Fareedi shafa Khana

  • Home
  • Fareedi shafa Khana

Fareedi shafa Khana It's a Greek Medical Center that provides you all type of facilities
we service all over the Pakistan
Shipping Charges are applied
Contact us....

30/06/2025
ویریکوسیل (Varicocele): تفصیلی مضمون🌺🌿ویریکوسیل ایک عام طبی مسئلہ ہے جس میں مردوں کے خصیوں (testicles) کے گرد موجود ورید...
21/12/2024

ویریکوسیل (Varicocele): تفصیلی مضمون🌺🌿

ویریکوسیل ایک عام طبی مسئلہ ہے جس میں مردوں کے خصیوں (testicles) کے گرد موجود وریدیں (veins) غیر معمولی طور پر پھول جاتی ہیں اور ان میں خون ٹھہر جاتا ہے۔ یہ مسئلہ عام طور پر بائیں طرف زیادہ ہوتا ہے اور بانجھ پن (infertility) کا ایک ممکنہ سبب بھی بن سکتا ہے۔
🌿🥀

---

ویریکوسیل کیوں ہوتی ہے؟💕🌿

ویریکوسیل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب خصیوں کے گرد موجود وریدوں کے والو (valves) صحیح طریقے سے کام نہیں کرتے۔ یہ والوز عام طور پر خون کو واپس دل کی طرف لے جانے کا کام کرتے ہیں، لیکن اگر وہ خراب ہو جائیں یا کمزور ہوں تو خون واپس نیچے کی طرف بہنے لگتا ہے اور وریدوں میں جمع ہو جاتا ہے، جس سے ان کی ساخت متاثر ہوتی ہے۔

---🌺💕🌺
🌹🥀
ویریکوسیل کے اسباب:

1. کمزور یا خراب وریدی والوز:
یہ سب سے عام سبب ہے جس کی وجہ سے خون وریدوں میں ٹھہر جاتا ہے۔

🌿💕
2. جینیاتی عوامل:
اگر خاندان میں کسی کو ویریکوسیل ہو تو اس کے ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

3. وزن اٹھانا:
بھاری وزن اٹھانے یا زیادہ جسمانی مشقت کرنے سے پیٹ کے اندر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جو ویریکوسیل کا سبب بن سکتا ہے۔

🌹🌿🌿
4. موٹاپا:
موٹاپا وریدوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے، جس سے یہ مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

5. خون کی روانی میں رکاوٹ:
پیٹ میں موجود کسی ٹیومر یا کسی اور دباؤ کی وجہ سے خون کی روانی متاثر ہو سکتی ہے، جو ویریکوسیل کی تشکیل میں معاون ہوتا ہے۔

🥀🌹🥀
---

ویریکوسیل کی علامات:

بہت سے لوگوں میں ویریکوسیل بغیر علامات کے ہوتی ہے، لیکن بعض صورتوں میں درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

1. درد:🌿💕

خصیوں یا ان کے آس پاس درد محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر کھڑے ہونے یا جسمانی مشقت کے دوران۔

درد عام طور پر لیٹنے پر کم ہو جاتا ہے۔

2. سوجن:
متاثرہ خصیہ یا دونوں خصیے سوج سکتے ہیں یا ان میں بھاری پن محسوس ہو سکتا ہے۔

🌺🌿🥀
3. بانجھ پن:
ویریکوسیل اسپرم کی پیداوار اور معیار کو متاثر کر سکتی ہے، جو بانجھ پن کا باعث بن سکتی ہے۔

4. خصیے کے سائز میں فرق:
متاثرہ خصیہ دوسرے کے مقابلے میں چھوٹا محسوس ہو سکتا ہے۔

5. خصیوں کی وریدوں کا نمایاں ہونا:
کھڑے ہونے پر وریدیں زیادہ واضح اور پھولی ہوئی نظر آ سکتی ہیں۔

🌺🌿🌺💕🌹🌺🌿

---

ویریکوسیل کا علاج:

علاج کا انتخاب ویریکوسیل کی شدت اور علامات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

1. دواؤں سے علاج:
🌹🌺💕🌺💕
معمولی ویریکوسیل کی صورت میں درد کم کرنے کے لیے درد کش ادویات (Painkillers) استعمال کی جا سکتی ہیں، جیسے آئیبوپروفین یا ایسپرین۔

اسپرم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے وٹامنز یا اینٹی آکسیڈنٹس تجویز کیے جا سکتے ہیں۔

2. جراحی (Surgery):
🌹💕🌹🥀❣️😃
اگر ویریکوسیل شدید ہو یا بانجھ پن کا باعث بن رہی ہو تو سرجری تجویز کی جاتی ہے۔

ویریکوسیلکٹومی:
اس میں متاثرہ وریدوں کو باندھ دیا جاتا ہے تاکہ خون کا بہاؤ بہتر ہو سکے۔

مائیکروسرجری:
یہ ایک جدید طریقہ ہے جس میں کم سے کم کٹ لگایا جاتا ہے اور نتائج بہتر ہوتے ہیں۔

ایمبولائزیشن:
اس میں کیتھیٹر کے ذریعے ایک کوائل یا کیمیکل داخل کیا جاتا ہے تاکہ خون کا بہاؤ بند ہو سکے۔

3. دیگر علاج:🥀🥀🌹💕🌿

متاثرہ علاقے پر برف کا استعمال درد کو کم کر سکتا ہے۔

سپورٹ انڈرویئر یا کپڑوں کا استعمال سوجن کو کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

---

احتیاطی تدابیر:❣️😃🌹💕🌹🌹

1. بھاری وزن اٹھانے سے گریز کریں۔

2. زیادہ دیر تک کھڑے نہ رہیں۔

3. موٹاپا کم کریں اور وزن کو کنٹرول میں رکھیں۔

4. متوازن اور صحت مند غذا کھائیں تاکہ وریدوں کی صحت بہتر ہو سکے۔

5. زیادہ پانی پیئیں اور قبض سے بچیں، کیونکہ قبض پیٹ پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔

🌿🌿🥀🌺🥀🥀🌹
---

خوراک کے حوالے سے مشورے:

ویریکوسیل کے مریضوں کو ایسی خوراک کھانی چاہیے جو خون کی گردش کو بہتر بنائے اور جسم کو مضبوط کرے:

کھانے کی اشیاء:

1. پھل اور سبزیاں:

ہری س گاجر۔مولی۔مونگرے

وٹامن سی سے بھرپور پھل، جیسے سنگترہ، لیموں، اور کیوی۔

2. خشک میوہ جات:
بادام، اخروٹ، اور بیج خون کی گردش کے لیے مفید ہیں۔

3. پروٹین:
انڈے، چکن، اور مچھلی کھائیں تاکہ جسمانی صحت برقرار رہے۔

4. اینٹی آکسیڈنٹس:
بیریز (اسٹرابیری، بلیوبیری) اور ہری چائے کا استعمال کریں۔

🌿🌺🌿🌺🌿🌺
بچنے کی اشیاء:

1. جنک فوڈ اور زیادہ تیل والے کھانوں سے پرہیز کریں۔

2. کیفین اور الکحل کا استعمال نہیں کریں۔

3. زیادہ نمک یا شوگر والی اشیاء سے گریز کریں۔

---

نتیجہ:🥀🌹🥀🌿🥀🌹

ویریکوسیل ایک عام مسئلہ ہے جو صحیح علاج اور احتیاطی تدابیر سے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ جلد تشخیص اور مناسب علاج نہ صرف بیماری کو مزید بڑھنے سے روک سکتا ہے بلکہ بانجھ پن کے امکانات کو بھی کم کر سکتا ہے۔ متوازن غذا اور صحت مند طرز زندگی اپنانے سے ویریکوسیل کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور صحت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

Hakeem Umar Karkhi

دماغ کی کمزوری اور نظر کی کمزوری اور اعصابی کمزوری کا بہترین ٹانک فوائد:• دماغی کمزوری کو دور کرتا ہےاور پٹھوں کو تقویت ...
01/12/2024

دماغ کی کمزوری اور نظر کی کمزوری اور اعصابی کمزوری کا بہترین ٹانک
فوائد:
• دماغی کمزوری کو دور کرتا ہےاور پٹھوں کو تقویت بخشتا ہے۔
• نظر کی کمزوری کو دور کر کے عینک سے نجات دلاتا ہے۔
• ذہنی تھکاوٹ ، آدھا سر درد ، سٹریس جیسے امراض سے چھٹکارا دلائے۔
• ذہن اور حافظہ کو بہتر بناتا ہے۔
• دماغ اور اعصاب کو قوت فراہم کرتا ہے۔
• دماغی کام کرنے والوں کے لیے بہترین تحفہ ہے۔
• ذہنی تھکاوٹ کو دور کرکے دماغ کو تازگی اور فرحت دیتا ہے۔
• اللّٰہ کے فضل و کرم سے صرف ایک ماہ میں عینک سے نجات دلائے ۔

اجزاء :(ھوالشافی)

سونف 100 گرام ,بادام دیسی 100 گرام
کاجو 100گرام، اخروٹ گری 100 گرام، کشنیز50 گرام ، موصلی سفید50 گرام ، اسطخدوس50 گرام،سفید مرچ10 گرام ، بھونے ہوئے چنے100 گرام ، ستاور 50 گرام، اشوگندھا 50 گرام، کوزہ مصری200 گرام
ان سب کو باریک پاوڈر کرلیں اور صبح شام ایک چمچ ہمراہ پانی یا دودھ استعمال کریں

پوسٹ اچھی لگے تو پیج کو لائیک کریں اور صدقہ جاریہ سمجھ کر آگے لوگوں کو بھی بتائیں ۔
Fareedi shfa khana
Hakeem Umar Karkhi
Home 🏠 delivery 🚚 keliy
Contact me..03224643315

(Smog)دھندلا بادلدھواں ،گرداور دھند کے ملنے کو سموگ Smogکہتے ہیں۔موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی سطح زمین سے نکلنے والی فضائ...
13/11/2024

