06/08/2025
دکھ، غم، صدمہ، ڈپریشن ، اینگزائٹی۔۔۔۔۔۔
ہم میں سے کون ان لفظوں سے واقف نہیں۔لیکن یہ یہ صرف الفاظ نہیں ہیں۔یہ کیفیات ہیں جن سے ہم سب گزرتے ہیں۔ ہر ایک کی زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ ایسا لمحہ ضرور آتا ہے جب وہ کسی شدید دکھ یا صدمے سے دوچار ہوتا ہے اور بہت سے لوگوں کی زندگی ایسے بہت سے سانحات سے عبارت ہوتی ہے۔ کسی بھی قسم کا دکھ یا پریشانی صرف متاثرہ انسان کو ہی ڈسٹرب نہیں کرتی بلکہ اس کے ارد گرد کے لوگ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
صدمے یا سانحے کے بارے میں سنتے ہی زیادہ تر لوگوں کے ذہن میں کوئی حادثہ، زلزلہ یا کسی عزیز کی جدائی کا خیال آتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔در حقیقت ہر وہ بات جو انسان کی استطاعت سے بڑھ کر ہو یا اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہو، جس کی وجہ سےانسان خود کو بے بس محسوس کرے یا ناامید ہو جائے سانحے کی حیثیت رکھتی ہے۔پس کون کتنے بڑے صدمے سے دوچار ہے اس بات کا دارومدار کسی بھی محرک پہ ہونے والے ردعمل پر ہوتا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ ہر صدمہ کسی حادثے یا سانحے کا نتیجہ ہو۔حساس لوگوں کے لیے ذرا سی بات، طنز، کوئی کاٹ دور جملہ یا کسی کی بے اعتنائی بھی سانحے سے کم نہیں ہوتی۔ حساس لوگ نہ صرف جلدی متاثر ہوتے ہیں بلکہ صدمے سے نکلنے میں وقت بھی زیادہ لیتے ہیں۔پس صدمہ یا غم وہ تکلیف ہے جس سے متعلقہ شخص اپنی حساسیت کی شدت کے مطابق گزرتا ہے۔ اب وہ صدمہ کسی کی موت بھی ہو سکتی ہے یا کسی امتحان میں ناکامی بھی۔
ہم لا شعوری طور پر اپنے غموں اور پریشانیوں کو سپریس (Supress)کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ وقت سب سے بڑا مرہم ہے لیکن در حقیقت ہماری پریشانیاں سپریس ہو کر جذباتی، نفسیاتی، جسمانی اور ذہنی امراض کو جنم دے رہی ہوتی ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ ہمیں تو کوئی ٹینشن (Tension) نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں جانتے کہ یہ ہمارے غم ہی ہیں جن کی بدولت ہم ہر چند دن بعد بیمار پڑ جاتے ہیں۔ہماری وائٹل فورس کمزور ہو جاتی ہے۔ ہم ڈپریشن، ذہنی تناؤ اور بے خوابی کا شکار ہو جاتے ہیں۔دھیرے دھیرے جسم بھی بیمار رہنے لگتا ہے۔ بلڈ پریشر، دل کے مسائل، معدے کی خرابیاں اور بہت کچھ۔ ایک مسئلہ ٹھیک ہوتا ہے تو دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسا اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ مسئلے کی اصل جڑ وہ غم یا دکھ ہے جس نے ہمیں خاموشی سے جکڑ رکھا ہوتا ہے۔
بہت سے لوگ اس بات سے آگاہ ہوتے ہیں کہ ان کے مسائل کی وجہ وہ غم ہے جو انہیں اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے لیکن وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے۔
ہومیوپیتھی علاج کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ آپ کے ماضی میں جا سکتا ہے۔ کسی کی جدائی یا کوئی ناکامی جو آپ کے اندر گہرائی تک پنجے گاڑ چکی ہو اور آپ ان تکلیف دہ یادوں سے پیچھا نہ چھڑا پا رہیں ہوں تو ہو میوپیتھک علاج سے آپ نہ صرف ان یادوں سے چھٹکارا پا سکتے ہیں بلکہ آنے والے مسائل سے بہتر انداز میں نمٹنے کے لیے بھی تیار ہو جاتے ہیں۔
ایک اچھا ہو میو پیتھ اپنے کلائنٹ کے مسائل کو توجہ سے سنتا ہے۔وہ کلائنٹ کو اپنی ٹینشن شئیر کرنے پر مجبور نہیں کرتا مگرایک ایسی فضا قائم کرتا ہے جہاں کلائنٹ خود کو ریلکیس تصور کرے اور اپنی پریشانیوں کے بارے میں کھل کر بات کرسکے۔ اس یقین کے ساتھ یہ تمام معلومات محفوظ ہاتھوں میں ہیں ۔چنانچہ یہ علاج ایک ہومیو پیتھ کی توجہ اور کلائنٹ کے اعتماد کا حسین امتزاج ہوتا ہے