18/12/2025
بھینگا پن کے علاج میں دیری کسی بھی صورت فائدہ مند نہیں ہوتی۔ یہ غلط فہمی عام ہے کہ بھینگا پن صرف بچوں کا مسئلہ ہے یا وقت کے ساتھ خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے، حالانکہ علاج میں تاخیر سے نظر کی کمزوری، آنکھوں کے درمیان ہم آہنگی کی خرابی، سٹیریوپسس کا خاتمہ، سر درد، دوہری نظر اور اعتماد میں کمی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بچوں میں بروقت علاج نہ ہونے سے آنکھ سست (Lazy Eye) ہو سکتی ہے، جبکہ بڑوں میں بھی علاج میں تاخیر روزمرہ زندگی، پیشہ ورانہ کارکردگی اور معیارِ زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ جدید طب میں بھینگا پن کسی بھی عمر میں مؤثر طور پر قابلِ علاج ہے، اس لیے تاخیر کے بجائے بروقت تشخیص اور مناسب علاج ہی بہتر بصارت اور بہتر زندگی کی ضمانت ہے۔