(Smog)
دھندلا بادل
دھواں ،گرداور دھند کے ملنے کو سموگ Smogکہتے ہیں۔
موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی سطح زمین سے نکلنے والی فضائی آلودگی کی ایک قسم ہے۔جوکہ چند دہائیوں میں بڑھ کر تیزی سے پھیل رہی ہے ۔پنجاب کے علاقوں اس کی لپیٹ میں ہے۔
فضائی آ لودگی میں زیادہ اثرات!
1۔فصلوں کی باقیات 3.9فیصد
2.گاریوں کا دھواں 83.15فیصد
3.کچرا جلانا 3.6 فیصد
4.صنعتی سرگرمیاں 9.07فیصد
5.گھریلو کچرا 0.11فیصد
6.کمرشل کچرا 0.14فیصد
سموگ سے پیدا ہونے والی علامات
1.آنکھوں میں شدید جلن،سرخی اور چھبن
2.گلے میں خراش ، ناک میں خارش اور ناک بند ہونا
3.کھانسی ،سانس کی تنگی اور پھیپھڑوں میں سوزش
4.نمونیا خصوصا بچوں اور بوڑھوں اور دل کی مریضوں میں سانس کی تنگی
احتیاطی تدابیر اور علاج
1.موسم کی تبدیلی اور سردی کی آمد کے پیش نظر پنکھے اور اے سی کا استعمال بند کردیں۔
2.گرم کپڑے ،جرسی ،جرابیں،گرم ٹوپی،لیگی ،رضائی یا کمبل، گرم جیکٹ ،چادر کا استعمال لازم کریں۔
3۔ٹھنڈے پانی،ٹھنڈے مشروبات ،کولڈ ڈرنکس،جوسز،آئس کریم وغیرہ سے مکمل پرہیز کریں ۔
4.ماسک کا استعمال لازم کریں۔
5.سفر کے دوران ہلیمٹ اور عینک ،چشمہ لازم استعمال کریں۔
6۔چہرہ اور آنکھوں کو مسلنے سے پرہیز کریں ۔
7.غیر ضروری سفر اور گھر سے نکلنے سے گریز کریں خصوصا بچوں اور بوڑھوں
8۔صبح اور شام کے اوقات میں شدید دھند کی صورت میں سفر سے پرہیز کریں۔
9.کمروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں۔دن کے اوقات میں کھولیں۔
10.مٹی والی جگہ پر پانی کا چھڑکاؤ کریں۔جھاڑو گردوغبار سے بچیں۔اور صفائی کا خاص خیال رکھیں ۔
11.فصلوں کی باقیات اور درختوں کے پتوں کو آگ مت لگائیں۔
12۔دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کا استعمال کم کریں۔
13۔غسل اور پینے کے لئے گرم پانی کا استعمال کریں۔
14۔خارش اور جلن کی صورت میں آنکھوں کو پانی سے دھوئیں۔
عرق گلاب یا عرق سونف کابطورڈراپ استعمال کریں۔
قہوہ۔سونف اچٹکی سبز الائچی 2عدد 1کپ پانی میں ابال کر شہد 🍯 ملا کر پلائیں۔
15۔کھانسی اور گلہ خراب ہونے کی صورت میں
گرم پانی کے غرارے کریں۔
قہوہ۔ ادرک اپوٹہ ملٹھی اپوٹہ لسوڑیاں 3عدد
1گلاس پانی میں ابال کر شہد ملا کر گرم گرم چمچ کے ساتھ پئیں۔
16.ناک بند یا سانس کی تنگی کی صورت میں
امرت دھارا (ست پودینہ ،ست اجوائن،ست کافور ہموزن )1کپ گرم پانی میں 3قطرے ڈال بھاپ لیں۔
17.بچوں اور بوڑھوں کو سانس کی تنگی اورنمونیا کی صورت میں انڈے کی زردی شہد ملا کر کھلائیں۔
قہوہ ۔لونگ 2عدد دارچینی پاؤڈر اچٹکی 1کپ پانی میں ابال کر شہد ملا کر گرم گرم چمچ سے پلائیں۔
دوا ۔
شہد 1پاؤ
زعفران 3گرام پیس کر ملا لیں۔ چنے کی مقدار کے برابر 3بار چٹائیں ۔
سہاگہ سفید بریاں کرکے 2چاول کی مقدار میں شہد ملا کر چٹائیں۔

18۔غذا میں بازاری کھانے، فاسٹ فوڈز بند۔گھر کا بناکھانا استعمال کریں۔
19.ڈرائیور حضرات دوران سفر گاڑی کے اشارے اور Fog Lights on رکھیں۔
20.گھر میں آکر چہرہ منہ اور گلے کو پانی سے اچھی طرح دھوئیں

حسب ضرورت موسم کے مطابق اور مرض کی شدت وخفت میں معالج سے رجوع کریں ۔
اللہ کریم آبر رحمت فرمائیں اور اس فضائی آلودگی Smog کو دور فرماکر محفوظ فرمائے آمین
اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو ۔
منجانب: عہدیدران واراکین اور ممبران صابر شاہین فاؤنڈیشن لاہور پاکستان
جنرل سیکرٹری: صابر شاہین فاؤنڈیشن لاہور
حکیم ثناءاللہ شیخوپوری
Fareedi shfa khana Hakeem Umar Karkhi
03224643315

منی کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟بلوغت کے بعد خصیئوں میں مسلسل بننے والی رطوبت کو منی یا سیمن کہا جاتا ہے۔ یہ پیدا ہوکر سیمینل ویسلز sem...
06/11/2024

