03/04/2026
موسم کی تبدیلی اور بچوں میں فلو، بچاؤ کیسے ممکن ؟؟
◀️ ہم سب جانتے ہیں کہ حالیہ بارشوں کے بعد موسم کافی حد تک تبدیل ہوا ہے۔ جب کبھی موسم میں تبدیلی آتی ہے تو آپ نے مشاہدہ کیا ہو گا کہ بچوں کو نزلہ زکام ہو جاتا ہے اور ساتھ میں یہ بھی ضرور سوچا ہوگا کہ ایسا کیوں ہے کہ گرمی کے موسم سے سردیوں میں تبدیلی اور سردیوں سے گرمیوں کی شروعات , دونوں ہی نزلہ زکام کا باعث بنتے ہیں؟؟
☑️تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اوسطاً بچوں کو سال میں بارہ بار تک فلو ہو سکتا ہے۔
☑️ تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فلو کے انفیکشن موسم کی تبدیلیوں کے ساتھ زیادہ ہوجاتے ہیں۔
☑️موسم کی تبدیلی کے ساتھ فلو ہونے کی سائنسی وجہ یہ ہے کہ ماحولیاتی درجہ حرارت میں تبدیلی واٸرس کو بڑھوتری کے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے اور انکے ایک سے دوسرے انسان میں منتقلی کو بھی آسان کرتی ہے . دو سو سے زیادہ واٸرس دریافت ہو چکے ہیں جو انسان میں فلو کا سبب بنتے ہیں . ہیومن رائنو وائرس اس موسمی فلو کا سبب بننے والا سب سے اھم وائرس ہے۔
☑️موسم کی تبدیلی سے الرجک لوگوں میں بھی فلو کے انفیکشن بھی بڑھ جاتے ہیں۔
☑️انفلوئنزا وائرس بھی سرد موسم میں فلو کا سبب بنتا ہے۔
☑️موسم کی تبدیلی انسان کی قوت مدافعت (Immunity ) کوبھی وقتی طور پر کم کر دیتی ہے اور جراثیم اسکا فاٸدہ اٹھاتے ہیں۔
◀️سوال یہ ہے کہ ہم خود اور بچوں کو فلو کے انفیکشن سے کیسے بچا سکتے ہیں؟
☑️اسکا واحد اور بہترین جواب بار بار ہاتھ دھونا ہے۔
☑️ باقاعدہ ورزش ، اچھی ہائیڈریشن اور فلو سے متاثرہ افراد سے فاصلہ رکھنا, ہماری فلو زکام سے حفاظت کرتا ہے۔
☑️فلو سے بچاؤ کی ویکسین بھی بہترین ذریعہ ہے۔
◀️اگر فلو ہو جائے تو گھبرائیں نہیں۔
☑️بچوں کو اینٹی بائیوٹکس فلو میں ہرگز نہ دیں کہ یہ ☑️موسمی فلو میں بالکل مؤثر نہیں ہیں لہذا براہ کرم انہیں استعمال نہ کریں۔
☑️بس پیناڈول دیں، آرام کروائیں، پانی زیادہ مقدار میں استعمال کریں، باہر جاتے وقت ماسک کا استعمال کروائیں تاکہ آپ کے بچے اسے دوسروں تک نہ پھیلائیں۔
☑️بچوں میں فلو کا دورانیہ بڑوں کی نسبت زیادہ اور کھانسی کی کافی شکایت ہوتی ہے۔ کھانسی کے لیے بچوں بھاپ دلواٸیں ۔ نارمل سلاٸن سے نیبولاٸز بھی کر سکتے ہیں ۔
☑️بعض اوقات فلو کا واٸرس نمونیا کی شکل اختیار کر لیتا ہے جسے برونکولاٸٹس کہتے ہیں۔اسکی اھم علامات میں بچوں کی سانس کی رفتار میں تیزی ہے ۔نارمل سانس کی رفتار بچے کی عمر کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے ۔زیادہ سے زیادہ سانس لینے کی رفتار ایک منٹ میں دوماہ کی عمر تک ساٹھ , دوسے بارہ ماہ کی عمر تک چالیس ,ایک سے پانچ سال تک تیس ہے اور اس سے بڑوں میں پچیس ہے ۔ اگر بچے میں سانس کی رفتار اس سے تیز ہو رہی ہے تو ڈاکٹر کو ضرور چیک کرواٸیں۔
◀️ دوسرے والدین کی آگاہی کے لئے شیئر ضرور کریں ۔
◀️بچوں کی صحت کے حوالے سے مزید مستند معلومات
کے لیے ہمارا پیج اور یو ٹیوب چینل لائک اور سبسکرائب کر لیجیئے! 👍🏻
🩺ڈاکٹر حافظ محمد شہزاد شجاع
ماہر امراض بچگان و نوزائیدگان
ایم بی بی ایس ، ایف سی پی ایس پیڈیاٹرکس
سابق رجسٹرار شعبہء امراض اطفال، نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال، ملتان
Follow and Share
Dr. Shehzad SHUJA - CHILD Specialist
➡️YouTube: https://www.youtube.com//
゚viral