21/01/2026
انیقہ ایک پرائیویٹ کالج میں لیکچرار تھی۔ صبح سے شام تک کلاسیں، اسائنمنٹس، پیپر چیکنگ اور میٹنگز – زندگی جیسے بس دوڑ بن چکی تھی۔ اکثر کالج سے واپسی پر دیر ہو جاتی تو وہ گھر جا کر کھانا بنانے کے بجائے راستے میں ہی کچھ کھا لیتی۔ کبھی برگر، کبھی پیزا، کبھی شوارما، اور ساتھ کولڈ ڈرنک۔ آہستہ آہستہ یہی اس کا معمول بن گیا تھا۔ شروع شروع میں اسے کچھ محسوس نہیں ہوا۔ بالکل نارمل زندگی چل رہی تھی۔ پیریڈز بھی باقاعدہ تھے، جلد بھی ٹھیک تھی، توانائی بھی ٹھیک۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کے جسم نے جیسے خاموش احتجاج شروع کر دیا۔
اب وہ اکثر تھکی تھکی رہنے لگی تھی۔ بال پہلے سے زیادہ جھڑنے لگے، ناخن کمزور ہو گئے، چہرے پر دانے نکلنے لگے، ہلکی سی محنت پر سانس پھول جاتی۔ سب سے زیادہ پریشان کرنے والی بات یہ تھی کہ اس کے پیریڈز جو پہلے گھڑی کی طرح باقاعدہ تھے، اب بے قاعدہ ہونے لگ گئے تھے۔ گھر والے اس کے رشتے کی باتیں بھی دیکھ رہے تھے، مگر انیقہ دل ہی دل میں خوفزدہ تھی۔ وہ سوچتی رہتی: “پہلے اپنا علاج کرواؤں یا رشتہ دیکھوں؟ کہیں شادی کے بعد مسئلے اور نہ بڑھ جائیں؟”
اس نے خود ہی حل ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ میڈیکل اسٹور سے ملٹی وٹامن، ٹانک اور مختلف سپلیمنٹ لے کر استعمال شروع کر دیے۔ دوستوں کے مشورے پر کبھی کوئی سیرپ، کبھی کوئی کیپسول۔ لیکن ہفتے مہینوں میں بدل گئے اور فرق کچھ خاص نہ پڑا۔ اندر سے وہ مزید مایوس ہونے لگی۔ اسے ڈاکٹروں کے پاس جانے سے بھی ڈر لگتا تھا۔ اس کے ذہن میں یہی خیال رہتا کہ انگریزی دوائیں مہنگی بھی ہوتی ہیں اور ان کے سائیڈ ایفیکٹس بھی بہت ہوتے ہیں۔
ایک دن کالج کے اسٹاف روم میں بیٹھے ہوئے اس کی ایک کولیگ نے اس کی حالت دیکھ کر پوچھ لیا: “انیقہ! تم کچھ دنوں سے بہت کمزور لگ رہی ہو، سب ٹھیک ہے؟” باتوں باتوں میں انیقہ نے اپنی ساری پریشانی بتا دی۔ تب اس کولیگ نے اسے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے اسے خود شدید وٹامن ڈی کی کمی ہو گئی تھی، بہت علاج کروائے مگر فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ پھر کسی نے اسے میاں چنوں کی ایک نیوٹریشنسٹ قراۃ العین کا بتایا۔ اس نے صرف ڈائٹ پلان فالو کیا اور بغیر کسی دوائی کے چند ہفتوں میں مکمل ٹھیک ہو گئی۔ ایک روپیہ بھی دواؤں پر خرچ نہیں ہوا۔
یہ بات سن کر انیقہ کے دل میں پہلی بار امید کی کرن جاگی۔ اس نے سوچا: “جب بغیر دوائی کے مسئلہ ٹھیک ہو سکتا ہے تو ایک بار ملنے میں کیا حرج ہے؟” اسی کولیگ سے نمبر لیا، اور اسی شام واٹس ایپ کے ذریعے قراۃ العین سے رابطہ کیا۔ اپنا مسئلہ تفصیل سے بتایا تو انہوں نے بہت تسلی سے بات سنی اور کہا کہ پہلے کلینک آ کر مکمل مشورہ کریں، ساتھ ہی کچھ ممکنہ
ٹیسٹ بھی تجویز کیے تاکہ مسئلے کی صحیح تشخیص ہو سکے۔
اگلے دن کالج سے واپسی پر انیقہ نے رکشے والے کو کہا: “بھائی،
سعید میڈی کیئر ہسپتال، تلمبہ روڈ میاں چنوں لے چلیں۔” دل میں تھوڑا خوف بھی تھا اور تھوڑی امید بھی۔ ہسپتال پہنچی تو رسپشن پر کافی رش تھا۔ اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ صرف میاں چنوں ہی نہیں، آس پاس کے شہروں سے بھی لوگ علاج کروانے آئے ہوئے تھے۔ دل میں مزید اعتماد پیدا ہوا کہ شاید واقعی یہاں کچھ بہتر ہوگا۔
کچھ دیر انتظار کے بعد اس کا نمبر آیا۔ جب وہ قراۃ العین صاحبہ کے کمرے میں داخل ہوئی تو پہلی ہی ملاقات میں ان کے شائستہ اور نفیس انداز نے انیقہ کو بہت مطمئن کر دیا۔ انہوں نے بہت تفصیل سے اس کی ہسٹری لی، وزن اور قد کی پیمائش کی، روزمرہ خوراک کے بارے میں پوچھا، نیند، روٹین، ہر چیز نوٹ کی۔ جب ٹیسٹ رپورٹس دیکھیں تو مسکرا کر بولیں:
“انیقہ! آپ کا اصل مسئلہ کوئی بڑی بیماری نہیں – آپ کو زنک کی شدید کمی ہو گئی ہے، اور اس کی بنیادی وجہ آپ کی غیر متوازن غذا ہے۔”
یہ سن کر انیقہ حیران رہ گئی۔ اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ صرف غلط کھانے کی عادت اس کے جسم کو اتنا متاثر کر سکتی ہے۔ نیوٹریشنسٹ قراۃ العین نے اسے سمجھایا کہ زنک انسانی جسم کے لیے بہت ضروری معدنی جز ہے۔ اس کی کمی سے بالوں کا گرنا، جلد کے مسائل، تھکن، قوتِ مدافعت کی کمزوری اور ہارمونل بے قاعدگی جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں – بالکل وہی سب کچھ جو انیقہ کے ساتھ ہو رہا تھا۔
قراۃ العین نے اسے کوئی مہنگی دوا نہیں لکھی۔ صرف ایک سادہ، متوازن اور عملی ڈائٹ پلان دیا۔ روزانہ کی خوراک میں انڈے، دالیں، چنے، مچھلی، بیج، دودھ، دہی، سبزیاں اور پروٹین شامل کرنے کا کہا۔ فاسٹ فوڈ اور کولڈ ڈرنکس تقریباً بند کرنے کی ہدایت دی۔ پانی زیادہ پینے اور وقت پر کھانے کا معمول بنانے کو کہا۔
انیقہ نے پوری سنجیدگی سے ڈائٹ پلان پر عمل شروع کیا۔ چند ہی ہفتوں میں اس نے واضح فرق محسوس کرنا شروع کر دیا۔ تھکن کم ہونے لگی، جلد بہتر، بال مضبوط، موڈ بہتر، اور سب سے بڑی خوشی یہ کہ اس کے پیریڈز دوبارہ باقاعدہ ہونے لگے۔ اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ جو مسئلہ مہنگی دواؤں سے ٹھیک نہیں ہوا تھا، وہ صرف غذا درست کرنے سے ٹھیک ہو گیا۔
آج انیقہ جب اپنی پرانی زندگی کو دیکھتی ہے تو مسکرا کر کہتی ہے:
“بیماری اکثر خود پیدا نہیں ہوتی، ہم اپنی غلط عادتوں سے اسے دعوت دیتے ہیں۔ اور اصل علاج ہمیشہ گولیوں میں نہیں – صحیح غذا میں چھپا ہوتا ہے۔”
رابطہ ذریعہ واٹس ایپ
0341 3550200