30/12/2025
موسمیاتی تبدیلی، ہارٹ اور فالج اٹیک ..عوام کے نام ایک اہم پیغام
ڈاکٹر عبدالسلام
کارڈیالوجسٹ،لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور......
موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ انسانی صحت، خصوصاً دل اور دماغ کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکی ہے۔ درجۂ حرارت میں غیر معمولی اضافہ، شدید سردی، ہیٹ ویوز، آلودگی اور موسم کی اچانک تبدیلیاں دل کے مریضوں میں پیچیدگیوں کو بڑھا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک اور فالج کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
شدید گرمی کے دوران جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے، خون گاڑھا ہو جاتا ہے اور دل پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ اسی طرح شدید سردی میں شریانیں سکڑ جاتی ہیں، بلڈ پریشر بڑھتا ہے اور دل کا دورہ یا فالج ہونے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ فضائی آلودگی دل کی شریانوں میں سوزش پیدا کرتی ہے جو ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا سبب بن سکتی ہے۔
میں اپنے عوام کو مشورہ دیتا ہوں کہ بدلتے موسم کے اثرات کو سنجیدگی سے لیں۔ گرمی میں دھوپ سے بچیں، پانی کا استعمال بڑھائیں، نمک اور چکنائی کم کریں اور غیر ضروری محنت سے پرہیز کریں۔ سردی میں گرم لباس پہنیں، بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھیں اور اچا نک ٹھنڈے ماحول میں جانے سے گریز کریں۔ دل کے مریض اپنی ادویات باقاعدگی سے استعمال کریں اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر علاج میں تبدیلی نہ کریں۔
اگر سینے میں درد، سانس کی تنگی، چکر، جسم کے کسی حصے میں اچانک کمزوری، بولنے میں دقت یا نظر دھندلانے جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوراً قریبی ہسپتال سے رجوع کریں۔ بروقت علاج جان بچا سکتا ہے۔
یاد رکھیں، احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں صحت مند طرزِ زندگی، باقاعدہ چیک اپ اور بروقت احتیاط ہی دل اور دماغ کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔
اللہ ہم سب کو صحت و سلامتی عطا فرمائے۔