The Counsellor

The Counsellor Clinical Psychologist, Parenting Coach, Relationship Coach, Speech and Language Therapist, Writer !
(1)

I am Maryam Amin Awan , clinical psychologist, child counselor, speech and language therapist, I deal with various psychological issues including Children behavioral and emotional problems, speech delay in children, parent and child relationship, relationship issues (marital and others) family counseling, depression, stress, anxiety carrer counseling and much more...
U can read various informative articles here on my page plus get a one on one session too..

تبدیلی کا سفر ہمیشہ مشکل اور ناہموار ہوتا ہے، کیونکہ اس میں مشکلات اور اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ اس سفر کی راہ میں آنے وا...
20/05/2026

تبدیلی کا سفر ہمیشہ مشکل اور ناہموار ہوتا ہے، کیونکہ اس میں مشکلات اور اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ اس سفر کی راہ میں آنے والی رکاوٹیں اور challenges اس کا حصہ ہیں۔ ان مشکلات کی وجہ سے سفر کو ادھورا چھوڑنا یا منزل تبدیل کرنا مناسب نہیں، کیونکہ ہمت اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھنا ہی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ ہماری منزل قریب ہے اور ہم اپنے مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔
Always remember

The road to change is long, tiring, uneven, rough, and bumpy and can only be conquered by consistency and steadfastness!

مصطفیٰ زیدی نے کیا خوب کہا ہے کہ:

چلیں تو کٹ ہی جائیں گا سفر آہستہ آہستہ!

مریم امین اعوان

آج 6بجے ہم بات کریں گے اس ماں کے بارے میں جو ممتا اور ذہنی کشمکش کے بیچ جھولتی رہتی ہے۔کبھی غمگین ہوتی ہے، کبھی غصہ کرتی...
19/05/2026

آج 6بجے ہم بات کریں گے اس ماں کے بارے میں جو ممتا اور ذہنی کشمکش کے بیچ جھولتی رہتی ہے۔

کبھی غمگین ہوتی ہے، کبھی غصہ کرتی ہے، کبھی روتی ہے اور کبھی خود کو ہر قسم کے جذبے سے عاری سمجھتی ہے!

ہم بات کرے گے اس ماں کی جو 9 ماہ اپنے بچے کو دیکھے بنا اس کا خیال کرتی ہے اس سے باتیں کرتی ہیں، اس کے آنے کی ہرممکن تیاری کرتی ہے، پسندیدہ سے پسندیدہ چیز کو اپنے بچے کی صحت کی خاطر چھوڑ دیتی ہے ، انگلیوں پر دن گنتی ہے، اس بچے کو دنیا میں لانے کے لئے موت کے منہ سے واپس آتی ہے اور پھر نجانے کب ، کیوں ،کیسے اس بچے کے لئے غصے کے علاؤہ کچھ محسوس نہیں کر پاتی!

آج ہم بات کریں گے دنیا بھر کی ہر 6 میں سے 1 ماں کے بارے میں جو پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا شکار ہوتی ہے۔

پوسٹ پارٹم ڈپریشن کوئی فینسی ورڈ یا کوئی ٹیبو نہیں ہے ایک حقیقت ہے جس کے بارے میں بات کرنا ، جسے جاننا، اور جسے سمجھنا بہت ضروری ہے!

کیا آپ اس گفتگو کا حصہ بننا چاہتے ہیں؟

مریم امین اعوان

18/05/2026

"میرا بچہ ابھی چند دن کا ہی تھا جب میں ںے اسے بیڈ پر پٹخا تھا۔ وہ روئے جا رہا تھا اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ ڈائپر صاف تھا، پیٹ بھرا ہوا تھا، نہ سو رہا تھا نہ مزید فیڈ لے رہا تھا بس روئے چلا جا رہا تھا ، موسم بھی ٹھیک تھا نہ بہت گرمی تھی نہ سردی ،کپڑے بھی مناسب پہنے تھے، میں نے کپڑے اتار کر دیکھا کے کہیں کچھ کاٹ نہ رہا ہو۔ سب ٹھیک تھا۔ میں پریشان ہو رہی تھی مگر اب پریشانی الجھن میں بدل رہی تھی۔ کبھی گود میں لیتی ،کبھی بستر پر لیٹا دیتی،کبھی ٹہلتی۔مگر نتیجہ وہی رونا جو مجھے مزید غصہ دلا رہا تھا۔ بالآخر میں نے اسے بیڈ پر پٹخ دیا اور وہ سہم کر خاموش ہو گیا۔ میں اسے چھوڑ کر باہر چلی گئ واپس ائی تو وہ سو چکا تھا۔ بس پھر اس کے بعد یہ معمول بن گیا۔ میں کبھی اپنے بچے کو مارتی اور کبھی خود کو نقصان پہنچاتی۔۔"

کہانی تو اگے جاری ہے اور اس طرح کی کئ کہانیاں اپ سن چکے ہو گے.