منی کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟
بلوغت کے بعد خصیئوں میں مسلسل بننے والی رطوبت کو منی یا سیمن کہا جاتا ہے۔ یہ پیدا ہوکر سیمینل ویسلز seminal vessels میں جمع ہوتی رہتی ہے اور بوقت انزال خارج ہوجاتی ہے۔
یہ ایک سفیدی مائل گاڑھی رطوبت ہے اس کی مخصوص بو ہوتی ہے جسے seminal odour کہتے ہیں۔ یہ رطوبت ہلکی الکلائین ہوتی ہے۔ اس رطوبت کے دو حصے ہوتے ہیں۔
اول سیال مواد۔ liqour seminalis یہ انڈے کی سفیدی کی طرح شفاف ہوتی ہے۔
دوئم۔ دانے دار مواد۔ granules seminal یہ چھوٹے چھوٹے دانے نما ذرات ہوتے ہیں۔ ان کے اندر کرم منی پائے جاتے ہیں۔
انزال کے وقت ایک تندرست مرد کی منی دو سے پانچ ملی لیٹر ہوتی ہے۔ مادہ تولید میں۔ درجہ ذیل اجزاء پائے جاتے ہیں۔
1۔ سیرم
2۔ البیومن
3۔ گلیسیتھن
4۔ کولیسٹرین
5۔ البیومی نینیٹ
6۔ روغنی اجزاء۔

مادہ تولید میں سب سے اہم جزو حونیات منی s***ms ہے۔

منی کی اقسام۔۔۔۔۔
مباشرت کے دوران خارج ہونے والی رطوبت کو چار اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔

1۔ ناقص منی۔
اس میں گاڑھا پن اور حونیات منی کم ہوتے ہیں۔ ایسی منی کپڑے پر خشک ہونے کے بعد اکڑاو پیدا نہیں کرتی۔

2۔ خون آمیز منی۔
اس منی میں ہلکی سرخی پائی جاتی ہے۔ منی میں خون شامل ہونے کی وجہ احتلام۔ جلن۔ اغلام بازی۔ اور کثرت مباشرت کی وجہ سے متعلقہ اعضاء اور نالیوں کی سوزش و ورم ہونا ہے۔ کثرت مباشرت سے منی کی تھیلی منی سے خالی ہوجاتی ہے۔ اور خصیئوں کو منی تیار کرنے کا وقت نہیں ملتا تو منی کے ساتھ خون خارج ہونے لگتا ہے۔
3۔ بیکار منی۔
یہ منی پتلی۔ پانی جیسی اور کپڑے پر فورا خشک ہوجاتی پے۔ اس منی میں پس سیلز بھی پائے جاتے ہیں۔

بہترین منی۔
یہ منی کی وہ قسم ہے جو ایک تندرست انسان کے عضو سے خارج ہوتی ہے۔ ایسی منی کپڑے پر دیر سے خشک ہوتی ہے۔ اور گاڑھی ہوتی ہے۔ یہ کپڑے کو اکڑا دیتی ہے۔

چند غلط فہمیوں کا ازالہ

عموما نوجوان منی سے متعلق کچھ مغالطوں کا شکار رہتے ہیں۔ ذیل میں چند عام غلط فہمیاں اور ان کی حقیقت پیش کی جاتی ہے۔

1۔ ایک صحت مند مرد کا مادہ تولید کپڑے پر گرنے کے بعد دیر سے خشک ہوتا ہے اور کپڑے میں سختی پیدا کرتا ہے۔

2۔ اخراج منی کی مقدار اور گاڑھے پن کا عضو تناسل کی ایستادگی پر قطعا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

3۔ عموما لوگوں کو مغالطہ ہے کہ منی کا ایک قطرہ خون کے ستر یا سو قطروں کے برابر ہوتا ہے۔ یہ قیاس بےبنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ منی کی قدر و قیمت اتنی ہی ہے جتنی کہ لعاب دہن کی۔ دونوں کا بدل فوری طور پر پیدا ہوجاتا ہے۔

4۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ج**ع کے بعد عورت کے اندر منی ٹھہرتی نہیں اور خارج ہوجاتی ہے جبکہ ج**ع کے بعد عضو تناسل کو باہر نکالا جائے تو ف*ج vegina کی اگلی پچھلی دیواریں ملنے سے منی کی کچھ مقدار ف*ج سے باہر نکل آتی ہے لیکن ف*ج کے بالائی حصے میں پہنچی ہوئی منی اندر ہی چپک جاتی ہے۔

5۔ پروسٹیٹ گلینڈ کے آپریشن کے بعد کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ج**ع کے بعد منی مثانے میں چلی جاتی ہے۔ ایسے مریضوں میں یہ کیفیت retrograde ej*******on کہلاتی ہے۔ جو کہ عموما آپریشن کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ دراصل آپریشن کے دوران پیشاب کی نالی کے پچھلے حصے کا اندرونی عضلہ internal sphincter مجروح ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے منی کی تھیلیوں سے آنے والی اخراجی نالیوں کا رخ پیشاب کی نالی کے بیرونی سوراخ کی سمت ہونے کے بجائے مثانے کی طرف ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں جنسی تعلق برقرار رکھنے سے خارج شدہ منی مثانے سے پیشاب کرتے وقت باہر خارج ہوجاتی ہے۔

کرم منی۔۔۔ S***mmatozoa

کرم منی یا سپرم 0.05cm لمبا ہوتا ہے۔ یہ تولیدی خلیات منی کے اندر پائے جاتے ہیں۔ اور منی کا دانے دار حصہ ہوتے ہیں۔ یہ خصیئوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس نطفے یا کرم کی شکل مینڈک کے لاروا سے بہت ملتی ہے۔ یہ نطفے اس قدر چھوٹے ہوتے ہیں کہ اگر 500 ملین سپرمز کو ایک قطار میں سر اور دم ملا کر کھڑا کردیا جائے تو صرف ایک انچ لمبی لکیر بنتی ہے۔ یہ بلوغت کی عمر سے بننا شروع ہوتے ہیں۔ اور مرتے دم تک بنتے رہتے ہیں۔ سپرم فیرس ٹیوبلز میں پیدا ہوتے ہیں ان کے پیدا ہونے کا عمل follicle stimulating harmone اور testosterone کے زیر اثر تکمیل پاتا ہے۔ سپرم جب تیار ہوجاتے ہیں۔ تو انزال کی صورت خارج ہوجاتے ہیں۔ اگر سپرم خارج نہ ہوں تو دوبارہ ری جنریٹ ہوکر جسم میں تونائی کا باعث بنتے ہیں۔ مرد کے مباشرت کرنے سے یہ بڑی تعداد میں خارج ہوجاتے ہیں ایک وقت کے انزال میں ان کی تعداد دو سے پانچ سو ملین ہوتی ہے۔
ہر سپرم کے تین حصے ہوتے ہیں۔
1۔ سر Head اس کی مدد سے سپرم بیضہ میں داخل ہونے کیلیئے راستہ بناتا ہے۔ اس کا سر نیزے کی شکل کا ہوتا ہے
2۔ جسم۔ body
یہ سپرم کا درمیانی حصہ ہے جو جسم کہلاتا ہے۔ اس حصے سے حاصل کردہ توانائی کی وجہ سے سپرم کی دم حرکت کرتی ہے۔ اور سپرم تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔
3۔ دم۔ Tail
دم کی حرکت سے سپرم تیرتا ہے اور بیضہ میں چھید کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

کرم منی s***m کے افعال۔۔۔۔
1۔ یہ اندام نہانی میں خارج ہونے کے ڈیڑھ منٹ بعد رحم تک پہنچ جاتے ہیں۔
2۔ سپرم کی نارمل رفتار دو سے تین ملی میٹر فی منٹ ہوتی ہے۔
3۔ یہ عورت کے بیضہ سے مل کر زائیگوٹ بناتے ہیں۔ اور حمل قرار پاتا ہے۔
4۔ سپرم کو پختہ ہونے میں تقریبا دس ہفتے لگ جاتے ہیں۔
5۔ ہر جرثومہ میں 23 کروموسومز پائے جاتے ہیں مگر صرف ایک جرثومہ بچہ بناتا ہے۔
6۔ ایک خصیئہ 1500 سپرمز فی سیکنڈ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ذہنی پریشانی اور ٹینشن کا شکار شخص میں یہ شرح نہایت کم ہوجاتی ہے۔
7۔ ایک صحت مند بالغ مرد ایک دن میں تقریبا 500 ملین سپرمز پیدا کرتا ہے۔
8۔ سپرمز کی زندگی تقرئبا 72 گھنٹے ہوتی ہے۔ اگر اندام نہانی کا ماحول تیزابی ہوتو اس کی زندگی فقط چھے گھنٹے رہ جاتی ہے۔

مرد کے کرم منی s***ms کا صحت مند ہونا صحت مند اولاد کی بنیادی شرط ہے۔ اگر مرد تمباکو نوشی شراب نوشی۔ تھکن کا شکار۔ وائرسی امراض میں مبتلاء ہوتو سپرمز نہایت کمزور ہوتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ قدرتی اور تازہ غذائیں کھانے والے جوڑوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تندرست اور توانا پائے گئے ہیں۔ بچے کی پلاننگ کیلیئے یہ بھی ضروری ہے کہ والدین کیفین ملے مشروبات اور ایسی چیزیں نہ کھائیں پیئیں جو جسمانی اور ذہنی طور پر ضرر رسان اثرات کی حامل ہوں۔ خیال رہے کہ کرم منی مرد کی صحت کا آئینہ ہوتا ہے۔ صحت اچھی ہوگی تو کرم منی بھی صحت مند و تندرست ہونگے۔ کیفین ملی اشیاء کا استعمال سپرمز کو کمزور کردیتا ہے۔

منی کا لیبارٹری تجزیہ۔۔۔۔
Semen Analysis

سیمن اینالائسز یعنی منی کا لیبارٹری تجزیہ مردانہ بانجھ پن کا پتہ لگانے والا بنیادی ٹیسٹ ہے۔ کسی تشخیص سے پہلے یہ ٹیسٹ کرلینا ضروری ہے۔ اس ٹیسٹ کیلیئے مرد کو ہاتھ کے زریعے اپنا مادہ منویہ نکالنا پڑتا ہے اس مادے کا آدھے گھنٹے کے اندر اندر لیبارٹری ٹیسٹ کرلیا جاتا ہے۔ ایک نوجوان مرد کی منی کے سپرمز کی طبعی مقدار و تعداد ذیل ہوگی۔ ۔۔

منی کی طبعی مقدار Normal values...

1۔ مقدار volume
اس کی نارمل مقدار 1.5 سے 5 ملی لیٹر تک ہوتی ہے۔ نارمل سے زیادہ یا کم مقدار اثرانداز ہوتی ہے۔

2۔ لیس دار viscosity
نارمل منی انڈیلی جائے تو قطرہ قطرہ گرتی ہے۔ زیادہ گاڑھی یا پتلی منی نامل تصور نہیں کی جاتی۔

3۔ مائع حالت۔ liquification
تازہ منی دس سے پندرہ منٹ میں مائع حالت میں تبدیل ہوجاتی ہے یا زیادہ سے زیادہ تیس منٹ تک منی کو مائع میں تبدیل ہوجانا چاہیئے۔

4۔ مائیکروسکوپک معائنہ Microscopic Exam
اس معائنہ میں سپرم کی تعداد اور حرکت نوٹ کی جاتی ہے۔ جو کہ درج زیل ہے۔
تعداد. S***m count
نارمل سپرم کی تعداد 60 تا 120 ملین فی ملی لیٹر ہوتی ہے اس سے کم سپرم کی تعداد ہو تو اولیگو سپرمیا oligos***mia کہتے ہیں جبکہ سپرم کی تعداد سرے سے موجود ہی نہ ہو تو ایزو سپرمیا azoos***mia کہا جاتا ہے

طبعی حرکت.. motality
نارمل حالت میں سپرم کا حرکت کرنا ضروری ہوتا ہے عمومی طور پر 60 تا80 فیصد سپرم حرکت کرنے چاہیے اگر سپرم کی حرکت 60 فیصد سے کم ہو تو یہ صحت مندی کی علامت نہیں ہے

طبعی شکل.. shape
نارمل منی میں 20 تا 30فیصد سے کم سپرم کی شکل نارمل سے مختلف ہوتی ہے اس سے زیادہ مقدار میں نارمل سے مختلف شکلیں بانجھ پن کا باعث ہو سکتی ہیں۔

خون کے سفید و سرخ زرات. WBC & RBC.......
نارمل منی میں خون کے سفید و سرخ زرات موجود نہین ہوتے اگر یہ موجود ہوں تو انفیکشن کی نشانی ہے۔ ایسی صورت میں حسب علامات سوزش و ورم کے لئے ادویہ کا استمعال ضروری ہوتا ہے۔

عموما شادی کے ایک دو سال بعد تک حمل نہ ٹھہرے تو میاں بیوی دونوں کے ٹیسٹ کرا لینے چاہیئے تاکہ کسی کمی کمزوری کے ظاہر ہونے پر فوری علاج کرایا جا سکے اکثر مرد اپنا ٹیسٹ کرانے سے کتراتے ہیں حالانکہ مردانہ ٹیسٹ نہایت آسان ہوتا ہے عمومی طور پر منی کا تجزیہ درج ذیل کفیات مین معاون ثابت ہوتا ہے..
Fareedi shfa khana Hakeem Umar Karkhi

: فرانسیسی اپنی خوراک میں قدرتی چکنائی کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ مکھن ،چیز ،زیتون کا تیلاور فرائی کرنے کے لیے گائے کے گ...
29/10/2024

: فرانسیسی اپنی خوراک میں قدرتی چکنائی کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ مکھن ،چیز ،زیتون کا تیل

اور فرائی کرنے کے لیے گائے کے گوشت کی چربی سے بنا گھی استعمال کرتے ہیں۔

فرانسیسی حکومت کے قوانین کے تحت خوراک میں مصنوعی وٹامن ،آئرن ،فولک ایسڈ وغیرہ استعمال کرنا منع ہے۔

وہ اپنا کھانا اسی طرح پکاتے ہیں ،جیسے صدیوں پہلے پکاتے تھے۔

اس لیے باوجود بہت کاربوہائیڈریٹ ،یعنی بریڈ کھانے کے باوجود موٹاپا کم ہے۔
بیماریاں بھی باقی یورپی و امریکی اقوام کی نسبت کم ہیں۔
: یہ ہی صورتحال آج سے 25 برس قبل پاکستان میں تھی۔

بہت روٹی ،میٹھی اشیاء کھانے کے باوجود موٹاپا ،شوگر ،اور دل کی بیماریاں کم تھیں

کیونکہ مکھن ،اور دیسی گھی کا استعمال بہت زیادہ تھا۔
جب آپ دیسی گھی ،مکھن یا گائے کے گوشت سے بنا گھی استعمال کرتے ہیں تو بلڈ شوگر تیزی سے نہیں بڑھتی

یعنی انسولین بھی بہت زیادہ نہیں آتی
انسولین ایک fat storing ہارمون ہے۔ جو جسم میں چربی کو پھگلنے سے روکتا ہے بلکہ اسکو خلیوں میں جمع کرتا ہے۔

اور زیادہ دیسی چکنائی کھانے سے آپ کو بار بار بھوک نہیں لگتی۔
وہ تیل یا چکنائیاں جو بیجوں سے حاصل کی جاتی ہیں۔

چاہے وہ خود کچی گھانی سے نکلوا کر استعمال کی جائیں

ان میں اومیگا 3 اور اومیگا 6 کا تناسب درست نہیں ہوتا۔

اومیگا 6 زیادہ ہوتا ہے۔

جو کے جسم میں سوزش inflammation کا باعث بنتا ہے۔ اور سوزش ہی دل کی بیماریوں اور کینس کا سبب بنتی ہے
: جب ہم خواتین کے حقوق کے بارے میں پڑھ رہے تھے تو یہ انکشاف ہوا ،
جس ملک یا علاقے کی خواتین ، حمل کے دوران خوش رہتیں اچھی غذا کھاتیں
اور دماغی طور پر پرسکون رکھا جاتا انکے بچے صحت مند پیدا ہوتے
قوت مدافعت زیادہ ہوتیں
کیونکہ بنیادی انسانی ڈھانچہ پیٹ کے اندر پرورش پا جاتا
جب ایک بچہ دنیا میں آتا اس کا خون کن اجزا سے ملکر بنا ہے سب لیکر آتا
پہلے تو جو ضروری ہے وہ قوت مدافعت ہے
ایک صحت مند ماں خوش ریلیکس ماں ہی صحت مند بچے کو جنم دیتی ہے
جی بالکل جب بلڈ شوگر بڑھتی ہے تو انسولین آتی ہے۔

اور وہ بلڈ میں شوگر کو خلیوں میں سٹور کرتی ہی۔

اگر آپ بار بار کھاتے ہیں یعنی بار بار انسولین بڑھ رہی ہے تو آپ موٹے ہوتے جائیں گے۔

انسولین کی غیر موجودگی میں آپکا جسم قڈرتی طور پر ہی فیٹ پگھلانے کا کام کرتا رہتا ہے۔ چاہے آپ سو ہی کیوں نہ رہے ہوں
: کیٹو ڈائیٹ ، یا کارنیور ڈائیٹ یا فاسٹنگ
جن کو آج کے دور میں وزن کم کرنے اور صحت مند زندگی گزارنے کا بہترین فارمولا بتایا جاتا ہے۔

وہ اسی انسولین کو low یا کنٹرول کرنے کی بنیاد پر ہی ہے۔

فیٹ ،پروٹین سے بلڈ شوگر نہیں بڑھتی ہعنی پھر انسولین بھی نہیں آئے گی
اور اپ بھر پیٹ کھانے کے باوجود وزن کم کر سکتے ہیں
Fareedi shfa khana Hakeem Umar Karkhi

بادام کے کئی طبی فوائد ہیں، جن میں شامل ہیں:1. دماغی صحت: بادام میں وٹامن ای، میگنیشیم، اور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہی...
28/10/2024

بادام کے کئی طبی فوائد ہیں، جن میں شامل ہیں:

1. دماغی صحت: بادام میں وٹامن ای، میگنیشیم، اور اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں، جو دماغی قوت کو بڑھانے اور یادداشت کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

2. دل کی صحت: بادام میں مونو اور پولی اَن سیچوریٹڈ فیٹس پائے جاتے ہیں جو دل کو صحت مند رکھتے ہیں۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

3. ہڈّیوں کی مضبوطی: بادام میں کیلشیم اور میگنیشیم ہوتا ہے جو ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے اور آسٹیوپوروسس کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

4. وزن کنٹرول: بادام میں فائبر، پروٹین، اور صحت مند چکنائی ہوتی ہے جو پیٹ کو بھرا رکھتی ہے اور وزن کو کنٹرول میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

5. شوگر کنٹرول: بادام میں موجود مگنیشیم بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے اور ذیابیطس کے مریضوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

6. جلد کی صحت: بادام کا تیل اور اس میں موجود وٹامن ای جلد کو نمی فراہم کرتا ہے اور بڑھاپے کے اثرات کو کم کرتا ہے۔

بادام کو روزانہ تھوڑی مقدار میں استعمال کیا جائے تو یہ مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

Fareedi shfa khana Hakeem Umar Karkhi

[10/27, 9:22 AM] # Hkm.M.Umar Krkhi #(Harbl Dr: چڑی پنجہ (انگریزی: Dwarf Creeping Fig) ایک سدا بہار چھوٹے اور گہرے سبز ر...
27/10/2024

[10/27, 9:22 AM] # Hkm.M.Umar Krkhi #(Harbl Dr: چڑی پنجہ (انگریزی: Dwarf Creeping Fig) ایک سدا بہار چھوٹے اور گہرے سبز رنگوں کے پتوں والی بیل ہے۔ یہ دیوار پر چڑھتی ہے اور ساتھ اس کے چمٹی رہتی ہے اور دیوار کو مکمل طور پر اپنے پتوں سے ڈھانپ لیتی ہے۔ دیوار پر گرفت کا انداز چڑیا کے پنچوں جیسا ہے۔ اس ليے اسے چڑی پنجہ کہتے ہیں۔

اس کا اصل وطن مشرقی ایشیا ہے۔

اس کے بیج نہیں ہوتے۔ اس کی جڑ دار ٹہنی کو توڑ کر اور پودا تیار کیا جاتا ہے۔ اسے بہت زیادہ پانی کی ضرورت نہیں ہوتی۔

یہ بیل ہر جگہ لگ جاتی ہے اور یہ ماحول کو سر سبز کر دیتی ہے۔
ویکیپیڈیا
[10/27, 9:22 AM] Hkm.M.Umar Krkhi(Harbl Dr: https://en.m.wikipedia.org/wiki/Ficus_pumila
[10/27, 9:22 AM] Hkm.M.Umar Krkhi(Harbl Dr: Search Labs | AI Overview

The Urdu name for Ficus pumila L. is not available, but here is some information about this plant:

Common names
Ficus pumila L. is commonly known as the creeping fig, climbing fig, creeping ficus, creeping rubberplant, or Ara Jalar.

Family:
It belongs to the Moraceae family.

Origin:
It is native to East Asia, including China, Japan, and Vietnam. It is also naturalized in parts of the southeastern and south-central United States.

Toxicity:
It is poisonous to humans and pets. The milky sap it contains can irritate the skin, and ingesting any part of the plant can lead to nausea and vomiting in humans.

Appearance:
It has small, heart-shaped leaves when young, and large, leathery dark green leaves when mature. It produces a pale greenish-yellow fig-like fruit on its horizontal stems that is inedible.

Growing conditions:
It prefers a bright room in your home, but far enough from the window that the sun's direct rays do not touch it. An east- or south-facing window is best.

Groundcover:
If you use it as a groundcover near a wall or building, it will grow onto the wall very quickly. To prevent this, clip the edge of the groundcover regularly.
[10/27, 9:22 AM] # Hkm.M.Umar Krkhi #(Harbl Dr: # Ficus pumila L. کا اردو نام دستیاب نہیں ہے، لیکن یہاں اس پودے کے بارے میں کچھ معلومات ہیں:

عام نام
Ficus pumila L. کو عام طور پر رینگنے والی انجیر، چڑھنے والی انجیر، رینگنے والی فِکس، رینگنے والا ربڑ پلانٹ، یا آرا جلار کے نام سے جانا جاتا ہے۔

خاندان:
اس کا تعلق موراسی خاندان سے ہے۔

اصل:
یہ چین، جاپان اور ویتنام سمیت مشرقی ایشیا کا ہے۔ یہ جنوب مشرقی اور جنوب وسطی ریاستہائے متحدہ کے کچھ حصوں میں بھی قدرتی ہے۔

زہریلا:
یہ انسانوں اور پالتو جانوروں کے لیے زہریلا ہے۔ اس میں موجود دودھ کا رس جلد کو خارش کر سکتا ہے، اور پودے کے کسی بھی حصے کو کھا جانا انسانوں میں متلی اور الٹی کا باعث بن سکتا ہے۔

ظاہری شکل:
جوان ہونے پر اس کے چھوٹے، دل کی شکل کے پتے ہوتے ہیں، اور بالغ ہونے پر بڑے، چمڑے والے گہرے سبز پتے ہوتے ہیں۔ یہ اپنے افقی تنوں پر ہلکے سبز پیلے انجیر جیسا پھل پیدا کرتا ہے جو کہ کھانے کے قابل نہیں ہے۔

بڑھتے ہوئے حالات:
یہ آپ کے گھر میں ایک روشن کمرے کو ترجیح دیتا ہے، لیکن کھڑکی سے کافی دور کہ سورج کی براہ راست کرنیں اسے چھو نہیں سکتیں۔ مشرق یا جنوب کی سمت والی کھڑکی بہترین ہے۔

زمینی احاطہ:
اگر آپ اسے دیوار یا عمارت کے قریب گراؤنڈ کور کے طور پر استعمال کرتے ہیں، تو یہ بہت تیزی سے دیوار پر بڑھ جائے گا۔ اسے روکنے کے لیے، گراؤنڈ کور کے کنارے کو باقاعدگی سے کلپ کریں۔

[10/23, 8:30 AM] Hakeem Umar: چیا سیڈز کے کئی طبی فوائد ہیں، جو ان کی غذائی خصوصیات کی بنا پر صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے...
23/10/2024

[10/23, 8:30 AM] Hakeem Umar: چیا سیڈز کے کئی طبی فوائد ہیں، جو ان کی غذائی خصوصیات کی بنا پر صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں:

1. اومیگا-3 فیٹی ایسڈز کا بہترین ذریعہ: چیا سیڈز میں اومیگا-3 فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں جو دل کی صحت کے لیے مفید ہیں اور جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
2. فائبر کی مقدار زیادہ: چیا سیڈز فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں، جو نظامِ ہضم کو بہتر بناتے ہیں، قبض سے بچاتے ہیں، اور وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
3. پروٹین کا اچھا ذریعہ: چیا سیڈز میں پروٹین موجود ہوتا ہے جو جسم کے لیے ضروری ہوتا ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو گوشت نہیں کھاتے، ان کے لیے یہ پروٹین کا اچھا متبادل ہے۔
4. اینٹی آکسیڈنٹس: چیا سیڈز میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو آزاد ذرات (فری ریڈیکلز) سے بچاتے ہیں، جو جلد بڑھاپے اور دیگر بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
5. کیلشیم کا اچھا ذریعہ: چیا سیڈز میں کیلشیم پایا جاتا ہے جو ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے۔
6. دل کی صحت: چیا سیڈز کا استعمال بلڈ پریشر کو بہتر رکھنے اور کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
7. وزن میں کمی: چیا سیڈز پیٹ بھرنے کا احساس دیتے ہیں، جس کی وجہ سے زیادہ کھانے سے بچا جا سکتا ہے اور وزن میں کمی حاصل کی جا سکتی ہے۔
8. بلڈ شوگر کنٹرول: چیا سیڈز خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں، جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

یہ تمام فوائد چیا سیڈز کو ایک مفید اور صحت بخش غذا کا حصہ بناتے ہیں۔
[10/23, 8:31 AM] Hakeem Umar: یہ عمومی فوائد ہیں۔ لیکن مریضوں کو علاج کے لئے طب مفرد اعضا کے ماہرین سے مشورہ کے بعد ہی استعمال کرنا چاہئے۔

Address


Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fareedi shafa Khana posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your practice to be the top-listed Clinic?

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram