Executive Health Care

Executive Health Care A Pakistani national company was started to facilitate people procure quality health services a not only competitive but discounted rates. "Health for all"

🌽 مکئی کے بال — مخلوق خدا کا بھولا ہوا خزانہ 🌿کبھی آپ نے سوچا کہ مکئی کے بھٹے کے سنہرے بال جو ہم عام طور پر پھینک دیتے ہ...
28/10/2025

🌽 مکئی کے بال — مخلوق خدا کا بھولا ہوا خزانہ 🌿
کبھی آپ نے سوچا کہ مکئی کے بھٹے کے سنہرے بال جو ہم عام طور پر پھینک دیتے ہیں،
وہ دراصل فطرت کا ایک نایاب تحفہ ہیں؟ 🌾
یہی وہ نرم ریشے ہیں جو گردوں، مثانے، اور جلد — تینوں کے لیے بیک وقت نعمت بن سکتے ہیں۔

💧 1. پیشاب کی جلن اور سوزش کا قدرتی علاج
مکئی کے بال قدرتی طور پر جسم کے اندر جمع فاضل نمکیات کو صاف کرتے ہیں۔
پیشاب کی جلن، بار بار پیشاب آنا، یا سوزش — سب میں حیرت انگیز سکون دیتے ہیں۔
ان میں موجود قدرتی ڈیوریٹک اجزاء مثانے کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں اور بیکٹیریا کو جسم سے نکالتے ہیں۔

💎 2. گردوں کی پتھری گھلانے میں مددگار
پتھری کے درد سے تڑپنے والے جانتے ہیں کہ وہ تکلیف کتنی اذیت ناک ہوتی ہے۔
مکئی کے بال پیشاب کے بہاؤ کو بڑھا کر پتھری کے ذرات کو آہستہ آہستہ نرم کر دیتے ہیں۔
پوٹاشیم اور فلیوونائڈز کی موجودگی گردوں کی صفائی میں نرمی سے کام کرتی ہے —
یوں پتھری کے دوبارہ بننے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔

🦵 3. جسم، ٹانگوں اور پاؤں کی سوجن میں کمی
اگر دن کے آخر میں پاؤں بھاری یا ٹخنے سوج جاتے ہیں، تو یہ چائے ایک قدرتی ریلیف ہے۔
یہ جسم میں جمع اضافی پانی کو باہر نکال کر سوجن کم کرتی ہے، مگر
دلچسپ بات یہ ہے کہ ضروری منرلز ضائع نہیں ہونے دیتی۔
یوں آپ کا جسم ہلکا، متحرک اور چہرہ نکھرا محسوس ہوتا ہے۔

❤️ 4. بلڈ پریشر کو متوازن بنائے
مکئی کے بالوں میں پائے جانے والے اینٹی آکسیڈنٹس خون کی نالیوں کو پُرسکون کرتے ہیں۔
یہ دل پر دباؤ کم کرتے ہیں اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے قدرتی سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔
کئی افراد نے صرف دو ہفتے میں 10–15 پوائنٹس تک بہتری دیکھی —
بغیر کسی سائیڈ ایفیکٹ کے۔

🍽️ 5. ہاضمہ مضبوط اور پیٹ ہلکا بنائے
اگر کھانے کے بعد پیٹ بھاری، گیس یا بدہضمی کا احساس ہو —
تو مکئی کے بالوں کی چائے ایک بہترین فطری ہاضم ہے۔
اس میں موجود فائبر اور خام انزائمز معدے کو چست کرتے ہیں،
کھانا جلد ہضم ہوتا ہے اور جسم میں ہلکاپن محسوس ہوتا ہے۔

🍬 6. شوگر لیول کو قابو میں رکھے
یہ چائے خون میں شوگر کے جذب ہونے کی رفتار کم کرتی ہے،
جس سے شوگر لیول اچانک نہیں بڑھتا۔
قدرتی پولی سیکرائیڈز انسولین کے اثر کو مضبوط کرتے ہیں —
یوں پری ڈایبیٹیز یا ٹائپ 2 شوگر والے افراد کے لیے یہ ایک نرمی بھرا علاج ہے۔