کیا آپ کو اس غصے کی وجہ معلوم ہے؟

وجہ ہے ہوسٹ پارٹم ڈپریشن۔ بچے کی پیدائش کے بعد ہونے والی تبدیلیاں جو موڈ کو بہت بری طرح متاثر کرتی ہیں یہاں تک کے ماں اپنے آپ کو ، اپنے بچے کو اور اپنے اردگرد لوگوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے!

پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے متعلق ایک تفصیلی زوم سیشن کل 6 بجے رکھا گیا ہے۔ تفصیلات کے لئے کمنٹ کیجیے!

مریم امین اعوان

17/05/2026

ہم بطورِ والدین اپنے بچوں سے بہت سی امیدیں رکھتے ہیں ۔ اور وہ توقعات غلط نہیں ہوتی۔

ہم انہیں کامیاب ، مؤدب ، سلیقہ مند ، منظم ، وقت کی باپندی کرنے والا، صفائی پسند ، شعور رکھنے والا، بہترین فیصلہ ساز ، دوسروں کے جذبات سمجھنے والا، دوسروں کی تکلیف سمجھنے والا، دوسروں کی مدد کرنے والا ، دوسروں کی بات ماننے والا، اپنے سے چھوٹوں کا خیال رکھنے والا ،چیزیں بانٹنے والا، دوسروں کے دکھ میں دکھی ہونے والا، دوسروں کی خوشی میں خوش ہونے والا، ہر میدان بہترین کارکردگی دکھانے والا، بہترین سننے والا، بہترین بولنے والا، بردبار، تحمل پسند، صبر کرنے والا، ایک مثالی بچہ ایک مثالی انسان دیکھنا چاہتے ہیں۔

چاہے ان میں سے ایک بھی صلاحیت ہم میں موجود نہ ہو،چاہے یہ سب کی سب ہم میں موجود ہو۔ دونوں صورتوں میں یہ توقعات غلط نہیں ہیں ۔ مگر unrealistic ہونے کے ساتھ ساتھ بچے کی عمر سے بہت زیادہ ہیں!

اپنی توقعات کو جانچیں خود کو اور اپنے بچوں کو ان توقعات کے بوجھ سے ازاد کردیں!

مریم امین اعوان

13/05/2026

زندگی میں کوئی بھی فیصلہ جتنا مشکل ہوتا ہے اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔۔۔ ایسے فیصلوں کو آپ جتنا طوالت کا شکار کریں گے اتنی ہی بے یقینی uncertainty میں اضافہ ہو گا اور یہ اصافہ آپ کے اعتماد کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کے دیگر کاموں کو بھی متاثر کرے گا۔

ہر فیصلے سے پہلے ہر طرح کی متوقع صورتحال کا جائزہ ضرور لیں مگر غیر ضروری التواء سے گریز کریں!

مریم امین اعوان

11/05/2026

اللہ تعالیٰ نے اگر آپ کو آپ کے بچوں کے والدین کے طور پر منتخب کیا ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کے آپ ان کے لئے بہتر فیصلے کر سکتے ہیں ۔۔۔کوشش کیجئے کے اپنے بچوں کے متعلق ہر فیصلہ آپ سوچ سمجھ کر منطقی بنیاد پر کریں نہ کے معاشرے، لوگوں اور جذبات کے دباؤ میں بہہ کر۔۔۔۔

اس کا مطلب یہ بھی نہیں کے والدین کے فیصلے غلط نہیں ہو سکتے لیکن ہاں اگر آپ ایسے والدین میں شمار ہیں جو محاسبہ کرنے اپنی غلطی ماننے اور اس کی تصیح کرنے میں شرمندگی یا غصہ محسوس نہیں کرتے تو آپ کے غلط فیصلے بھی بہتری کے راستے کھول سکتے ہیں۔۔۔

مریم امین اعوان

06/05/2026

بھاگتی دوڑتی زندگی ۔۔۔۔۔
زندگی کے جھمیلے نمٹاتے آپ ۔۔۔۔
کبھی کوئی مسئلہ تو کبھی کوئی الجھن۔۔۔۔
کبھی کوئی ڈیڈ لائن تو کبھی کوئی اور کام۔۔۔۔۔

ایک منٹ رکیں۔۔۔۔
گہرا سانس لیں۔۔۔
خود کو گلے لگائیں۔۔۔
خود کو تھپکی دیں۔۔۔۔
خود کو بس یہ ایک جملہ بولیں:

I believe in you and i know you are trying to do the best..
I love you and i am always here for you....

