𝑨𝒅𝒗. 𝑨𝒏𝒆𝒆𝒍𝒂 𝑨𝒃𝒃𝒂𝒔𝒊

𝑨𝒅𝒗. 𝑨𝒏𝒆𝒆𝒍𝒂 𝑨𝒃𝒃𝒂𝒔𝒊 • Islamabad Bar Council
• 𝐅𝐚𝐦𝐢𝐥𝐲 𝐂𝐚𝐬𝐞𝐬 | 𝐂𝐫𝐢𝐦𝐢𝐧𝐚𝐥 𝐂𝐚𝐬𝐞𝐬 | 𝐂𝐢𝐯𝐢𝐥 𝐂𝐚𝐬𝐞𝐬
(1)

  am always here for u.⚖️🖋📑
05/05/2026

am always here for u.⚖️🖋📑

⚖️ پولیس کسٹڈی سے اپنی جائیداد/سامان واپس کیسے حاصل کریں؟(سپر داری — Superdari)کیا پولیس نے آپ کی گاڑی، موبائل فون، نقد ...
29/04/2026

⚖️ پولیس کسٹڈی سے اپنی جائیداد/سامان واپس کیسے حاصل کریں؟

(سپر داری — Superdari)
کیا پولیس نے آپ کی گاڑی، موبائل فون، نقد رقم یا کوئی اور قیمتی سامان اپنی تحویل میں لے لیا ہے؟

بہت سے لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کیس چلنے کے دوران بھی آپ قانونی طور پر اپنا سامان واپس حاصل کر سکتے ہیں۔
اس عمل کو "سپر داری" کہتے ہیں — اور یہ آپ کا قانونی حق ہے۔

📖 قانونی بنیاد
سپر داری کا قانونی اختیار ضابطہ فوجداری 1898 (CrPC) کی دفعہ 516-A میں موجود ہے۔
اس دفعہ کے تحت عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ضبط شدہ جائیداد کو اس کے اصل مالک یا کسی قابل اعتماد شخص کی تحویل میں دے دے — بشرطیکہ وہ اسے محفوظ رکھے اور عدالت کے حکم پر حاضر کرے۔
یہ اختیار مجسٹریٹ اور سیشن عدالت دونوں کو حاصل ہے۔

📌 مکمل 6 مرحلوں پر مشتمل طریقہ کار

1️⃣ وکیل سے رابطہ کریں
سب سے پہلے کسی مستند وکیل سے مشورہ کریں۔ سپر داری کی درخواست تکنیکی دستاویز ہے — غلط طریقے سے دائر کی جائے تو مسترد ہو سکتی ہے۔

2️⃣ درخواست دائر کریں
متعلقہ مجسٹریٹ عدالت میں باقاعدہ تحریری درخواست جمع کروائیں جس میں درج ہو:
سامان کی مکمل تفصیل
گرفتاری یا ضبطی کی تاریخ اور مقام
FIR نمبر یا مقدمے کا حوالہ
ملکیت کی بنیاد

3️⃣ پولیس رپورٹ طلب ہوگی
عدالت متعلقہ تھانے کو حکم دے گی کہ وہ ضبط شدہ سامان کے بارے میں مکمل رپورٹ پیش کرے، جس میں سامان کی حالت اور موجودہ جگہ کا ذکر ہو۔

4️⃣ ملکیت کا ثبوت پیش کریں
یہ مرحلہ سب سے اہم ہے۔ آپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ سامان آپ کا ہے:

🔹 گاڑی کے لیے: رجسٹریشن بک، انشورنس، ٹیکس ٹوکن
🔹 موبائل فون کے لیے: اصل رسید، IMEI نمبر کا ریکارڈ
🔹 نقد رقم کے لیے: بینک ریکارڈ یا قابل اعتماد گواہ
🔹 زیور یا قیمتی اشیاء کے لیے: خریداری کی رسید یا جواہری کا سرٹیفکیٹ
5️⃣ فرانزک رپورٹ (اگر ضروری ہو)
اگر گاڑی کے انجن یا چیسز نمبر میں کسی قسم کی ٹیمپرنگ کا شبہ ہو تو عدالت فرانزک رپورٹ لازمی طلب کرے گی۔ اس کے بغیر سپر داری نہیں ملے گی۔