✨ 7. جلد کو چمکدار اور تروتازہ بنائے
مکئی کے بال صرف اندرونی صحت نہیں سنوارتے بلکہ
جلد کے رنگ اور ساخت میں نکھار لاتے ہیں۔
اس میں موجود سلکا کولیجن کی پیداوار کو بڑھا کر چہرے کو قدرتی چمک دیتا ہے۔
چند دن کے استعمال سے ہی چہرے پر نرمی اور تازگی نمایاں ہو جاتی ہے۔

🧠 8. گردوں کی کارکردگی مضبوط کرے
گردے روزانہ سینکڑوں لیٹر خون فلٹر کرتے ہیں —
اگر ان پر بوجھ بڑھ جائے تو تھکن، سوجن اور جسمانی درد پیدا ہوتے ہیں۔
مکئی کے بالوں میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس گردوں کے خلیات کو تحفظ دیتے ہیں
اور فلٹریشن کی صلاحیت میں قدرتی بہتری لاتے ہیں۔

☕ چائے بنانے کا آسان طریقہ:-
مکئی کے خشک یا تازہ بال: 2 کھانے کے چمچ
پانی: 2 کپ,
10 منٹ تک دم دیں، چھان کر نیم گرم پیئیں۔
ذائقے کے لیے شہد شامل کیا جا سکتا ہے 🍯
دن میں 1–2 کپ کافی ہیں۔

🌿 قدرت کا پیغام:-
اگر آپ روزانہ صرف ایک کپ مکئی کے بالوں کی چائے پینے کی عادت ڈال لیں —
تو چند ہفتوں میں آپ کا جسم ہلکا، دماغ تازہ اور چہرہ روشن محسوس ہوگا۔۔
Copied

💪 مردانہ ہارمون (ٹیسٹوسٹیرون) بڑھانے کے قدرتی طریقےٹیسٹوسٹیرون وہ اہم ہارمون ہے جو مردوں میں طاقت، توانائی، جنسی صحت، او...
22/10/2025

💪 مردانہ ہارمون (ٹیسٹوسٹیرون) بڑھانے کے قدرتی طریقے

ٹیسٹوسٹیرون وہ اہم ہارمون ہے جو مردوں میں طاقت، توانائی، جنسی صحت، اور موڈ کو متوازن رکھتا ہے۔
عمر، ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، یا غیر متوازن غذا اس میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
خوشخبری یہ ہے کہ آپ چند قدرتی عادات سے اس ہارمون کو بہتر بنا سکتے ہیں 👇



🌿 1. صحت مند نیند لیں:
ہر رات 7–8 گھنٹے پرسکون نیند جسم کے ہارمونز کو متوازن رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

🥗 2. متوازن غذا استعمال کریں:
پروٹین (انڈہ، مچھلی، گوشت)، زِنک (اخروٹ، بادام)، اور وٹامن D (دھوپ، انڈے کی زردی) ٹیسٹوسٹیرون بڑھانے میں مددگار ہیں۔

🏋️‍♂️ 3. باقاعدہ ورزش کریں:
وزن اٹھانا (strength training) اور HIIT ورزشیں قدرتی طور پر ٹیسٹوسٹیرون کی سطح بڑھاتی ہیں۔

🧘‍♂️ 4. ذہنی دباؤ کم کریں:
Stress ہارمون کورٹیسول کو بڑھاتا ہے، جو ٹیسٹوسٹیرون کو کم کرتا ہے۔
میڈیٹیشن، سانس کی مشقیں، یا قدرتی ماحول میں وقت گزاریں۔

🚫 5. نقصان دہ عادات چھوڑیں:
تمباکو نوشی، شراب اور زیادہ چکنائی والا جنک فوڈ ہارمونل توازن بگاڑ دیتے ہیں۔



✨ یاد رکھیں:
قدرتی تبدیلیاں وقت لیتی ہیں، مگر مستقل مزاجی سے آپ اپنے جسم کو صحت مند اور متوازن رکھ سکتے ہیں۔



📞 مزید رہنمائی کے لیے رابطہ کریں:
ڈاکر ثمرہ امین
03036390710
Copy from the wall of Dr Samra Amin Ch

برائلر چکن بمقابلہ دیسی چکن — سچائی کیا ہے؟کیا واقعی برائلر چکن آپ کے جسم میں بیماریاں پیدا کرتا ہے؟ کیا یہ آپ کے ہارمون...
22/10/2025

برائلر چکن بمقابلہ دیسی چکن — سچائی کیا ہے؟

کیا واقعی برائلر چکن آپ کے جسم میں بیماریاں پیدا کرتا ہے؟ کیا یہ آپ کے ہارمونز کو متاثر کرتا ہے؟ اور کیا وہ چکن جو اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا، آپ کی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو تقریباً ہر گھر میں زیرِ بحث رہتے ہیں۔ لیکن حقیقت جاننے کے لیے سب سے پہلے ہمیں سمجھنا ہوگا کہ برائلر اور دیسی چکن کے درمیان اصل فرق کیا ہے۔

دیسی چکن فطری ماحول میں پروان چڑھتا ہے۔ وہ سارا دن آزاد گھومتا ہے، دانا چگتا ہے، کیڑے مکوڑے کھاتا ہے، اور قدرتی انداز میں بڑھتا ہے۔ اسی لیے اس کا گوشت مضبوط اور ذائقہ دار ہوتا ہے۔ چونکہ وہ زیادہ حرکت کرتا ہے، اس کی نشوونما سست ہوتی ہے، لیکن وہ صحت مند ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیسی چکن کا گوشت اور انڈے زیادہ قیمتی اور غذائیت سے بھرپور سمجھے جاتے ہیں۔

دوسری جانب برائلر چکن کو دیکھا جائے تو اس کی افزائش آج کے دور میں بہت عام ہو چکی ہے۔ برائلر چکن چند ہفتوں میں ہی بڑا ہو جاتا ہے، اور اس کی تیزی سے نشوونما کا راز ‘‘سیلیکٹیو بریڈنگ’’ نامی سائنسی عمل ہے۔ اس عمل میں مخصوص نسلوں کو ملا کر ایک ایسی نسل تیار کی جاتی ہے جو بہت تیزی سے وزن بڑھاتی ہے۔ ان چکنز کو خاص فیڈ دی جاتی ہے جو انہیں جلدی بڑا کرتی ہے۔ البتہ چونکہ یہ بند ماحول میں رہتے ہیں، ان کی قوتِ مدافعت نسبتاً کم ہوتی ہے، اس لیے ان کو اینٹی بائیوٹکس دی جاتی ہیں تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

اب یہاں مسئلہ برائلر چکن کے وجود میں نہیں، بلکہ اسے پالنے کے طریقے میں ہے۔ پولٹری فارمز پر اکثر مرغیوں کو تنگ جگہ میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ زیادہ نہ چلیں، کیونکہ چلنے پھرنے سے ان کا وزن کم بڑھتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ مرغیاں جسمانی طور پر کمزور لگتی ہیں اور عام لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہو جاتا ہے کہ برائلر چکن غیر صحت مند ہے۔ حالانکہ اگر یہی برائلر چکن آپ گھر میں پالیں، اسے چلنے پھرنے کی آزادی دیں، تو وہ بالکل صحت مند اور متوازن انداز میں بڑھے گا۔

تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ برائلر اور دیسی چکن کے درمیان غذائیت کے اعتبار سے زیادہ بڑا فرق نہیں۔ دونوں میں پروٹین، آئرن اور دیگر غذائی اجزاء کی مقدار تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے۔ اگرچہ دیسی چکن کا ذائقہ زیادہ قدرتی اور فیٹ کم ہوتا ہے، لیکن اس کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برائلر چکن آج بھی عوام کے لیے پروٹین کا سب سے قابلِ رسائی ذریعہ ہے۔

ہماری آبادی کا تقریباً 80 فیصد طبقہ اپنی روزمرہ کی پروٹین کی ضرورت پوری نہیں کر پاتا۔ اگر آپ دیسی چکن خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں تو یقیناً وہ ایک بہتر انتخاب ہے۔ لیکن اگر آپ افورڈ نہیں کر سکتے تو برائلر چکن کھانے میں کوئی نقصان نہیں۔ اصل فرق اس بات میں ہے کہ آپ کا لائف اسٹائل کیسا ہے۔

اگر آپ رات بھر جاگتے ہیں، ورزش نہیں کرتے، کھانے کے فوراً بعد لیٹ جاتے ہیں، اور دن کا زیادہ تر وقت بیٹھے گزارتے ہیں، تو پھر چاہے آپ دنیا کا مہنگا ترین دیسی چکن بھی کھالیں، وہ آپ کو فائدہ نہیں دے گا۔ کولیسٹرول بڑھے گا، دل کے امراض ہوں گے، ہارمونل عدم توازن پیدا ہوگا، اور وزن بڑھتا جائے گا۔
اصل مسئلہ برائلر چکن نہیں بلکہ ہمارا غیر متوازن طرزِ زندگی ہے۔

لہٰذا اگر آپ اپنی صحت بہتر بنانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی روزمرہ عادات پر نظر ڈالیں۔ متوازن غذا کھائیں، روزانہ چہل قدمی کریں، نیند پوری کریں، اور ذہنی دباؤ کم کریں۔ اس کے بعد چاہے آپ برائلر کھائیں یا دیسی، دونوں آپ کے جسم کو توانائی دینے کے قابل ہوں گے۔

آخر میں یاد رکھیں — بیماری گوشت میں نہیں، طرزِ زندگی میں ہے۔
Copy from the wall of Dr Salman Feroz

جنسیت کا ایک بھیانک رخایڈوانس معذرت۔۔۔آج کے زمانہ میں ڈیجیٹل فتنہ عروج پر ہے اور اس کے کچھ پہلوؤں پر تو بڑی شدومد سے بات...
29/05/2025

جنسیت کا ایک بھیانک رخ
ایڈوانس معذرت۔۔۔

آج کے زمانہ میں ڈیجیٹل فتنہ عروج پر ہے اور اس کے کچھ پہلوؤں پر تو بڑی شدومد سے باتیں ہوتی ہے لیکن کچھ پہلو کے بارے میں بات کرنا ممنوع تصور ہوتا ہے۔ انہی میں سے 1 پہلو مندرجہزیل ہے جو بہت بڑا فتنہ ہے اور ہمارے ہاں تیزی سے پھیل بھی رہا ہے لیکن اس پر بات نہیں ہو رہی ہے۔یہ وہ لاوا ہے جو پک رہا ہے لیکن شرم کیوجہ سے اس پر بات نہیں ہو رہی ہے لیکن یاد رکھیں کہ جس دن یہ ابل کر سامنے آئے گا تب اس کی تباہی باقی چیزوں سے کئ بڑھ کر ہوگی۔ میں نے آج اسپر بہت سوچ بچار کے بعد تھوڑا سا لکھنے کا اعادہ کیا ہے۔
اس چیز کو Paraphilia کہا جاتا ہیں اور یہ ہماری نوجوان نسل کو Pervert بنا رہا ہے اور ان میں وہ وہ چیزیں داخل کرنے کا سبب بن رہا ہے کہ جس کا کرنا تو درکنار سننا یا بولنا بھی ادب کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ یہ اتنی خطرناک چیز ہے کہ اس میں ملوث انسان اپنے گھریلو خواتین تک کےلیے بھی مناسب نہیں رہتا ہے۔

آئیے سمجھتے ہیں یہ کیا ہے۔

Paraphillia

ان چیزوں کے لیے جنسی کشش رکھنا جنکی جانب ایک عام انسان جنسی کشش محسوس نہیں کرتا ہے یا پھر ان چیزوں سے جنسی لذت کا حصول کرنا جو فی نفسہ جنسی لذت کے حصول لیے نہیں ہے یا دیگر "ناجائز"طریقوں سے جنسی لذت کے حصول میں زیادہ مزہ حاصل کرنا Paraphilia کہلاتا ہے

اقسام

اس Paraphilia کی تقریباً 8 بڑی اور کم و بیش 500 سے زیادہ چھوٹی چھوٹی اقسام موجود ہے۔ مثال کے طور پر آپ مندرجہ ذیل 20 ہی پڑھ لیں جس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ کتنا بڑا گند ہے۔

1) دوسرے لوگوں کو سیکس کرتے ہوئے سامنے سے یا چھپ کر دیکھنے کی کوشش کرنا جسکو Voyeurism کہتے ہیں۔

2) دوسرے لوگوں کو جان بوجھ کر اپنی جنسیت یا جنسی اعضاء دکھانا اور اپنا کپڑے ہٹانا جس کو Exhibitionism کہتے ہیں۔

3) بھیڑ یا رش میں زور زبردستی سے اپنے جنسی اعضاء کو دوسروں سے لگانا یا رگڑ کر مزہ لینا جس کو Frotteurism کہتے ہیں

4) غیر جنسی چیزوں جیسے پاؤں، جوتوں، عورتوں کے ہیلز یا کپڑوں لیدر وغیرہ سے جنسی لذت کا حصول کرنا جس کو Fetishism کہتے ہیں۔

5) کسی کے ساتھ زبردستی اور تشدد کے ذریعے جنسی تعلق قائم کرنا اور اس کے تکلیف سے مزہ اٹھانا جس کو Sexual Sa**sm کہا جاتا ہے۔

6) کسی کا غلام بن جانا یا ان سے اپنے آپکو ذلیل کروانا اور اپنی اس تکلیف سے خود ہی مزہ لینا یا اپنے آپ کو ذلیل سے ذلیل کرنا جس کو Sexual Masochism کہا جاتا ہے۔

7) اپنے قریبی رشتے داروں جیسے بیوی وغیرہ کو دوسروں کے ساتھ تعلق قائم کرتے ہوئے سوچنا یا ایسا کرنا جسکو عام زبان میں Cuckoldry یا Candaulism کہتے ہیں۔

😎 چھوٹے یا نابالغ بچوں کی طرف جنسی کشش رکھنا جس کو Pe******ia کہتے ہیں۔

9) مخالف جنس کے کپڑے پہن کر جنسی لذت حاصل کرنا یعنی مرد کا عورتوں کے کپڑے پہن کر خوشی یا جنسی لذت محسوس کرنا جس کو Transvestism کہتے ہیں۔

10) اس سے جنسی لذت اور خوشی محسوس کرنا کہ کوئی آپ کا گلہ دبائیں اور آپ کو سانس میں مسئلہ ہو اور اس کو Hypoxyphillia کہتے ہیں۔

11) کسی انسان کے پاخانے یا گند سے جنسی لذت لینا جس کو Co*******ia کہتے ہیں۔

12) پیشاب سے یا پیشاب کرنے کے عمل سے جنسی خوشی لینا جس کو Ur*****ia کہتے ہیں۔

13) مردہ لاش سے جنسی کشش محسوس کرنا جسکو عام اصطلاح میں Necrophilia کہتے ہیں۔

14) مختلف جانوروں سے جنسی تعلق میں دلچسپی لینا اور اس سے جنسی لذت حاصل کرنا جس کو ہمارے ہاں عام الفاظ میں Zo*****ia یا Be******ty کہا جاتا ہے۔

15) کسی غیر جاندار چیز جیسا کسی عمارت،گاڑی یا پنکھے سے محبت کرنا یا جنسی لذت کا حصول کرنا اور اس کو عام طور پر Objectophilia کہا جاتا ہے۔

16) اپنے آپ کو مخالف جنس کے روپ میں سوچ کر خوشی لینا جسکو Autogynephiliیا Autoandrophilia کہا جاتا ہے۔

17) بچہ بننے یا پھر ڈائپر پہننے کے واسطے سے جنسی لذت یا مزہ کا حصول کرنا جس کو Infantilism کہا جاتا ہے۔

18) اپنے جسم پر کیڑے مکوڑے چلانےسے خوشی محسوس کرنا جس کو Formicophilia کہا جاتا ہے۔

19) اپنے جسم پر کوئی زخم،داغ، ٹیٹو یا چھید کرنا اور اس سے کشش، خوشی محسوس کرنا جسکو Stigmatophilia کہا جاتا ہے۔

20) کسی دوسرے انسان کو روتا ہوا دیکھ کر اس رونے سے جنسی لذت لینا جس کو Dacryphilia کہا جاتا ہے۔

Prevalance/آبادی میں یہ کتنی ہے؟

اٹلی کی 6 یونیورسٹیز کے طالبعلموں پر کی گئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں کی "عام آبادی" کے 68.2 فیصد لوگ ان Paraphilic Fantasies کا شکار ہے یعنی کہ وہ کم سے کم خیالات کی حد تک اس میں ملوث ہے۔

اس طرح سے 52.3 فیصد عام عوام نے یہ رپورٹ کیا کہ وہ ان خیالات کو سوچ سوچ کر Ma********on (مشت زنی و فنگرنگ) وغیرہ میں ملوث ہے۔

اسطرح 43.6 فیصد عوام نے کہا کہ وہ اپنی زندگی میں کم سے کم ایک بار ان حرکتوں میں "براہ راست"ملوث ہوئے ہیں یعنی کہ یہ کام سرانجام دیے ہیں۔

اس سروے کے مطابق 50.6 فیصد لڑکوں اور اسطرح 41.5 فیصد لڑکیوں میں کوئی نہ کوئی Paraphillic Tendency ضرور موجود تھیں۔

کینیڈا میں ہوئی ایک تحقیق میں تقریباً آدھے لوگوں نے اپنے اندر کسی نہ کسیParaphillia کے موجود ہونے کا اقرار کیا تھا۔

پڑوسی ملک چائنا میں یونیورسٹی کے طالب علموں پر ہوئی ایک تحقیق سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ سو میں سے 77 فیصد لڑکے اور اسی طرح 59 فیصد لڑکیاں"Problematic پورن" دیکھتے ہیں اور اس قسم والا پورن دیکھنے والے سب لڑکوں اور لڑکیوں میں ہی کوئی نہ کوئی Paraphillia موجود تھا جس سے پتہ چلتا ہے کہ پورن اور اس کا براہ راست تعلق ہے کیونکہ سب میں ہی موجود ہے۔ اس میں اور فیکٹرز بھی ہو سکتے لیکن پورن اس کا بہت بڑا فیکٹر ہے۔

کیا یہ بیماریاں ہے؟

ان میں سے کچھ جیسے پیڈوفیلیا اور نیکروفیلیا وغیرہ کو باقاعدہ نفسیاتی بیماری سمجھا جاتا ہے لیکن کچھ کو صرف تب نفسیاتی بیماریاں تصور کیا جاتا ہے جب وہ آپ کے دماغ میں خلل پیدا کریں اور آپ کے روزمرہ مسائل میں آپکے لیے تکلیف کا سبب بنیں

پاکستان کے حالات

ملک پاکستان کے اندر اس حوالے سے کوئی"تفصیلی رپورٹ" موجود نہیں ہے۔ بعض Case Studies موجود ہے اور بعض Clinical قسم کی دیگر تحقیقات موجود ہے لیکن عام عوام کے اوپر ہونے والی کوئی سروے تاحال موجود نہیں ہے۔

گرچہ ہمارے ملک کی باقاعدہ تحقیقات موجود نہیں ہے لیکن جو بندہ سوشل میڈیا و انٹرنیٹ پر ایکٹو ہے اور وسیع دائرہ کے اندر لوگوں کو پہچانتا ہے اور اس 'گند' سے بھی واقف ہے وہ جانتا ہے کہ ملک پاکستان کے حالات اس حوالے سے کس درجہ تک خراب ہے۔

میں نے اپنے ماحول اور سوشل میڈیا میں ایسے بیشمار لوگ دیکھے ہیں کہ جنکی عادات و بات چیت صاف ظاہر کرتی ہے کہ وہ ان Tendencies کا شکار ہے۔ نوجوان کی 'عادات اور ان کے آپس کے محافل میں گفتگو گفتار سے بھی اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس گند نے ہمارے معاشرہ کو کس قدر خراب کیا ہوا ہے اور میں اس قسم کے "درجنوں Confessions" اپنے سامنے سن چکا ہوں لیکن ظاہر ہے کہ وہ لوگ معاشرے میں اس کا کھل کر اظہار تو نہیں کر سکتے ہیں۔

انٹرنیٹ تو اس گند سے بھرا پڑا ہے اور ان کاموں کے بیشمار گروپس موجود ہے جس میں باقاعدہ یہ سرگرمیاں ہوتی ہے اور پیسوں پر یہ سب کچھ ہوتا ہے اور یہ کسی دوسری جگہ نہیں بلکہ اس پاکستان میں ہوتا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے میں بڑھ رہا ہے اور ہمارے بڑے بزرگوں کی نسل جو انٹرنیٹ سے اتنی واقف نہیں ہے، ان کو تو اس کا ادراک نہیں ہے لیکن جو ینگ لوگ ہے وہ بخوبی اس کو جانتے ہیں۔

گذارش

خدارا 20 سال سے کم عمر بچوں کو آزادانہ موبائل استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں کیونکہ اس عمر میں 'انسان" چیزوں کا بہت گہرا اثر لیتا ہے اور 'پورن" میں ایسی چیزیں دکھائی جاتی ہے کہ 'سلیم الفطرت' انسان کے تصور تک میں وہ نہیں آ سکتی ہے۔

اگر ایک بالغ انسان ایسی چیزیں دیکھتا ہے تو اس پر اس کا بہت شدید اثر ہو سکتا ہے لیکن پھر بھی اس کا دماغ چونکہ Critical Stages سے گزر چکا ہوتا ہے جس وجہ سے ان کو قدرے کم مسئلہ ہوتا ہے لیکن ایک نابالغ دماغ کے لیے یہ چیز "زہر قاتل" ہے اور اس کو مکمل طور پر Perverted بنا سکتا ہے۔ یاد رکھیں آپکا بچہ اپنے گھریلو خواتین کے لیے درندہ بن گیا ہوگا اور آپ کو معلوم بھی نہ ہوگا۔ خدارا ہوش کے ناخن لیں

خود سوچیں ذرہ کہ بچپن میں فلموں اور ڈراموں کے ہیروز آپ کو کتنا متاثر کرتے تھے اور اب بالغ ہونے کے بعد وہ آپکو کتنا متاثر کرتے ہیں؟؟؟

ظاہر ہے کہ اس وقت آپ ان کو دیکھ کر شدید جذباتی ہوتے ہونگے لیکن اب آپ پر اس کا اتنا اثر نہیں ہے۔

یہی بات پورن کے حوالے سے سوچیں

اگر آپ دیکھتے ہیں تو آپ کو شاید اتنا زیادہ خراب نہ کریں لیکن اگر ایک نابالغ دیکھتا ہے تو اس کے لیے وہ کئ گنا زیادہ خطرناک ہے اور اسکو مکمل Perverted بنا سکتا ہے اور یہ یاد رکھیں کہ Social Learning Theory کے مطابق انسان اپنے مشاہدہ سے سیکھتا ہے اور پورن اسکے مشاہدہ میں ہی آتا ہے۔
منقول۔۔

Address

Star Plaza, Chungi #06, University Road
Multan
60000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 12:00
Saturday 09:00 - 17:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Executive Health Care posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share