21/09/2025
گروئنگ پینز (Growing Pains) زیادہ تر تین سے چار سال کی عمر کے بچوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ مسئلہ آٹھ سے بارہ سال کی عمر تک بھی برقرار رہ سکتا ہے۔ یہ درد عام طور پر شام یا رات کے وقت شروع ہوتا ہے اور بعض اوقات بچے کو نیند سے جگا دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بچہ صبح اٹھتا ہے تو وہ بالکل ٹھیک ہوتا ہے اور کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں کرتا۔
یہ درد زیادہ تر دونوں ٹانگوں، پنڈلیوں، گھٹنوں کے پیچھے یا پاؤں میں محسوس ہوتا ہے۔ جن دنوں بچے زیادہ کھیل کود یا بھاگ دوڑ کرتے ہیں، ان دنوں یہ درد بڑھ جاتا ہے۔ اس دوران اگر بچے کی ٹانگوں یا پاؤں کا معائنہ کیا جائے تو ان پر کسی چوٹ یا سوجن کا نشان نظر نہیں آتا۔
زیادہ تر بچوں میں یہ درد ہفتے میں ایک یا دو بار ہوتا ہے۔ لیکن جن بچوں میں کیلشیم یا وٹامن ڈی کی کمی ہو، ان میں یہ درد زیادہ شدت اور زیادہ بار بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی اصل وجہ ابھی تک مکمل طور پر سامنے نہیں آسکی، لیکن عام مشاہدہ ہے کہ جن بچوں میں یہ علامات زیادہ پائی جاتی ہیں وہ درد برداشت کرنے کی صلاحیت میں دوسروں کے مقابلے میں کچھ کمزور ہوتے ہیں۔
اس بیماری کی تشخیص کے لیے کسی خاص ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ماہرِ اطفال صرف طبی معائنہ کرکے اس کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ گروئنگ پینز عام طور پر ایک سے دو سال میں خود ہی ختم ہو جاتے ہیں، تاہم بعض بچوں میں یہ مسئلہ اس سے زیادہ عرصے تک بھی رہ سکتا ہے۔
والدین گھر پر ہی بچے کی تکلیف کم کرنے کے لیے چند آسان طریقے اپنا سکتے ہیں۔ مثلاً ٹانگوں کی نرم مالش کرنا، اسٹریچنگ ایکسرسائز کروانا، ٹانگوں پر احتیاط کے ساتھ ہیٹنگ پیڈ رکھنا اور اگر درد بہت زیادہ ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے دوا استعمال کرنا۔
البتہ اگر بچے کو کسی جگہ چوٹ لگ جائے، بخار ہو، وزن یا بھوک کم ہو جائے، بچہ چلنے میں دشواری محسوس کرے، ایک ہی ٹانگ میں درد ہو، جوڑ میں سوجن آجائے یا غیر معمولی کمزوری اور تھکاوٹ ہو تو ایسی صورت میں فوری طور پر قریبی ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ سب بچوں کو صحت اور سکون عطا فرمائے۔ آمین۔