Arshad Blood Diseases Center

Arshad Blood Diseases Center Dr M. Arshad Marwat,
Medical specialist & Clinical hematologist/ bone marrow transplant physician

02/05/2026




عوامی آگاہی پیغام : "انسانی جانوں سے کھلواڑ بند کریں!" منجانب : ڈاکٹر محمد ارشد مروتمیڈیکل سپیشلسٹ و ماہرِ امراضِ خون، ڈ...
29/04/2026

عوامی آگاہی پیغام : "انسانی جانوں سے کھلواڑ بند کریں!"

منجانب : ڈاکٹر محمد ارشد مروت
میڈیکل سپیشلسٹ و ماہرِ امراضِ خون، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال، لکی مروت

میں، ضلع لکی مروت میں بطور میڈیکل سپیشلسٹ اور ماہرِ امراضِ خون اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے، ایک نہایت تشویشناک صورتحال کی جانب عوام، طبی برادری، اور متعلقہ اداروں کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں۔
میرے پاس اکثر ایسے مریض آتے ہیں جو مختلف لیبارٹریز کی رپورٹس ساتھ لاتے ہیں، مگر افسوس کہ ان میں سے متعدد رپورٹس کا حقیقت سے دور دور تک تعلق نہیں ہوتا۔ خصوصاً اسپیشل سمیئر جیسے حساس اور تشخیصی ٹیسٹ—جو خون کی بیماریوں کی تشخیص کے لیے خوردبین کے ذریعے نہایت باریک بینی سے کیے جاتے ہیں—بعض مقامات پر ایسے افراد انجام دے رہے ہیں جو اس شعبے کی مطلوبہ مہارت نہیں رکھتے۔ حالانکہ یہ ایک ایسا تشخیصی عمل ہے جو صرف ماہرِ امراضِ خون (Hematologist) ہی درست انداز میں کر سکتا ہے۔ جب یہی ٹیسٹ دوبارا ہم خود یا دوسرے مستند اداروں میں کرواتے ہیں تو نتائج یکسر مختلف سامنے آتے ہیں۔
اسی طرح، خون کی کمی کے مریض—خصوصاً بچے—اکثر میرے پاس اس وقت آتے ہیں جب انہیں پہلے ہی کئی مرتبہ بغیر مناسب تشخیص کے خون لگایا جا چکا ہوتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف بیماری کی اصل وجہ کو چھپا دیتا ہے بلکہ بعد میں درست تشخیص کو بھی انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔ یاد رکھیے، خون لگانا بذاتِ خود علاج نہیں؛ اصل علاج یہ جاننا ہے کہ خون کی کمی کیوں ہوئی، اور اس بنیادی سبب کا مؤثر علاج کرنا۔

لیبارٹری مالکان اور عملے کے لیے لمحۂ فکریہ :

غلط رپورٹ صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوتی، بلکہ یہ غلط تشخیص، غلط علاج، اور بعض اوقات ناقابلِ تلافی نقصان کی بنیاد بن جاتی ہے۔ مریض کا اصل مرض پسِ پشت چلا جاتا ہے، اور وہ ایسی ادویات اور علاج کا بوجھ اٹھاتا ہے جن کی اسے سرے سے ضرورت ہی نہیں ہوتی۔

اپنے ضمیر سے چند سوال کیجیے :

کیا آپ کے ادارے میں مستند اور کوالیفائیڈ پیتھالوجسٹ موجود ہے جو رپورٹس کی نگرانی اور تصدیق کرے؟
کیا آپ کے زیرِ استعمال کیمیکلز، کٹس (Reagents) اور دیگر مواد معیاری ہیں اور ان کی معیاد ختم نہیں ہوئی؟
کیا آپ کی مشینیں باقاعدگی سے Calibrate کی جاتی ہیں تاکہ نتائج درست اور قابلِ اعتماد ہوں؟
چند روپوں کے کمیشن یا معمولی بچت کی خاطر انسانی جانوں سے کھیلنا بند کریں۔ رزقِ حلال میں برکت ہے، مگر کسی کی زندگی کو خطرے میں ڈال کر کمائی گئی دولت صرف وبالِ جان بنتی ہے۔

عوام الناس کے لیے اہم مشورہ:
علاج کے لیے لیبارٹری کا انتخاب کرتے وقت صرف کم فیس یا قریبی مقام کو ترجیح نہ دیں۔ ہمیشہ ایسی لیبارٹری سے ٹیسٹ کروائیں جہاں مستند عملہ، جدید مشینری، اور معیاری تشخیصی نظام موجود ہو۔
یاد رکھیں :
ایک غلط رپورٹ آپ کے پورے علاج کو غلط سمت میں لے جا سکتی ہے۔
صحت کے معاملے میں احتیاط، تحقیق، اور درست انتخاب ہی آپ کی زندگی کا تحفظ ہے۔

