Dynamis Centre for Natural Sciences,Nowshera

Dynamis Centre for Natural Sciences,Nowshera Centre For Chronic Disorders Through Update Homeopathy

1920 میں کینسر کا علاج آج کے جدید اور محفوظ طریقوں سے بالکل مختلف تھا۔ اُس دور میں نہ جدید امیجنگ موجود تھی، نہ کمپیوٹرا...
01/02/2026

1920 میں کینسر کا علاج آج کے جدید اور محفوظ طریقوں سے بالکل مختلف تھا۔
اُس دور میں نہ جدید امیجنگ موجود تھی،
نہ کمپیوٹرائزڈ ڈوزیمیٹری، اور نہ ہی یہ واضح سائنسی سمجھ کہ تابکاری انسانی جسم پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔
علاج تجربات، مشاہدات اور شدید خطرات پر مبنی تھا۔

اس دور کی ایک دستاویزی مثال ایک خاتون مریضہ کی ہے جو رحمِ مادر کے منہ (سروائیکل کینسر) کے آخری مرحلے میں مبتلا تھیں۔ بہار 1920 تک معالجین نے ان کا کیس ناقابلِ علاج قرار دے دیا تھا۔ مروجہ طریقے ناکام ہو چکے تھے، وزن تیزی سے کم ہو رہا تھا،
اور جسمانی حالت مسلسل بگڑ رہی تھی۔ ایسے میں ڈاکٹروں نے ایک انتہائی غیر معمولی اور خطرناک طریقہ آزمانے کا فیصلہ کیا جسے اُس وقت انٹرا ویجائنل ایکس رے تھراپی کہا جاتا تھا۔

مریضہ کو ہسپتال کے بستر پر لٹایا جاتا، اس کی ٹانگیں کپڑے کے بنے ہوئے جھولوں میں معلق کی جاتیں تاکہ اندرونی حصے تک براہِ راست رسائی حاصل ہو سکے۔
چھت سے برقی تاریں لٹک رہی ہوتیں اور ایکس رے ٹیوب کو ہاتھ سے مخصوص فاصلے پر رکھا جاتا۔
کوئی حفاظتی شیلڈ، کوئی خودکار کنٹرول، اور کوئی درست پیمائش کا نظام موجود نہ تھا۔ ہر سیشن تقریباً دو گھنٹے جاری رہتا اور تابکاری براہِ راست اندام نہانی کے ذریعے رحم کے منہ پر ڈالی جاتی۔

یہ طریقہ اس قدر نیا تھا کہ ڈاکٹروں نے علاج کے ہر لمحے کو تحریری شکل میں محفوظ کیا۔
مریضہ کی ٹانگوں کی پوزیشن، ایکس رے سورس کا فاصلہ، ٹیوب کا ایمپریج، اور علاج کا دورانیہ سب کچھ تفصیل سے لکھا گیا،
کیونکہ یہ سب کچھ پہلی بار ایجاد اور آزمایا جا رہا تھا۔

حیرت انگیز طور پر، علاج کے چند ہی ہفتوں بعد غیر متوقع نتائج سامنے آئے۔
رسولی سکڑنے لگی، سرطان زدہ خلیات تیزی سے ختم ہونے لگے،
مریضہ کا وزن دوبارہ بڑھنے لگا، خون کے ٹیسٹ بہتر ہو گئے، اور خود مریضہ نے جسمانی بہتری اور ذہنی سکون کا اظہار کیا,
ایسا احساس جو وہ کئی مہینوں سے کھو چکی تھیں۔

لیکن اس کامیابی کی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔
مریضہ شدید متلی، کمزوری اور اُس کیفیت میں مبتلا ہوئیں جسے اُس زمانے میں “ایکس رے سکنس” کہا جاتا تھا۔
آج ہم جانتے ہیں کہ یہ تابکاری کے زہریلے اثرات تھے، مگر اُس وقت یہ خطرات پوری طرح سمجھے نہیں جاتے تھے۔
نہ تابکاری سے بچاؤ کے اصول موجود تھے اور نہ ہی طویل المدتی نقصانات کا کوئی واضح ادراک۔

اس علاج کی تصویر کسی سنسنی یا تماشے کے لیے نہیں لی گئی تھی،
بلکہ بطور تدریسی مواد شائع کی گئی تاکہ دوسرے معالج سیکھ سکیں کہ مریض کو کس طرح رکھا جائے،
تاروں کو کیسے سنبھالا جائے اور تابکاری کو کس زاویے سے نشانہ بنایا جائے۔
یہ تصویر طب کی اُس سرحد کی نمائندگی کرتی ہے جہاں دریافت اور خطرہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے,
ایک ایسا دور جو سادہ، بے ترتیب، مگر گہرے انسانی جذبے سے بھرپور تھا۔

آج کے جدید ریڈی ایشن آنکولوجی یونٹس، محفوظ مشینیں اور درست علاجی پروٹوکول اسی ابتدائی، خطرناک اور جرات مندانہ دور کی پیداوار ہیں۔
جدید کینسر تھراپی کی ہر کامیابی کے پیچھے ایسی ہی خام، تکلیف دہ اور انسانی کہانیاں چھپی ہوئی ہیں،
جنہوں نے طب کو اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی تک پہنچایا۔

یورین ڈی آر (Urine DR) پیشاپ کا ٹیسٹ ہوتا ہے جو پیشاپ کا جائزہ لیتا ہے اور اس سے گردوں ، مثانے یا بعض جسمانی بیماریوں کے...
25/01/2026

یورین ڈی آر (Urine DR) پیشاپ کا ٹیسٹ ہوتا ہے جو پیشاپ کا جائزہ لیتا ہے اور اس سے گردوں ،
مثانے یا بعض جسمانی بیماریوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہے ۔

اس ٹیسٹ میں چیک کی جانے والی چند اہم چیزیں :

️ پی ایچ (PH)
اس سے تیزابیت کا پتہ چلتا ہے اور یہ نارمل 4.5 سے 8 تک ہوتا ہے ۔

️پروٹین (Protein)
گردوں میں خرابی کی نشانی ہوتی ہے ۔

️ گلوکوز (Glucose)
شوگر کی بیماری کی نشانی ہوتی ہے ۔

️ کِٹونز (Ketones)
شوگر یا جسم میں پانی کم ہونے کی نشانی ۔

️ خون (Blood)
انفکشن یا پتھری کی نشانی ۔

️لیوکوسائٹس (Pus cells) اگر 5 سے زیادہ ہو
انفیکشن کی نشانی ۔

️آر بی سی (Red blood cells)
سوزش یا پتھری کی نشانی ۔

️بیکٹیریا (Bacteria)
انفیکشن کی نشانی ۔

️ نائیٹریٹ (Nitrate)
انفکشن کی نشانی ۔

اہم طبی آگاہی۔۔۔دوائی کی Expiry سے متعلق اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دوائی کی بوتل پر لکھی ہوئی Expiry Date کھلنے کے بعد ب...
21/01/2026

اہم طبی آگاہی۔۔۔دوائی کی Expiry سے متعلق

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دوائی کی بوتل پر لکھی ہوئی Expiry Date کھلنے کے بعد بھی ویسے ہی لاگو رہتی ہے،
جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

جو Expiry Date دوائی پر درج ہوتی ہے وہ صرف sealed (بند) بوتل کے لیے ہوتی ہے۔
جیسے ہی بوتل کھولی جاتی ہے، دوائی ہوا، نمی اور بیکٹیریا کے رابطے میں آ جاتی ہے۔
اس کے بعد دوائی کی کیمیائی طاقت (effectiveness) کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

اہم اصول:
زیادہ تر liquid syrups، drops، tonics اور suspensions
بوتل کھلنے کے بعد 1 ماہ (30 دن) کے اندر استعمال کر لینے چاہییں،
چاہے Expiry Date آگے کی کیوں نہ ہو۔

کھلی ہوئی دوائی زیادہ عرصہ استعمال کرنے سے:
دوائی بے اثر ہو سکتی ہے۔
انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
معدے اور جگر پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
علاج کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔

محفوظ رہنے کے لیے:
بوتل کھولنے کی تاریخ لکھ لیں۔
ایک ماہ بعد بچی ہوئی دوائی ضائع کر دیں۔
بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے پرانی دوائی دوبارہ استعمال نہ کریں۔

یاد رکھیں:
دوائی کی حفاظت = آپ کی صحت کی حفاظت
یہ آگاہی پوسٹ مفاد عامہ کے لیے ہے,
تا کہ دوسرے لوگ بھی نقصان سے بچ سکیں۔

‏ قرأن ہی اصل سائنس ہے قیامت کی ٹیکنالوجی  (  سوشل میڈیا سے چنیدہ ) بلآخر  سائنس نے 1400 سال بعد قرآن کے سامنے گھٹنےٹیک ...
11/01/2026


قرأن ہی اصل سائنس ہے
قیامت کی ٹیکنالوجی

( سوشل میڈیا سے چنیدہ )
بلآخر سائنس نے 1400 سال بعد قرآن کے سامنے گھٹنےٹیک کیا ہم غلط عضو سے (Organ دئیے
سے سوچ رہے ہیں

بات صرف دماغ (Brain)
تک محدود نہیں ہے، کہانی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔

جدید سائنس نے ابھی حال ہی میں نیورو کارڈیالوجی دریافت کی ہے۔

ڈاکٹرز حیران ہیں کہ انسانی دل میں بھی 40,000 سے زائد نیورونز (Neurons) ہیں

یعنی دماغ کے سیلز

سائنسدان اب کہہ رہے ہیں کہ دل صرف خون پمپ کرنے والی موٹر نہیں، بلکہ یہ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے اور فیصلے لیتا ہے۔

اب ذرا 1400 سال پیچھے مڑ کر دیکھو

قرآن نے دماغ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ بار بار "دل" کو سمجھنے کا مرکز کہا

"لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا"

(ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں ہیں۔)

(القرآن، الاعراف: 179)