6️⃣ مچلکہ (Surety Bond) اور سامان کی واپسی
جب عدالت مطمئن ہو جائے تو حکم جاری ہوتا ہے۔ آپ کو ایک ضامن (Surety) پیش کرنا ہوگا جو یہ ضمانت دے کہ سامان عدالت کے حکم پر واپس کیا جائے گا۔ اس کے بعد سامان آپ کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

⚠️ اہم قانونی پابندیاں جو ہر شخص کو معلوم ہونی چاہئیں

🔴 فروخت پر مکمل پابندی
سپر داری پر حاصل کیا گیا سامان مقدمے کے حتمی فیصلے تک فروخت، گروی یا منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔

🔴 عدالت میں پیشی لازمی
جب بھی عدالت طلب کرے، آپ کو سامان پیش کرنا ہوگا۔ پیشی سے گریز سپر داری منسوخ کروا سکتا ہے۔

🔴 حالت برقرار رکھنا ضروری
سامان اسی حالت میں رکھنا ہوگا جیسے ملا ہو۔ کوئی تبدیلی یا مرمت عدالت کی اجازت کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔

🔴 ضامن کی ذمہ داری
اگر سامان پیش نہ کیا جائے تو ضامن (Surety) کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔

❓ اکثر پوچھے جانے والے سوالات

🔹 کیا سپر داری کیس ختم ہونے سے پہلے مل سکتی ہے؟
جی ہاں۔ سپر داری کا مقصد ہی یہ ہے کہ کیس کے دوران سامان مالک کے پاس رہے۔

🔹 اگر پولیس سپر داری کی مخالفت کرے تو؟
پولیس اپنی رپورٹ میں اعتراض درج کر سکتی ہے لیکن آخری فیصلہ عدالت کا ہوتا ہے۔

🔹 کتنا وقت لگتا ہے؟
عموماً 2 سے 6 ہفتے — لیکن بھرپور دستاویزات ہوں تو جلد فیصلہ ممکن ہے۔

🔹کیا بغیر وکیل کے درخواست دی جا سکتی ہے؟
قانوناً ہاں، لیکن عملاً وکیل کے بغیر درخواست مسترد ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

💡 آخری بات
پاکستان میں ہزاروں لوگ برسوں تک اپنا سامان پولیس کے پاس پڑا رہنے دیتے ہیں — صرف اس لیے کہ انہیں اپنے حقوق کا علم نہیں ہوتا۔
اپنے حقوق جاننا انصاف حاصل کرنے کا پہلا قدم ہے۔

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہتمام رجسٹریاں اور انتقال کالعدماہم نکتہ:اگر کسی جائیداد کا ابتدائی اندراج جعلسازی، دھوکہ دہی یا غی...
23/04/2026

ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
تمام رجسٹریاں اور انتقال کالعدم
اہم نکتہ:
اگر کسی جائیداد کا ابتدائی اندراج جعلسازی، دھوکہ دہی یا غیر قانونی بنیاد پر ہو
تو اس بنیاد پر ہونے والی تمام بعد ازاں:
رجسٹریاں
خرید و فروخت
انتقالات
قانوناً غیر مؤثر اور کالعدم تصور ہوں گے
عدالتی اصول:
"جب بنیاد ہی غلط ہو تو پورا ڈھانچہ بھی قائم نہیں رہ سکتا"
: 2025 YLR 373

Dower .  حق مہراس مقدمہ میں درخواست گزار خاتون نے فیملی کورٹ میں اپنے شوہر کے خلاف دعویٰ دائر کیا جس میں اس نے نان و نفق...
16/04/2026

Dower . حق مہر
اس مقدمہ میں درخواست گزار خاتون نے فیملی کورٹ میں
اپنے شوہر کے خلاف دعویٰ دائر کیا جس میں اس نے نان و نفقہ، جہیز کے سامان کی واپسی یا اس کی قیمت اور مؤخر مہر (پانچ تولہ سونا) کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ شوہر نے اس دعویٰ کی مخالفت کرتے ہوئے تحریری جواب داخل کیا۔ فریقین کے بیانات اور شواہد کی روشنی میں فیملی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے بیوی کو مقدمہ دائر کرنے کی تاریخ سے "ماہانہ پانچ ہزار روپے" نان و نفقہ دینے کا حکم دیا اور مؤخر مہر کی ادائیگی بھی منظور کر لی، تاہم جہیز کے سامان کا دعویٰ ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیا۔بعد ازاں دونوں فریقین نے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ اپیلیٹ عدالت نے نان و نفقہ کے حکم کو برقرار رکھا لیکن جہیز کے سامان کے بارے میں جزوی طور پر دعویٰ منظور کرتے ہوئے "ڈھائی لاکھ روپے" بطور "متبادل قیمت" دینے کا حکم دیا، جبکہ مؤخر مہر کا دعویٰ یہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا کہ مؤخر مہر عام طور پر طلاق یا شوہر کی وفات کے بعد قابلِ ادائیگی ہوتا ہے۔

ہائیکورٹ نے مقدمہ کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ نان و نفقہ کے تعین کے بارے میں نچلی عدالتوں کا فیصلہ شوہر کی مالی حیثیت اور بیوی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، لہٰذا اس میں مداخلت کی ضرورت نہیں۔ جہیز کے سامان کے حوالے سے بھی اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ درست قرار دیا گیا کیونکہ معاشرتی رواج کے مطابق والدین اپنی بیٹی کو شادی کے وقت جہیز دیتے ہیں، اس لیے عدالت نے قرائن کی بنیاد پر جزوی طور پر دعویٰ منظور کیا۔

تاہم مؤخر مہر کے مسئلے پر عدالت نے تفصیلی قانونی بحث کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسلامی فقہ میں اس بارے میں دو آراء پائی جاتی ہیں: ایک رائے کے مطابق مؤخر مہر صرف طلاق یا وفات کے بعد واجب الادا ہوتا ہے، جبکہ دوسری رائے کے مطابق بیوی کے مطالبہ پر شادی کے دوران بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 10 کے مطابق اگر نکاح نامہ میں مہر کی ادائیگی کا وقت یا طریقہ واضح طور پر درج نہ ہو تو پورا مہر مطالبہ پر قابلِ ادائیگی سمجھا جائے گا۔ چونکہ اس مقدمہ کے نکاح نامہ میں مؤخر مہر کی ادائیگی کو کسی مخصوص وقت، طلاق یا وفات کے ساتھ مشروط نہیں کیا گیا تھا، اس لیے بیوی کو حق حاصل ہے کہ وہ شادی برقرار ہونے کے باوجود بھی مؤخر مہر کا مطالبہ کرے۔

اسی بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ فیملی کورٹ نے قانون کو درست طور پر لاگو کرتے ہوئے مؤخر مہر کی ادائیگی کا حکم دیا تھا جبکہ اپیلیٹ کورٹ نے قانون کی غلط تشریح کرتے ہوئے اس فیصلے کو کالعدم کیا۔ لہٰذا ہائیکورٹ نے آئینی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کو اس حد تک کالعدم قرار دیا اور فیملی کورٹ کا مؤخر مہر کے متعلق حکم بحال کر دیا۔

قانونی اصول: اگر نکاح نامہ میں مؤخر مہر کی ادائیگی کے لیے کوئی مخصوص وقت یا شرط مقرر نہ کی گئی ہو تو دفعہ 10 مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت وہ مہر بیوی کے مطالبہ پر فوراً قابلِ ادائیگی ہوگا، خواہ ازدواجی تعلق برقرار ہی کیوں نہ ہو۔.

پنجاب بھر کے سائلین اور وکلاء متوجہ ہوں! 15 اپریل کے بعد ریونیو عدالتوں کا پرانا نظام ہمیشہ کے لیے دفن ہونے جا رہا ہے—اب...
14/04/2026

پنجاب بھر کے سائلین اور وکلاء متوجہ ہوں! 15 اپریل کے بعد ریونیو عدالتوں کا پرانا نظام ہمیشہ کے لیے دفن ہونے جا رہا ہے—اب انصاف صرف ڈیجیٹل ہوگا!
​ بورڈ آف ریونیو پنجاب نے ایک تاریخی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے "ریونیو کورٹس مینجمنٹ سسٹم" (RCMS) کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ اب پنجاب کی تمام ریونیو عدالتوں میں نئے مقدمات کا اندراج صرف اور صرف آن لائن پورٹل کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔ 15 اپریل 2026 سے کوئی بھی دستی یا مینول درخواست قبول نہیں کی جائے گی اور نہ ہی اسے قانونی طور پر پروسیس کیا جائے گا۔ سب سے اہم اور سخت ہدایت یہ ہے کہ اب کوئی بھی اپیلٹ کورٹ ایسے کیس کو سرے سے سنے گی ہی نہیں جس کا فیصلہ نچلی عدالت نے RCMS کے ذریعے جنریٹ نہ کیا ہو۔ یہ فیصلہ ریونیو افسران کی من مانیوں کو روکنے اور عدالتی عمل کو مکمل شفاف بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو اس حکم پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ کسی بھی قسم کی کوتاہی یا مینول کام کی صورت میں متعلقہ افسر کے خلاف سنگین تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اب آپ کے زمین کے مقدمات کا پورا ریکارڈ ایک کلک پر دستیاب ہوگا جسے کوئی غائب یا تبدیل نہیں کر سکے گا۔
​سالہا سال سے ریونیو عدالتوں میں فائلیں گم ہونا اور ریکارڈ میں ٹمپرنگ کے الزامات ایک عام سی بات بن چکے تھے جس سے سائلین رل جاتے تھے۔ سائلین کو اپنے کیس کی اگلی تاریخ یا فیصلے کی نقل حاصل کرنے کے لیے کئی کئی ماہ تک سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے تھے۔ اسی فرسودہ نظام اور کرپشن کو ختم کرنے کے لیے بورڈ آف ریونیو نے اب جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لینے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ اس ڈیجیٹل سسٹم کا مقصد مقدمات کے اندراج سے لے کر حتمی فیصلے تک کے تمام مراحل کو کمپیوٹرائزڈ کرنا ہے تاکہ انسانی مداخلت کم سے کم ہو۔ یہ نوٹیفکیشن ان تمام عناصر کے لیے ایک بڑی وارننگ ہے جو ریکارڈ میں ہیرا پھیری کر کے غریب سائلین کا حق مارتے تھے۔ اب پنجاب بھر کا ریونیو نظام ایک نئے، تیز رفتار اور شفاف ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہا ہے۔
​لازمی ڈیجیٹل اندراج: 15 اپریل 2026 کے بعد تمام نئے ریونیو کیسز کا اندراج صرف RCMS کے ذریعے ہوگا۔
​مینول سسٹم کا خاتمہ: ہاتھ سے لکھی درخواستوں یا پرانی فائلوں پر اب کوئی عدالتی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
​اپیل پر پابندی: اگر نچلی عدالت کا فیصلہ ڈیجیٹل سسٹم سے جاری نہیں ہوا، تو اسے کسی بھی اعلیٰ عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔
​افسران کی جوابدہی: پنجاب بھر کے تمام کمشنرز اور ڈی سیز اس نئے ڈیجیٹل سسٹم پر عملدرآمد کروانے کے قانونی طور پر پابند ہوں گے۔
​اس انقلابی تبدیلی سے عام شہری کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ "پٹواری کلچر" اور عدالتی عملے کے غیر ضروری اثر و رسوخ میں واضح کمی آئے گی۔ آپ کا کیس اب کسی اندھیرے کمرے میں فائلوں کے ڈھیر تلے نہیں دبے گا، بلکہ آن لائن مانیٹرنگ کی وجہ سے متعلقہ افسران مقررہ وقت پر فیصلے کرنے کے پابند ہوں گے۔
​نظام کی ڈیجیٹلائزیشن تو خوش آئند ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے دور دراز تحصیلوں میں بیٹھا عملہ اس پیچیدہ سسٹم کو چلانے کی مکمل تربیت رکھتا ہے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ ٹیکنالوجی کے نام پر سائلین کو نئے طریقے سے ہراساں کیا جائے؛ ڈیجیٹل سسٹم صرف اسی صورت کامیاب ہوگا جب اس کی مانیٹرنگ بھی اتنی ہی سخت ہو۔

08/04/2026

حکومتِ پاکستان نے پاکستان شہریت ایکٹ 1951 میں ترمیم کرتے ہوئے ایک اہم قانون منظور کیا ہے، جسے 2026 سے فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا ہے۔
🔹 اس ترمیم کے تحت:
دفعہ 5 میں لفظ "والد" (Father) کو تبدیل کر کے "والدین" (Parent) کر دیا گیا ہے۔
چنانچہ اب وہ تمام افراد، جن کے والد یا والدہ میں سے کوئی ایک پاکستانی شہری ہو، انہیں پاکستانی شہریت کا حقدار تسلیم کیا جائے گا، خواہ ان کی تاریخِ پیدائش کچھ بھی ہو۔
🔹 پس منظر:
متعدد ایسے معاملات سامنے آئے جن میں پاسپورٹ کی درخواستیں اس بنیاد پر مؤخر یا مسترد کی گئیں کہ درخواست دہندگان کے والد غیر ملکی تھے، حالانکہ ان کے پاس نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) کے جاری کردہ قومی شناختی کارڈ موجود تھے۔
🔹 عدالتی نظائر:
پشاور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے معزز فیصلوں میں یہ قرار دیا گیا کہ سنہ 2000 کی ترمیم کو ماضی سے مؤثر (Retrospective Effect) سمجھا جائے، تاکہ ایسے افراد کو بھی شہریت کے حقوق فراہم کیے جا سکیں۔
🔹 ترمیم کا مقصد:
✔ شہریت کے حصول میں قانونی وضاحت پیدا کرنا
✔ متاثرہ افراد کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی
✔ پاسپورٹ کے اجرا کے عمل میں سہولت پیدا کرنا

یہ ترمیم انصاف اور مساوات کے اصولوں کے عین مطابق ایک اہم پیش رفت ہے۔

06/04/2026

عدالت اداروں کو ریکارڈ سمیت طلب کرسکتی۔

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نان و نفقہ کا تعین کرنے کے لیے فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہA) 17-(4) )کے تحت عدالت متعلقہ اداروں سے براہ راست مالی ریکارڈ طلب کر سکتی ہے۔

2026 CLC 59

آرڈر 9 رول 13 سی۔پی۔سی، آرٹیکل 164 اور سیکشن 5 لمیٹیشن ایکٹ کی روشنی میں “مناسب وجہ (Sufficient Cause)”:آرڈر 9 رول 13 ضا...
04/04/2026

آرڈر 9 رول 13 سی۔پی۔سی، آرٹیکل 164 اور سیکشن 5 لمیٹیشن ایکٹ کی روشنی میں “مناسب وجہ (Sufficient Cause)”:

آرڈر 9 رول 13 ضابطہ دیوانی (CPC) کے مطابق اگر کسی مقدمے میں عدالت مدعا علیہ کی غیر حاضری کی وجہ سے یک طرفہ فیصلہ (Ex-parte Decree) صادر کر دے تو مدعا علیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عدالت میں درخواست دے کر اس فیصلے کو منسوخ کرانے کی استدعا کرے۔

لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ مدعا علیہ عدالت کو مطمئن کرے کہ:

1۔ یا تو اسے سمن درست طریقے سے موصول نہیں ہوئے تھے،

2۔ یا پھر وہ کسی مناسب اور معقول وجہ (Sufficient Cause) کی بنا پر مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش نہیں ہو سکا۔

اگر عدالت اس وضاحت سے مطمئن ہو جائے تو وہ مناسب شرائط کے ساتھ (جیسے اخراجات یا دیگر شرائط) یک طرفہ ڈگری کو منسوخ کر سکتی ہے۔

تاہم آرڈر 9 رول 13 کے ساتھ موجود وضاحت (Proviso) کے مطابق اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچ جائے کہ مدعا علیہ کو مقدمے کی تاریخ کا بروقت علم تھا اور اس کے باوجود وہ عدالت میں حاضر نہیں ہوا تو صرف سمن کی ترسیل میں کسی معمولی بے ضابطگی کی بنیاد پر یک طرفہ ڈگری منسوخ نہیں کی جائے گی۔

یہاں “مناسب وجہ” کی کوئی حتمی یا سخت تعریف قانون میں موجود نہیں ہے۔ اس کا تعین ہر مقدمے کے مخصوص حالات اور حقائق کو دیکھ کر عدالت اپنی دانش، فہم اور صوابدید کے مطابق کرتی ہے۔

صرف یہ کہہ دینا کہ وکیل مقرر کر دیا تھا کافی نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ مقدمہ لڑنے کی ذمہ داری صرف وکیل پر نہیں بلکہ فریق پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے مقدمے کی پیش رفت کے بارے میں باقاعدہ معلومات لیتا رہے۔ اگر وکیل اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے تو عموماً اس کی غفلت کا نقصان اسی فریق کو برداشت کرنا پڑتا ہے جس نے اسے مقرر کیا تھا۔

🟢 لمیٹیشن ایکٹ (Limitation Act) کے تحت مدت:

آرٹیکل 164، Limitation Act کے مطابق یک طرفہ ڈگری کو منسوخ کرانے کے لیے 30 دن کے اندر درخواست دائر کرنا ضروری ہے۔

▪️اگر سمن درست طور پر موصول ہوئے تھے تو مدت کا آغاز فیصلے کی تاریخ سے ہوگا۔

▪️اگر سمن درست طور پر موصول نہیں ہوئے تھے تو مدت کا آغاز اس تاریخ سے ہوگا. جب درخواست گزار کو فیصلے کا علم ہوا۔

سن 1980 کی ترمیم کے بعد سیکشن 5 Limitation Act بھی اس معاملے میں قابل اطلاق ہے، جس کے تحت اگر درخواست تاخیر سے دائر ہو تو عدالت تاخیر کو معاف کر سکتی ہے، بشرطیکہ درخواست گزار ہر دن کی تاخیر کی معقول اور قابلِ قبول وضاحت پیش کرے۔

قانونِ میعاد (Limitation Law) کا مقصد یہ ہے کہ مقدمات کو غیر ضروری تاخیر سے بچایا جائے۔ اگر کوئی فریق مقررہ مدت میں کارروائی نہ کرے اور اس کے پاس تاخیر کی معقول وجہ بھی نہ ہو تو دوسرے فریق کو حاصل ہونے والا قانونی حق برقرار رہتا ہے۔

عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کے بارے میں سرکاری اداروں کی ذمہ داری
سرکاری اداروں پر یہ قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات کی مستعدی اور سنجیدگی سے پیروی کریں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو یہ ان کی ذمہ داری کی خلاف ورزی تصور ہوتی ہے۔

زیرِ بحث مقدمے میں ریکارڈ سے واضح تھا کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) کی طرف سے سنگین غفلت اور لاپرواہی برتی گئی۔ متعدد مواقع ملنے اور وکلاء کی تبدیلی کے باوجود نہ تو تحریری جواب (Written Statement) جمع کروایا گیا اور نہ ہی یک طرفہ قرار دیے جانے کے بعد مدعی کے گواہوں پر جرح کے لیے وکیل عدالت میں پیش ہوا۔ اس طرزِ عمل نے مدعی کے مقدمے کو مضبوط کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ صرف وکیل مقرر کر دینا فریق کو اس کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں کرتا۔ وکیل کی غفلت کو عموماً موکل کی غفلت تصور کیا جاتا ہے کیونکہ وکیل اور موکل کا تعلق اصولاً ایجنٹ اور پرنسپل کا ہوتا ہے۔ اگر وکیل عدالت میں پیش نہ ہو تو عدالت اس پر براہِ راست قابو نہیں رکھتی، لیکن اس کے نتائج فریق کو ہی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

ہر فریق پر لازم ہے کہ وہ اپنے مقدمے کی باقاعدہ پیروی کرے اور اس کی پیش رفت سے باخبر رہے۔

جب کسی مقدمے میں یک طرفہ فیصلہ ہو جاتا ہے تو کامیاب فریق کے حق میں ایک قیمتی قانونی حق پیدا ہو جاتا ہے، جسے محض وکیل کی عام سی غفلت کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر وکیل کی غفلت کو ہمیشہ معقول وجہ مان لیا جائے تو یہ طریقہ مقدمات کو بلاوجہ طول دینے کا آسان ذریعہ بن جائے گا۔

البتہ اگر وکیل کی غیر حاضری کسی ناقابلِ اختیار صورتحال مثلاً وکیل کی وفات، شدید بیماری یا کسی غیر معمولی مجبوری (Force Majeure) کی وجہ سے ہو تو عدالت انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مداخلت کر سکتی ہے۔

📚 حوالہ: C.P.L.A. 2284/2025
فیصلہ از مسٹر جسٹس محمد علی مظہر
مورخہ 23 جنوری 2026
Capital Development Authority (CDA) v. Dr. Sheikh Muhammad Shoaib Shafi

جسٹس ملک محمد اویس خالد نے خاتون عائشہ ناصر کی درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، فیصلے میں کہا گیا کہ خ...
06/03/2026

جسٹس ملک محمد اویس خالد نے خاتون عائشہ ناصر کی درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، فیصلے میں کہا گیا کہ خاتون کی رہائش گاہ کے قریب مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دینا اس کے لیے قانونی کارروائی میں آسانیاں پیدا کرنے کے مترادف ہے،سماعت کے دوران درخواست گزار عائشہ ناصر نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کا فیملی کیس جڑانوالہ کی فیملی کورٹ سے منتقل کرکے لاہور منتقل کیا جائے، درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کے شوہر عون عباس نے فیصل آباد کے علاقے جڑانوالہ کی فیملی کورٹ میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے،درخواست گزار کے مطابق بچے کے خرچ کا ایک الگ کیس پہلے ہی لاہور کی فیملی کورٹ میں زیر سماعت ہے، جس کی وجہ سے انہیں دو مختلف شہروں میں پیش ہونا پڑتا ہے جو ان کے لیے انتہائی مشکل ہے،عدالت نے دلائل سننے کے بعد خاتون کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس لاہور منتقل کرنے کی اجازت دے دی، درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں صاحبزادہ مظفر ایڈووکیٹ نے دلائل پیش کیے۔۔

24/02/2026

PLD 2019 لاہور 285دفعہ 7—مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 کے تحت قواعد، قاعدہ 3(b)—نوٹیفکیشن/S.R.O. نمبر 1086(K)/61 مؤرخہ ...
20/02/2026

PLD 2019 لاہور 285
دفعہ 7—مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 کے تحت قواعد، قاعدہ 3(b)—نوٹیفکیشن/S.R.O. نمبر 1086(K)/61 مؤرخہ 09.11.1961—طلاق سرٹیفکیٹ کے اجراء سے متعلق—چیئرمین، مصالحتی کمیٹی کا علاقائی دائرہ اختیار—حدود و قیود
اگر بیوی طلاق کے وقت پاکستان میں مقیم نہ ہو تو قاعدہ 3(b) کے تحت بنیادی عنصر جو یونین کونسل اور/یا چیئرمین کے دائرہ اختیار کا تعین کرتا ہے، وہ مقام ہے جہاں بیوی طلاق (تلفظِ طلاق) کے وقت رہائش پذیر ہو۔
لہٰذا جس یونین کونسل اور/یا چیئرمین کے علاقائی دائرہ اختیار میں بیوی طلاق کے وقت مقیم ہو، وہی اس معاملہ میں نوٹسِ طلاق (دفعہ 7(1) مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961) پر کارروائی کا مجاز ہوگا۔
موجودہ مقدمہ میں جب شوہر کی جانب سے مبینہ طور پر بیوی کو طلاق دی گئی، اُس وقت دونوں میاں بیوی مستقل طور پر ایک غیر ملکی ملک (امریکہ) میں مقیم تھے، البتہ شوہر اپنی ملازمت کے باعث جرمنی میں تعینات تھا۔
ایسی صورتحال میں پاکستان میں قائم چیئرمین، مصالحتی کمیٹی کو اس معاملہ میں کوئی دائرہ اختیار حاصل نہیں تھا اور اُس کی جانب سے جاری کردہ طلاق سرٹیفکیٹ غیر قانونی تھا۔
چونکہ شوہر اور بیوی پاکستانی شہری تھے اور اُس وقت بیرونِ ملک (امریکہ) میں مستقل رہائش پذیر تھے، لہٰذا شوہر کو چاہیے تھا کہ وہ مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 کی دفعہ 7 کے تحت متعلقہ پاکستانی سفارتی مشن کے مجاز افسر سے رجوع کرتا۔
چیئرمین، مصالحتی کمیٹی (پاکستان میں قائم) کی جانب سے جاری کردہ طلاق سرٹیفکیٹ کو بے اثر اور کالعدم قرار دے کر منسوخ کر دیا گیا۔
ان حالات میں آئینی درخواست منظور کر لی گئی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ، اسلام آباد میں آئینی درخواست نمبر 653/2025 بعنوان افضل احمد بنام وفاقِ پاکستان بذریعہ سیکرٹری داخلہ...
20/02/2026

اسلام آباد ہائیکورٹ، اسلام آباد میں آئینی درخواست نمبر 653/2025 بعنوان افضل احمد بنام وفاقِ پاکستان بذریعہ سیکرٹری داخلہ و دیگر، مورخہ 14 اپریل 2025 کو معزز جسٹس خادم حسین سومرو نے فیصلہ صادر فرمایا۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کے پاسپورٹ کی بلیک لسٹنگ کو غیر قانونی، غیر آئینی اور بلا اختیار قرار دیا جائے، اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کا حکم دیا جائے اور مستقبل میں اس پر کسی قسم کی غیر قانونی سفری پابندی عائد کرنے سے روکا جائے۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ اس کے خلاف 2011 میں ایک فوجداری مقدمہ درج ہوا تھا، تاہم وہ باقاعدگی سے عدالتی کارروائی میں شریک ہوتا رہا اور مفرور قرار نہیں دیا گیا۔ بعد ازاں مرکزی گواہ کی عدم دستیابی کے باعث مقدمہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا اور وہ ضمانت پر رہا۔ اس کے باوجود متعلقہ حکام نے اس کا پاسپورٹ بلیک لسٹ کر دیا، جو اس کے بقول اختیارات کا ناجائز استعمال ہے۔ مزید برآں اس نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نے متعلقہ اتھارٹی کو درخواست دی لیکن اسے شنوائی کا موقع فراہم نہیں کیا گیا، لہٰذا اس نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالت عالیہ سے رجوع کیا۔

وفاق کی جانب سے یہ ابتدائی اعتراض اٹھایا گیا کہ آئینی درخواست ناقابلِ سماعت ہے کیونکہ درخواست گزار کے پاس پاسپورٹس رولز، 2021 کے رول 22(3)(b) کے تحت ایک مؤثر متبادل قانونی چارہ جوئی موجود ہے، جس کے مطابق وہ ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کی قائم کردہ ریویو کمیٹی سے رجوع کر سکتا ہے۔ لہٰذا براہِ راست آئینی دائرہ اختیار استعمال کرنے کی گنجائش موجود نہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رِٹ دائرہ اختیار ایک غیر معمولی اور صوابدیدی اختیار ہے، جسے اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کوئی مؤثر اور مساوی متبادل قانونی علاج دستیاب نہ ہو۔ عدالت نے “Doctrine of Exhaustion of Remedies” کے اصول کو دہراتے ہوئے واضح کیا کہ جب قانون کسی معاملہ کے ازالہ کے لیے مخصوص فورم اور طریقۂ کار مہیا کرتا ہے تو فریقین پر لازم ہے کہ پہلے اسی قانونی راستے کو اختیار کریں۔ آئینی عدالت کو عام اپیل یا حقائق کے تعین کا فورم نہیں بنایا جا سکتا، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں انتظامی اتھارٹی کو شواہد کی جانچ اور فیصلہ سازی کا اختیار دیا گیا ہو۔

عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ متبادل قانونی علاج اسی وقت ناکافی سمجھا جا سکتا ہے جب وہ محض رسمی ہو یا مؤثر داد رسی فراہم کرنے سے قاصر ہو۔ تاہم موجودہ معاملہ میں ریویو کمیٹی ایک باقاعدہ قانونی فورم ہے جو درخواست گزار کی شکایت کا ازالہ کرنے کی مجاز ہے، اس لیے براہِ راست آئینی مداخلت کا جواز موجود نہیں۔

چنانچہ عدالت نے آئینی درخواست کو نمٹا دیا اور متعلقہ اتھارٹی (ریسپانڈنٹ نمبر 3) کو ہدایت جاری کی کہ وہ درخواست گزار کی زیرِ التواء درخواست کو متعلقہ قواعد کے مطابق ترجیحی بنیادوں پر، بہتر ہو گا کہ تیس (30) دن کے اندر فیصلہ کرے اور اس کی تعمیل رپورٹ چیمبر میں پیش کرے۔ اس طرح عدالت نے اصولی طور پر یہ قرار دیا کہ آئینی دائرہ اختیار آخری چارہ ہے اور اسے اسی وقت بروئے کار لایا جا سکتا ہے جب قانونی متبادل راستہ یا تو موجود نہ ہو یا مؤثر نہ ہو۔

Address

District Courts
Hassan Abdal
44000

Opening Hours

Monday 09:00 - 12:00
Tuesday 09:00 - 12:00
Wednesday 09:00 - 12:00
Thursday 09:00 - 12:00
Friday 09:00 - 12:00
Saturday 09:00 - 12:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 𝑨𝒅𝒗. 𝑨𝒏𝒆𝒆𝒍𝒂 𝑨𝒃𝒃𝒂𝒔𝒊 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share