بس اتنا سا کام تھا!

خیال رکھیں اپنا!

مریم امین اعوان

05/05/2026


اگر آپ اپنی ہنسی کا سامان کرنے کے لئے کسی بچے کا استعمال کرتے ہیں تو یہ بہت ہی بری حرکت ہے۔۔۔

جیسے کے آپ جانتے ہیں کے ایک بچہ اس بات سے پریشان ہوتا ہے کے اسے چھوا جائے مگر آپ بار بار اسے چھوتے ہیں اور جواز یہ دیتے ہیں کے آپ اسے کمفرٹیبل ہونا سکھا رہیں ہیں تو اپ غلط ہیں۔۔۔

آپ جانتے ہیں کے ایک بچہ اونچی آواز سے گھبراتا ہے مگر آپ جان بوجھ کر اس کے اردگرد اونچی آواز میں بولتے ہیں تو آپ کی ہر طویل غلط ہے!

آپ جانتے ہیں کے ایک بچہ حساس ہے آپ اسے جان بوجھ کر ٹرگر trigger کرتے ہیں تو آپ غلط کرتے ہیں۔۔۔

آپ کی وقتی ہنسی بچے کو یا aggressive ہونا سکھاتی ہے یا اپنے احساسات کو دبانا ، ظاہر نہ کرنا ، انہیں فضول سمجھنا اور خود کو validate نہ کرنا سکھاتی ہے!

ایسے میں اگر آپ والدین نہیں تو اس بچے کے والدین بننے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ماں باپ بہتر جانتے ہیں کے بچے کو کیا کب اور کیسے سکھانا ہے اور اگر والدین ہیں تو ایک بات یاد رکھیں

Connection comes before correction!

مریم امین اعوان

04/05/2026

خاموشی تعلقات کو نگل جاتی ہے ۔۔۔۔ اگر دوسری طرف خاموشی بڑھنے لگے تو وقتاً فوقتاً دروازہ کھٹکھٹا کر اس پار کے حالات پوچھ لیا کریں۔۔۔۔
میں یہ نہیں کہہ رہی کے خود کو دوسروں پر مسلط کریں مگر ہاں یہ ضروری ہے کے دیکھ لیا جائے کہ اس پار سب عافیت اور خیریت ہے۔۔۔۔ کچھ لوگ مدد مانگنے سے گھبراتے اور ڈرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو جب مدد درکار ہوتی ہے تو وہ خاموشی کا سہارا لیتا ہے۔۔۔ ایسے میں آپ کی پیش رفت ہمت اور حوصلے کا باعث ہو سکتی ہے!
تعلق نبھانے میں ہمہ وقت ساتھ ہونا لازم نہیں مشکل میں ساتھ ہونا ضروری ہے۔۔۔۔

باؤنڈریز آپ کو یہ نہیں سکھاتی کے جنوین مشکل میں دوسروں کو چھوڑ دیں ہاں یہ ضرور بتاتی ہیں کے اپنی سپیس ضرور بنا کر رکھیں اور اپنی ذہنی و جسمانی صحت کا خیال رکھیں۔۔۔۔

مریم امین اعوان

03/05/2026

کیا آپ نے
Cognitive dissonance
کے متعلق میری پچھلی ریل دیکھی؟
دیکھی تو کیا سیکھا... نہیں دیکھی تو سکرول ڈاؤن اور دیکھیں۔۔۔
اور اس کے متعلق کوئی سوال ہے تو پوچھیں ۔۔۔۔۔

مریم امین اعوان

24/04/2026

"جب بچہ گر کہیں گر جائے ،اور رونے لگے تو اسے چپ کروانے کے لیے، ہم کہتے ہیں دیکھو چیونٹی مر گئی، تمہیں ٹو کچھ نہیں ہوا یا پھر کہتے کہ یہ دیکھو، اس نے تمہیں مارا ابھی میں اس کو مارتی ہوں۔"

