13/04/2026
بےچاری خواتین ،عمومی طور پر دنیا بھر کی اور خصوصی طور پر پاکستانی وہندوستانی خواتین کی قسمت میں کس قسم کے مرد لکھ دیے گئے ہیں کہ انہیں کبھی سکون کا سانس لینا نصیب ہی نہیں ہوتا۔
مطلب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرد ایک مکمل بالغ، عقلمند، سمجھدار انسان نہیں ہیں بلکہ ایک غیر قابوشدہ ، بےمہار ، بےلگام اور وحشی جنگلی قسم کی کوئی مخلوق ہیں جنہیں اپنے جزبات پر رتی بھر قابو نہیں ہے۔ نا غصہ ان کے قابو میں ہے نا ان کی ہوس اور جنسی خواہشات ان کے قابو میں ہیں۔ اور ان دونوں چیزوں کے لیے ہی خواتین ذمےداری ہیں۔ یعنی مرد کو غصہ نا دلائیں تاکہ وہ بے قابو نا ہو۔ اور مرد کے سامنے کسی جوان یا خوبصورت عورت کو بھی نا آنے دیں تاکہ وہ بے چارہ ،معصوم بے قابو ہو کر بہک نا جائے۔
یعنی مرد کے ایک نارمل سمجھدار انسانوں کی طرح برتاؤ کرنے کی ذمےداری اس کی اپنی زات پر نہیں بلکہ اس کے خاندان کی عورتوں پر ہے۔ مرد کو شریف اور مہذب رکھنا عورت کی ذمےداری ہے مرد کے اختیار میں ہی نہیں؟
تو مرد کاہے کا صنف آہن ، صنف کرخت ، مضبوط ، منطقی اور لیڈر ہوا؟ جس کا خود پر اپنے جزبات پر اختیار ہی نہیں وہ لیڈر بننے لائق ہے؟
پر نہیں کمزور اور جزباتی تو عورت ہوتی ہے ۔ ہے نا؟ 😂😂😂