Tahir Al Noor Medicos

  • Home
  • Tahir Al Noor Medicos

Tahir Al Noor Medicos Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Tahir Al Noor Medicos, Medical and health, Town Ship Main Markeet Near National Bank of Pakistan, .

Blood Pressure MonitorDateTimeMemoryNew Model1 Year  warranty Also....only Rs 2800
15/12/2018

Blood Pressure Monitor
Date
Time
Memory
New Model
1 Year warranty Also....
only Rs 2800

Availble here
31/10/2018

Availble here

25/04/2018
18/04/2018

عطائیت کے وضاحتی قانون کی ضرورت
تحریر: ڈاکٹر شھزاد نسیم .. چیف ایڈیٹر ھفت روزہ BFP نیوز ... ممبر پریس کلب سیالکوٹ
چیف جسٹس آف پاکستان نے پنجاب پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ صوبے کے تمام اتائی ڈاکٹروںکو ایک ہفتے میں گرفتار کر کے رپورٹ پیش کریں ۔ اس حکم کے ساتھ ہی پنجاب پولیس حرکت میں آچکی ہے اور صوبہ بھر میں عطائی ڈاکٹرز پر چھاپوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کافی گرفتاریاں عمل میں آچکی ہیں ۔ جب بھی ملک میں عطائیت کے خلاف مہم شروع کی جاتی ہے عموما عوامی اور میڈیاکی سطح پر تاثر پایا جاتاہے کہ ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کے علاوہ تمام افراد کا شمار عطائیوں میں ہے۔ جبکہ ایسا نہیں اور عطائی کی تعریف کچھ اس طرح کی جائے گی کہ ©" جو شخص بغیر کسی مستند سرکاری ادارے کی ڈگری ، سرٹیفکیٹ یا سند کے علاج معالجے کی خدمات سرانجام دے رہا ہے تو اس کا شمار عطائی میں ہوگا"اس کے علاوہ ہر وہ شخص جو اپنے متعین کرد ہ اختیارات جو قانون کے مطابق اسے حاصل ہیں سے تجاوز کرے گا وہ بھی عطائیت کے زمرے میں ہی آئے گا۔ مختلف شعبہ جات میں خدمات انجام دینے والے معالجین جو کسی مستند سند یا ڈگری کے حامل ہیں اور اپنے شعبے میں اور طریقہ علاج کے اندر رہ کر سروسز فراہم کررہے ہیں وہ عطائیت کے زمرے میں نہیں آتے جیسا کہ ہومیو پیتھی میں پریکٹس کرنے والے ڈی ایچ ایم ایس ڈپلومہ کے ہولڈر ہومیو ڈاکٹر حضرات ، نیشنل کونسل فار طب کے چار سالہ طبیب جنہوں نے فاضل طب والجراحت ایف ٹی جے کے ڈپلومے کر رکھے ہیں البتہ کوئی ہومیو پیتھک ڈاکٹر انگریزی ادویات ،حکیم ، ہومیو پیتھک ادویات یا پھر ایم بی بی ایس ڈاکٹرز ہومیو پیتھک و یونانی ادویات اپنے مریضوں کو استعمال کروائے یا تجویز کرے تو وہ بھی عطائی شمار ہو گا۔ آج کل دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ عموما ایم بی بی ایس ڈاکٹرز حضرات میں یونانی اور ہومیو پیتھک ادویات استعمال کروانے کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے۔اسی طرح جن ڈاکٹر ز حضرات نے بغیر کسی مستند ڈگری کے اپنے سپیشلسٹ ہونے کے بورڈ آویزاں کر رکھے ہیں اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں وہ بھی عطائیت کے زمرے میں آتے ہیں۔ بغیر فارماسسٹ ، ڈرگ سیل لائسنس ، کوالیفائیڈ سٹاف کے ادویات فروخت کرنے والے ڈاکٹر ز حضرات بھی ان اقدامات کے قانونا مجاز نہیں جبکہ ان کے پاس مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد کا سرکاری اسناد و ڈپلومہ جات کے ساتھ کوالیفائیڈ ہونا ضروری ہے ۔ اگر ایسا نہیں تو یہ ہسپتال و ڈاکٹرز بھی اسی زمرے میں آئیں گے اور سربراہ ادارہ عطائیت کے فروغ کا باعث بن رہا ہوگا۔ اگر اس کی سادہ سی تشریح کر دیا جائے تو پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی ہدایات پر جو ہسپتال پورا نہیں اترتے ان کے پاس کوالیفائیڈ سٹاف و دیگر سہولیات نہیں وہ عطائیت کی نرسریاں کہلائیں گی۔ اسی طرح سرکاری فیکلٹیوں کے ڈپلومہ ہولڈر ، ٹیکنیشنز جن میں ڈسپنسرز دو سالہ کورس کی حامل لیڈی ہیلتھ وزٹر ، لیبارٹری ، ایکسرے، ای سی جی ، ڈینٹل ٹیکنیشنز ، کوالیفائیڈکہلائیں گے ان کی تشریح بھی عطائیت کے تناظر میں نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہی ٹیکنیشنز حضرات بنیاد ی مراکز صحت ،رولر ڈسپنسریوں ، 1122 ریسکیو سروسز ، تمام قسم کے ڈزاسڑ، جلسے جلوسوں ، رمضان بازاروں ، ہنگامی کیمپس میں بطور انچارج علاج معالجہ و ایمرجنسی کی سہولیات عوام الناس کو پہنچاتے ہیں۔ جبکہ ہیلتھ سروسز میں انجیکشن سے لے کر مرہم پٹی ، ادویات کی فراہمی و تجویز ، آپریشن تھیٹر میںسرجری تک میں یہی سٹاف خدمات سرانجام دیتا ہے۔ان ہی ٹیکنیکل افراد کو سرکاری حکم ناموں کے تحت ایسی خدمات و سروسز فراہم کرنے کے اختیارات سونپے گئے ہیں ۔اعلی عدلیہ متعدد بار ان کو پریکٹس پرمٹ کے اجراءکے حکم نامے جاری کرچکے ہیں۔ ان تمام افراد کے لیے ہیلتھ کونسل تشکیل دے کر پرائیویٹ شعبہ میں فرسٹ ایڈ پریکٹس اور ہیلتھ سروسز فراہم کرنے کے متعلق قانون سازی کی بھی ضرورت ہے کیونکہ ان لوگوں کی سروسز کو اگر سرکاری اور نیم سرکاری و غیر سرکاری اداروں سے نکال دیا جائے تو ملک میں صحت عامہ اور علاج معالجے کی سہولیات ناپیدہو کر رہ جائیں ۔ بنیادی مراکز صحت کے ڈسپنسرز ،لیڈی ہیلتھ وزٹرز ہیلتھ ورکروںکو ٹریننگ فراہم کرتے ہیں اور ان کے لیے استاد کا کردار ادا کرتے ہیں۔ حکومتی اداروں کی دہری پالیسی ہے کہ سالوں کی ٹریننگ و اسناد کے حامل سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے والے کوالیفائیڈ ٹیکنیشنز حضرات کو پرائیویٹ شعبہ میں آزادانہ فرسٹ ایڈ سہولیات فراہم کرنے پر پریشان کیا جاتا ہے اور انہیں قانونی کاروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری صورت لاکھوں کی تعداد میں ملک کے گلی کوچوںمیں قائم ہیلتھ ہاﺅسز جن کی انچارج ہیلتھ ورکرز کو بنایا گیا ہے جن کی تعلیمی قابلیت عموما مڈل پاس ہے ان کو ہر قسم کی ادویات ، بلڈ پریشر سیٹ ، تھرما میٹر ، ویٹ مشین ، فراہم کی گئیں ہیں تاکہ وہ عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کر سکیں اس سلسلہ میں سرکاری سطح پر میڈیا پر باقاعدہ مہم چلائی جاتی ہے کہ ان ہیلتھ ورکروں سے اپنا علاج معالجہ کروائیں ۔ یہ حکومتی پالیسیوں کا کھلا تضاد ہے اور دہری حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ جن حضرات سے یہ ٹریننگ لیں وہ علاج معالجہ فراہم کریںتوان کو حکومتی سطح پر پریشان کیا جاتا ہے جبکہ نیم خواندہ ہیلتھ ورکروں کو باقاعدہ ہر قسم کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ جناب معزز چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آف پاکستان کا عطائیت کے خلاف ایکشن اور عطائی ڈاکٹروں کی گرفتاری کا حکم قابل تحسین ہے اور تمام کوالیفائیڈ حضرات و پیرا میڈیکل سٹاف اس کو خوش آمدید کہتا ہے تاہم سرکاری سطح پر عطائیت کے متعلق واضح قانون سازی اور اس کی وضاحت کی بھی اشد ضرورت ہے اور تمام علاج معالجہ فراہم کرنے والے پروفیشنلز کو اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے خدمات فراہم کرنے کا پابند کیا جانا چاہیے جو بھی اپنے اختیار ات سے تجاوز کرے گا اور دوسرے طریقہ علاج کو اختیار کرے گا جس کا وہ مجاز نہیں عطائی کہلائے گا۔.....کیا 1122 میں یھی پیرا میڈکس اپنی خدمات سے اب تک لاکھوں انسانی جانوں کو موت کے منہ میں جانے سے نھی بچا چکے .... کیا چیف جسٹس صاحب ان پر بھی پابندی لگا کر یھاں بھی MBBS ڈاکٹرز کو تعینات کرنے کے احکامات صادر فرمائیں گے ......

15/04/2018

تاریخ 15-04-2018

اسلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبراکتہ

تمام کیمسٹ برادری چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کے حکم کی تائید کرتی ہے کہ عطائی ڈاکٹرز کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے

ھم چیف جسٹس آف پاکستان سے گزارش کرتے ہیں کہ عطائی ڈاکٹرز کے خلاف کاروائی کی آڑ میں لائیسنس یافتہ میڈیکل سٹورز مالکان کو تنگ نہ کرنے کی ھدایات بھی جاری فرمائیں

تاکہ عطائیت کے خلاف بھرپور کاروائی پایہ تکمیل تک پہنچ سکے

منجانب

محمد ریاض ملک

جوائنٹ سیکرٹری پنجاب کیمسٹ کونسل
ممبر جوائنٹ ایکشن کمیٹی
موبائل نمبر 0321 6000600

22/09/2017

تمام اہل اسلام کو نیا اسلامی سال مبارک ہو

10/09/2017

طاہر النور کی طرف سے خصوسی پشکش اب تمام ادویات ادویات پے% 10 ڈسکاؤنٹ اس ک علاوہ ڈاکٹر حضرت ک لئے ڈسپنسنگ ادویات دستیاب ہیں

03/09/2017

طاہر النور کی طرف سے سب کو عید مبارک

Eid promo till end of Eid 3rd day ✌✌
24/08/2017

Eid promo till end of Eid 3rd day ✌✌

طاہرالنور کئ طرف سے تمام اہل وطن کو جشن ازادی مبارک
13/08/2017

طاہرالنور کئ طرف سے تمام اہل وطن کو جشن ازادی مبارک

hair falling no problem just once try Hair food100 % rusults mony back guranty also03214020119
10/08/2017

hair falling no problem just once try Hair food
100 % rusults
mony back guranty also
03214020119

Certeza all range availble in very special rates ☺
10/08/2017

Certeza all range availble in very special rates ☺

Address

Town Ship Main Markeet Near National Bank Of Pakistan

54000

Telephone

+92 321 4020119

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tahir Al Noor Medicos posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your practice to be the top-listed Clinic?

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram