Dr Sharmeen Akhtar

Dr Sharmeen Akhtar Excellent physical therapy for the patients & online coaching for medical students.
(1)

Our academy staff:
Dr Sharmeen Akhtar (DPT)
Dr Rabail Khan (Nutritionist)
Madam Saba Saleem (pschylogist)
madam Safiya (pschylogist)

21/06/2025
کولیسٹرول ایک مومی مادہ ہوتا ہے جو آپ کے خون میں پایا جاتا ہے۔ صحت مند خلیات بنانے کے لئے آپ کے جسم کو کولیسٹرول کی ضرور...
18/03/2025

کولیسٹرول ایک مومی مادہ ہوتا ہے جو آپ کے خون میں پایا جاتا ہے۔ صحت مند خلیات بنانے کے لئے آپ کے جسم کو کولیسٹرول کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن کولیسٹرول کی بلند شرح آپ کے دل کی بیماری کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ ہائی کولیسٹرول کے ساتھ، آپ اپنی خون کی نالیوں میں چربی پیدا کرسکتے ہیں۔ اور جب چربی بڑھ جاتی ہے ،تو آپ کی شریانوں میں خون کے بہاؤ میں کافی مشکل ہو جاتی ہے جس سے پارٹ اٹیک اور فالج کے چانسز بھڑ جاتے ہیں۔

ماہ رمضان کے دوران دنیا بھر میں مسلمان روزے رکھتے ہیں جس کے دوران سحر سے افطار تک کھانے اور پانی سے دوری اختیار کی جاتی ...
11/03/2025

ماہ رمضان کے دوران دنیا بھر میں مسلمان روزے رکھتے ہیں جس کے دوران سحر سے افطار تک کھانے اور پانی سے دوری اختیار کی جاتی ہے۔ غذا اور پانی سے دوری سے جسم پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں آئیے ان اثرات پر ایک مختصر سی روشنی ڈالتے ہیں

تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ روزوں سے جسمانی وزن میں کمی آتی ہے۔ درحقیقت روزے رکھنے سے پیٹ اور کمر کے گرد چربی گھلانے میں زیادہ مدد ملتی ہے۔
تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ رمضان کے دوران روزہ رکھنے والے افراد کے جسمانی ورم میں 3 ہفتوں کے دوران کمی آتی ہے۔

روزے رکھنے سے نقصان دہ کولیسٹرول ایل ڈی ایل کی سطح میں کمی آتی ہے۔ جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق انسولین کی مزاحمت سے متاثر افراد جب روزے رکھتے ہیں تو اس ہارمون کے افعال بہتر ہوتے ہیں جس سے ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ غذا سے دوری سے خون کے سفید خلیات کے افعال بہتر ہوتے ہیں جبکہ ان کی نشوونما بھی بڑھ جاتی ہے۔
روزے رکھنے سے کیل مہاسوں سے نجات ملتی ہے جبکہ جِلد کی شفافیت بڑھتی ہے۔
تحقیقی کام سے ثابت ہوا ہے کہ غذاؤں سے دوری صحت کو بہتر بناتی ہے جس سے اوسطاً عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:خیر النّاس من یّنفع النّاس" لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو فائ...
09/03/2025

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

خیر النّاس من یّنفع النّاس
" لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پنچائے".

اگر "انسان” کی زندگی دیکھی جائے تو ” خیر الناس من ینفع الناس” سے خالی نہیں ہونی چاہے "انسان” سے مراد ایسا مسلمان جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ حقوق اللہ تو اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا لیکن انسانوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں ہونگے جب تک انسان خود معاف نہیں کرے گا۔ زندگی اللہ کی عطا کی ہوئی ہے اور ایک دن ہم نے اللہ کے پاس ہی جانا ہے اور جواب دے ہونا ہے ہمیں انسانوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ دوسروں کی مدد کرنی چاہے اپنے سے کمزور کی مدد کرنی چاہیے، جس طرح ممکن ہو دوسروں کا خیال رکھنا چاہیے۔
۔
۔
۔
۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : " ہر چیز کی زکات ہے، اور جسم کی زکات روزہ رکھنا...
07/03/2025

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
" ہر چیز کی زکات ہے، اور جسم کی زکات روزہ رکھنا ہے۔"

We are at Darbar Hazrat Sakhi Sarwar, DG khanدربار حضرت سخی سرور، جسے سخی سرور سلطان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک قاب...
06/03/2025

We are at Darbar Hazrat Sakhi Sarwar, DG khan

دربار حضرت سخی سرور، جسے سخی سرور سلطان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک قابل احترام صوفی مزار ہے جو پنجاب، پاکستان کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں واقع ہے۔ یہ مزار 12ویں صدی کے ایک صوفی بزرگ حضرت سخی سرور کے لیے وقف ہے جو اپنی روحانی تعلیمات اور شفا بخش صلاحیتوں کے لیے بڑے پیمانے پر قابل احترام ہیں۔
حضرت سخی سرور، جن کا اصل نام شمس الدین تھا، خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سندھ، پاکستان میں پیدا ہوئے، اور بعد میں وہ اس علاقے میں آباد ہوئے جو اب ڈیرہ غازی خان ہے۔ وہ اپنی تقویٰ، بے لوثی، اور دوسروں کی مدد کے لیے لگن کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کی تعلیمات اور روحانی طریقوں نے مختلف پس منظر کے پیروکاروں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

شوگر، بلڈ پریشر، دل اور گردے کے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں مگر کچھ احتیاطی تدابیر ضروری ہیں ۔۔ ماہرین نے کہا ہے کہ شوگر، بلڈ...
27/02/2025

شوگر، بلڈ پریشر، دل اور گردے کے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں مگر کچھ احتیاطی تدابیر ضروری ہیں ۔۔

ماہرین نے کہا ہے کہ شوگر، بلڈ پریشر، دل اور گردوں کے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق دنیا میں تقریباً چار سو تریسٹھ ملین افراد ذیابیطس سے متاثر ہیں۔ 4 میں سے 1 بالغ شخص ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے ۔
ذیابیطس ہمارے جسم میں ایک عضو لبلبہ یا پنکریاز کے صحیح طور پر کام نہ کرنے کی صورت میں ہونے والی بیماری ہے ۔ پینکریاز کا کام انسولین نامی ہارمون خارج کرنا ہے۔ اس مرض میں انسولین کا یا اخراج نہیں ہو گا یا وہ صحیح طور پر کام نہیں کرے گا، ابتدائی مرحلہ میں غذا میں تبدیلی ورزش اور گولیوں کی مدد سے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے، جبکہ رمضان سے پہلے شوگر ٹائپ ون اور ٹو کے مریضوں کو روزہ رکھنے سے قبل اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔

ابتدائی مرحلہ میں غذا میں تبدیلی ورزش اور گولیوں کی مدد سے اس پر قابو پائیں۔ رمضان کے دوران کھانے کی عادات میں تبدیلی کسی شخص کے خون میں گلوکوز کی سطح کو متاثر کر سکتی ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں ۔ شوگر کے مریضوں کو خصوصی طور پر رمضان میں روزوں کے دوران بہت سی باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ وہ بحفاظت روزے رکھ سکیں۔ روزہ رکھنا یا نہ رکھنا یہ تو مریض کے اپنے فیصلے پر منحصر ہے۔ روزوں میں نہ صرف شوگر بلکہ گردوں کے مرض میں بھی مبتلا افراد کو احتیاط کی ضرورت ہے۔
گردوں کے مرض میں مبتلا افراد جو سٹیج ون اور ٹو پر ہیں وہ روزہ رکھ سکتے ہیں، لیکن سٹیج 3 سے 5 تک میں مبتلا مریض ڈاکٹر کی ہدایات اور مشورے کے بعد روزہ رکھ سکتے ہیں اور ایسے مریض جن کے ڈائیلسز ہوتے ہیں اُن کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔انسان کو ہر وقت کھانے کی بجائے وقفے وقفے سے کھانا چاہیے تاکہ معدے کو بھی آرام مل سکے۔ اس سے کولیسٹرول، بلڈ پریشر اور شوگر جیسے امراض پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور رمضان کے تیس روزے رکھنے سے ہمارے جسم کو پورا سال فائدہ پہنچتا ہے۔ رمضان سے پہلے ہمیں اپنی جسمانی سرگرمیوں پر توجہ دینی چاہئے مثلاً ورزش کرنے کی عادت بنالیں کم کھانے کی عادت بنائیں تاکہ رمضان میں زیادہ بھوک نہ لگے۔ ایسے لوگ جو روزہ نہ رکھتے ہوں ان کا شوگر لیول اتار چڑھائو کا شکار رہتا ہے جبکہ روزہ دار مریض کا شوگر لیول نارمل رہتا ہے۔ کیونکہ روزہ مریض اور معالج کے لئے کسی قسم کی مشکلات یا پریشانی پیدا نہیں کرتا۔
شوگر کے مریضوں کو سحری لازمی کرنی چاہئے جبکہ سحری تاخیر سے کریں مختلف اناج کو ملا کر بنائی گئی روٹی، دالیں، پھل، دہی اور سبزیوں کا استعمال کثرت سے کریں، سحری کے وقت اور افطار کے بعد کافی مقدار میں پانی پئیں۔
شوگر کے مریض اگر روزے کی حالت میں محسوس کریں کہ کمزوری ہو رہی ہے ،پسینہ آ رہا ہے ،چکر، متلی، تھرتھراہٹ جیسی علامات ظاہر ہو رہی ہیں تو فوراً بلڈ گلوکوز ٹیسٹ کروائیں اور روزے کی حالت میں یہ ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔
بہت سی ایسی بیماریاں جن سے سارا سال لڑنا پڑتا ہے ایک دن بھی دوا کے بغیر نہیں گزرا جا سکتا لیکن جب ہم رمضان کے روزے رکھنا شروع کرتے ہیں تو ان بیماریوں سے 40 فیصد تک افاقہ ملتا ہے۔
رسول اکرمؐ کا ارشاد مبارک ہے کہ "روزہ رکھو اور صحت پائو۔"

شوگر کے ایسے مریض جو انسولین یا گولیاں استعمال کرتے ہیں ان میں ہائپو گلاسیمیا اور ڈی ہائیڈریشن کے امکانات رہتے ہیں اگر کسی شخص کی شوگر کنٹرول میں نہیں رہتی ، ذیابیطس کی مریض حاملہ خواتین، وہ افراد جن کے گردے، آنکھیں یا اعصاب ذیابیطس سے شدید متاثر ہو چکے ہوں ایسے افراد روزہ رکھنے سے اجتناب کریں۔

ذیابیطس کے مریض روزے کی حالت میں باقاعدگی سے اپنی شوگر چیک کرتے رہیں گائیڈ لائنز کے مطابق مندرجہ ذیل اوقات جس میں صبح 10بجے شام 4سے پانچ بجے افطاری سے تین گھنٹے پہلے سحری کے فوراً بعد شامل ہیں اس دوران شوگر لازم چیک کی جائے اور اس دوران اگر شوگر 70سے کم ہو تو فوراً روزہ توڑ دینا چاہئے کیونکہ یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے ۔

26/02/2025

مظفرگڑھ ڈسٹرکٹ ہسپتال کے امراض سینہ و تپ دق وارڈ میں اپنے کولیگز ڈاکٹرز کے ساتھ۔

ہائپوگلیسیمیا یعنی خون میں شوگر کی مقدار کم ہوناکیا آپ نے کبھی بغیر کسی ظاہری وجہ کے چکر آنا، ہلچل، یا چڑچڑا محسوس کیا ہ...
25/02/2025

ہائپوگلیسیمیا یعنی خون میں شوگر کی مقدار کم ہونا

کیا آپ نے کبھی بغیر کسی ظاہری وجہ کے چکر آنا، ہلچل، یا چڑچڑا محسوس کیا ہے؟ یہ ہائپوگلیسیمیا کی علامات ہو سکتی ہیں، ایسی حالت جو کسی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ ہائپوگلیسیمیا، یا کم بلڈ شوگر، اس وقت ہوتا ہے جب خون میں گلوکوز کی سطح معمول سے کم ہوجاتی ہے۔ اگر علاج نہ کیا جائے تو صحت کا یہ عام مسئلہ کم شوگر کی متعدد علامات کا سبب بن سکتا ہے۔۔۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ خون میں تیزی سے شکر کی مقدار کم ہونے کی نشانیاں کیا ہیں

خون میں شکر [بلڈ شوگر] کا توازن انسانی جسم میں توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے اور اس میں معمول کی سطح کو برقرار رکھنا انسانی صحت اور تندرستی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ تاہم ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہر شخص جانتا ہے کہ خون میں شکر کی سطح کا 70 mg/dL سے نیچے گرنا ایک عام بات ہے۔

یہ کسی بھی انسان لاحق ہو سکتی ہے۔ کام کاج میں بے چینی یا پریشان ہونے لگتی ہے۔ اگرچہ خون میں شکر کی مقدار بڑھنے کا فوری حل ممکن ہو سکتا ہے، لیکن ہمیشہ ڈاکٹر سے ملنے اور مسئلہ کا فوری علاج کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ جب علاج نہ کیا جائے تو کم بلڈ شوگر سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے اور غیر معمولی حالات میں یہ موت تک بھی لے جا سکتی ہے۔

خون میں شوگر کی سطح بہت سی چیزوں سے متاثر ہو سکتی ہے جن میں خوراک، نیند کی عادات اور ورزش کے معمولات شامل ہیں۔ خون میں شوگر کی سطح اس بات پر بھی منحصر ہو سکتی ہے کیا کسی شخص کو کچھ طبی عوارض لاحق ہیں جیسے ذیابیطس یا ہائپوگلیسیمیا وغیرہ۔ خون میں شوگر دونوں کو خوراک، ورزش اور ادویات کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ بلڈ شوگر کی سطح دن بھر بڑھ سکتی ہے اور گر سکتی ہے، لیکن مقصد ہمیشہ اسے معمول کی حد میں رکھنا ہے۔"

اچانک کمی
خون میں شوگر کی سطح میں اچانک کمی اس وقت ہو سکتی ہے جب کوئی شخص بغیر کھائے، خاص طور پر ورزش کرنے کے بعد کافی دیر تک چلتا رہا ہو۔ کچھ لوگ خون میں شوگر کی سطح کم ہونے کا بھی شکار ہوتے ہیں یا دوائیوں کی وجہ سے بلڈ شوگر میں کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
جن لوگوں کو ذیابیطس ہے ان کے لیے بہت زیادہ انسولین لینا بھی خون میں گلوکوز کی سطح کو خطرناک حد تک بے ترتیب اور کم کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ بیماری کی بعض صورتوں میں جیسا کہ فلو، متلی اور قے جیسی علامتیں ظہور پذیر ہوسکتی ہیں۔ کھانے کی مقدار محدود ہو تو انسان کو چکر آنے لگتے ہیں۔ کم بلڈ شوگر کی وجہ سے کمزوری کا شکار ہوسکتا ہے۔
۔
۔
۔

Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Sharmeen Akhtar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category