ہمارے لبرل دوست مذاق اڑاتے تھے کہ دل تو صرف پمپ ہے، سوچتا تو دماغ ہے

آج وہی گورے سائنسدان بتا رہے ہیں کہ دل کی "الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ" دماغ کے مقابلے میں 5000 گنا زیادہ طاقتور ہے

جب آپ کا دل ذکر کرتا ہے یا کسی کے لیے نفرت پالتا ہے، تو یہ ایک ایسی مقناطیسی لہر (Magnetic Wave) چھوڑتا ہے جو کئی فٹ دور کھڑے انسان کو بھی متاثر کرتی ہے۔

یہی وہ روحانی وائی فائی ہے جسے مومن کی فراست کہا جاتا ہے۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی سوچ صرف ہوا میں غائب ہو جاتی ہے، تو جاپانی سائنسدان ڈاکٹر مسارو ایموٹو کی تحقیق پڑھ لیں

اس نے ثابت کیا کہ پانی کی یادداشت ہوتی ہے۔

اگر پانی پر اچھی بات (Good Intentions) بولی جائے، تو مائیکروسکوپ کے نیچے اس کے کرسٹلز ہیرے جیسے خوبصورت بن جاتے ہیں۔

اور اگر پانی کو گالیاں دی جائیں یا بری نیت سے دیکھا جائے، تو اس کی شکل بگڑ کر بدصورت ہو جاتی ہے۔

اب سمجھ آیا کہ ہم بیمار پر پانی دم کیوں کرتے ہیں؟

یا زمزم میں شفاء کیوں ہے؟

انسانی جسم 70 فیصد پانی ہے۔ جب آپ اپنے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں،
تو دراصل آپ اپنے جسم کے پانی کا مالیکیولر سٹرکچر تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔

حسد اور کینہ صرف گناہ نہیں، یہ سیلف ڈسٹرکشن کا بٹن ہے جو آپ خود دباتے ہیں۔

اب میں آپ کے سامنے وہ حقیقت رکھنے جا رہا ہوں جسے سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سوچ ہماری ذاتی ملکیت ہے اور ہمارے دماغ کے اندر محفوظ ہے۔

نا جی

غلط! سراسر غلط!

سائنٹسٹ نکولا ٹیسلا نے 1933ء میں کہا تھا کہ انسان کے خیالات دراصل انرجی ہیں اور انہیں تصویر میں بدلا جا سکتا ہے۔ سائنس اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ دماغ کے الیکٹریکل سگنلز کو ڈی کوڈ کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ہم ابھی تک اسکولوں میں نیوٹن کے سیب گرنے کی کہانی پڑھ رہے ہیں،
جب کہ مغرب ایسی مشین بنا رہا ہے جو آپ کے دماغ کو اسکین کر کے آپ کے خیالات کو اسکرین پر دکھا دے گا

آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث نے 1400 سال پہلے اس تھوٹ ٹیکنالوجی کے بارے میں کیا کہا تھا

رسول اللہ ﷺ کی مشہور ترین حدیث ہے

"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"

(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔)

(صحیح بخاری: 1)

ہم نے اسے صرف ایک اخلاقی جملہ سمجھا

لیکن ٹیسلا کی تھیوری کی روشنی میں دیکھیں تو یہ کوانٹم فزکس ہے۔

عمل مادی دنیا (Physical World) ہے۔

نیت (Intention/Thought) یہ فریکوئنسی (Frequency/Energy) ہے۔

ٹیسلا کہتا ہے کہ خیال ایک انرجی ہے۔

جب آپ کوئی نیت کرتے ہیں، تو آپ کے دماغ سے ایک خاص ویو لینتھ (Wavelength) نکلتی ہے۔

اگر آپ کا عمل بہت بڑا ہو لیکن اس کے پیچھے نیت کمزور یا گندی ہو، تو کائنات میں اس کا وزن نہیں ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں (خیالات کے مرکز) کو دیکھتا ہے۔ ہماری سوچیں خلا میں ضائع نہیں ہو رہیں، وہ ایک الیکٹریکل دستخط چھوڑ رہی ہیں۔

ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دو فرشتے (کراماً کاتبین) ہمارے کندھوں پر بیٹھے لکھ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے پاس کوئی رجسٹر اور پینسل ہے۔

خدا کے لیے! فرشتوں کی ٹیکنالوجی کو ہماری پرانی عقل سے مت تولیں

قرآن کہتا ہے:

"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"

(وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے۔)

(القرآن، ق: 50:18)

اور سورۃ الجاثیہ میں فرمایا:

"هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ"

(یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے (Data بیشک ہم لکھواتے جاتے تھے جو تم کرتے تھے۔)

(القرآن، الجاثیہ: 45:29)

یہ نستنسخ کا لفظ بہت اہم ہے۔

اگر انسان (ٹیسلا اور آج کی AI) ایسی مشین بنا سکتا ہے جو دماغ کی لہروں کو تصویر میں بدل دے، تو کیا اللہ کا نظام آپ کی پوری زندگی کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ نہیں کر رہا۔
‏قیامت کے دن جب اعمال نامہ پیش ہوگا، تو وہ 4K Video کی طرح آپ کے سامنے چلے گا

"فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ"

(پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔)

(القرآن، الزلزال)

یہاں پڑھنے کا نہیں، دیکھنے (Visualizing) کا ذکر ہے۔ ٹیسلا کی تھوٹ فوٹوگرافی دراصل قیامت کے دن کی ٹیکنالوجی کا ایک ادنیٰ سا ٹریلر ہے۔

کیوں سسٹم چاہتا ہے کہ یہ طاقت صرف ان کے پاس ہو۔

آج ایلون مسک کا Neuralink کیا کر رہا ہے؟

وہ آپ کے دماغ میں چپ لگا کر آپ کی سوچ کو پڑھنا چاہتا ہے۔

یہ دجال کا سب سے بڑا ہتھیار ہوگا

اگر وہ آپ کی سوچ پڑھ سکتے ہیں، تو وہ آپ کی سوچ بدل بھی سکتے ہیں

وہ آپ کو مجرم قرار دے دیں گے اس سے پہلے کہ آپ کوئی جرم کریں جیسا کہ مغرب کی فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔

یہ ہے وہ فتنہ جس کے لیے ہمیں تیار ہونا تھا۔ لیکن ہمارا نوجوان کیا کر رہا ہے؟

وہ ٹک ٹاک پر ناچ رہا ہے

یہاں میں پھر اپنے گلے سڑے تعلیمی نظام پر افسردہ ہوں

ہمیں اسکولوں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے؟

رٹہ سسٹم

ڈارون کا بندر

انگریز کی تاریخ

ہمیں یہ کیوں نہیں پڑھایا جاتا کہ انسان ایک ٹرانسمیٹر ہے؟

ہمیں تزکیہ نفس کی سائنس کیوں نہیں پڑھائی جاتی؟

کیونکہ اگر مسلمان کو پتہ چل گیا کہ اس کی پاکیزہ سوچ لیزر بیم کی طرح طاقتور ہے، تو وہ ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہو جائے گا

صحابہ کرامؓ کی سوچ میں اتنی طاقت تھی کہ حضرت عمرؓ مدینہ میں ممبر پر کھڑے ہو کر میلوں دور ساریہؓ کو فرماتے ہیں

"یا ساریہ الجبل"

(اے ساریہ پہاڑ کی طرف ہو جاؤ!)

اور ان کی آواز وہاں سنی جاتی ہے۔

یہ ٹیلی پیتھی یا تھوٹ ٹرانسفر تھا جو ایمان کی طاقت سے پیدا ہوتا تھا۔ ہم نے وہ سائنس کھو دی اور آج ہم سمارٹ فون کے غلام بن گئے

میرے مسلمان ساتھیو

آپ کا دماغ کوڑے دان نہیں ہے۔ اس میں جو خیال آتا ہے،
وہ ریکارڈ ہو رہا ہے اور اس کا اثر کائنات پر پڑ رہا ہے۔

ٹیسلا کی تھیوری ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ غیب کی دنیا حق ہے۔

اپنی سوچوں کی حفاظت کرو۔

اپنے خیالات کو دجالی میڈیا کے حوالے مت کرو۔

قرآن کو سائنس کی کتاب سمجھ کر پڑھو، تاکہ تم اس آنے والے ذہنی غلامی کے دور میں آزاد رہ سکو۔

اُٹھو! اور اپنی روحانی فریکوئنسی کو اتنا مضبوط کرو کہ کوئی دجالی مشین اسے ہیک نہ کر سکے۔

خراب گردش - یعنی خون جسم کے ذریعے موثر طریقے سے نہیں بہہ رہا ہے - مسائل کی ایک وسیع رینج کا سبب بن سکتا ہے، کیونکہ ہر عض...
11/01/2026

خراب گردش - یعنی خون جسم کے ذریعے موثر طریقے سے نہیں بہہ رہا ہے -
مسائل کی ایک وسیع رینج کا سبب بن سکتا ہے،
کیونکہ ہر عضو، ٹشو اور سیل کا انحصار آکسیجن اور غذائیت سے بھرپور خون پر ہوتا ہے۔
جب یہ بہاؤ کم ہو جاتا ہے، تو اثرات تقریباً کہیں بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔

جسم کے نظام یا علامات کی قسم کے لحاظ سے گروپ بندی کی وجہ سے خراب گردش کی وجہ سے ہونے والے اہم مسائل کی ایک خرابی یہ ہے:

انتہاپسندی (ہاتھ، پاؤں، ٹانگیں)

ٹھنڈے ہاتھ پاؤں، یہاں تک کہ گرم ماحول میں

بے حسی یا جھنجھناہٹ ("پن اور سوئیاں")

ٹخنوں، پیروں یا ہاتھوں میں سوجن

چلتے وقت ٹانگوں میں درد یا درد (جسے کلاڈیکیشن کہتے ہیں)

ویریکوز رگیں یا مکڑی کی رگیں۔

جلد کے رنگ میں تبدیلی (نیلی، پیلا، یا داغ دار جلد)

آہستہ سے بھرنے والے زخم یا زخم، خاص طور پر ٹانگوں یا پیروں پر

السر یا انفیکشن، جو علاج نہ کیے جانے پر سنگین ہو سکتے ہیں۔

قلبی نظام

تھکاوٹ یا کم توانائی (کیونکہ کم آکسیجن ٹشوز تک پہنچتی ہے)

مشقت کے دوران سانس کی قلت

چکر آنا یا ہلکا سر ہونا

سینے میں درد یا دباؤ اگر دل کو کافی آکسیجن نہ مل رہی ہو۔

ہائی یا کم بلڈ پریشر میں اتار چڑھاو

خون کے جمنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو فالج یا پلمونری امبولزم کا باعث بن سکتا ہے۔

دماغ اور اعصاب

دماغی دھند، کمزور ارتکاز، یا یادداشت کے مسائل

سر درد یا درد شقیقہ

چکر آنا یا بیہوش ہونا

ہاتھوں اور پیروں میں ٹنگلنگ یا نیوروپتی (اکثر ذیابیطس میں دیکھا جاتا ہے)

پٹھے اور جوڑ

پٹھوں میں درد، سختی، یا کمزوری۔

ورزش یا چوٹ سے دھیرے دھیرے صحت یاب ہونا

جوڑوں کا درد یا اعضاء میں بھاری پن کا احساس

جلد اور بال

ہلکی یا نیلی جلد

ٹانگوں پر خشک، پتلی، یا چمکدار جلد

ٹانگوں یا پیروں پر بالوں کا گرنا (خون کے بہاؤ میں کمی سے پٹکوں میں)

ٹوٹے ہوئے ناخن یا سست کیل کی نشوونما

مجموعی صحت اور شفاء

کٹوتیوں، زخموں، یا سرجریوں سے سست شفا یابی

دائمی تھکاوٹ یا سستی۔

کمزور مدافعتی ردعمل (چونکہ گردش سفید خون کے خلیوں کو منتقل کرنے میں مدد کرتا ہے)

سردی کی عدم برداشت یا آسانی سے ٹھنڈا محسوس کرنا

عضو تناسل (مردوں میں، خون کے بہاؤ میں کمی سے)

اگر علاج نہ کیا جائے تو سنگین پیچیدگیاں

اگر گردش کے مسائل شدید یا دائمی ہیں، تو وہ اس کا باعث بن سکتے ہیں:

پردیی دمنی کی بیماری (PAD)

دل کا دورہ یا فالج

گہری رگ تھرومبوسس (DVT)

ٹشو کو نقصان یا گینگرین (انتہائی معاملات میں)

لیپڈ پروفائل کیا ہے؟ لیپڈ پروفائل کو ایک منفرد کہانی کے ذریعے  بیان کرتا ہوں۔  تصور کریں کہ ہمارا جسم ایک چھوٹا سا شہر ہ...
10/01/2026

لیپڈ پروفائل کیا ہے؟

لیپڈ پروفائل کو ایک منفرد کہانی کے ذریعے بیان کرتا ہوں۔
تصور کریں کہ ہمارا جسم ایک چھوٹا سا شہر ہے۔
اس شہر کا سب سے بڑا بد معاش ہے ۔کولیسٹرول۔
اس کے کچھ ساتھی بھی ہیں۔
اس کا اہم ساتھی ہے – ٹرائی گلیسرائیڈ۔
ان کا کام گلیوں میں گھومنا، شرارت کرنا اور سڑکوں کو بلاک کرنا ہے۔
دل اس شہر کا مرکزی چوک ہے۔
تمام سڑکیں دل تک جاتی ہیں۔
جب یہ بدمعاش تعداد میں بڑھنے لگتے ہیں،
تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔
یہ دل کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن ہمارے جسم-شہر میں ایک پولیس فورس بھی تعینات ہے –HDL۔
اچھا پولیس والا ان بد معاشو ں کو پکڑتا ہے اور جیل یعنی (جگر) میں ڈال دیتا ہے
پھر جگر انہیں جسم سے نکال دیتا ہے –
ہمارے نکاسی کے نظام کے ذریعے۔
لیکن ایک برا پولیس والا بھی ہے
– LDL جو طاقت کا بھوکا ہے۔
‏LDL ان غنڈوں کو جیل سے نکال کر دوبارہ گلیوں میں چھوڑ دیتا ہے۔
جب اچھا پولیس والا HDL کم ہو جاتا ہے، تو پورا شہر تہ و بالا ہو جاتا ہے۔
کیا آپ ایسے شہر میں رہنا چاہیں گے؟
کیا آپ ان غنڈوں کو کم کرنا اور اچھے پولیس والوں کی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں؟

تو چہل قدمی شروع کردیں!
ہر قدم کے ساتھ HDL بڑھے گا، اور بدمعاش جیسے کولیسٹرول، ٹرائی گلیسرائیڈ اور LDL
کم ہوں گے۔
آپ کا جسم (شہر) دوبارہ زندہ ہو جائے گا۔
آپ کا دل –
شہر کا مرکز –
لفنگوں کی بندش کی وجہ سے یعنی (ہارٹ بلاک) سے محفوظ رہے گا۔
اور جب دل صحت مند ہوگا،
تو آپ بھی صحت مند ہوں گے۔
اس لیے جب بھی موقع ملے –
چلنا شروع کریں!
صحت مند رہیں..
یہ مضمون آپ کو HDL (اچھا کولیسٹرول) بڑھانے اور LDL (برا کولیسٹرول) کم کرنے کا بہترین طریقہ بتاتا ہے،
یعنی چلنا۔
ہر قدم HDL
کو بڑھاتا ہے۔
اس لیےآگے بڑھیں اور چلتے رہیں۔
ان چیزوں کو کم کریں:

1. نمک
2. چینی
3. بلیچڈ ریفائنڈ آٹا
4. ڈیری مصنوعات
5. پروسیسڈ غذائیں

یہ چیزیں روزانہ کھائیں:

1. سبزیاں
2. دالیں
3. پھلیاں
4. گری دار میوے
5. کولڈ پریسڈ تیل
6. پھل

تین چیزیں بھولنے کی کوشش کریں:

1. آپ کی عمر
2. آپ کا ماضی
3. آپ کی شکایات

چار اہم چیزیں اپنائیں:

1. آپ کا خاندان
2. آپ کے دوست
3. مثبت سوچ
4. صاف اور خوش آئند گھر

تین بنیادی چیزیں اپنائیں:

1. ہمیشہ مسکرائیں
2. اپنی رفتار سے باقاعدہ جسمانی سرگرمی کریں
3. اپنا وزن چیک اور کنٹرول کریں ،

چھ ضروری زندگی کے عادات جو آپ کو اپنانی چاہئیے

1. پیاس لگنے کا انتظار نہ کریں، پانی پیئیں ۔
2. تھک جانے کا انتظار نہ کریں، آرام کریں۔
3. بیمار ہونے کا انتظار نہ کریں، میڈیکل چیک اپ کروائیں۔
4. معجزوں کا انتظار نہ کریں،
اللّٰہ پر بھروسہ کریں۔
5. کبھی اپنے آپ پر سے بھروسہ نہ ٹوٹنے دیں۔
6. مثبت رہیں اور ہمیشہ بہتر کل کی امید رکھیں۔

آپ کے جسم کے لیے بہترین غذائیں
09/01/2026

آپ کے جسم کے لیے بہترین غذائیں

عورتوں کے لیے اہم اور مفید معلومات کبھی تم نے غور کیا کہ چین یا جاپان کی نوے نوے سالہ عورتیں آج بھی طاقتور ہیں،پہاڑوں پر...
03/01/2026

عورتوں کے لیے اہم اور مفید معلومات
کبھی تم نے غور کیا کہ چین یا جاپان کی نوے نوے سالہ عورتیں آج بھی طاقتور ہیں،
پہاڑوں پر رہتی ہیں، آٹا گوندھتی ہیں، لکڑیاں توڑتی ہیں اور کبھی گھٹنوں یا کمر کے درد کی شکایت نہیں کرتیں
لیکن ہماری عورتیں جوانی ہی میں تھکن، ہڈیوں کے درد، گھٹنوں کے مسئلے اور کمزوری کی شکایت کرتی ہیں۔
کیا تم نے سوچا کیوں؟
راز ہے (بیضہ دانیاں) میں
ماہواری شروع ہونے سے چند دن پہلے ہی جسم میں خون کا دباؤ بنتا ہے،
عورت کو سستی، تھکن اور نیند محسوس ہوتی ہے ,
کیونکہ جسم اندرونی طور پر تیاری کر رہا ہوتا ہے۔
اِس دوران کیلشیم کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ رحم اپنا کام مکمل کر سکے۔
جب جسم کو کیلشیم کی کمی ہوتی ہے تو وہ ہڈیوں سے کھینچ لیتا ہے،
اسی لئے چہرہ پیلا پڑ جاتا ہے،
ہونٹ سفید ہو جاتے ہیں، اور تھکن چھا جاتی ہے۔
لیکن اکثر عورتیں غلطی یہ کرتی ہیں کہ میٹھا یا چاکلیٹ کھا لیتی ہیں یہ سمجھ کر کہ جسم کو "توانائی" چاہیے
حالانکہ اس وقت جسم کو میٹھا نہیں بلکہ کیلشیم اور لوہا (ائرن) چاہیے ہوتا ہے۔
اسی کمی کی وجہ سے بہت سی لڑکیاں کمزوری اور خون کی کمی (انیمیا) میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔
کیا کرنا چاہیے ماہواری سے پہلے اور اس دوران عورت کو چاہیے کہ
دودھ، پھل، سبزیاں، سلاد اور بغیر نمک کے میوے کھائے۔
پنیر اور دہی بھی مفید ہیں کیونکہ ان میں کیلشیم ہوتا ہے۔
روزانہ ہلکی ورزش کرے تا کہ جسم کیلشیم اور آئرن کو بہتر طور پر جذب کر سکے۔

یاد رکھو:
عورت کی صحت کا اصل تعلق اُس کے کھانے پینے اور طرزِ زندگی سے ہے۔
غذا ٹھیک ہو اور حرکت ہو تو جسم مضبوط اور تندرست رہتا ہے۔
آج کل تقریباً ہر شخص میں وٹامن ڈی (Vitamin D) کی کمی پائی جاتی ہے
جس سے تھکن، ڈپریشن، ہڈیوں کا درد اور سستی پیدا ہوتی ہے۔
ڈاکٹر عام طور پر گولیاں یا انجکشن دیتے ہیں مگر تحقیق بتاتی ہے
کہ قدرتی علاج زیادہ مؤثر اور محفوظ ہے۔
قدرتی علاج کیا ہے؟
جو قرآنِ مجید میں ذکر ہوا
انجیر (خشک انجیر یعنی تینی خشک)
سائنس نے ثابت کیا کہ خشک انجیر جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔
یہ وہی پھل ہے جسے قرآن میں “وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ” کے ساتھ یاد کیا گیا۔
طریقہ استعمال
تین عدد خشک انجیر
دو عدد خشک خوبانی
انہیں رات بھر ایک کپ پانی میں بھگو دیں
صبح خالی پیٹ وہ پانی پی لیں اور پھل کھا لیں یہ نسخہ جسم کو دیتا ہے
وٹامن D، C، B، K، E
کیلشیم، پوٹاشیم
قبض سے نجات
جلد کی خوبصورتی
وزن میں توازن
اور کئی اقسام کے سرطان سے بچاؤ
یہ وہ علاج ہے
جو قدرت، ایمان اور عقل تینوں کے قریب ہے

دل کے دورے خوفناک ہو سکتے ہیں، اور ان کی سب سے عام علامات میں بائیں بازو میں درد شامل ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ دل میں مسئل...
01/01/2026

دل کے دورے خوفناک ہو سکتے ہیں،
اور ان کی سب سے عام علامات میں بائیں بازو میں درد شامل ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ دل میں مسئلہ ہونے سے بازو کیوں درد کرنے لگتا ہے؟
اس کی وجہ ایک اعصابی عمل ہے جسے منتقل شدہ درد کہا جاتا ہے۔
یہ دراصل اعصابی نظام کا ایک دلچسپ مگر بعض اوقات گمراہ کن طریقہ ہوتا ہے۔
دل میں جلد کی طرح زیادہ درد محسوس کرنے والے اعصاب نہیں ہوتے،
لیکن دل مخصوص اعصابی راستوں کے ذریعے ریڑھ کی ہڈی سے جڑا ہوتا ہے۔
یہ زیادہ تر T1 سے T5 تک کے ریڑھ کی ہڈی کے اعصاب ہوتے ہیں جنہیں کارڈیک اعصاب بھی کہا جاتا ہے۔
جب دل کسی تکلیف میں ہوتا ہے،
جیسے دل کے دورے کے دوران، تو وہ انہی اعصاب کے ذریعے درد کے سگنل ریڑھ کی ہڈی تک بھیجتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ بائیں بازو کے اعصاب، خاص طور پر بازو کے اندرونی حصے اور کندھے کے اعصاب،
بھی انہی ریڑھ کی ہڈی کے حصوں سے جڑے ہوتے ہیں، خاص طور پر T1 سے T3 تک۔
چونکہ یہ تمام اعصاب ریڑھ کی ہڈی میں ایک ہی جگہ پر آ کر ملتے ہیں،
اس لیے دماغ کبھی کبھی اصل جگہ کو درست طور پر پہچان نہیں پاتا۔
وہ ان درد کے سگنلز کو بازو سے آنے والا سمجھ لیتا ہے، حالانکہ اصل مسئلہ دل میں ہوتا ہے۔
اسی وجہ سے دل کے دورے کے دوران بائیں بازو، کندھے، سینے، گردن یا حتیٰ کہ جبڑے میں بھی درد محسوس ہو سکتا ہے۔
یہ اعصابی نظام کی وہ “غلط رپورٹنگ” ہے جو ہمیں حیران کر دیتی ہے۔
کچھ دوسرے اعصاب، جیسے ویگس نرو، دل سے متعلق علامات میں نسبتاً کم کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ زیادہ تر متلی، پسینہ آنا یا چکر آنے جیسی علامات کا سبب بنتے ہیں، نہ کہ بازو کے درد کا۔
بازو میں موجود النر نرو براہِ راست دل کا درد نہیں لاتی، لیکن چونکہ اس کا تعلق بھی انہی ریڑھ کی ہڈی کے حصوں سے ہوتا ہے،
اس لیے کبھی کبھی دماغ درد کو اسی طرف محسوس کر لیتا ہے۔
یہ بات سمجھنا بہت مفید ہے۔
صرف بائیں بازو کا درد ہمیشہ دل کے دورے کی علامت نہیں ہوتا،
لیکن اگر اس کے ساتھ سینے میں دباؤ، سانس لینے میں دشواری، متلی یا پسینہ آ رہا ہو تو یہ ایک سنگین وارننگ ہوتی ہے اور فوراً طبی مدد حاصل کرنی چاہیے۔
اس لیے جب آپ کسی کو دل کے دورے کے دوران بایاں بازو پکڑتے ہوئے دیکھیں،
تو اب آپ جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔
مشترک اعصابی راستے دماغ کو دھوکہ دے دیتے ہیں اور دل کا درد بازو میں محسوس ہونے لگتا ہے۔
یہ ہمارے اعصابی نظام کی ایک حیرت انگیز مثال ہے اور اس بات کی وضاحت بھی کہ جسم بعض اوقات ہمیں غیر متوقع طریقے سے سگنل کیوں دیتا ہے۔

بعض اوقات انسان کے مختلف جسمانی اعضاء سُن ہوجاتے ہیں۔اور جو حصہ سُن ہوجاتا ہے اُس میں ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے کیڑیاں چل ...
28/12/2025

بعض اوقات انسان کے مختلف جسمانی اعضاء سُن ہوجاتے ہیں۔
اور جو حصہ سُن ہوجاتا ہے اُس میں ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے کیڑیاں چل رہی ہو۔
اس کی کیا وجہ ہے؟
جواب ۔دراصل ہمارے جسم میں نروز (nerves) کا ایک جال پھیلا ہوا ہے۔
یہ نروز دماغ اور جسم کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہیں۔ ہمارے جسم کا کوئی بھی حصہ، دماغ سے رابطے کے بغیر کوئی چیز محسوس نہیں کرسکتا۔
مثلاً اگر ہمیں کسی نے ہاتھ لگایا ہے تو اس "touch" کا سگنل ہمارے جسم کے اس حصے سے ہمارے دماغ تک جاتا ہے اور ہمیں وہ touch محسوس ہوتا ہے، اور یہ سگنل نرو کے ذریعے جاتا ہے۔
جب ہم ایک جگہ بیٹھے رہتے ہیں یہ جب ہم بہت دیر تک ایسی حالت میں رہتے ہیں کہ ہمارے جسم کے کسی حصے (جیسے کے ہاتھ پاؤں) پر زیادہ دیر تک پریشر رہتا ہے تو وہاں موجود کوئی نرو اس پریشر کی وجہ سے دماغ تک سگنل نہیں بھیج پاتی،
جس سے اس حصے پر کوئی چھوے تو محسوس نہیں ہوتا، اور نہ ہی اپنے جسم کا وہ حصہ محسوس ہوتا ہے۔۔۔
اس کنڈیشن کو Paresthesia کہتے ہیں جو کہ ایسے پریشر کی وجہ سے نارمل ہے اور سب کو ہی ہوتا ہے،
مگر بغیر کسی پریشر کہ ہو تو یہ اعصابی نظام کی کسی بیماری کی علامت ہوسکتا ہے۔
جب پریشر ہٹتا ہے تو وہ نرو دوبارہ اپنا نارمل کام کی طرف آتی ہے اور جسم کا وہ حصہ دوبارہ دماغ سے رابطہ بناتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ دوبارہ جاگتا ہے۔
اور اس دوران وہ "کیڑیوں کا چلنا" محسوس ہوتا ہے جسے بعض لوگ "سوئیاں چبھنا" بھی کہہ لیتے ہیں۔
زیادہ پریشر کی وجہ سے اس حصے کو خون کی سپلائی بھی کم ہوسکتی ہے,
جس سے وہ نیلا اور ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔

How to deal with wounds according to their type
28/12/2025

How to deal with wounds according to their type

جب پیٹ کی چربی بڑھنے لگے, تو یہ صرف خوبصورتی کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ صحت کے لیے ایک سنجیدہ خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے۔ خا...
25/12/2025

جب پیٹ کی چربی بڑھنے لگے,
تو یہ صرف خوبصورتی کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ صحت کے لیے ایک سنجیدہ خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے۔
خاص طور پر اگر چربی ناف کے اردگرد جمع ہو رہی ہو تو یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے,
کہ جسم میں میٹابولک سنڈروم پنپ رہا ہے۔

میٹابولک سنڈروم ایک ایسا مجموعہ ہے,
جس میں بلڈ پریشر، بلڈ شوگر، کولیسٹرول اور پیٹ کی چربی چاروں خطرناک حد تک بڑھ جاتے ہیں۔
یہ حالت نہ صرف ذیابیطس، ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے امراض کا باعث بن سکتی ہے بلکہ جگر کی چربی، گردوں کے مسائل اور نیند کی خرابیوں کا بھی سبب بن سکتی ہے۔

پیٹ کی چربی کا تعلق جسم میں انسولین کے خلاف مزاحمت سے ہوتا ہے،
یعنی انسولین صحیح کام نہیں کرتی،
جس سے شوگر لیول بڑھنے لگتا ہے۔
اگر آپ کا پیٹ تیزی سے نکل رہا ہے،
اور آپ کا وزن نارمل سے زیادہ ہو رہا ہے، تو وقت ہے کہ آپ خوراک، نیند اور ورزش پر توجہ دیں۔

یاد رکھیں:
جب پیٹ بڑھے تو وقت ہے احتیاط کا،
ورنہ بیماری چپکے سے دروازہ کھٹکھٹا سکتی ہے۔

Address

Muhallah Tharkanan, Khat Kali
Nowshera

Telephone

+923134111727

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dynamis Centre for Natural Sciences,Nowshera posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dynamis Centre for Natural Sciences,Nowshera:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram