Healing Souls

Healing Souls Registered Behavior Therapist
Best Psychologist in Multan
Top Rated psychologist on oladoc
Internee's Trainer

13/04/2026

بےچاری خواتین ،عمومی طور پر دنیا بھر کی اور خصوصی طور پر پاکستانی وہندوستانی خواتین کی قسمت میں کس قسم کے مرد لکھ دیے گئے ہیں کہ انہیں کبھی سکون کا سانس لینا نصیب ہی نہیں ہوتا۔
مطلب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرد ایک مکمل بالغ، عقلمند، سمجھدار انسان نہیں ہیں بلکہ ایک غیر قابوشدہ ، بےمہار ، بےلگام اور وحشی جنگلی قسم کی کوئی مخلوق ہیں جنہیں اپنے جزبات پر رتی بھر قابو نہیں ہے۔ نا غصہ ان کے قابو میں ہے نا ان کی ہوس اور جنسی خواہشات ان کے قابو میں ہیں۔ اور ان دونوں چیزوں کے لیے ہی خواتین ذمےداری ہیں۔ یعنی مرد کو غصہ نا دلائیں تاکہ وہ بے قابو نا ہو۔ اور مرد کے سامنے کسی جوان یا خوبصورت عورت کو بھی نا آنے دیں تاکہ وہ بے چارہ ،معصوم بے قابو ہو کر بہک نا جائے۔

یعنی مرد کے ایک نارمل سمجھدار انسانوں کی طرح برتاؤ کرنے کی ذمےداری اس کی اپنی زات پر نہیں بلکہ اس کے خاندان کی عورتوں پر ہے۔ مرد کو شریف اور مہذب رکھنا عورت کی ذمےداری ہے مرد کے اختیار میں ہی نہیں؟

تو مرد کاہے کا صنف آہن ، صنف کرخت ، مضبوط ، منطقی اور لیڈر ہوا؟ جس کا خود پر اپنے جزبات پر اختیار ہی نہیں وہ لیڈر بننے لائق ہے؟
پر نہیں کمزور اور جزباتی تو عورت ہوتی ہے ۔ ہے نا؟ 😂😂😂

12/03/2026

ہاسٹل میں ایک بار افطاری کے وقت مجھے دیر ہو گئی. میس میں پہنچی تو پتا چلا کہ افطاری میں پکوڑے تھے، لیکن تقریباً ختم ہو چکے ہیں. انکل نے مجھے پلیٹ میں جو نکال کر دیے وہ پکوڑے کم اور بکھرا ہوا بیسن کا مصالحہ زیادہ لگ رہا تھا.

میں نے شکریہ کے ساتھ واپس کر دیے. انکل نے ہنستے ہوئے بڑی شفقت سے کہا کہ: بیٹا لے لو. اب روزہ تو کھولنا ہے نا. لڑکیوں کو تو یہ بیسن مصالحہ اتنا پسند ہوتا ہے. آپ واپس کر رہی ہو." انہیں تو یہ کہہ کر میں واپس آ گئی کہ میرے پاس روزہ کھولنے کے لیے کھجوریں ہیں لیکن میں نے بعد میں سوچا تھا کہ اگر باقی لڑکیاں وہ لے سکتی ہیں تو میں نے بھلا کیوں نہیں لیا تھا؟؟ میں بھی تو روزہ افطار کرنے کے لیے وہ لے ہی سکتی تھی. لیکن اس کا جواب مجھے کچھ عرصہ بعد ملا.

ریلیشن شپ سائیکالوجی میں "بریڈ کرمب تھیوری" ہے. بریڈ کرمب تھیوری کو آسان الفاظ میں سمجھیں تو وہ یہ ہے کہ آپ کو بھوک لگ رہی ہے. آپ کے دوست کے پاس پورا بریڈ ہے. لیکن وہ آپ کو پورا بریڈ نہیں دیتا، اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے دیتا ہے. ان ٹکڑوں سے آپ کی بھوک ختم نہیں ہوتی. لیکن آپ کے پاس چونکہ کوئی آپشن نہیں ہے تو آپ اس دوست کو چھوڑ بھی نہیں سکتے، کیونکہ کم ہی سہی لیکن کھانا تو اسی کے پاس ہے. اور آپ بس وہ ٹکڑے کھا کر بھی اسے مسیحا سمجھتے ہیں کہ کم از کم مجھے کچھ دے تو رہا ہے. اسے بریڈ کرمب تھیوری کہتے ہیں.

یہ تھیوری ان لوگوں کے بارے میں ہے جو انتہائی کم چیز ملنے پر بھی نہایت خوش ہوتے ہیں، لیکن یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہوتا کہ وہ شکر گزار رویے کے حامل ہیں. یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ وہ خود کو اس قابل ہی نہیں سمجھتے کہ انہیں کچھ اچھا یا بہترین مل سکتا ہے یا ملنا چاہیے. ہم میں سے بہت سے لوگ اس رویے کا شکار ہوتے ہیں. اور اپنے اردگرد کے کچھ لوگوں کے ساتھ ہمارا "بریڈ کرمبنگ" والا تعلق ہوتا ہے.

میں نے کچھ عرصہ پہلے جنک فوڈ پر بھی ایک تحریر لکھی تھی کہ جب انسان بھوکا ہوتا ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ سامنے پڑا کھانا ہائی جینک ہے یا جنک فوڈ ہے. وہ سامنے دستیاب اور میسر ہر طرح کی چیز کھا لیتا ہے، چاہے وہ بعد میں اسے نقصان پہنچائے. اور جو لوگ رشتوں اور تعلقات میں بھوک کا شکار ہوتے ہیں، وہ سامنے موجود ہر دستیاب اور میسر انسان کو اپنا سمجھ لیتے ہیں، اور اس کی ہر ٹاکسٹی کو بھی برداشت کرتے ہیں. بس اس خوف سے کہ کہیں وہ اکیلے نہ رہ جائیں.

یہی اکیلے رہنے کا خوف اور محبت کی بھوک انسان کو بریڈ کرمنگ کی طرف بھی لے کر جاتی ہے. جس میں سامنے والے سے بس اتنی توجہ ملتی ہے کہ انسان جیتا رہے، اور ہم لوگ اسی میں خوش ہو جاتے ہیں. وہ توجہ اور محبت اتنی کم ہوتی ہے کہ انسان کو سیراب نہیں کرتی، اس کی بھوک نہیں مٹاتی. لیکن انسان پھر بھی سامنے والے کو چھوڑنا نہیں چاہتا کہ کم از کم "کچھ" تو مل رہا ہے. اور اتنا کم ملنے پر بھی اسے سامنے والا مسیحا لگتا ہے جس نے اسے کبھی چھوڑا نہیں، اسے اکیلا ہونے سے بچایا ہے.

رشتوں میں، تعلقات میں یہ معاملہ زیادہ عرصہ رہے تو آہستہ آہستہ انسان کے اندر سے سیلف اسٹیم ختم ہونے لگتی ہے. اسے لگتا ہی نہیں کہ وہ بھی کسی چیز کا مکمل ، بلاشرکت غیرے حق دار ہو سکتا ہے. اسے بھی کوئی بہترین چیز مل سکتی ہے. اس کے ساتھ بھی کوئی بغیر کسی وجہ کے رہ سکتا ہے. پھر انسان کی خود سے محبت ختم ہوتی ہے اور وہ بالکل ہی دوسروں کے رحم و کرم پر جینے لگتا ہے. توجہ مل گئی تو شکرانے سے شرابور ہو گئے. سامنے والے کے قدموں میں بیٹھ گئے. نہ ملی تو کھڑکیوں سے جھانکتے رہے کہ کب کوئی اس طرف نظرِ التفات کرے گا. اور رفتہ رفتہ انسان بریڈ کرمبز سے زندہ رہنے کے بعد خود ایک بریڈ کرمب کا ٹکڑا بن جاتا ہے. جس کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، چاہو تو ہوا میں اچھال دو، چاہو تو پیروں کے نیچے روند دو.

اور بریڈ کرمب پر مطمئن رہنے کی عادت انسان کو تب پڑتی ہے، جب وہ اپنے بارے میں کبھی فرصت سے بیٹھ کر سوچتا ہی نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے. کیوں کر رہا ہے. میرے خود سے پوچھے گئے اس سوال کا جواب یہ تھا کہ ہاسٹل میں پکوڑوں کا بیسن والا مصالحہ لینے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا. بہت سی لڑکیوں نے لیا بھی ہوگا، لیکن میں نے اس لئے نہیں لیا تھا کیونکہ مجھے پتا تھا کہ آئی ڈیزرو مکمل پکوڑے. اور میں اس سے کم پر کمپرومائز نہیں کروں گی. چاہے بھوکا رہنا پڑے یا کسی اور چیز سے گزارا کرنا پڑے.

بہت سے لوگ "اتنی چھوٹی سی بات" پر سوچتے ہی نہیں. اور لاشعوری طور پر اپنے دماغ کو یہ سگنل دیتے ہیں کہ ہمیں کچھ بھی مل جائے، اٹس اوکے. ہمیں قبول ہے. پھر ان کا دماغ ان کے ارد گرد کے ماحول سے کچھ اچھا ڈھونڈنے کی بجائے انہیں ہمیشہ "کچھ بھی" دکھاتا ہے اور اس "کچھ بھی" پر ہی انہیں مطمئن رہنے کا بھی کہتا ہے.

اس لئے ،
اپنی زندگی کی انتہائی معمولی اور چھوٹی باتوں پر رک کر سوچا کریں کہ میں نے جو یہ کیا ہے، کیوں کیا ہے. اس کے پیچھے میرا دماغ کیا سوچ رہا تھا.
آپ کے پاس بہترین چیز خریدنے کے پیسے نہ ہوں تو سستی چیز مت خریدا کریں.
آپ کو بھوک لگ رہی ہو تو انتظار کر لیا کریں، لیکن غیر صحتمند جنک فوڈ مت کھایا کریں.
بہترین کپڑے پہنیں ، بہترین چیزیں خریدیں اور بہترین لوگوں کو دوست بنائیں.

بریڈ کرمبز پر زندہ نہ رہیں. توجہ کے چھوٹے چھوٹے ٹکروں سے مت بہلیں. آپ پورا بریڈ اور پوری توجہ اور محبت ڈیزرو کرتے ہیں، خود پر بھروسہ رکھیں.

فِلافطین

26/02/2026
24/02/2026

اگر آپ کسی شادی شدہ مرد سے پوچھیں:
"کیا چیز تمہیں اپنی بیوی میں سب سے زیادہ پسند ہے؟ اور تم دونوں اتنے سالوں سے ساتھ کیسے چل رہے ہو؟"

تو وہ یہ نہیں کہے گا کہ "کیونکہ اس کی آنکھیں نیلی ہیں، یا وہ بہت گوری ہے، یا اس کے بال سنہری اور سیدھے ہیں، یا اس کا قد لمبا ہے۔"
بلکہ وہ کہے گا:
"کیونکہ وہ مجھے سکون دیتی ہے، میری بات سنتی ہے، میری عزت کرتی ہے، میرا لحاظ رکھتی ہے، میرے مشقت کی قدر کرتی ہے، میری عزت کی حفاظت کرتی ہے، اور ہر حال میں صبر اور شکر کرتی ہے۔"

یہ وہ چیزیں ہیں جو حقیقی محبت اور مضبوط رشتے کی بنیاد بنتی ہیں۔
ظاہری خوبصورتی وقت کے ساتھ بدل جاتی ہے، لیکن روح کی خوبصورتی، اخلاق، اور محبت کبھی پرانی نہیں ہوتی۔

نیک سیرت عورت کو چن لو، تم کامیاب رہو گے
کیونکہ بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔

13/01/2026

سچ، جھوٹ اور سماجی فریب کی نفسیات

نومبر 2016۔ نیویارک کا مشہور ہوٹل بیکمین۔ ریسپشن پر ایک نوجوان لڑکی کھڑی ہے۔ اس کا نام اینا ڈیلوی ہے۔ لمبے سنہرے بال۔ ڈیزائنر کپڑے۔ پراڈا کا بیگ۔ سیلین کے جوتے۔ اس کا بل ہے گیارہ ہزار آٹھ سو اکتالیس ڈالر۔ چھ ہفتوں کا۔

ریسپشنسٹ کہتا ہے آپ کا کریڈٹ کارڈ کام نہیں کر رہا۔

اینا پرسکون آواز میں کہتی ہے میرا بینک ٹرانسفر آ رہا ہے۔ میرے ٹرسٹ فنڈ سے۔ جرمنی سے۔ دو تین دن لگتے ہیں۔

ریسپشنسٹ کچھ کہنا چاہتا ہے لیکن اینا کا اعتماد دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہے۔ یہ لڑکی اتنی confident ہے۔ اتنی composed۔ یقیناً یہ امیر ہے۔

لیکن وہ نہیں تھی۔

اینا ڈیلوی کا اصل نام تھا اینا سوروکن۔ وہ جرمنی کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک ٹرک ڈرائیور کی بیٹی تھی۔ اس کے پاس کوئی ٹرسٹ فنڈ نہیں تھا۔ کوئی وراثت نہیں تھی۔ لیکن اس نے نیویارک کے امیر ترین لوگوں کو یقین دلا دیا کہ وہ ان میں سے ایک ہے۔

کیسے؟

یہی اس مضمون کا موضوع ہے۔

اینا کی کہانی صرف ایک دھوکے کی کہانی نہیں۔ یہ ایک مطالعہ ہے کہ کیسے کوئی شخص سماجی مہارتوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ کیسے دوستی، ملنساری، اور اعتماد کو جال بنایا جا سکتا ہے۔

اینا نے چار سال میں نیویارک کے بینکوں، ہوٹلوں، دوستوں، اور کاروباری لوگوں سے تقریباً دو لاکھ پچاس ہزار ڈالر لیے۔ اس نے پرائیویٹ جہاز استعمال کیے۔ فائیو سٹار ہوٹلوں میں رہی۔ امیر لوگوں کی پارٹیوں میں گئی۔ اور سب کو لگتا تھا وہ ان میں سے ایک ہے۔

سنہ 2017 میں جب پولیس نے اسے گرفتار کیا تو اس کے دوست حیران تھے۔ انہوں نے کہا لیکن اینا تو اتنی اچھی تھی۔ اتنی generous۔ ہم سب اسے پسند کرتے تھے۔یہ ہے سماجی شکاری کی طاقت۔

جب اینا سنہ 2013 میں نیویارک آئی تو وہ کوئی نہیں تھی۔ ایک جرمن لڑکی جو فیشن انڈسٹری میں انٹرن تھی۔ کوئی پیسہ نہیں۔ کوئی connections نہیں۔

لیکن اس کے پاس ایک منصوبہ تھا۔

اس نے سب سے پہلے اپنی شخصیت بنائی۔ اینا سوروکن نہیں۔ اینا ڈیلوی۔ ایک جرمن وارث۔ جس کے والد کے یورپ میں بڑے کاروبار ہیں۔ جس کا ساٹھ ملین ڈالر کا ٹرسٹ فنڈ ہے۔

لیکن صرف نام بدلنا کافی نہیں تھا۔ اینا نے ہر تفصیل سوچی۔

اس نے ڈیزائنر کپڑے پہننا شروع کیے۔ شروع میں جعلی۔ پھر جب تھوڑا پیسہ آیا تو حقیقی۔ اس نے اپنا لہجہ بدلا۔ تھوڑا سا یورپین accent۔ نہ بہت زیادہ، نہ بہت کم۔ بالکل ٹھیک۔

اس نے اپنی body language پر کام کیا۔ کیسے چلنا ہے۔ کیسے بیٹھنا ہے۔ کیسے کسی کو دیکھنا ہے۔ وہ ویڈیوز دیکھتی تھی امیر لوگوں کی۔ اور نقل کرتی تھی۔

اور سب سے اہم اس نے اپنا confidence بنایا۔ اینا کبھی nervous نہیں ہوتی تھی۔ کبھی شک میں نہیں لگتی تھی۔ وہ ہمیشہ یقین سے بولتی تھی۔

نفسیات دان کہتے ہیں کہ انسان confidence کو competence سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی شخص confident ہے تو ہم سوچتے ہیں کہ وہ جانتا ہے۔ وہ قابل ہے۔ وہ genuine ہے۔

اینا نے یہ جانا تھا۔ اور اس نے اسے استعمال کیا۔

جب وہ کسی ہوٹل میں جاتی تو کبھی نہیں پوچھتی کیا میں یہاں رہ سکتی ہوں؟ وہ کہتی میرا کمرہ تیار ہے؟ فرق محسوس کرو۔ پہلے میں وہ permission مانگ رہی ہے۔ دوسرے میں وہ فرض کر رہی ہے کہ یہ اس کا حق ہے۔

یہ ہے پہلی تکنیک۔ ایک پرفیکٹ شخصیت بنانا۔ ہر تفصیل پر کام کرنا۔ اور پھر اس شخصیت میں مکمل طور پر رہنا۔

اینا جانتی تھی کہ کہاں جانا ہے۔ وہ صرف امیر علاقوں میں رہتی تھی۔ سوہو۔ ٹرائبیکا۔ چیلسی۔ وہ مہنگے ریستورانوں میں جاتی۔ Le Coucou۔ Balthazar۔ Sadelle's۔

کیوں؟ کیونکہ وہاں امیر لوگ ہوتے ہیں۔ اور امیر لوگ دوسرے امیر لوگوں کو قبول کرتے ہیں۔

اینا نے ایک اور چالاک کام کیا۔ وہ ہمیشہ ان لوگوں کے ساتھ رہتی جو پہلے سے established تھے۔ فوٹوگرافر۔ فیشن ڈیزائنر۔ آرٹسٹ۔ یہ لوگ پہلے سے ہی نیویارک کی سوسائٹی میں تھے۔

جب دوسرے لوگ اینا کو ان کے ساتھ دیکھتے تو سوچتے یہ لڑکی کون ہے؟ لیکن یہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جنہیں ہم جانتے ہیں۔ تو یقیناً یہ بھی ٹھیک ہے۔

یہ ہے سوشل پروف کی طاقت۔ ہم لوگوں کو ان کی company سے judge کرتے ہیں۔ اینا نے یہ سمجھا اور استعمال کیا۔

وہ ان جگہوں پر جاتی جہاں لوگ تصاویر لیتے ہیں۔ جہاں سوشل میڈیا پر post ہوتا ہے۔ اور آہستہ آہستہ اس کی online presence بنتی گئی۔

لوگ اس کے انسٹاگرام پر دیکھتے۔ پرائیویٹ جیٹ میں۔ مراکیش کی تعطیلات میں۔ مہنگے ریستوران میں۔ اور سوچتے یقیناً یہ امیر ہے۔

لیکن حقیقت؟ وہ جیٹ اس کی نہیں تھی۔ وہ سفر کسی دوست نے pay کیا تھا جسے اس نے بعد میں دھوکہ دیا۔ وہ کھانے کے پیسے نہیں دیتی تھی۔

اینا لوگوں سے ملتی تو ایک خاص طریقہ استعمال کرتی۔ وہ پوری توجہ دیتی۔ اپنا فون نہیں دیکھتی۔ آنکھوں میں دیکھ کر بات کرتی۔ سوالات پوچھتی۔

لیکن یہ سوالات بھی خاص تھے۔ وہ لوگوں سے ان کی دلچسپیوں کے بارے میں پوچھتی۔ ان کے کام کے بارے میں۔ ان کے خوابوں کے بارے میں۔

اور جب لوگ بولتے تو وہ ایسے سنتی جیسے دنیا میں صرف یہ بات اہم ہے۔

اینا کی ایک دوست ریچل نے بعد میں کہا جب اینا تم سے بات کرتی تھی تو لگتا تھا کہ تم دنیا کی سب سے دلچسپ انسان ہو۔
یہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔ یہ تکنیک تھی۔

نفسیات کی تحقیق بتاتی ہے کہ جب کوئی ہماری بات توجہ سے سنتا ہے تو ہمارے دماغ میں dopamine خارج ہوتا ہے۔ ہمیں اچھا لگتا ہے۔ ہمیں وہ شخص پسند آتا ہے۔

اور اینا نے یہ ہر کسی کے ساتھ کیا۔ ہوٹل کے ملازمین سے لے کر بڑے بزنس مینوں تک۔ سب کو لگتا تھا کہ اینا انہیں خاص سمجھتی ہے۔

لیکن حقیقت؟ اینا کسی کو خاص نہیں سمجھتی تھی۔ وہ صرف ڈیٹا جمع کر رہی تھی۔ یہ شخص کیا چاہتا ہے؟ اس کی کیا کمزوری ہے؟ میں اسے کیسے استعمال کر سکتی ہوں؟

اینا کی سب سے زبردست تکنیک یہ تھی کہ وہ بہت generous لگتی تھی۔ وہ ہمیشہ بل pay کرنے کی پیشکش کرتی۔ ہمیشہ بڑی tip دیتی۔ ہمیشہ دوستوں کے لیے تحفے لاتی۔

لیکن اصل میں؟ اس نے کبھی پیسے نہیں دیے۔

یہ کیسے ممکن تھا؟

اینا نے ایک بہترین تکنیک سیکھی تھی۔ جب bill آتا تو وہ فوری اپنا کریڈٹ کارڈ نکالتی۔ لیکن کارڈ کام نہیں کرتا۔ وہ شرمندہ ہوتی۔ اتنی معذرت کرتی۔ میرا بینک پھر سے کچھ کر رہا ہے۔ میں کل دوں گی۔

اور دوست کہتے کوئی بات نہیں۔ میں دیتا ہوں۔

کل کبھی نہیں آتا تھا۔

اینا کی دوست ریچل نے سنہ 2017 میں نیویارک میگزین کو بتایا کہ اینا نے اس سے اکسٹھ ہزار ڈالر لیے۔ ایک مراکیش کے سفر میں۔

ریچل کہتی ہے اینا نے وعدہ کیا تھا کہ وہ سارے پیسے دے گی۔ اس کا wire transfer آ رہا ہے۔ لیکن ہر دن کوئی نہ کوئی بہانہ۔

اور سب سے بری بات؟ جب ریچل نے پیسے مانگے تو اینا ناراض ہو گئی۔ کیسے تم پیسوں کی بات کر رہی ہو؟ کیا یہی دوستی ہے؟

یہ ہے emotional manipulation۔ قصوروار بننے والا قصوروار محسوس کرانے لگتا ہے۔

اینا صرف یونہی پیسے نہیں لے رہی تھی۔ اس کے پاس ایک کہانی تھی۔ ایک بڑا خواب۔

وہ نیویارک میں ایک پرائیویٹ آرٹ کلب کھولنا چاہتی تھی۔ اے ڈی ایف۔ Anna Delvey Foundation۔ یہ ایک جگہ ہوگی جہاں آرٹسٹ، فوٹوگرافر، ڈیزائنر مل سکیں۔ جہاں تخلیقی کام ہو۔

یہ سن کر لوگ متاثر ہوتے۔ کیا شاندار خیال ہے۔ کتنی visionary لڑکی ہے۔

اینا نے اس پروجیکٹ کے لیے بینکوں سے قرضہ لینے کی کوشش کی۔ بیس سے بائیس ملین ڈالر۔ اس نے business plans بنوائے۔ آرکیٹیکٹ hire کیے۔ lawyers رکھے۔

کچھ بینکوں نے تقریباً ہاں کر دیا تھا۔ لیکن آخری لمحے میں جب verification ہوئی تو سب کھل گیا۔

لیکن اس بڑے خواب نے ایک کام کیا۔ اس نے اینا کو legitimacy دی۔ لوگ سوچتے تھے یہ صرف ایک امیر لڑکی نہیں جو پیسے اڑا رہی ہے۔ یہ ایک entrepreneur ہے۔ ایک visionary ہے۔

اور جب اینا پیسے نہیں دیتی تو کہتی میرا سارا پیسہ اس پروجیکٹ میں لگا ہوا ہے۔ جب یہ شروع ہوگا تو میں سب کو واپس کروں گی۔

یہ ہے long con کی تکنیک۔ ایک بڑا جھوٹ جو چھوٹے جھوٹوں کو سچ بنا دیتا ہے۔

اینا کی سب سے حیران کن مہارت یہ تھی کہ وہ ہر کسی کے ساتھ مختلف تھی۔

جب وہ finance کے لوگوں سے ملتی تو business کی باتیں کرتی۔ ROI، market trends، investment strategies۔

جب آرٹسٹوں سے ملتی تو فن کی باتیں۔ کون سا gallery اچھا ہے۔ کون سا فنکار underrated ہے۔

جب فیشن لوگوں سے ملتی تو ڈیزائنرز اور برانڈز۔

کیسے؟ اس نے homework کیا تھا۔ اینا گھنٹوں research کرتی۔ articles پڑھتی۔ ویڈیوز دیکھتی۔ اور پھر جب وہ کسی سے ملتی تو لگتا تھا وہ expert ہے۔

لیکن یہ صرف سطحی علم تھا۔ اگر کوئی گہرائی میں جاتا تو اینا موضوع بدل دیتی۔

سنہ 2018 میں جب اینا کا trial ہو رہا تھا تو ایک psychiatrist نے اس کا جائزہ لیا۔ اس نے کہا اینا میں antisocial personality disorder کی علامات ہیں۔ وہ دوسروں کو objects کی طرح دیکھتی ہے۔ جنہیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

لیکن اینا کی ایک اور خوبی تھی۔ وہ سیکھتی بہت جلدی تھی۔ وہ observe کرتی اور copy کرتی۔ کیسے امیر لوگ بات کرتے ہیں۔ کیسے وہ چلتے ہیں۔ کیا وہ order کرتے ہیں۔

اور پھر وہ وہی کرتی۔

کیسے لوگ دھوکہ کھا گئے

اب سب سے بڑا سوال۔ کیسے اتنے smart لوگ دھوکہ کھا گئے؟

نیویارک میں سب سے مہنگے lawyers، bankers، hoteliers۔ یہ لوگ احمق نہیں تھے۔ پھر کیسے؟

جواب ہمارے دماغ میں ہے۔

پہلا ہیلو ایفیکٹ۔ اینا اچھے کپڑے پہنتی تھی۔ اچھی جگہوں پر رہتی تھی۔ اچھے لوگوں کے ساتھ تھی۔ تو لوگوں نے سوچا سب کچھ اچھا ہی ہوگا۔

دوسرا confirmation bias۔ جب لوگوں نے سوچ لیا کہ اینا امیر ہے تو وہ صرف وہی چیزیں دیکھتے جو اس کی تصدیق کرتیں۔ جو چیزیں تضاد کرتیں، انہیں ignore کر دیا۔

تیسرا sunk cost fallacy۔ جن لوگوں نے اینا کو پیسے دیے یا اس کے لیے کچھ کیا، وہ ماننا نہیں چاہتے تھے کہ انہوں نے غلطی کی۔ تو وہ اور invest کرتے رہے۔

چوتھا social proof۔ جب دوسرے لوگ اینا کو قبول کر رہے تھے تو باقیوں نے بھی قبول کر لیا۔

اور پانچواں greed۔ کچھ لوگ سوچتے تھے کہ اگر اینا واقعی امیر ہے اور ہمارے دوست ہیں تو ہمیں بھی فائدہ ہوگا۔ اس لیے انہوں نے سوالات نہیں پوچھے۔

ایک hotel concierge نے بعد میں کہا ہم جانتے تھے کہ کچھ غلط ہے۔ لیکن اینا اتنی confident تھی کہ ہم نے سوچا شاید ہم غلط ہیں۔

یہ ہے سماجی شکاری کی طاقت۔ وہ ہمارے دماغ کی کمزوریوں کو استعمال کرتے ہیں۔

جب سب ٹوٹ گیا

اکتوبر 2017۔ اینا کو گرفتار کیا گیا۔ الزامات چوری، دھوکہ دہی، services چوری کرنا۔

جب خبر آئی تو اس کے دوست حیران تھے۔ کیسے؟ اینا تو اتنی اچھی تھی۔

لیکن جب تفصیلات سامنے آئیں تو سب کو احساس ہوا۔ اینا نے سب کو استعمال کیا تھا۔

ریچل نے جو اکسٹھ ہزار ڈالر دیے تھے، وہ کبھی واپس نہیں ملے۔ اسے اپنے کریڈٹ کارڈ سے دینا پڑا اور مہینوں تک قرض چکایا۔

جن ہوٹلوں میں اینا رہی، انہیں ہزاروں ڈالر کا نقصان ہوا۔

جن دوستوں نے اس کی مدد کی، وہ خود کو بےوقوف محسوس کرتے تھے۔

اپریل 2019 میں اینا کو چار سے بارہ سال قید کی سزا ہوئی۔ لیکن اس نے صرف چار سال کیے۔ فروری 2021 میں وہ رہا ہو گئی۔

اور سب سے حیران کن بات؟ جیل سے نکلنے کے بعد بھی اینا نے media کو بیچا اپنی کہانی۔ Netflix نے ایک series بنائی Inventing Anna۔ اینا نے تین لاکھ بیس ہزار ڈالر لیے۔

آج بھی اینا کہتی ہے میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ یہ سب نیویارک کا کھیل تھا۔ میں بس بہتر کھیلی۔

یہ ہے ایک سماجی شکاری کی ذہنیت۔ کوئی ندامت نہیں۔ کوئی guilt نہیں۔

پہلا سبق ظاہر ہمیشہ سچ نہیں ہوتا۔ اینا perfect لگتی تھی۔ لیکن سب جھوٹ تھا۔

دوسرا سبق confidence قابلیت نہیں ہے۔ اینا بہت confident تھی۔ لیکن اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔

تیسرا سبق social proof خطرناک ہو سکتا ہے۔ کیونکہ سب اینا کو قبول کر رہے تھے، باقیوں نے بھی قبول کر لیا۔

چوتھا سبق سوالات پوچھنا ضروری ہے۔ جن لوگوں نے سوالات پوچھے، وہ بچ گئے۔ جنہوں نے نہیں پوچھے، وہ شکار بنے۔

پانچواں سبق اگر کچھ سچ ہونے کے لیے بہت اچھا لگے تو شاید نہیں ہے۔ اینا کی کہانی بہت perfect تھی۔ اسی لیے جھوٹی تھی۔

سماجی شکاری کون ہوتے ہیں

اینا کی کہانی انوکھی نہیں۔ ایسے لوگ ہر جگہ ہیں۔ شاید اتنے dramatic نہیں۔ لیکن ہیں۔

نفسیات میں انہیں ڈارک ٹرائیڈ کہتے ہیں۔ تین خصوصیات جو اکثر ساتھ آتی ہیں۔

پہلی نارسسزم۔ یہ وہ لوگ ہیں جو صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں۔ انہیں دوسروں سے کوئی ہمدردی نہیں۔ لیکن وہ ہمدردی کا بہترین ڈرامہ کر سکتے ہیں۔

دوسری میکیاویلینزم۔ یہ نام اطالوی فلسفی نکولو میکیاویلی سے آیا ہے جس نے کہا تھا مقصد وسیلے کو جائز ٹھہراتا ہے۔ یہ لوگ سوچ سمجھ کر لوگوں کو استعمال کرتے ہیں۔ ان کا ہر قدم محسوب ہوتا ہے۔

تیسری سائیکوپیتھی۔ یہ سب سے خطرناک ہے۔ ان لوگوں میں ضمیر نہیں ہوتا۔ وہ دوسروں کو تکلیف دے سکتے ہیں اور کوئی پچھتاوا محسوس نہیں کرتے۔

اینا میں تینوں تھیں۔

کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے سنہ 2010 کے ایک مطالعے میں پایا گیا کہ تقریباً ایک سے چار فیصد آبادی میں یہ خصوصیات ہوتی ہیں۔ مطلب ہر سو میں سے ایک سے چار لوگ۔

یہ بہت زیادہ ہے۔

لیکن یہ تینوں ایک بات میں مشترک ہیں۔ یہ سب سماجی مہارتوں میں ماہر ہوتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ لوگوں کو کیسے متاثر کریں۔ کیسے یقین دلائیں۔ کیسے استعمال کریں۔

کیسے پہچانیں اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو

اب آتے ہیں سب سے اہم حصے پر۔ کیسے پہچانیں؟

پہلی علامت وہ بہت جلدی بہت قریب آتے ہیں۔ اینا نے چند ملاقاتوں میں ہی لوگوں کو best friend بنا لیا۔ یہ قدرتی نہیں۔ حقیقی تعلقات وقت مانگتے ہیں۔

دوسری علامت وہ بہت perfect لگتے ہیں۔ بالکل تمہاری پسند کے۔ بالکل تمہاری سوچ کے۔ یہ مشکوک ہے۔ کوئی بھی اتنا perfect نہیں ہوتا۔

تیسری علامت وہ ہمیشہ کوئی بہانہ رکھتے ہیں۔ اینا کے پاس ہمیشہ بہانہ تھا کہ پیسے کیوں نہیں آ رہے۔ بینک کی غلطی۔ wire transfer میں delay۔ ٹرسٹ فنڈ کا مسئلہ۔

چوتھی علامت ان کی کہانی میں inconsistencies ہیں۔ اگر تم غور سے سنو تو تضادات ملیں گے۔ لیکن وہ اتنی confident ہوتے ہیں کہ تم doubt نہیں کرتے۔

پانچویں علامت وہ کبھی اپنی غلطی نہیں مانتے۔ ہمیشہ کسی اور کی غلطی ہے۔ حالات کی غلطی ہے۔ بد قسمتی ہے۔

چھٹی علامت وہ تمہیں دوسروں سے الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں صرف میں تمہیں سمجھتا ہوں۔ باقی لوگ نہیں سمجھتے۔

ساتویں علامت ان کی زندگی میں بہت زیادہ drama ہے۔ ہمیشہ کوئی نہ کوئی مسئلہ۔ ہمیشہ کوئی crisis۔ اور ہمیشہ تمہاری مدد کی ضرورت۔

آٹھویں علامت تمہارے ساتھ تعلق one-way ہے۔ تم دیتے ہو۔ وہ لیتے ہیں۔ تم سنتے ہو۔ وہ بولتے ہیں۔ تم مدد کرتے ہو۔ وہ لیتے ہیں۔

نویں علامت جب تم boundaries رکھنے کی کوشش کرتے ہو تو وہ guilt استعمال کرتے ہیں۔ میں نے تمہارے لیے اتنا کیا۔ اچھے دوست ایسے نہیں ہوتے۔

دسویں علامت تمہارا gut feeling۔ اگر کچھ غلط لگ رہا ہے تو شاید ہے۔ ہماری instincts اکثر صحیح ہوتی ہیں۔

کیسے بچیں

اگر تمہیں لگے کہ کوئی ایسا شخص تمہاری زندگی میں ہے تو کیا کرو؟

پہلا distance بناؤ۔ آہستہ آہستہ۔ اچانک confrontation خطرناک ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر اگر یہ کوئی narcissist یا psychopath ہو۔

دوسرا boundaries رکھو۔ نہیں کہنا سیکھو۔ guilt میں نہ آؤ۔

تیسرا documentation رکھو۔ خاص طور پر اگر دفتر میں ہو یا پیسوں کا معاملہ ہو۔ سب کچھ لکھ کر رکھو۔

چوتھا دوسروں سے بات کرو۔ اپنے قریبی لوگوں سے۔ اکثر وہ باہر سے بہتر دیکھ سکتے ہیں۔

پانچواں professional مدد لو۔ therapist سے بات کرو۔ یہ کوئی شرم کی بات نہیں۔

چھٹا اور سب سے اہم اپنے آپ پر trust کرو۔ اگر کچھ غلط لگ رہا ہے تو شاید ہے۔

اور یاد رکھو یہ تمہاری غلطی نہیں۔ یہ لوگ ماہر ہیں۔ انہوں نے سالوں سے یہ کیا ہے۔ اینا نے نیویارک کے سب سے smart لوگوں کو دھوکہ دیا۔ تم اکیلے نہیں۔

آخری بات زیادہ تر لوگ اچھے ہیں

اس مضمون کا مقصد تمہیں ڈرانا نہیں۔ مقصد aware کرنا ہے۔

ہاں، ایسے لوگ ہیں جو سماجی مہارتوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر لوگ اچھے ہیں۔ زیادہ تر لوگ genuine ہیں۔

فرق intent میں ہے۔

ایک عام شخص بھی لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن مقصد تعلقات بنانا ہے۔ دوستی کرنا ہے۔ محبت کرنا ہے۔

لیکن سماجی شکاری؟ ان کا مقصد استعمال کرنا ہے۔ فائدہ اٹھانا ہے۔ control کرنا ہے۔

اینا کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ ہر مسکراتا چہرہ دوست نہیں ہوتا۔ ہر confident آواز سچ نہیں بولتی۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سب پر شک کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہوشیار رہیں۔ وقت لیں۔ پرکھیں۔ اور پھر trust کریں۔

کیونکہ حقیقی تعلقات خوبصورت ہیں۔ حقیقی دوستی قیمتی ہے۔ حقیقی محبت نایاب ہے۔
Copied

12/01/2026

لاپرواہی سے خبردار رہیں...

✅ لاپرواہی... اپنے بیٹے یا بیٹی کی بلند آواز آپ کے یا کسی بڑے شخص کے ساتھ بولنے پر خاموش رہنا، انہیں بد زبانی اور بے باکی سکھاتا ہے۔

✅ لاپرواہی... اپنے بیٹے یا بیٹی کے کسی بات یا نظر سے آپ یا کسی اور کا مذاق اُڑانے کو نظرانداز کرنا، انہیں دل کی سختی، بدتمیزی، اور بدسلوکی سکھاتا ہے۔

✅ لاپرواہی... اپنے بچے کو آپ سے الگ تھلگ رہنے دینا اور ان کا حقیقی یا ورچوئل دنیا میں گم ہو جانا، انہیں ایک بے حس انسان بنا دیتا ہے، جس کے بارے میں آپ صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ زندہ ہے۔

✅ لاپرواہی... فرض عبادات چھوڑنے کی اجازت دینا، دل اور روح کو بہرا بنا دیتا ہے اور انہیں زندگی میں کوئی محفوظ پناہ گاہ یا معنی نہیں ملتا۔

✅ لاپرواہی... اپنے بیٹے کو کچھ ذمہ داریوں سے بھاگنے کی اجازت دینا، آہستہ آہستہ اس کی اصل مردانگی کو ختم کر دیتا ہے۔

✅ لاپرواہی... اپنی بیٹی کو الفاظ، اعمال، اور لباس کے لحاظ سے حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت دینا، اسے عزت کے بجائے تحقیر کی نظروں کا شکار بناتا ہے۔
زیادہ مذاق اور غلط لوگوں سے تعلق رکھنے سے ایسے بیمار ذہن اور شریر افراد اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔

✅ لاپرواہی... غلطیوں کو بار بار دہرانے کی اجازت دینا، انہیں عادت اور معمولی بنا دیتا ہے، کیونکہ جو سزا سے بے خوف ہو، وہ بدتمیز ہو جاتا ہے۔

✅ زیادہ نرمی... اپنے بیٹے یا بیٹی کے ساتھ حد سے زیادہ لاڈ پیار کرنا، ان میں ناشکری، بے حسی، دل کی سختی، اور شوق کی کمی پیدا کرتا ہے۔

✅ زیادہ سختی... ان کو ٹوٹ پھوٹ، محرومی، اور اپنے اوپر اور دوسروں پر اعتماد کھونے کا سبب بنتی ہے۔ یہ رویہ شدت پسند خیالات اور بعض اوقات خودکشی کی سوچ بھی پیدا کر سکتا ہے۔

✅ یاد رکھیں:
والدین یا دوسروں کے ساتھ بچوں کا بدتمیزی کرنا کوئی جدید یا ترقی یافتہ تربیت نہیں، بلکہ یہ ایک لعنت، نفسیاتی غربت، اور فکری جہالت کی نشانی ہے۔

✅ لاپرواہی... حلال و حرام کے درمیان فرق نہ کرنے کی اجازت دینا، شناخت کے کھو جانے، مذہب کے ستونوں کی بے حرمتی، اور گناہوں میں لذت محسوس کرنے کا سبب بنتا ہے۔
اپنے بچوں کو ادب، پاکیزگی، اور احترام سکھائیں، باتوں میں، عمل میں، دل سے، لباس سے، اور رویے میں۔
ایسا نہ ہو کہ فاصلوں کو ختم کر کے وہ آپ کا مذاق اُڑانے لگیں یا تعلقات میں سرد مہری اور بے حسی غالب آ جائے، یہاں تک کہ بڑھاپے میں بھی ان کا ساتھ اور محبت کھو دیں۔

✅ نہ تو اپنے بچے کو اتنا لاڈ پیار دیں کہ وہ بگڑ جائے۔
✅ اور نہ ہی اتنا سخت بنائیں کہ وہ نفرت اور دوری اختیار کر لے۔
✅ ایک وقت میں سخت، دوست، ہمدرد، اور رہنما بنیں۔
✅ ہر حال میں اپنے گھر کے سربراہ اور قائد رہیں۔

Address

Bajwa House Naka Chowk Gulgushat Colony
Multan
61200

Opening Hours

Monday 14:00 - 17:00
Tuesday 14:00 - 17:00
Wednesday 14:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Healing Souls posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share