یہ ہمارے معاشرے میں بچوں کو چپ کروانے کی سب سے عام مثالیں ہیں، اور بظاہر یہ بہت معصومانہ اور کارآمد لگتی ہیں۔ والدین کا مقصد بچے کی تکلیف کو کم کرنا اور اسے فوراً soothe کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم اسے تھیراپیوٹک کمیونیکیشن اور نفسیات کی عینک سے دیکھیں، تو یہ کئی حوالوں سے نقصان دہ ہے۔

جیسا کہ ہم نے validation کی اہمیت کے متعلق پڑھا تھا، کہ احساسات اور جذبات کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔

جب بچہ گرتا ہے، تو اسے دو چیزیں محسوس ہوتی ہیں:

تکلیف اور ڈر۔

جب ہم کہتے ہیں

"ارے کچھ نہیں ہوا، تم تو بہادر ہو، دیکھو چیونٹی مر گئی"، تو ہم دراصل اس کے اس ڈر اور درد کی مکمل نفی (Invalidate)
کر رہے ہوتے ہیں۔

بچے کا دماغ اس وقت کشمکش میں پڑجاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے، "مجھے تو درد ہو رہا ہے، لیکن میری ماں (یا باپ) کہہ رہے ہیں کہ کچھ نہیں ہوا۔ کیا میرا احساس غلط ہے؟" یہیں سے بچے اپنے ہی جذبات کو سمجھنے اور ان پر اعتبار کرنے کی صلاحیت کھونا شروع کر دیتے ہیں۔

جب ہم فرش، میز یا دروازے کو مارتے ہیں کہ "اس نے میرے بچے کو مارا، لو میں نے بھی اسے مار دیا، اب چپ ہو جاؤ"، تو ہم لاشعوری طور پر بچے کو
victim mentality
سکھا رہے ہوتے ہیں۔

اس سے بچے کی
'Self-Efficacy'
(یعنی اپنے حالات اور افعال پر اپنے کنٹرول کا یقین) مجروح ہوتی ہے۔ ہم اسے عملی طور پر یہ سکھا رہے ہیں کہ جب بھی تمہیں چوٹ لگے یا تم گرو، تو غلطی تمہاری نہیں، بلکہ حالات یا کسی اور چیز کی ہے۔ آگے چل کر یہی مائنڈسیٹ بنتا ہے جہاں انسان اپنی غلطیوں کا الزام دوسروں پر ڈالنے لگتا ہے۔

ایک ماں یا باپ کے طور پر، خاص طور پر جب بچہ سات آٹھ ماہ کا ہو کر crawl کرنا یا پھر گرتے پڑتے چلنا سیکھ رہا ہو، تو یہی وہ وقت ہوتا ہے جب یہ ابتدائی کمیونیکیشن پیٹرنز بن رہے ہوتے ہیں۔
اگر بچہ گر جائے، تو تھیراپیوٹک کمیونیکیشن کے اصولوں کے مطابق ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

فوراً اسے اٹھائیں مگر بغیر چیخے یا اوور ری ایکٹ کیے۔۔ آہستگی سے اٹھائیں وہ اگر اٹھ نہیں رہا تو اس کے ساتھ بیٹھیں۔

اسے گلے لگائیں اور کہیں:
"اوہ، کیا تمہیں چوٹ لگی؟ مجھے دکھاؤ کہاں لگی ہے۔۔کہاں درد ہو رہا ہے میرے بیٹے کو۔۔۔" یہاں آپ اس کے درد کو validate
کر رہے ہیں۔ آپ اسے بتا رہے ہیں کہ اس کا ڈرنا اور درد محسوس کرنا بالکل نارمل ہے اور آپ اس کے ساتھ ہیں۔

جب وہ چپ ہو جائے، تو اسے اصل وجہ بتائیں
(بغیر طنز کے): "تم تیزی سے چل رہے تھے اور توازن بگڑ گیا، اس لیے گر گئے۔ آئندہ ہمیں دھیان سے چلنا ہوگا۔"

یا جو بھی وجہ ہو۔

اس طرح بچہ سیکھتا ہے کہ اپنے درد کو کیسے accept کرنا ہے، اور اپنی حفاظت کی ذمہ داری کیسے لینی ہے۔ سب سے بڑھ کر، وہ جان جاتا ہے کہ اس کے احساسات سچے ہیں، اور سنے جا رہے ہیں۔

۔
۔
۔
مریم_حنین

Address

Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Counsellor posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to The Counsellor:

Share

Category