24/04/2026

Needle stick/prick injury


Courtesy: Dr Muhammad Shujat

نوجوان نسل میں امراضِ قلب، بلند فشارِ خون، ذیابیطس اور فالج کی ایک بڑی وجہ…صرف ساٹھ روپے کا پراٹھا اور ساٹھ روپے کی میٹھ...
19/04/2026

نوجوان نسل میں امراضِ قلب، بلند فشارِ خون، ذیابیطس اور فالج کی ایک بڑی وجہ…

صرف ساٹھ روپے کا پراٹھا اور ساٹھ روپے کی میٹھی چائے—یعنی 120 روپے میں ایک طالب علم کا پورا دن گزر رہا ہے۔
میدے سے بنا پراٹھا، جسے مزید خستہ اور لذیذ بنانے کے لیے اس میں چینی شامل کی جاتی ہے، اوپر سے سستا اومیگا-6 سے بھرپور تیل، اور ساتھ انتہائی میٹھی چائے—پیٹ تو بھر جاتا ہے، مگر جسم کو کیا حاصل ہوتا ہے؟
گلی گلی قائم ہوٹلز یہی خوراک فراہم کر رہے ہیں۔ مسئلہ کسی ایک وقت کے کھانے کا نہیں، بلکہ اس کے مسلسل استعمال کا ہے۔ جب یہی خوراک روزمرہ کا معمول بن جائے تو موٹاپا، شوگر اور دل کے امراض کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل اتنی کم عمری میں بیماریوں کا شکار کیوں ہو رہی ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہی نوجوان شام کو جم کا رخ کرتا ہے اور غیر معیاری وی پروٹین استعمال کرتا ہے، جس میں سستا سویا شامل ہوتا ہے۔ نہ غذا متوازن، نہ سپلیمنٹ قابلِ اعتماد—نتیجہ صرف صحت اور پیسے دونوں کا ضیاع۔
دوسری جانب حقیقت یہ بھی ہے کہ ایک طالب علم کے پاس متبادل ہی کیا ہے؟ سستی، فوری اور پیٹ بھرنے والی خوراک—جو ہر گلی میں آسانی سے دستیاب ہے۔
آج کا طالب علم/نوجوان، کل کا مریض نہیں ہونا چاہیے۔

(ڈاکٹر محمد ارشد مروت
میڈیکل اسپیشلسٹ و ماہرِ امراضِ خون)

بہت سے کیسز میں تقریباً 60 سے 70 فیصد تک خون کی منتقلی بغیر کسی واضح طبی ضرورت کے کی جاتی ہے۔ اس قدر بے جا استعمال انتہا...
17/04/2026

بہت سے کیسز میں تقریباً 60 سے 70 فیصد تک خون کی منتقلی بغیر کسی واضح طبی ضرورت کے کی جاتی ہے۔ اس قدر بے جا استعمال انتہائی تشویشناک ہے۔ خون کی منتقلی کے ممکنہ مضر اثرات اس قدر وسیع اور سنجیدہ ہیں کہ ان پر ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔

) ڈاکٹر محمد ارشد مروت)

20/03/2026
26/02/2026





゚viralシfypシ゚

سوال: تھیلیسیمیا مائنر کا کوئی علاج ہے؟مختصر جواب: نہیں، کسی علاج کی ضرورت نہیں۔تھیلیسیمیا مائنر (ٹریٹ) کوئی بیماری نہیں...
13/01/2026

سوال: تھیلیسیمیا مائنر کا کوئی علاج ہے؟

مختصر جواب: نہیں، کسی علاج کی ضرورت نہیں۔

تھیلیسیمیا مائنر (ٹریٹ) کوئی بیماری نہیں، بلکہ ایک جینیاتی کیئریر حالت ہے۔

1. صحت کی حالت: کیئریرز کے خون میں ہیموگلوبن معمولی کمی (9-12 گرام/ڈیسی لیٹر) ہو سکتی ہے، لیکن وہ بغیر کسی دوا کے مکمل طور پر معمولی، صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔
2. علاج: آپ کو خون منتقلی یا کوئی خاص دوائیں لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
3. بیٹا تھیلیسیمیا مائنر ہونے پر کیا کرنا چاہیے؟ صرف اور صرف مشاورت۔ ایک کلینکل ہیماٹالوجسٹ/ماہر امراضِ خون سے رجوع کریں۔

ماہر امراضِ خون سے ربط کریں:
ڈاکٹر محمد ارشد مروت
ارشد مرکز برائے امراضِ خون، تاجہ زائی ٹاؤن شپ، لکی مروت
📞 اپائنٹمنٹ کے لیے: 0313-9306444



#کیئریر

07/01/2026




سیلیک بیماری (Celiac Disease) ایک خاص قسم کی بیماری  ہے جس میں جسم کا اپنا مدافعتی نظام (جو ہمیں بیماریوں سے بچاتا ہے) گ...
31/12/2025

سیلیک بیماری (Celiac Disease) ایک خاص قسم کی بیماری ہے جس میں جسم کا اپنا مدافعتی نظام (جو ہمیں بیماریوں سے بچاتا ہے) گندم میں موجود گلوٹن نامی پروٹین پر غلط ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ گلوٹن گندم، جو، اور جئی میں پایا جاتا ہے۔ جب کوئی بچہ جسے سیلیک بیماری ہو، گلوٹن کھاتا ہے تو اس کی چھوٹی آنت کے اندرونی نرم حصے (جنہیں "ولی" کہا جاتا ہے) خراب ہو جاتے ہیں۔ یہ ولی خوراک کو جسم میں جذب کرنے کا کام کرتے ہیں۔ جب یہ خراب ہو جائیں تو کھانے کی غذائیت جسم میں جذب نہیں ہوتی اور ضائع ہو جاتی ہے۔

بچے کو اس وجہ سے خوراک پوری نہیں لگتی، وہ کمزور ہوتا جاتا ہے، وزن نہیں بڑھتا اور قد بھی رک سکتا ہے۔ علامات میں بدبودار پاخانے، قے، پیٹ کا پھولنا، درد، گیس، خون کی کمی، بار بار بیمار ہونا، یا کچھ بچوں میں قبض بھی ہو سکتی ہے۔

اس بیماری کا کوئی علاج دوا سے ممکن نہیں۔ صرف گلوٹن والی چیزوں سے مکمل پرہیز ہی اس کا حل ہے۔ یعنی گندم، جو، جئی اور ان سے بنی ہر چیز جیسے ڈبل روٹی، بسکٹ، میدہ، سوجی، رس اور سویاں نہیں کھانی چاہئیں۔

جو چیزیں دی جا سکتی ہیں ان میں چاول، مکئی، باجرہ، بیسن، سبزیاں، دالیں، گوشت، انڈے، مچھلی، پھل اور گھر کے بنے جوس شامل ہیں۔ کھانے کی ہر چیز صاف ستھری ہونی چاہیے اور بازار سے کچھ لیتے وقت یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ اس میں گلوٹن تو شامل نہیں۔

پرہیز پوری زندگی کے لیے ضروری ہے تاکہ بچہ صحت مند زندگی گزار سکے اور کوئی سنگین مسئلہ پیدا نہ ہو۔

*ضلع لکی مروت کے عوام الناس کیلئے خوشخبری*  📢میڈیکل اور خون کے جن مریضوں کو علاج کی ضرورت ہو اور وہ کلینک میں اپنا علاج ...
28/12/2025

*ضلع لکی مروت کے عوام الناس کیلئے خوشخبری* 📢

میڈیکل اور خون کے جن مریضوں کو علاج کی ضرورت ہو اور وہ کلینک میں اپنا علاج نہیں کروا سکتے ، ان سب مریضوں کے اطلاع کے لیے عرض ہے کہ وہ اپنا علاج ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ،تاجہ زی ٹاؤن شپ،لکی مروت* میں صحت کارڈ کے ذریعے *_*بروز منگل اور جمعہ_** مکمل فری معائنہ اور داخلہ کے ساتھ کروا سکتے ہیں
علاج کے لیے اپنا قومی شناختی کارڈ یا فارم ب لانا ضروری ہے-
یاد رہے ، کلینک کے مریض بھی اس سہولت سے مستفید ہو سکتے ہیں۔

*ڈاکٹر محمد ارشد مروت
میڈیکل سپشلسٹ/امراضِ خون سپیشلسٹ
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ،لکی مروت
او- پی - ڈی بروز منگل و جمعہ*
کلینک پتہ: بلمقابل ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ،لکیمروت

Address

Lakki Marwat

Telephone

+923129156847

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Arshad Blood Diseases Center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Arshad Blood Diseases Center:

Share

Category