Hakeem Shahid Dawakhana

Hakeem Shahid Dawakhana حکمت کے ذریعے مردانہ، زنانہ اور ازدواجی مسائل کا رہنمائی و مشورہ۔
بانجھ پن، کمزوری، ازدواجی بے سکونی

22/02/2026
ایک عورت کبھی بھی مرد کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔۔۔۔کیونکہ مرد قابو میں آنے والی مخلوق ہی نہیں ہے،عورت کا پیار، غصہ، رونا پی...
22/02/2026

ایک عورت کبھی بھی مرد کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔۔۔۔
کیونکہ مرد قابو میں آنے والی مخلوق ہی نہیں ہے،
عورت کا پیار، غصہ، رونا پیٹنا، اور لڑنا جھگڑنا ایک طرف۔۔اور وہ مرد دوسری طرف وہ کبھی بھی زبردستی عورت کیلئے کچھ نہیں کرے گا۔۔وہ تب کرے گا، جب وہ واقعی اس کیلئے کچھ کرنا چاہے گا۔۔۔۔۔ وہ تب کرے گا، جب وہ عورت واقعی اس کی محبت، عقیدت یا چاہت بن جائے گی۔۔
اگر کوئی عورت زبردستی
مرد کو اسکا رویہ بدلنے کا کہے گی۔۔ناں، تو وہ اس کو مٹی میں تو رول دے گا، لیکن اپنا رویہ اس عورت کیلئے کبھی نہیں بدلے گا۔۔۔۔۔وہ خود کو تب بدلے گا جب وہ خود اپنی مرضی سے
بدلنا چاہے گا۔۔۔۔اگر وہ محبت بھی کرے گا، تو عورت کے کہنے پر اسکا اظہار بھی نہیں کرے گا۔۔۔۔وہ محبت کا اظہار بھی تب کرے گا۔جب اسکا دل چاہے گا۔۔۔۔۔۔وہ محبت بھی تب جتائے گا، جب اسے اسکی پرواہ ہوگی۔۔۔۔۔۔🙂🖤

دور حاضر میں جہاں بھی دیکھو فحش مواد کی بھرمار ہے۔‏ اِشتہار،‏ فیشن،‏ فلمیں،‏ موسیقی،‏ ویڈیو گیمز اور رسالے اِس سے بھرے پ...
22/02/2026

دور حاضر میں جہاں بھی دیکھو فحش مواد کی بھرمار ہے۔‏ اِشتہار،‏ فیشن،‏ فلمیں،‏ موسیقی،‏ ویڈیو گیمز اور رسالے اِس سے بھرے پڑے ہیں۔‏لوگ اِسے ٹی‌وی،‏کمپیوٹر،‏ موبائل فون اور اِنٹرنیٹ پر دیکھتے ہیں۔‏ایسا لگتا ہے کہ آج‌ کل لوگ فحش مواد دیکھنے،‏ پڑھنے یا سننے کو بہت معمولی خیال کرتے ہیں۔‏پہلے کی نسبت اب فحش مواد جگہ‌ جگہ دستیاب ہے اور اِسے پسند کرنے والوں کی تعداد میں بھی بہت اِضافہ ہو گیا ہے۔‏—‏
”‏فحش مواد کے بارے میں چند حقائق“‏

جس طرح کی فحاشی کو چند سال پہلے نہایت ہی بے ہودہ خیال کِیا جاتا تھا،‏ آج‌ کل اُسے معمولی سی فحاشی خیال کِیا جاتا ہے۔‏“‏

اگر آپ کی سوچ یہ ہے کہ شادی کے بعد آپ اس بے ہودہ حرکت سے نجات حاصل کر پائے گے تو آپ غلط ہیں ۔ کیونکہ تحقیق سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شادی کے بعد بھی اکثر مرد اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں اور کبھی نجات نہیں پاتے۔
یہ ایک ایسی بیماری ہے جو آپ کی ازدواجی زندگی کو برباد کرنے میں زیادہ وقت نہیں لیں گی ۔
‏فحش مواد دیکھنے کی وجہ سے اکثر شادیاں اور خاندان ٹوٹ جاتے ہیں۔‏
میاں‌ بیوی کے درمیان بھروسے،‏ محبت اور جنسی کشش کو تباہ کر دیتا ہے۔‏
خودغرضی کو ہوا دیتا ہے اور میاں‌ بیوی کے رشتے میں دراڑ ڈالتا ہے۔‏
بے ہودہ جنسی حرکتیں کرنے کی خواہش پیدا کرتا ہے۔‏—‏

اگر ایک مرد فحش ویڈیو دیکھنے کا عادی ہو اور شادی شدہ ہو تو ایسی صورت حال میں بیوی کو کیا کرنا چاہیے...؟

مسلمان بہن آپ اپنے خاوند سے اس معاملہ میں بات کرنے میں جھجک محسوس نہ کریں ، اس لیے اسے حل کرنے کے لیے اس سے بات چیت ہی سب سے زيادہ بہتر اور اچھی چيز ہے ۔

آپ اسے وعظ و نصیحت کریں ،اور اسے کوئي اچھی اور بلیغ بات کہیں ، اسے اللہ تعالی کے عذاب اور اس کی ناراضگي یاد دلائيں، جہنم کے عذاب سے خوف دلائيں، اسے آپ اہل وعیال کے متعلق امانت اورذمہ داری کا احساس کرائيں اور یاد دلائيں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارہ میں سوال ہوگا مرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور وہ اپنی اس رعایا کے بارے میں جوابدہ ہوگا ) ۔

اور اس کا آپ پر یہ حق ہے کہ آپ اسے بتائيں کہ جو کچھ وہ آپ کے ساتھ کر رہا ہے وہ گناہ اور مصیبت و نافرمانی ہے ، اور اس قسم کی مخرب الاخلاق اور خبیث قسم کی فلموں کا مشاہدہ اسے اللہ تعالی اور اس کے ذکر سے دور کردے گا ، ہوسکتا ہے اس سے اس میں نرمی پیدا ہوجائے اور نصیحت حاصل کرے ۔

آپ اس سے ایسا سلوک حکمت اور مصلحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کئي ایک بار کریں ،اگر وہ پھر بھی آپ کی بات تسلیم نہ کرے تو پھر آپ کے خیال میں جو لوگ اس مسئلہ میں کچھ فائدہ مند ہو سکتے ہیں ان سے تعاون اور مدد حاصل کریں مثلا اہل علم ، اور اس کے رشتہ دار و اقربا میں سے اچھے قسم کے لوگ جو اصلاح پسند ہوں یا پھر اس کے وہ دوست جن کی بات وہ رد نہیں کرتا ۔

دوم :

آپ کوشش کریں کہ اسے چند ایک تقریروں اور علمی درس کی وائس سنائيں چاہے وہ ڈاریکٹ ہوں یا ان ڈایریکٹ طریقے سے،اور آپ اسے کچھ اسلامی کتب بھی پیش کریں جو اس موضوع میں ہوں ہوسکتا ہے اس سے ہی اس کا دل نرم ہوجائے اور وہ حق کی طرف پلٹ آئے ۔

سوم :

اور اگر یہ سب کچھ بھی فائدہ مند ثابت نہ ہوسکے تو پھر آپ اپنے اور اس کے خاندان میں سے ایک ایسے شخص کو منصف مقرر کریں جس کے بارے میں آپ سمجھتی ہوں کہ ان کی دخل اندازی کی بنا پر تعلقات اچھے ہوں گے اور وہ اس برائي اور گناہ اور شر سے دور ہوجائے گا اور وہ لوگ اصلاح پسند بھی ہونے ضروری ہيں ،

22/02/2026

عقلمند بیوی اپنے شوہر کا ذکر عورتوں کے سامنے نہیں کرتی؛

نہ اس کی بہت زیادہ تعریف اور مدح کرتی ہے
کہ دونوں کو نظر یا حسد لگ جائے،

اور نہ ہی اس کی برائی کرتی ہے یا اس کی خامیاں گنواتی ہے
کہ اس کی قدر کم ہو جائے،

نہ اس کا راز فاش کرتی ہے، چاہے اپنے گھر والوں سے ہو یا اس کے گھر والوں سے،

اور نہ ہی اپنے باہمی اختلافات لوگوں میں بیان کرتی ہے جب ان کے درمیان کوئی بات ہو جائے، بلکہ صبر کرتی ہے،

اور اس کے لیے کثرت سے اصلاح اور ہدایت کی دعا کرتی ہے۔

روزوں کے دنوں میں شہوانی خیالات کیوں بڑھ جاتے ہیں؟بعض افراد محسوس کرتے ہیں کہ رمضان یا روزے کے دنوں میں شہوانی خیالات نس...
22/02/2026

روزوں کے دنوں میں شہوانی خیالات کیوں بڑھ جاتے ہیں؟
بعض افراد محسوس کرتے ہیں کہ رمضان یا روزے کے دنوں میں شہوانی خیالات نسبتاً زیادہ آتے ہیں۔ یہ بات صرف روحانی کمزوری کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے چند نفسیاتی اور جسمانی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔
1) ممنوع چیز کی طرف ذہنی کشش
انسانی نفسیات کا ایک اصول ہے کہ جس چیز سے سختی سے روکا جائے، ذہن اسی طرف زیادہ متوجہ ہو سکتا ہے۔
“مجھے یہ نہیں سوچنا” کا جملہ بعض اوقات اسی خیال کو اور نمایاں کر دیتا ہے۔ اسے Thought Rebound Effect کہا جاتا ہے۔
2) ڈوپامین اور ریوارڈ سسٹم
روزہ بھوک، انتظار اور ضبط کا نام ہے۔
جب انسان کسی خواہش کو روکتا ہے تو دماغ کا reward system زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔
اسی لیے کھانے کی خواہش بھی بڑھ سکتی ہے اور جنسی خواہش بھی ذہن میں زیادہ نمایاں محسوس ہو سکتی ہے۔
3) روٹین اور ہارمونز میں تبدیلی
رمضان میں نیند کا شیڈول، کھانے کے اوقات اور جسمانی توانائی بدل جاتی ہے۔
سحر و افطار میں زیادہ کیلوریز، میٹھے اور بعض غذائیں استعمال کی جاتی ہیں۔
یہ سب عوامل عارضی طور پر ہارمونل اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتے ہیں، جس سے libido میں تبدیلی محسوس ہو سکتی ہے۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ ہر شخص میں ٹیسٹوسٹیرون یکساں ردعمل نہیں دیتا۔ بعض افراد میں خواہش کم بھی ہو جاتی ہے اور بعض میں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
4) جسمانی گھڑی (Biological Clock)
سونے جاگنے کے اوقات بدلنے سے اعصابی نظام متاثر ہوتا ہے۔
جب جسم نئی روٹین کو ایڈجسٹ کر رہا ہوتا ہے تو ذہنی اور جذباتی اتار چڑھاؤ بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
اس کیفیت سے کیسے نمٹا جائے؟
• روزے کی اصل روح یعنی یکسوئی کو مضبوط کریں
• نماز اور عبادت میں توجہ بڑھائیں
• پورن یا محرک مواد سے مکمل اجتناب کریں
• نیند کی روٹین متوازن رکھنے کی کوشش کریں
• سحر و افطار میں اعتدال رکھیں
اہم بات یہ ہے کہ خیالات آ جانا گناہ نہیں، بلکہ ان پر عمل کرنا قابلِ مواخذہ ہو سکتا ہے۔
اگر خیالات بار بار آئیں تو خود کو مجرم سمجھ کر شدید خوف میں مبتلا نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے۔ توازن، شعور اور ضبط ہی اصل کامیابی ہے۔
روزہ صرف بھوک کا نام نہیں بلکہ نفس کو سمجھنے اور اس پر قابو پانے کی تربیت بھی ہے۔

22/02/2026

ٹیسٹوسٹیرون کم ہو جائے تو کیا ہوتا ہے؟
ٹیسٹوسٹیرون مردوں کا بنیادی ہارمون ہے جو صرف جنسی خواہش ہی نہیں بلکہ پٹھوں کی طاقت، ہڈیوں کی مضبوطی، خون کے سرخ خلیات، توانائی اور ذہنی کیفیت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ جب اس کی سطح کم ہو جائے تو اثرات پورے جسم پر ظاہر ہوتے ہیں۔
نمایاں علامات
• جنسی خواہش میں واضح کمی
• ایریکشن برقرار رکھنے میں دشواری
• لطف اور تحریک میں کمی
• مستقل تھکن اور سستی
• مسلز ماس میں کمی اور پیٹ کے گرد چربی میں اضافہ
• ورزش کے باوجود کم نتائج
• موڈ میں اتار چڑھاؤ یا اداسی
• چڑچڑاپن اور خود اعتمادی میں کمی
• جسم یا چہرے کے بالوں میں کمی
• چھاتی کے بافتوں میں اضافہ
• ہڈیوں کی کمزوری کا خطرہ
وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟
• بڑھتی عمر
• موٹاپا
• شوگر
• نیند کی کمی
• دائمی ذہنی دباؤ
• الکحل کا زیادہ استعمال
• خصیوں یا ہارمون کنٹرول کرنے والے دماغی حصوں کی خرابی
تشخیص کیسے ہوتی ہے؟
صرف علامات کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا جاتا۔
صبح کے وقت خون کا ٹیسٹ کر کے Total Testosterone اور بعض اوقات Free Testosterone چیک کیا جاتا ہے۔ اگر سطح کم ہو اور علامات موجود ہوں تو علاج پر غور کیا جاتا ہے۔
علاج کیا ہے؟
• وزن میں کمی
• باقاعدہ ورزش (خاص طور پر ریزسٹنس ٹریننگ)
• متوازن غذا
• مکمل نیند
• ذہنی دباؤ میں کمی
شدید کمی کی صورت میں ڈاکٹر کی نگرانی میں ٹیسٹوسٹیرون ریپلیسمنٹ تھراپی دی جا سکتی ہے، مگر یہ خود سے شروع کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
اہم بات:
ہر تھکن یا ہر جنسی مسئلہ کا مطلب ٹیسٹوسٹیرون کی کمی نہیں ہوتا۔ خود تشخیص اور غیر مستند سپلیمنٹس نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ درست ٹیسٹ اور مستند مشورہ ہی محفوظ راستہ ہے۔
ٹیسٹوسٹیرون صرف مردانگی کا معاملہ نہیں، یہ جسمانی اور ذہنی توازن کا اہم حصہ ہے۔ آگاہی رکھیں، قیاس نہیں — سائنسی جانچ کریں۔

جنسی مسائل سے پریشان مرد حضرات کے لیے خصوصی رہنمائیانسان سے غلطیاں ہوتی ہیں اور کمزوریاں بھی آتی ہیں، لیکن مایوسی حل نہی...
22/02/2026

جنسی مسائل سے پریشان مرد حضرات کے لیے خصوصی رہنمائی
انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں اور کمزوریاں بھی آتی ہیں، لیکن مایوسی حل نہیں۔ درست تشخیص اور مناسب علاج ہی بہتری کا راستہ ہے۔
اگر آپ ازدواجی کمزوری، اعصابی تھکن، جریان، احتلام، کمزور ٹائمنگ یا دیگر مردانہ مسائل کا شکار ہیں تو خاموش نہ رہیں۔ باقاعدہ رہنمائی اور منظم علاج کے ذریعے اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے اور ازدواجی زندگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
ہر مریض کی عمر، کیفیت اور مرض کی شدت مختلف ہوتی ہے، اس لیے علاج اور مشورہ انفرادی حالت کے مطابق دیا جاتا ہے۔ بغیر تشخیص کے دوا لینا درست طریقہ نہیں۔
شفا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، دوا صرف ایک ذریعہ ہے۔
مفت مشورہ صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک حاصل کیا جا سکتا ہے۔
حکیم شاہد
03004648899

22/02/2026

اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَی٘ہِ رَاجِعٌو٘ن۔ اللّٰہ پاک مرحوم کی مغفرت فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

سوال:پیٹ میں گڑگڑاہٹ ہوتی ہے اور بار بار پاخانے کی حاجت محسوس ہوتی ہے، ہلکا سا پاخانہ آتا ہے۔ پھر پیشاب سے پہلے زور لگان...
21/02/2026

سوال:
پیٹ میں گڑگڑاہٹ ہوتی ہے اور بار بار پاخانے کی حاجت محسوس ہوتی ہے، ہلکا سا پاخانہ آتا ہے۔ پھر پیشاب سے پہلے زور لگانے پر منی جیسی چیز زیادہ مقدار میں نکلتی ہے۔ یہ کیا مسئلہ ہے؟
جواب:
اگر پیٹ خراب ہو، گیس ہو یا بار بار پاخانے کی حاجت ہو تو زور لگانے سے پروسٹیٹ گلینڈ پر دباؤ پڑتا ہے۔ اس دباؤ کی وجہ سے سفید یا گاڑھی رطوبت خارج ہو سکتی ہے۔ ہر بار خارج ہونے والی چیز مکمل منی نہیں ہوتی، اکثر یہ پروسٹیٹ کا فلوئیڈ ہوتا ہے۔
سوال: کیا یہ خطرناک ہے؟
جواب:
اگر یہ کبھی کبھار ہو تو عموماً خطرناک نہیں ہوتا۔
لیکن اگر بار بار ہو، مقدار زیادہ ہو یا کمزوری، جلن یا درد بھی ساتھ ہو تو معائنہ ضروری ہے۔
سوال: یہ کیوں ہو رہا ہے؟
جواب:
✔ قبض یا آنتوں کی خرابی
✔ زیادہ زور لگانا
✔ پروسٹیٹ کی ہلکی سوزش
✔ ذہنی دباؤ
✔ اعصابی حساسیت
سوال: کیا کرنا چاہیے؟
جواب:
✔ قبض ختم کریں (پانی زیادہ پئیں، فائبر والی غذا لیں)
✔ زور لگانے سے پرہیز کریں
✔ مصالحہ دار اور تلی ہوئی غذا کم کریں
✔ روزانہ واک کریں
✔ اگر مسئلہ جاری رہے تو یورین اور سیمین ٹیسٹ کروا کر پروسٹیٹ چیک کروائیں
اہم بات:
اکثر نوجوانوں میں یہ مسئلہ آنتوں کی خرابی اور دباؤ کی وجہ سے ہوتا ہے، مستقل نامردی نہیں بنتا۔
لیکن اگر مسلسل ہو رہا ہو تو طبی جانچ ضروری ہے تاکہ سوزش یا انفیکشن کو بروقت کنٹرول کیا جا سکے۔

آج ہر نوجوان کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ سیکس کے دوران اچھی ٹائمنگ ہے...!جس کے لیے وہ الٹی سیدھی میڈیسن کھانے س...
20/02/2026

آج ہر نوجوان کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ سیکس کے دوران اچھی ٹائمنگ ہے...!

جس کے لیے وہ الٹی سیدھی میڈیسن کھانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے
جس میں ایک "ویاگرا" نام کی ٹیبلیٹ چلی ہوئی ہے جس کا کام مصنوئی ٹائمنگ بڑھانا ہے، وقتی طور پہ نفس سائز بھی بڑھتا ہے لیکن اس کے استعمال کے دوران آپ کا بلڈ بہت زیادہ ہائی ہوگا، وہ تب تک ہائی رہے گا جب تک سارا پریکٹیکل مکمل نہ ہو جائے
اب آتے ہیں ان میڈیسن کے سائیڈ ایفیکٹ کی طرف!
اکثر اوقات اس بلڈ ہائی کے دوران موت ہو سکتی ہے
دوسری صورت میں مصنوئی ٹیبلیٹس گردے پہ اثر انداز ہو کر اسکو ختم کر دیتی ہیں
اکثر مسیحا حضرات ہربل کیپسول کی آڑ میں ایسی مصنوئی ٹیبلیٹس سفوف بنا کر اس میں ڈال کر بیچ رہے ہیں،
اگر کیپسول کے استعمال سے بلڈ ہائی ہو دل کی دھڑکن معمول سے تیز ہو چہرے پر سرخی اور آنکھوں میں جلن سر درد ہو تو سمجھ جائیں وہ یہی ویاگرہ ہیں ہربل نہیں
کیونکہ ہربل دیر سے اثر کرتی ہیں اور اندر سے فٹنس دیتی ہیں یہی علاج دیر پا اور اچھا ہوتا ہے...!

👈

 ...!زنانہ جنسی نظام انسانی جسم کا ایک نہایت پیچیدہ، حساس اور مربوط نظام ہے جو تولید، جنسی صحت، ہارمونل توازن اور نفسیات...
20/02/2026

...!

زنانہ جنسی نظام انسانی جسم کا ایک نہایت پیچیدہ، حساس اور مربوط نظام ہے جو تولید، جنسی صحت، ہارمونل توازن اور نفسیاتی کیفیت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ اسے سائنسی زبان میں Female Reproductive System کہا جاتا ہے۔ یہ نظام صرف ماں بننے کے عمل تک محدود نہیں بلکہ عورت کی مجموعی صحت، جذبات اور خود آگاہی کا بنیادی ستون ہے۔

زنانہ جنسی نظام کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: بیرونی (External Genitalia) اور اندرونی (Internal Reproductive Organs)۔ بیرونی حصے کو مجموعی طور پر وَلوا (V***a) کہا جاتا ہے، جس میں لیبیا میجورا (L***a Majora)، لیبیا مائنورا (L***a Minora)، کلیٹورس (Cl****is) اور ویجائنل اوپننگ (Va**nal Opening) شامل ہیں۔ یہ تمام حصے تحفظ، حساسیت اور جنسی ردِعمل میں کردار ادا کرتے ہیں۔

کلیٹورس خاص طور پر ایک نہایت حساس عضو ہے، جس میں اعصابی ریشے (Nerve Endings) کی کثرت ہوتی ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق یہ عضو جنسی لذت (Sexual Pleasure) میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی ساخت صرف نظر آنے والے حصے تک محدود نہیں بلکہ اس کے اندرونی حصے بھی ہوتے ہیں جو جسم کے اندر پھیلے ہوتے ہیں۔

اندرونی نظام کا آغاز اندام نہانی (Va**na) سے ہوتا ہے، جو ایک لچکدار نالی ہے۔ یہ نہ صرف مباشرت بلکہ ماہواری (Menstruation) اور بچے کی پیدائش (Childbirth) میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اندام نہانی خود کو صاف رکھنے کی قدرتی صلاحیت رکھتی ہے، جسے Self-Cleaning Mechanism کہا جاتا ہے۔

اندام نہانی کے بعد رحم (Uterus) واقع ہوتا ہے۔ رحم ایک مضبوط مگر لچکدار عضو ہے جہاں حمل ٹھہرتا ہے۔ رحم کی اندرونی تہہ کو اینڈومیٹریم (Endometrium) کہا جاتا ہے، جو ہر ماہ حمل کے امکان کے لیے تیار ہوتی ہے۔ اگر حمل نہ ٹھہرے تو یہی تہہ ماہواری کی صورت میں خارج ہو جاتی ہے۔

رحم کے دونوں جانب فاللوپین ٹیوبز (Fallopian Tubes) ہوتی ہیں، جو رحم کو اووریز (Ovaries) سے ملاتی ہیں۔ انہی نالیوں میں بیضہ (O**m یا Egg) اور نطفہ (S***m) کا ملاپ ہوتا ہے، جسے Fertilization کہا جاتا ہے۔ یہ عمل تولیدی نظام کا بنیادی مرحلہ ہے۔

اووریز زنانہ جنسی نظام کا نہایت اہم حصہ ہیں۔ یہ بیضہ پیدا کرتی ہیں اور اہم ہارمونز جیسے ایسٹروجن (Estrogen) اور پروجیسٹرون (Progesterone) خارج کرتی ہیں۔ یہ ہارمونز ماہواری، جسمانی ساخت، جلد، بالوں، جذبات اور جنسی خواہش کو متاثر کرتے ہیں۔

ایسٹروجن عورت کے جسم میں نرمی، ہڈیوں کی مضبوطی اور دل کی صحت میں کردار ادا کرتا ہے، جبکہ پروجیسٹرون حمل کو برقرار رکھنے اور رحم کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ان ہارمونز کا عدم توازن ذہنی دباؤ، بے قاعدہ ماہواری اور جنسی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔

زنانہ جنسی نظام کا تعلق صرف جسمانی اعضا تک محدود نہیں۔ دماغ کا ہائپوتھیلمس (Hypothalamus) اور پیچیوٹری گلینڈ (Pituitary Gland) ہارمونز کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اسی لیے ذہنی دباؤ، خوف اور جذباتی صدمات اس نظام پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔

ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ عورت کا جنسی نظام کمزور یا ثانوی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظام نہایت منظم، طاقتور اور خودکار ہے۔ البتہ لاعلمی، شرمندگی اور سماجی خاموشی اسے نظر انداز کر دیتی ہے، جس کے نتائج صحت پر بھاری پڑتے ہیں۔

ماہواری کے دوران درد، ہارمونل تبدیلیاں اور موڈ میں اتار چڑھاؤ اسی نظام کا حصہ ہیں، مگر انہیں کمزوری نہیں بلکہ حیاتیاتی حقیقت سمجھنا چاہیے۔ درست معلومات اور طبی رہنمائی ان مسائل کو قابلِ برداشت بنا سکتی ہے۔

زنانہ جنسی نظام کو سمجھنا عورت کے لیے بھی ضروری ہے اور مرد کے لیے بھی۔ آگاہی رشتوں میں توازن لاتی ہے، خوف کم کرتی ہے اور صحت مند معاشرتی رویے کو جنم دیتی ہے۔

Address

Lahore Samnabad
Lahore
54570

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakeem Shahid Dawakhana posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram