند ہونا
• نزلہ یا وائرل فلو کی ابتدائی علامات
• شدید سرد موسم میں باہر نکلنے کے دوران

🔹 کن صورتوں میں فائدہ نہیں ہوتا:
• الرجی
• سائنوس انفیکشن
• ناک کے پولپس
• پرانی یا مستقل ناک کی بندش

🔹 طبی مشورہ:
اگر ناک کی بندش مسلسل رہے تو اصل بیماری کا علاج ضروری ہے، صرف سر ڈھانپنا کافی نہیں۔

📌 خلاصہ:
👉 سر ڈھانپنے سے سردی میں وقتی آرام مل سکتا ہے،
❌ مگر اس سے ناک طبی طور پر نہیں کھلتی۔

ڈسکلیمر:
یہ تحریر صرف آگاہی کے لیے ہے، ڈاکٹر کے مشورے کا متبادل نہیں۔

— ڈاکٹر آصف رضا زیدی
کنسلٹنٹ گیسٹروانٹرولوجسٹ و ہیپاٹولوجسٹ

Somewhere in Arabian Sea near Karachi
04/01/2026

Somewhere in Arabian Sea near Karachi

🔑 نیند کو نظرانداز کرنامسلسل ناکافی یا خراب نیند جسم کے تقریباً ہر نظام کو متاثر کرتی ہے۔یہ یادداشت اور توجہ کمزور کرتی ...
04/01/2026

🔑 نیند کو نظرانداز کرنا
مسلسل ناکافی یا خراب نیند جسم کے تقریباً ہر نظام کو متاثر کرتی ہے۔

یہ یادداشت اور توجہ کمزور کرتی ہے، اسٹریس ہارمونز بڑھاتی ہے، بلڈ پریشر میں اضافہ کرتی ہے اور شوگر کنٹرول کو خراب کر دیتی ہے۔

خراب نیند مدافعتی نظام کو بھی کمزور کرتی ہے، جس سے انفیکشن بار بار ہوتے ہیں اور صحت یابی میں زیادہ وقت لگتا ہے۔

بالغ افراد کو روزانہ باقاعدہ اور معیاری نیند کی ضرورت ہوتی ہے، صرف ویک اینڈ پر زیادہ سونا کافی نہیں ہوتا۔



🔑 روزانہ زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا
لمبے وقت تک بیٹھے رہنے سے خون کی گردش سست ہو جاتی ہے اور پٹھوں کی حرکت کم ہو جاتی ہے، خاص طور پر ٹانگوں اور کمر میں۔

اس کے نتیجے میں اکڑاؤ، وزن بڑھنا، کمر اور گردن کا درد، اور دل و خون کی نالیوں کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

دن میں چند منٹ کی ہلکی پھلکی حرکت یا واک بھی جسم کو دوبارہ متحرک رکھنے میں مدد دیتی ہے۔



🔑 خود سے دوائیں استعمال کرنا (Self-Medication)
بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے اینٹی بایوٹکس، درد کی ادویات یا جڑی بوٹیوں کے نسخے استعمال کرنا سنگین نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

اس سے جگر اور گردوں کو نقصان، معدے میں جلن، اور انفیکشن کا علاج مستقبل میں مشکل ہو سکتا ہے۔

دواؤں کو آپس میں ملا کر لینا یا مقررہ مقدار سے زیادہ لینا زہر خورانی اور مستقل اعضاء کے نقصان کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔



🔑 ”وقت نہیں“ کہہ کر ناقص غذا کھانا
فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات اور جنک اسنیکس پر گزارا کرنے سے جسم فائبر، وٹامنز اور منرلز سے محروم ہو جاتا ہے۔

یہ آہستہ آہستہ موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر، شوگر اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

پھل، سبزیاں، ثابت اناج اور صاف پروٹین کا باقاعدہ استعمال توانائی، ہاضمہ اور ہارمونز کے توازن کو بہتر بناتا ہے۔



🔑 بیمار ہونے تک ڈاکٹر کے پاس نہ جانا
بہت سی سنگین بیماریاں برسوں خاموشی سے بڑھتی رہتی ہیں، بغیر درد یا واضح علامات کے۔

ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، گردوں کی بیماری اور کچھ کینسر اکثر دیر سے تشخیص ہوتے ہیں۔

باقاعدہ چیک اپ بیماریوں کو جلد پکڑنے، علاج کے اخراجات کم کرنے اور زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔



صحت مند زندگی خوف یا سخت پابندیوں کا نام نہیں۔

یہ آگاہی، تسلسل اور ایسی عادتوں کے انتخاب کا نام ہے جو آپ کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔

👉 دوسروں کو آگاہ کرنے کے لیے اس پیغام کو شیئر کریں۔

Address

Khayaban Jamia Punjab
Lahore
54500

Telephone

+923033551115

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Asif Raza Zaidi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr.Asif Raza Zaidi:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram