The Counsellor

The Counsellor Clinical Psychologist, Parenting Coach, Relationship Coach, Speech and Language Therapist, Writer !
(1)

I am Maryam Amin Awan , clinical psychologist, child counselor, speech and language therapist, I deal with various psychological issues including Children behavioral and emotional problems, speech delay in children, parent and child relationship, relationship issues (marital and others) family counseling, depression, stress, anxiety carrer counseling and much more...
U can read various informative articles here on my page plus get a one on one session too..

02/01/2026

جن کو غصہ زیادہ آتا ہے انہیں یہ حکایت یاد رکھنی چاہیے۔

خالی کشتی 🛶
(بدھ مت کی قدیم اخلاقی کہانی )

ایک بھکشو نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی خانقاہ سے نکل کر کہیں دور اکیلا مراقبہ کرے گا۔ اس نے ایک کشتی بنائی اور جھیل کے وسط میں جا کر ٹھہر گیا۔

اس نے پوری توجہ سے اپنے نفس کے احوال پر نظر کی اور آنکھیں بند کر کے مراقبہ و گیان میں مشغول ہو گیا۔ چند گھنٹے وہ اسی کیفیت میں گم رہا مگر پھر اسے اچانک ایک اور کشتی کی آواز سنائی دی جو تیرتے ہوئے اس کی کشتی سے ٹکڑا رہی تھی۔

بند آنکھوں کے ساتھ اس نے محسوس کیا کہ اس کے اندر غصے کا احساس پیدا ہو رہا ہے ، وہ آنکھیں کھول کر اپنا سکون غارت کرنے والی کشتی کے ملاح پر چلاّنے ہی لگا تھا کہ اس نے دیکھا کہ کشتی تو بالکل خالی ہے اور پاس کہیں کوئی ناخدا بھی نہیں ہے۔

لنگر ٹوٹنے کے بعد وہ کہیں کنارے سے بہہ نکلی تھی۔ یہ ماجرا دیکھ کر اسے ادراک ہوا کہ غصہ تو اس کے اپنے نفس کے اندر ہے بس کسی خارجی وجود کے ٹکڑاؤ کی دیر ہے اور اس کا سارا اشتعال باہر نکل آتا ہے۔ چناچہ اس نکتے کو دماغ میں بٹھا کر وہ واپس خانقاہ چلا گیا۔

اور اس کے بعد اپنی پوری زندگی اگر کبھی بھی وہ کسی ایسے انسان سے ملا جس کی بات یا حرکت پر اسے غصہ محسوس ہوا تو وہ اطمینان سے اپنے نفس میں یہ مذاکرہ کرتے ہوئے خاموش رہا کہ دوسرا شخص محض ایک خالی کشتی ہے ، غصہ خود میری اپنی ذات میں ہے۔۔۔۔۔۔۔

~حنظلہ خلیق

31/12/2025

2025
کے اختتام پر اپنے لئے ایک پیغام!

30/12/2025

یہ بات سمجھ لینا بہت ضروری ہے کہ بچوں کے
جوتے خود پالش کرنا، انہیں خود جرابیں پہنانا، کھانا لا کر پیش کرنا، اور ان کے گندے برتن خود اٹھانا،ایک بچپن کی عمر کے بعد بالکل ختم کر دینا چاہے کیونکہ اُن کے بڑے ہونے کے بعد پھر یہ توقع رکھنا کہ وہ عملی زندگی میں ذمہ دار انسان بنیں گے—محض ایک خوش فہمی ہے۔

ماں بنیں، ملازم نہیں۔
آپ کھانا ضرور پکائیں، مگر پلیٹ کچن سے اٹھا کر میز تک لانا بچوں کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ کھانے کے بعد گندے برتن واپس کچن میں رکھنا بھی وہی سیکھیں؛ آپ چاہیں تو انہیں دھو دیں، مگر ذمہ داری کا احساس انہی کے اندر پیدا ہو گا۔ زیادہ سے زیادہ 7 یا 8 سال کی عمر کے بعد بچے اپنے کام خود کریں اور اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لیے دوسروں پر انحصار نہ کریں۔

یاد رکھیے، ذمہ داری سکھائی جائے تو ہی آتی ہے۔
بچوں کو ہر کام میں سہولت دے کر، ہر مشکل سے بچا کر، ہم دراصل ان کے لیے ایک کمزور اور خود غرض شخصیت تیار کر رہے ہوتے ہیں۔ پھر یہی لاڈ آگے چل کر بدتمیزی، ضد، نافرمانی اور بدزبانی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ابتدا میں تھپڑ، اور بعد میں زبانیں کھلنے پر گالیاں—یہ سب اسی غلط پرورش کا تسلسل ہے۔

اولاد یقیناً اللہ کی عظیم نعمت ہے، مگر نعمت وہی ہے جو تابع دار اور بااخلاق ہو۔
نافرمان، خود سر اور بے لگام اولاد کو دنیا کے حوالے کر کے جانا کسی صورت دانش مندی نہیں۔ حتیٰ الامکان ان کی غلطیوں پر مزاحمت کریں، انہیں روکیں، سمجھائیں، اور اصول سکھائیں۔

جس طرح آپ محبت سے ان کی سالگرہوں، کامیابیوں اور خوبصورت لمحات کا ریکارڈ محفوظ رکھتی ہیں، اسی طرح ان کی نافرمانیوں، بدتمیزیوں اور غلط رویّوں کا بھی ایک ذہنی ریکارڈ رکھیں۔
کل جب یہی بچے اپنی بیوی، شوہر یا اولاد سے اطاعت اور فرمانبرداری کا مطالبہ کریں گے، تو یہ تربیت—یا اس کی کمی—ان کے سامنے آئینہ بن کر کھڑی ہو جائے گی۔

اچھی ماں وہ نہیں جو ہر کام خود کر دے،
بلکہ وہ ہے جو اپنے بچوں کو اچھا انسان بننے کا سلیقہ سکھا دے۔ نرمی اور صلہ رحمی بھی سکھائے اور رشتہ داروں ، دوستوں سے ملنے کے آداب سکھائے۔ جو بچے صِرف اپنے موڈ کے تابع رہنےکے عادی بن جاتے ہیں ، وہ خود غرض ترین انسان کا روپ دھار کر جوان ہوتے ہیں۔

بچوں کے ملازم کبھی ان کے ماں باپ نہیں بن سکتے۔ ماں باپ بنیں ،خدمت کرنا سکھائیں تاکہ ان کے کردار اور روئیے تعمیر ہوں۔

(Dr.A. Khan)

25/12/2025

سوال پوچھیں!

24/12/2025

لوگوں کی آپ کے بارے میں کی گئ تلخ اور منفی باتیں درحقیقت آپ کے لئے نہیں ہوتی وہ انہی کی لاحاصل خواہشات ، محرومیوں ، لو سلف اسٹیم اور عزت نفس کے فقدان کو ظاہر کر رہی ہوتی ہیں۔۔۔ اگلی بار جب آپ کو کسی کی باتوں سے تکلیف ہونے لگے تو کہنے والے کی تکلیف کا اندازہ لگانے کی کوشش کریں ایسا کرنے سے آپ کے دکھ اور تکلیف میں کمی آئے گےاور ساتھ ہی ساتھ ہو سکتا ہے آپ کے پاس ایسے الفاظ بھی آجائے جو کہنے والےکی تکلیف کا مداوا کر سکیں اور اس کے لیے مرہم بن سکیں ۔۔۔

مریم امین اعوان
۲۴ دسمبر ۲۰۲۵

22/12/2025

کس بارے میں لکھا جائے؟

17/12/2025
03/12/2025

جب تعلقات میں محبت، عزت، وفا، خلوص ، احساس، حیا، بھرم اور مان ختم ہو جائیں تو تعلقات چاہے جتنے بھی گہرے اور قریبی ہو فاصلے ہمیشہ باقی رہتے ہیں!

اور تعلقات میں فاصلہ زندگی کے بڑے خساروں میں سے ایک ہے!
مریم امین اعوان
3 Decmber 2025

02/12/2025

اپنی زندگی کے پچھلے چند سالوں کو پلٹ کر دیکھتی ہوں تو شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کے وقت کیسے گزر گیا ، کیا کچھ سکھا گیا اور کیا کچھ ساتھ بہہ گیا۔۔۔
کتنا کچھ بدل گیا ۔۔۔
لوگ
رشتے
دوست
ترجیحات
زندگی
گولز
عادات

شاید سب کچھ ۔۔۔۔!!

وہ لوگ جن کے بارے میں کبھی یہ سوچتی تھی کے یہ نہ ہوئے تو میں سروائیو نہیں کر سکوں گی نجانے وہ سب کب اور کہاں کھو گئے۔۔۔۔!!

جن لوگوں کے بارے میں یہ گمان تھا کے میں ان کی زندگی سے نکل گئ تو یہ لوگ غم سے نڈھال ہو جائیں گے ( کے میں ان کے لئے اتنی اہمیت کی حامل ہوں) نجانے کب میرے سارے اندازوں کو غلط ثابت کرتے الگ ہو گئے ۔۔۔!!

جن لوگوں کے لئے اپنے آپ کو پیچھے رکھا یہ سوچ کر کے کوئی بات نہیں وہ اس بات کی قدر کرے گے کتنے سفاک نکل آئے ۔۔!!

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں نا کے آپ ان کے حصے کی روٹی ہی ان کو دیں تو وہ اس پر بھی آپ کے مشکور ہوتے ہیں اور کچھ کو آپ پنے منہ کا نوالہ بھی دے دیں تب بھی وہ اپ کی قدر نہیں کرتے ۔۔!!

سنیں!
یہ لوگ صرف آپ کی زندگی میں نہیں ہیں ہم سب زندگی میں ایسے لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہو جاتے ہیں ۔۔۔ یہ نا ہی گبھرانے کی بات ہے نہ پریشان ہونے کی۔۔۔
بس خوشی کی بات یہ ہے کے سب جہاں ہیں خوش اور مطمئن ہیں ۔۔۔!! اور میں جہاں ہوں مخلص لوگوں کے ساتھ ہوں!

مریم امین اعوان

10/11/2025

السلام علیکم ۔۔۔۔
صبح بخیر زندگی۔۔۔!!

آپ کی نجی زندگی، سوشل (سماجی) زندگی اور پروفیشنل زندگی میں اتنا ہی باریک فرق ہے جتنا کے دو بالوں میں ۔۔۔۔
مگر اس فرق کو سمجھنا اور پھر اس فرق کا قائم رکھنا بہت اہم ہے۔۔۔

یہ فرق جہاں آپ کو بہت سے مسائل سے بچائے گا وہاں ہی کئ اور لوگوں کی زندگی کے مسائل کو بھی کم کرے گا۔۔۔

آپ نے کس کو کیا بتانا اس کو فلٹر کیجئے ۔۔۔ ہر بات کی تشہیر ضروری نہیں۔۔۔

میچورٹی کا ایک لیول یہ بھی ہے کے آپ اس فرق کو سمجھے اور اپنی زندگی میں اس کا اطلاق کریں ۔۔۔۔

مریم امین اعوان

Address

Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Counsellor posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to The Counsellor:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category